اسلامی بینک اکاؤنٹس: کرنٹ، سیونگ اور ٹرم ڈپازٹ کا منافع کیسے بنتا ہے؟


اسلامی بینک میں اکاؤنٹ کھولنے والے ہر شخص کے ذہن میں کچھ سوالات ضرور آتے ہیں: ’’میرے سیونگ اکاؤنٹ کا منافع سودی بینک جتنا ہی کیوں ہے؟‘‘ ’’اگر یہ مضاربہ ہے، تو کیا میری رقم ڈوب بھی سکتی ہے؟‘‘ ’’منافع ہر ماہ بدلتا کیوں ہے؟‘‘ ’’کرنٹ اکاؤنٹ پر کچھ کیوں نہیں ملتا؟‘‘

ان سوالات کا جواب صرف یہ کہنا نہیں کہ ’’یہ حلال ہے‘‘؛ بلکہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلامی بینک میں آپ کی رقم کی شرعی حیثیت کیا ہے، اور اس کا منافع کس طریقے سے بنتا اور تقسیم ہوتا ہے۔ یہ رہنمائی اسی پورے نظام کو قدم بہ قدم سمجھاتی ہے۔


اسلامی بینک میں آپ کی رقم کی تین حیثیتیں


اسلامی بینک میں رکھی گئی رقم بنیادی طور پر دو شرعی معاہدوں میں سے کسی ایک کے تحت ہوتی ہے:



بعض بینک وکالہ کی بنیاد پر بھی سرمایہ کاری کے اکاؤنٹس پیش کرتے ہیں، جن میں بینک ایک مقررہ فیس لے کر آپ کی رقم سرمایہ کاری میں لگاتا ہے، اور نفع آپ کا ہوتا ہے۔


1۔ کرنٹ اکاؤنٹ: قرض کی بنیاد


اسلامی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی رقم شرعاً بینک کو دیا گیا قرض (Qard) ہے۔ اس کے تین نتائج ہیں:




  • بینک اصل رقم کا ضامن ہے: قرض لینے والا قرض لوٹانے کا پابند ہوتا ہے، اس لیے آپ کی رقم بینک کے ذمے محفوظ ہے۔
  • کوئی منافع نہیں: قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط اضافہ سود ہے؛ اسی لیے کرنٹ اکاؤنٹ پر منافع نہیں دیا جاتا۔
  • بینک اسے استعمال کر سکتا ہے: قرض کی رقم قرض لینے والے کی ملکیت میں آ جاتی ہے، اس لیے بینک اسے اپنی حلال سرمایہ کاری میں لگا سکتا ہے؛ مگر اس کا نفع بینک کا ہے، کیونکہ نقصان کا خطرہ بھی بینک ہی کا ہے۔


ایک عام سوال: ’’اسلامی بینک کا کرنٹ اکاؤنٹ اور سودی بینک کا کرنٹ اکاؤنٹ تو ایک جیسے ہیں؟‘‘ دونوں شرعاً قرض ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ اسلامی بینک اس رقم کو صرف حلال شعبوں میں استعمال کرتا ہے، جبکہ سودی بینک اسے سودی قرضوں میں لگاتا ہے۔ یوں اسلامی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر آپ کسی سودی نظام کو تقویت نہیں دیتے۔


2۔ سیونگ اکاؤنٹ: مضاربہ کی بنیاد


اسلامی بینک کا سیونگ اکاؤنٹ مضاربہ (Mudarabah) کی بنیاد پر ہوتا ہے، جس میں:




  • آپ ربّ المال ہیں (Rabb al-Mal): یعنی سرمایہ فراہم کرنے والے۔
  • بینک مضارب ہے (Mudarib): یعنی محنت اور مہارت سے کاروبار کرنے والا۔
  • نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔
  • مالی نقصان سرمایہ دینے والوں پر آتا ہے، الا یہ کہ بینک کی غفلت یا خیانت ثابت ہو۔

اسٹیٹ بینک نے 2012 کی اپنی ہدایات میں اسی اصول کو باقاعدہ ضابطے کا حصہ بنایا۔ ان ہدایات کے اعلان کے مطابق اگر نقصان ہو تو ڈپازٹرز اسے اپنی سرمایہ کاری کے تناسب سے برداشت کریں گے، سوائے اس کے کہ وہ نقصان ڈپازٹرز کے فنڈز کے انتظام میں بینک کی غفلت یا بدانتظامی کی وجہ سے ہو۔ sbp


منافع کیسے بنتا ہے؟ پانچ مراحل


مرحلہ 1: پول کی تشکیل (Pool Creation):

