انسان نے صدیوں کا سفر طے کیا ہے، اور آج وہ اس مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کی دسترس میں وہ سب کچھ آ چکا ہے جس کا خواب اس کے آباء نے کبھی دیکھا بھی نہ تھا۔ فاصلے سمٹ گئے، معلومات ہاتھ کی ہتھیلی میں آ گئیں، بیماریوں پر قابو پا لیا گیا، اور آسائش کا ہر دروازہ کھلا پڑا ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ جوں جوں یہ دروازے کھلتے گئے، انسان کے اندر کی بے چینی کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی گئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے، اور یہ کوئی نیا سوال نہیں بلکہ ہر دور کے حساس دل نے اسے اپنے اپنے انداز میں پوچھا ہے: آخر ایسا کیوں ہے کہ جس عہد میں انسان کے پاس سب کچھ ہے، اسی عہد میں وہ سب سے زیادہ بے سکون بھی ہے؟


اس گتھی کو سلجھانے کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ دیکھا جائے انسان نے سکون کو کہاں کہاں ڈھونڈا۔ کسی نے اسے مال میں تلاش کیا، کسی نے شہرت میں، کسی نے رشتوں کی گرمی میں، اور کسی نے مسلسل مصروفیت کے شور میں، تاکہ اندر کی خاموشی سنائی ہی نہ دے۔ لیکن ذرا غور کیجیے تو ان سب چیزوں میں ایک بات مشترک نکلتی ہے: یہ سب عارضی ہیں، یہ سب زوال پذیر ہیں، اور ان میں سے کسی پر بھی انسان کا مکمل اختیار نہیں۔ جو دولت آج ہاتھ میں ہے وہ کل ریت کی طرح پھسل سکتی ہے، جو شہرت آج سر پر تاج بنی ہوئی ہے وہ کل خاک میں مل سکتی ہے، اور جو رشتے آج سایہ فگن ہیں وہ کل بچھڑ بھی سکتے ہیں۔ اور جو شے خود ثبات سے محروم ہو، وہ کسی اور کو ثبات کیسے عطا کر سکتی ہے؟ یہی وہ سادہ مگر ناقابلِ تردید منطق ہے جہاں سے حقیقی سکون کی تلاش کا اصل باب کھلتا ہے۔


قرآن مجید نے اس معمے کو ایک ہی آیت میں، نہایت اختصار اور بلاغت کے ساتھ، حل کر دیا:


أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ


"سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔"


(سورۃ الرعد، آیت ۲۸)


یہاں ٹھہر کر سوچیے: اطمینان کا رشتہ کسی محدود اور فانی شے سے نہیں جوڑا گیا، بلکہ اسے اس ذات سے وابستہ کیا گیا ہے جو لامحدود ہے، دائمی ہے، اور ہر تغیر و زوال سے ماورا ہے۔ اور یہ کوئی محض روحانی تسلی نہیں بلکہ خالص عقل کا فیصلہ ہے: اگر دل کا سکون کسی فانی چیز کے ساتھ باندھا جائے تو وہ سکون بھی اسی فانی چیز کی طرح لرزتا اور ڈگمگاتا رہے گا؛ اور اگر دل کا لنگر اس ذات میں ڈالا جائے جو کبھی زوال آشنا نہیں ہوتی، تو وہی لنگر اسے ہر طوفان میں ثابت رکھے گا۔ چنانچہ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے محلوں میں رہنے والے اکثر اندر سے سب سے زیادہ خالی نکلتے ہیں، جبکہ کچی جھونپڑیوں میں بسنے والے کچھ لوگ ایسا سکون رکھتے ہیں جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ فرق دولت میں نہیں، فرق اس بات میں ہے کہ دل نے اپنا لنگر کہاں ڈالا۔


اب یہاں ایک اور سوال سر اٹھاتا ہے: کیا یہ محض ایک تسلی آمیز بات ہے، یا اس کی جڑیں خود انسانی فطرت میں پیوست ہیں؟ اس کا جواب پانے کے لیے ذرا انسان کی اپنی ساخت پر غور کیجیے۔ ہر انسان کے سینے میں ایک ایسی پیاس رکھ دی گئی ہے جسے کوئی مادی چیز نہیں بجھا سکتی — یہ پیاس دراصل معنی کی تلاش ہے، مقصد کی جستجو ہے، اور کسی ایسی حقیقت سے جڑنے کی خواہش ہے جو خود اس کی اپنی ذات سے کہیں بڑی ہو۔ جب یہ پیاس نہیں بجھتی تو انسان اسے مصروفیت کے شور، تفریح کے سیلاب، یا نشے کی دھند میں دبانے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ سب چیزیں زیادہ سے زیادہ وقتی مسکن دے سکتی ہیں، اس بنیادی خلا کو کبھی نہیں بھر سکتیں۔ قرآن مجید نے اسی حقیقت کو الٹے پہلو سے یوں بیان فرمایا:


وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا


"اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا، بےشک اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی۔"


(سورۃ طٰہٰ، آیت ۱۲۴)


