ہر دفتر میں دو تنظیمی نقشے ہوتے ہیں ایک وہ جو دیوار پر ٹنگا ہے اور دوسرا وہ جو راہداری میں چلتا ہے۔ پہلا بتاتا ہے کہ کون کس کو جواب دہ ہے۔ دوسرا بتاتا ہے کہ کس کی بات سنی جاتی ہےکون خاموشی سے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے اور کس کی محنت کسی اور کے نام سے پیش ہو رہی ہے۔ جو مسلمان طویل اوقات، گردشی شفٹوں یا 24 گھنٹے ڈیوٹی پر کام کرتے ہیں ان کے لیے یہ دوسرا نقشہ گھر تک نیند تک اور بعض اوقات نماز تک پیچھا کرتا ہے۔

یہ تحریر ایسا دفتر پیش نہیں کرتی جہاں سیاست نہ ہو کیونکہ ایسا دفتر کہیں موجود نہیں۔ یہ اس سے زیادہ کارآمد چیز پیش کرتی ہے دل کو مطمئن رکھنےکردار کو صاف رکھنے اور عبادت کو سلامت رکھنے کا ایسا طریقہ جو دنیا کے کسی بھی کونے میں کام کرنے والے مسلمان کے کام آ سکے۔


یہ معاملہ اتنا اہم کیوں ہے؟


طویل اوقاتِ کار محض ایک زحمت نہیں صحت کا مسئلہ بھی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او اور آئی ایل او کے مشترکہ تجزیے کے مطابق ہفتے میں کم از کم 55 گھنٹے کام کرنے والوں میں فالج کا خطرہ 35 فیصد اور دل کی شریانوں کے مرض سے موت کا خطرہ 17 فیصد زیادہ ہوتا ہے، ان لوگوں کے مقابلے میں جو 35 سے 40 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ اسی تجزیے کے مطابق طویل اوقاتِ کار پیشہ ورانہ بیماریوں کے سب سے بڑے بوجھ کا سبب ہیں اور دنیا کی آبادی کا تقریباً 9 فیصد حصہ طویل اوقات کام کرتا ہے۔

تھکن ہمارے ردِعمل کو بھی بدل دیتی ہے۔ نیند کی کمی انسان کو چڑچڑا اور جذباتی طور پر حساس بنا دیتی ہے، اس لیے رات کے تین بجے کی ایک معمولی بات یا ایک تھکا دینے والے ہفتے کے آخر کا کوئی جملہ ذاتی حملہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی آئی سی ڈی الیون برن آؤٹ کو ایک پیشہ ورانہ کیفیت قرار دیتی ہے جو کام کی جگہ کے ایسے مسلسل دباؤ سے پیدا ہوتی ہے جسے کامیابی سے سنبھالا نہ گیا ہو۔ لہٰذا دفتر میں ذہنی سکون کوئی تعیش نہیں، عملی ضرورت ہے، اور اس کی ابتدا اپنی توانائی کی حفاظت سے ہوتی ہے۔


تین دائروں کا اصول


تین دائرے بنائیے۔ اندرونی دائرے میں وہ سب رکھیے جو مکمل طور پر آپ کے اختیار میں ہے آپ کی محنت، دیانت، ریکارڈ، گفتگو، ردِعمل، نیند اور نماز۔ درمیانی دائرے میں وہ رکھیے جس پر آپ اثر ڈال سکتے ہیں مگر حکم نہیں چلا سکتے کام کی منصفانہ تقسیم، افسر کی سمجھ اور ساتھیوں سے تعلقات۔ بیرونی دائرے میں وہ رکھیے جو اللہ کے سپرد ہے کس کی ترقی ہو گی آپ کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے اور اوپر کی سطح پر کیا فیصلے ہو رہے ہیں۔

زیادہ تر بے سکونی اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ ہم اپنی ساری توانائی بیرونی دائرے میں جھونک دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو چیز تمہیں فائدہ دے اس کی حرص کرو اللہ سے مدد مانگو اور ہمت نہ ہارو اور اگر کوئی مصیبت آ جائے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں یوں کرتا تو یوں ہو جاتا بلکہ کہو کہ اللہ نے مقدر کیا اور جو چاہا وہ کیا (صحیح مسلم: ۲۶۶۴)۔ اور قرآن کوشش اور توکل کا توازن یوں سکھاتا ہے:

فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ

"پھر جب تم عزم کر لو تو اللہ پر بھروسا کرو۔" (سورۃ آل عمران، آیت ۱۵۹)