بینک ڈپازٹرز کی رقوم کو ایک یا زیادہ مشترکہ ذخیروں میں جمع کرتا ہے، جنہیں پول (Pool) کہا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق ہر بینک کے لیے ضروری ہے کہ مضاربہ کی بنیاد پر مختلف اقسام کے ڈپازٹس سے فنانس ہونے والے اثاثوں کے ایک یا زیادہ پولز کی تشکیل کے لیے نفع و نقصان کی تقسیم اور پول مینجمنٹ کا واضح فریم ورک موجود ہو۔ sbp


مرحلہ 2: پول کی سرمایہ کاری:

پول کی رقم حلال فنانسنگ، یعنی مرابحہ، اجارہ، مشارکہ متناقصہ اور صکوک، میں لگائی جاتی ہے، اور اس سے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔


مرحلہ 3: براہِ راست اخراجات کی منہائی:

پول کی مجموعی آمدنی سے اس کے براہِ راست اخراجات، جیسے نقصان کی صورت میں رائٹ آف (Write-off)، سرمایہ کاری کی فروخت پر خسارہ اور ممکنہ نقصانات کے لیے رکھی گئی رقم (Provisions)، منہا کیے جاتے ہیں۔ باقی

خالص قابلِ تقسیم نفع ہے۔


مرحلہ 4: بینک اور ڈپازٹرز میں تقسیم (PSR):

خالص نفع پہلے سے طے شدہ نفع کے تناسب (Profit Sharing Ratio, PSR) سے بینک (مضارب) اور ڈپازٹرز (ربّ المال) میں تقسیم ہوتا ہے، مثلاً 50:50۔


مرحلہ 5: ڈپازٹرز میں باہمی تقسیم (Weightages):

ڈپازٹرز کا حصہ ان کے اوسط بیلنس اور ویٹیج (Weightage) کے مطابق تقسیم ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق مضاربہ پر مبنی ڈپازٹس کا نفع و نقصان حساب کی مدت کے دوران ڈپازٹر کے اکاؤنٹ میں اوسط بیلنس کی بنیاد پر شمار اور تقسیم ہوگا۔ sbp


ویٹیج (Weightage) وہ وزن ہے جو ہر اکاؤنٹ کو اس کی رقم، مدت اور قسم کے لحاظ سے دیا جاتا ہے۔ مثلاً عام سیونگ اکاؤنٹ کا ویٹیج 1.0 ہو، تو ایک سال کے ٹرم ڈپازٹ کا 1.3، اور پانچ سال کے ڈپازٹ کا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، کیونکہ طویل مدتی رقم بینک کو زیادہ مستحکم سرمایہ کاری کا موقع دیتی ہے۔


ایک عملی مثال


فرض کیجیے کسی ماہ ایک پول کی صورتِ حال یہ ہے (یہ اعداد صرف سمجھانے کے لیے ہیں):



اب یہ 45 کروڑ ڈپازٹرز میں ان کے اوسط بیلنس اور ویٹیج کے مطابق تقسیم ہوں گے: جس کا ویٹیج زیادہ ہے، اسے اپنی رقم کے تناسب سے زیادہ حصہ ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرم ڈپازٹ کی شرح سیونگ اکاؤنٹ سے زیادہ ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شرح ہر ماہ کچھ نہ کچھ بدلتی رہتی ہے: کیونکہ پول کی آمدنی ہر ماہ مختلف ہوتی ہے۔


3۔ ٹرم ڈپازٹ: مدت کے ساتھ زیادہ ویٹیج


ٹرم ڈپازٹ (Term Deposit) بھی مضاربہ ہی ہے، مگر اس میں آپ ایک مقررہ مدت، مثلاً تین ماہ، ایک سال یا پانچ سال، کے لیے رقم رکھتے ہیں۔ بدلے میں آپ کو زیادہ ویٹیج ملتا ہے۔

مدت سے پہلے رقم نکالنا (Premature Withdrawal):

اگر آپ مدت سے پہلے رقم نکالیں، تو آپ کا ویٹیج اس مدت کے مطابق دوبارہ شمار ہوتا ہے جتنی مدت آپ کی رقم واقعی پول میں رہی۔ یہ کوئی جرمانہ نہیں، بلکہ ویٹیج کا منصفانہ حساب ہے: جس رقم نے کم مدت کام کیا، اسے کم مدت کا ویٹیج ملتا ہے۔


ہبہ اور ریزرو: یہ کیا ہیں؟


ہبہ (Hiba):

بینک اپنے حصے کے نفع میں سے کچھ حصہ ڈپازٹرز کو بطور تحفہ دے سکتا ہے۔ شرعی شرط یہ ہے کہ ہبہ پہلے سے مشروط یا لازمی نہ ہو؛ ورنہ یہ ہبہ نہیں رہتا، بلکہ ایک طے شدہ اضافہ بن جاتا ہے۔