غور کیجیے کہ یہاں لفظ "ضَنكًا" یعنی تنگی استعمال ہوا ہے، نہ کہ فقر یا محرومی۔ اور یہی لفظ اس پوری بحث کی کنجی ہے۔ ایسا شخص لازماً مفلس نہیں ہوتا — وہ دولت مند بھی ہو سکتا ہے، بلند مرتبہ بھی، مشہور و معروف بھی — مگر اس کے باوجود اس کی اندرونی دنیا تنگ اور بے کشادگی کا شکار رہتی ہے، جیسے کسی نے اس کی روح کے گرد دیواریں کھڑی کر دی ہوں۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے جدید نفسیات "existential emptiness" یعنی وجودی خلا کا نام دیتی ہے، اور جسے آج کروڑوں انسان، چاہے وہ کسی بھی خطے، کسی بھی مذہب، اور کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے دلوں میں محسوس کر کے اس کا حل انٹرنیٹ کی سکرینوں پر ٹٹولتے پھرتے ہیں۔


پس ایک منطقی سوال باقی رہ جاتا ہے: اگر خدا کی یاد ہی اس سکون کا سرچشمہ ہے، تو یہ یاد عملی طور پر کیسے قائم ہو؟ کیا یہ محض ایک ذہنی رویہ ہے، یا اس کا کوئی مربوط نظام بھی ہے؟ یہیں سے اسلام کی وہ امتیازی شان روشن ہوتی ہے جو اسے محض فلسفوں اور نظریوں سے الگ کھڑا کرتی ہے: اسلام صرف ایک تصور پیش نہیں کرتا بلکہ ایک مکمل، قابلِ عمل نظام عطا کرتا ہے۔ نماز، جو دن میں پانچ مرتبہ انسان کو دنیا کی گردش سے کھینچ کر اس کی اصل حقیقت کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ قرآن کی تلاوت اور اس میں تدبر، جو زندگی کے بڑے بڑے سوالوں کے جواب فراہم کرتا ہے۔ اور دعا، جو انسان کے ہر خوف، ہر اندیشے، اور ہر آرزو کے اظہار کے لیے ایک ایسا محفوظ در وا کرتی ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ یہ سب مل کر ایک ایسا سلسلہ تشکیل دیتے ہیں جس میں انسان کا رشتہ اس حقیقت سے ہمیشہ استوار رہتا ہے جو تنہا حقیقی سکون بخشنے پر قادر ہے۔


اور جب یہ رشتہ مضبوط ہو جائے تو انسان کی باطنی کیفیت میں ایک واضح انقلاب برپا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے اسی بلند ترین منزل کو "نفسِ مطمئنہ" یعنی مطمئن روح کا نام دیا، اور اس کی معراج یوں بیان فرمائی:


يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ۝ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً


"اے مطمئن روح! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔"


(سورۃ الفجر، آیات ۲۷-۲۸)


اس آیت میں رضامندی کی یہ دوطرفہ کیفیت — انسان اپنے رب سے راضی، اور رب اس سے راضی — دراصل وہ معراجِ سکون ہے جہاں تک کوئی مادی کامیابی، کوئی بلند منصب، اور کوئی انسانی رشتہ کبھی پہنچا ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ سکون کسی عارضی سہارے سے نہیں بلکہ اس دائمی و ابدی حقیقت سے وابستہ ہے جسے فنا کبھی چھو بھی نہیں سکتی۔


اب اگر اس پوری بحث کو ایک منطقی نتیجے میں سمیٹا جائے تو بات یوں بنتی ہے: انسان کی طلب لامحدود ہے، لہٰذا اسے سیر کرنے کے لیے بھی کوئی لامحدود ہستی ہی درکار ہے۔ فانی چیزیں، خواہ کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں، فانی سکون ہی دے سکتی ہیں؛ اور لامحدود ذات ہی وہ سکون بخش سکتی ہے جو مستقل اور غیر متزلزل ہو۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ خالص عقلی نتیجہ ہے، جسے وہ ہر شخص محسوس کر سکتا ہے جو ایک لمحے کے لیے رک کر، بے لاگ نظر سے، اپنی زندگی کا جائزہ لے — چاہے اس کا تعلق کسی بھی خطے، کسی بھی پس منظر، یا کسی بھی فکر سے کیوں نہ ہو۔


البتہ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ یہ سکون محض نظریاتی طور پر جان لینے سے ہاتھ نہیں آتا۔ اس کے لیے لازم ہے کہ انسان قرآن مجید کو، اس کے پیغام کو، اور اس کی تعلیمات کی گہرائیوں کو ترتیب اور تدبر کے ساتھ سیکھے، تاکہ یہ باتیں محض معلومات کا انبار بن کر نہ رہ جائیں بلکہ زندگی کا زندہ حصہ بن جائیں۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ہر جویا و جستجو کرنے والا انسان — چاہے وہ ابھی اسلام کی حقیقت کو تلاش کر رہا ہو، یا ایک ایسا مسلمان ہو جو اپنے دین سے دور جا پڑا ہو — ایک نئے سفر کا آغاز کر سکتا ہے۔


اگر آپ بھی اپنے سینے میں وہ خلا محسوس کرتے ہیں جسے دنیا کی کوئی چیز پُر نہیں کر پا رہی، اور اس حقیقی و پائیدار سکون کی تلاش میں ہیں جس کا ذکر اوپر ہوا، تو Sirat Islamic پر قرآن، تفسیر اور اسلامی علوم کے مستند آن لائن کورسز میں شامل ہو کر اس سوال کا جواب خود قرآن کی زبانی سیکھیے۔