یعنی اپنا حصہ پورا کیجیے، پھر نتیجہ اللہ کے حوالے کر دیجیے۔


کام کی جگہ کے پانچ طوفان اور پُرسکون جوابات


۱۔ الزام تراشی کا کھیل: کوئی غلطی ہو جائے، یا شفٹ بدلنے کا وقت ہو، تو انگلیاں اٹھنے لگتی ہیں: "رات والوں نے کام بگاڑ دیا"، "ہمیں کسی نے بتایا ہی نہیں۔" پُرسکون طریقہ: ہینڈ اوور تحریری، واضح اور حقائق پر مبنی رکھیے، جس میں باقی کام اور خطرات درج ہوں، اور اس کی ایک نقل اپنے پاس رکھیے۔ مسئلہ بیان کیجیے، کسی پر الزام مت لگائیے۔ یہ امانت کا معاملہ ہے، اور قرآن کا حکم ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا

"بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ۔" (سورۃ النساء، آیت ۵۸)

الزام لگانے سے پہلے تحقیق کیجیے، کیونکہ قرآن خبر پر عمل کرنے سے پہلے اس کی جانچ کا حکم دیتا ہے (سورۃ الحجرات، آیت ۶)۔

۲۔ غیر منصفانہ بوجھ: ایسا لگتا ہے کہ ہمیشہ چند لوگوں پر سب سے زیادہ کام، رات کی شفٹیں، ہفتہ وار اور تہواری چھٹیوں کی ڈیوٹیاں پڑتی ہیں، جبکہ دوسروں کی رعایت کی جاتی ہے۔ دل میں شکوہ اور حسد جنم لیتے ہیں۔ پُرسکون طریقہ: تاریخیں اور گھنٹے جیسے حقائق جمع کیجیے اور راہداری میں شکایت کرنے کے بجائے کسی تجویز کے ساتھ افسر سے تنہائی میں بات کیجیے۔ انصاف مانگیے، مگر کسی کے لیے برا مت چاہیے۔ قرآن میں ہے: "اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے" (سورۃ النساء، آیت ۳۲)، اور نبی ﷺ نے فرمایا: "ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو" (صحیح مسلم: ۲۵۵۹)۔

۳۔ غیبت کی ہوا اور سرد مہری: قریبی ٹیموں میں غیر حاضر لوگوں کا ذکر بہت آسانی سے چھڑ جاتا ہے، اور کچھ ساتھی آپ سے سرد رویہ بھی رکھ سکتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے:

وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا

"اور تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔" (سورۃ الحجرات، آیت ۱۲)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے (صحیح بخاری: ۶۰۱۸؛ صحیح مسلم: ۴۷)۔ پُرسکون طریقہ: موضوع بدل دیجیے، غیر حاضر شخص کے بارے میں ایک اچھی بات کہہ دیجیے، اور اپنے بارے میں ہونے والی باتوں کے پیچھے مت پڑیے۔ اگر کوئی ساتھی آپ سے سرد مہری برتے تو اسی انداز کا جواب دینے کے بجائے حسنِ سلوک کیجیے:

ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ

"(برائی کو) اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو۔" (سورۃ فصلت، آیت ۳۴)

۴۔ ان دیکھی محنت: رات کا عملہ، دور بیٹھ کر کام کرنے والے اور خاموش کارکردگی دکھانے والے اکثر سب سے مشکل کام کرتے ہیں مگر سب سے کم نظر آتے ہیں، جبکہ کریڈٹ بلند آواز لوگوں کے حصے میں چلا جاتا ہے۔ پُرسکون طریقہ: تاریخ وار ریکارڈ رکھیے، مختصر اور حقائق پر مبنی پیش رفت کی رپورٹ بھیجتے رہیے، اور اپنے کام کو پُرسکون انداز میں تحریری طور پر بیان کیجیے۔ خود کبھی کسی کے ساتھ یہ نہ کیجیے، کیونکہ قرآن لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر دینے سے منع کرتا ہے (سورۃ الشعراء، آیت ۱۸۳)۔ اور اس وعدے کو تھامے رکھیے:

إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا

"بے شک ہم اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھا عمل کرے۔" (سورۃ الکہف، آیت ۳۰)

۵۔ ہر وقت دستیاب رہنے کا دباؤ: آدھی رات کے پیغامات، چھٹی کے دن کی کالیں، اور یہ ان کہی توقع کہ آپ ہر لمحے حاضر رہیں گے۔ پُرسکون طریقہ: پہلے سے طے کر لیجیے کہ ہنگامی صورتِ حال کیا ہے، اپنی دستیابی صاف الفاظ میں بتا دیجیے، اور غیر ضروری پیغامات کا جواب کام کے اوقات میں دیجیے۔ نبی ﷺ نے حضرت سلمانؓ کی اس بات کی تصدیق فرمائی: "تیرے رب کا تجھ پر حق ہے، تیری جان کا تجھ پر حق ہے، اور تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے، پس ہر حق دار کو اس کا حق دے" (صحیح بخاری: ۱۹۶۸)۔ آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ کو بھی یاد دلایا کہ ان کے جسم اور آنکھوں کا بھی ان پر حق ہے (صحیح بخاری: ۱۱۵۳)۔ آرام اور گھر والوں کے لیے وقت سستی نہیں حق ہے۔