پرافٹ ایکولائزیشن ریزرو (Profit Equalization Reserve, PER):

اچھے دنوں کے نفع کا ایک حصہ الگ رکھنا، تاکہ برے دنوں میں ڈپازٹرز کے نفع میں بہت زیادہ کمی نہ آئے۔


انویسٹمنٹ رسک ریزرو (Investment Risk Reserve, IRR):

ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کے لیے ڈپازٹرز کے حصے کے نفع میں سے الگ رکھی گئی رقم۔

یہ ریزرو اسی وقت شرعاً درست ہیں جب ڈپازٹرز کو ان کا علم ہو، اور وہ اکاؤنٹ کھولتے وقت ان پر رضامند ہوں۔


اسٹیٹ بینک کی 2024 کی ہدایت: کم از کم 75 فیصد منافع


نومبر 2024 میں اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹس کے لیے ایک اہم تبدیلی کی۔ اسٹیٹ بینک نے فیصلہ کیا کہ اسلامی بینک اپنے روپے کے سیونگ ڈپازٹس پر، مالیاتی اداروں، سرکاری اداروں اور پبلک لمیٹڈ کمپنیوں کے ڈپازٹس کو چھوڑ کر، کم از کم 75 فیصد کے برابر منافع ادا کریں گے، یعنی اپنے سرمایہ کاری کے پولز کی وزنی اوسط مجموعی آمدنی کا کم از کم 75 فیصد۔ اس ہدایت کے تحت اگر ضرورت ہو تو اسلامی بینک کم از کم شرحِ منافع کی شرط پوری کرنے کے لیے سیونگ اکاؤنٹ ہولڈرز کو ہبہ دے سکتے ہیں؛ یہ ہدایات یکم جنوری 2025 سے نافذ ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے سوال و جواب کے مطابق اسلامی بینک 75 فیصد سے زیادہ بھی ہبہ دے سکتے ہیں۔

(سرکلر: https://www.sbp.org.pk/circulars/ifpd-circular-no-09-of-2024) Circulars/Notifications - Islamic Finance Policy Department +3


اس کا مطلب کیا ہے؟




  • ڈپازٹر کا تحفظ: بینک پول کی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا؛ کم از کم تین چوتھائی آمدنی ڈپازٹرز تک پہنچنا ضروری ہے۔
  • عدل: اس سے پہلے یہ شکایت عام تھی کہ بینک نفع کا زیادہ حصہ خود رکھ لیتے ہیں؛ یہ ہدایت اسی کا ازالہ ہے۔
  • ایک فقہی سوال: کم از کم منافع پورا کرنے کے لیے ہبہ کی اجازت پر کچھ اہلِ علم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ہبہ ایک مستقل نظام کے تحت لازمی بن جائے، تو کیا یہ طے شدہ منافع کے قریب نہیں ہو جاتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شرط ڈپازٹر اور بینک کے معاہدے میں نہیں، بلکہ نگران ادارے کی طرف سے بینک پر ایک انتظامی پابندی ہے؛ ڈپازٹر کو کسی مقررہ رقم کا شرعی حق حاصل نہیں ہوتا۔ تاہم یہ ایک سنجیدہ علمی بحث ہے، جس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔


اسلامی اور سودی سیونگ اکاؤنٹ: تفصیلی موازنہ



عام اعتراضات اور ان کے جوابات


اعتراض 1: ’’اسلامی بینک کا منافع تقریباً سودی بینک جتنا ہی کیوں ہے؟‘‘


جواب: اس کی دو وجوہ ہیں۔ پہلی یہ کہ اسلامی اور سودی بینک ایک ہی معیشت اور ایک ہی منڈی میں کام کرتے ہیں؛ اگر اسلامی بینک کا منافع بہت کم ہو تو ڈپازٹرز اسے چھوڑ دیں گے، اور اگر بہت زیادہ ہو تو وہ اپنی فنانسنگ بازار سے مہنگی نہیں کر سکتا۔ دوسری یہ کہ قیمت کا برابر ہونا معاملے کی نوعیت کو ایک نہیں بناتا: حلال گوشت اور حرام گوشت کی قیمت بازار میں ایک ہو سکتی ہے، مگر حکم مختلف ہے۔ اصل فرق یہ ہے کہ اسلامی بینک کا منافع پول کی حقیقی آمدنی سے آتا ہے، جبکہ سود ایک پہلے سے طے شدہ شرح ہے۔