نیند، نماز اور سکون کی حفاظت


نیند: قرآن نیند کو اللہ کی نعمتوں میں شمار کرتا ہے: "اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا" (سورۃ النبا، آیت ۹)۔ اسے ناقابلِ سمجھوتا سمجھیےکمرہ تاریک اور پُرسکون رکھیے، غیر ضروری نوٹیفیکیشن بند کر دیجیے، اپنے چکر کے آخری حصے میں کیفین سے بچیے، اور خاص طور پر شفٹوں کے درمیان سونے سے پہلے ایک مستقل معمول رکھیے۔

نماز: قرآن کہتا ہے "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے" (سورۃ النساء، آیت ۱۰۳)۔ پہلے سے منصوبہ بنائیے: اپنے ادارے سے نماز کے مختصر وقفوں کی بات کیجیے، وضو اور نماز کی جگہ معلوم رکھیے اور یاد دہانی لگا لیجیے۔ جمعہ کے بارے میں قرآن حکم دیتا ہے کہ اذان ہو تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو (سورۃ الجمعہ، آیات ۹–۱۰)، اس لیے جہاں ممکن ہو اپنا نظام الاوقات پہلے سے ترتیب دیجیے۔ اگر آپ کی ڈیوٹی کسی خاص صورتِ حال میں واقعی رکاوٹ بنے تو اکیلے فیصلہ کرنے کے بجائے کسی مستند عالم سے اپنے مخصوص حالات کے مطابق رہنمائی لیجیے کیونکہ احکام تفصیلات پر منحصر ہوتے ہیں۔ اور اگر تھکن کی وجہ سے واقعی آنکھ نہ کھلے یا بھول ہو جائے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کا علاج یہ ہے کہ جب جاگے یا یاد آئے، اسی وقت پڑھ لے (صحیح بخاری: ۵۹۷؛ صحیح مسلم: ۶۸۴)۔ یہ حقیقی معذوری کے لیے رحمت ہے، جان بوجھ کر تاخیر کا بہانہ نہیں۔

چھوٹے وقفے: وضو، دو رکعت، ایک منٹ کا ذکر، یا یہ دعا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، "اے اللہ! میں فکر اور غم سے تیری پناہ مانگتا ہوں" (صحیح بخاری: ۶۳۶۹)، کاموں کے درمیان تناؤ کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔

نیت اور یکسوئی: ہر دن یا شفٹ کے آغاز میں نیت تازہ کیجیے، کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے (صحیح بخاری: ۱؛ صحیح مسلم: ۱۹۰۷)، اور یاد رکھیے کہ آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے ہے کہ وہ لایعنی چیزیں چھوڑ دے (سنن ترمذی: ۲۳۱۷)۔ ہر افواہ آپ کا مسئلہ نہیں ہوتی۔

سہارا: کم از کم ایک قابلِ اعتماد ساتھی رکھیے، مثلاً کوئی استاد، شریکِ حیات یا دوست، تاکہ رنجش دل میں خاموشی سے پلتی نہ رہے۔


اپنے حقوق جانیے


کچھ معاملات سیاست نہیں ہوتے۔ حد سے زیادہ اوقاتِ کار، غیر محفوظ ماحول اوور ٹائم کی عدم ادائیگی، ہراسانی، دھونس اور امتیازی سلوک کو صبر کے نام پر خاموشی سے سہنا درست نہیں۔ اسلام انصاف کا حکم دیتا ہے اور ظلم سے روکتا ہے۔ حضرت ابوذرؓ کی روایت میں نبی ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ ماتحتوں پر ایسا بوجھ نہ ڈالا جائے جو انہیں عاجز کر دے، اور اگر ڈالا جائے تو ان کی مدد کی جائے (صحیح بخاری: ۳۰؛ صحیح مسلم: ۱۶۶۱)۔ علما عموماً اس اصول کو آجر اور اجیر کے تعلق پر بھی لاگو کرتے ہیں۔

مختلف ممالک میں مزدوری کے قوانین مختلف ہیں اس لیے اپنا معاہدہ اور مقامی حقوق جانیے جو کچھ پیش آئے اس کا ریکارڈ رکھیے ایچ آر یا یونین جیسے مناسب ذرائع استعمال کیجیے، اور ضرورت ہو تو مشورہ لیجیے۔ اگر تھکن، اضطراب، بے خوابی یا اداسی برقرار رہے تو ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے رجوع کیجیے۔ اپنی صحت کا خیال اسی امانت کا حق ادا کرنا ہے جو آپ کا جسم ہے۔