اعتراض 2: ’’اگر یہ مضاربہ ہے تو کبھی نقصان کیوں نہیں ہوتا؟‘‘


جواب: پول ہزاروں مختلف فنانسنگز پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے کسی ایک کاروبار کے نقصان سے پورا پول نقصان میں نہیں جاتا؛ یہ تنوع (Diversification) کا فطری نتیجہ ہے۔ ساتھ ہی ریزرو نقصان کے اثرات کو کم کرتے ہیں۔ مگر شرعی اور قانونی طور پر نقصان کا اصول برقرار ہے، جیسا کہ اسٹیٹ بینک کی ہدایات میں صراحت ہے کہ نقصان ڈپازٹرز اپنی سرمایہ کاری کے تناسب سے برداشت کریں گے۔


اعتراض 3: ’’ویٹیج اور ہبہ کا نظام شفاف نہیں؛ بینک اپنی مرضی سے نفع بانٹتا ہے۔‘‘


جواب: یہ اعتراض سنجیدہ ہے، اور خود محققین نے اس پر توجہ دلائی ہے۔ 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے 2015 سے 2024 تک پاکستان کے اسلامی بینکوں کے منافع کی تقسیم کے طریقوں کا تنقیدی جائزہ لیا، جس میں ہبہ کی تقسیم اور ویٹیج مقرر کرنے سے متعلق مسائل بھی شامل تھے۔ اسی لیے اسٹیٹ بینک نے 2012 میں تفصیلی ہدایات جاری کیں، اور 2024 میں کم از کم منافع کی شرط لگائی۔ ایک صارف کے طور پر آپ کا حق ہے کہ بینک سے اس کا پول مینجمنٹ پالیسی اور ویٹیج کا جدول طلب کریں؛ یہ معلومات بینکوں کی ویب سائٹ پر ماہانہ شائع ہونی چاہییں۔

(تحقیق: https://journals.riphah.edu.pk/index.php/jibm/article/view/3019) riphah


مفتی تقی عثمانی کی رائے


مفتی محمد تقی عثمانی کے نزدیک اسلامی بینک کا ڈپازٹ نظام شرعاً مضاربہ اور شراکت کے اصولوں پر قائم ہونا چاہیے، جس میں ڈپازٹر کو نفع میں حصہ اسی صورت میں ملتا ہے جب وہ نقصان کے خطرے میں بھی شریک ہو۔ وہ ویٹیج کے نظام کو اس شرط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں کہ ویٹیج پہلے سے ظاہر ہوں، اور ہر ڈپازٹر اکاؤنٹ کھولتے وقت ان پر رضامند ہو۔ ان کے نزدیک یہ طریقہ مضاربہ کی روح کے قریب ہے، کیونکہ مختلف مدت کی رقوم کا کاروبار میں حصہ بھی مختلف ہوتا ہے۔


زکوٰۃ کا مسئلہ




  • آپ کے کرنٹ، سیونگ اور ٹرم ڈپازٹ، تینوں کی اصل رقم اور اس پر ملنے والا حلال منافع قابلِ زکوٰۃ ہیں۔
  • پاکستان میں یکم رمضان کو بعض سیونگ اکاؤنٹس سے سرکاری طور پر زکوٰۃ کاٹی جاتی ہے؛ یہ رقم آپ کی زکوٰۃ میں شمار ہو سکتی ہے۔ تفصیل کے لیے ہمارا مضمون ’’ٹیکس اور زکوٰۃ‘‘ دیکھیے۔


صارف کی چیک لسٹ


اسلامی بینک میں سیونگ یا ٹرم ڈپازٹ کھولنے سے پہلے یہ سوالات ضرور پوچھیے:




  1. میرا اکاؤنٹ مضاربہ پر ہے یا وکالہ پر؟
  2. بینک کا نفع کا تناسب (PSR) کیا ہے؟
  3. میرے اکاؤنٹ کا ویٹیج کیا ہے، اور اس کا جدول کہاں شائع ہوتا ہے؟
  4. کیا بینک ریزرو (PER / IRR) رکھتا ہے، اور ان کی شرائط کیا ہیں؟
  5. مدت سے پہلے رقم نکالنے پر منافع کا حساب کیسے ہوگا؟
  6. بینک کا شریعہ بورڈ کن علما پر مشتمل ہے؟


مستند ماخذ





آخری بات


اسلامی بینک اکاؤنٹ کا اصل فرق شرح میں نہیں، بلکہ اس رشتے میں ہے جو آپ اور بینک کے درمیان قائم ہوتا ہے: کرنٹ اکاؤنٹ میں آپ قرض دینے والے ہیں، اور سیونگ اکاؤنٹ میں آپ بینک کے کاروبار کے شریک۔ یہ نظام ابھی ارتقا کے مراحل میں ہے، اور اس میں شفافیت کی مزید ضرورت ہے؛ مگر ایک باشعور ڈپازٹر، جو اپنے حقوق جانتا ہو اور سوال کرتا ہو، اس نظام کو اس کی اصل روح کے قریب لانے میں سب سے مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