پلاسٹک سرجری اور کاسمیٹک سرجری کا شرعی حکم


آج پلاسٹک سرجری (Plastic Surgery) اور کاسمیٹک سرجری (Cosmetic Surgery) عام ہو چکی ہیں: Nose Job، Lip Fillers، Liposuction، Face Lift اور بہت کچھ۔ دوسری طرف جلنے، حادثے یا پیدائشی نقص (Birth Defect) کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان سرجریوں کی حقیقی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا پلاسٹک سرجری جائز ہے؟ اس کا جواب ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ سرجری کیوں کروائی جا رہی ہے۔


اسلام میں علاج کا حکم


اسلام علاج کو پسند کرتا ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً‘‘، علاج کرو، کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو (سنن ابی داود، حدیث: 3855)۔


اور جسم کی اصلاح کے بارے میں ایک خوب صورت واقعہ حدیث میں موجود ہے۔ صحابی حضرت عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کی ناک ایک جنگ میں کٹ گئی۔ انہوں نے چاندی کی ناک لگوائی، مگر اس میں بدبو پیدا ہو گئی، تو رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے انہیں سونے کی ناک لگوانے کا حکم دیا (سنن ابی داود، حدیث: 4232؛ جامع الترمذی، حدیث: 1770)۔ یہ حدیث Reconstructive Surgery کے جواز کی واضح بنیاد ہے: جسم کے کسی نقصان کی اصلاح اور اس کی اصل حالت کی بحالی۔


’’اللہ کی تخلیق میں تبدیلی‘‘ کا صحیح مفہوم


بہت سے لوگ ہر سرجری کو ’’تغییرِ خلق اللہ‘‘، یعنی اللہ کی تخلیق میں تبدیلی، کہہ کر حرام قرار دیتے ہیں۔ مگر اہلِ علم نے واضح کیا ہے کہ ہر تبدیلی ممنوع نہیں۔ ختنہ، ناخن تراشنا اور مونچھیں کاٹنا بھی تبدیلی ہیں، مگر شریعت نے ان کا حکم دیا ہے (صحیح مسلم، حدیث: 261)۔ اور رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے علاج کے لیے داغنے (Cauterization) کی بھی اجازت دی (جامع الترمذی، حدیث: 2050)۔

سورۃ النساء کی آیت ’’وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ‘‘ (النساء: 119) کے بارے میں حضرت ابن عباسؓ، مجاہدؒ اور دیگر مفسرین کا ایک معروف قول یہ ہے کہ یہاں ’’اللہ کے دین میں تبدیلی‘‘ مراد ہے، یعنی شرک اور فطرت کو مسخ کرنا۔ اس لیے یہ آیت ہر طبی یا جمالیاتی تبدیلی پر براہِ راست منطبق نہیں ہوتی۔ حدیث میں جن تبدیلیوں سے منع کیا گیا ہے، فقہا نے ان کی ممانعت کو دھوکے، غیر مردوں کے لیے زینت اور بدکار عورتوں کے شعار سے جوڑا ہے۔


پلاسٹک سرجری کی جائز صورتیں


ان اصولوں کی روشنی میں یہ سرجریاں جائز ہیں:


  • حادثے یا جلنے کے بعد Reconstructive Surgery: جلے ہوئے حصوں، زخموں یا حادثے سے ہونے والے نقصان کی اصلاح۔
  • پیدائشی نقص (Birth Defects) کی اصلاح: جیسے کٹا ہونٹ (Cleft Lip)، تالو کا نقص، یا کوئی اور جسمانی خرابی۔
  • کینسر یا بیماری کے بعد اعضا کی بحالی: جیسے Mastectomy کے بعد Breast Reconstruction۔
  • ایسا بگاڑ جو تکلیف یا نفسیاتی اذیت کا باعث ہو: جو عام معیار سے واضح طور پر ہٹ کر بدنمائی پیدا کرے اور انسان کو شدید ذہنی تکلیف دے۔

  • صحت کے لیے Liposuction یا دیگر سرجری: جب ڈاکٹر صحت کی وجہ سے تجویز کرے۔

اسلامی تعاون تنظیم کی بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے بھی اپنی قرارداد میں ان صورتوں میں سرجری کو جائز قرار دیا ہے جن کا مقصد علاج، عضو کی اصل حالت کی بحالی یا عیب کی اصلاح ہو۔


محض خوب صورتی کے لیے Cosmetic Surgery


جہاں کوئی عیب یا بیماری نہ ہو اور سرجری صرف زیادہ خوب صورت نظر آنے یا کسی فیشن کی نقالی کے لیے کی جائے، مثلاً ایک عام ناک کو بدلوانا (Nose Job) یا محض فیشن کے لیے ہونٹ موٹے کروانا، تو اس بارے میں جمہور علما اور اسلامی فقہ اکیڈمی کا موقف یہ ہے کہ یہ جائز نہیں، کیونکہ یہ بغیر ضرورت اللہ کی تخلیق میں تبدیلی ہے۔


آپ کے سامنے یہ علمی رائے بھی رہنی چاہیے کہ بعض محققین نے ان ممانعتوں کو علت سے جوڑا ہے، یعنی دھوکا، غیر مردوں کے لیے زینت اور بدکار عورتوں کے شعار سے مشابہت۔ اس رائے کے مطابق اگر یہ خرابیاں نہ ہوں تو گنجائش نکلتی ہے۔ مگر چونکہ جمہور کا موقف زیادہ محتاط ہے اور سرجری میں صحت کے خطرات بھی ہوتے ہیں، اس لیے محض خوب صورتی کے لیے سرجری سے بچنا ہی احتیاط کا راستہ ہے۔


ہر جائز سرجری کی شرائط


جائز سرجری میں بھی ان شرائط کا خیال ضروری ہے:


  1. نقصان نہ ہو: رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ‘‘، نہ نقصان اٹھایا جائے نہ پہنچایا جائے (سنن ابن ماجہ، حدیث: 2340)۔ سرجری کا فائدہ اس کے خطرے سے زیادہ ہو۔
  2. ماہر ڈاکٹر: سرجری کسی مستند اور ماہر سرجن سے کروائی جائے۔
  3. ستر کا خیال: جہاں ممکن ہو، عورت کی سرجری خاتون ڈاکٹر کرے۔
  4. دھوکا نہ ہو: سرجری کسی کو دھوکا دینے، مثلاً رشتے میں اپنی اصل حالت چھپانے، کے لیے نہ ہو۔
  5. جنس کی تبدیلی نہیں: مرد کا عورت یا عورت کا مرد جیسی شکل اختیار کرنے کے لیے سرجری جائز نہیں۔

آخری بات


اسلام انسان کے جسم کی حفاظت، علاج اور اصلاح کی اجازت ہی نہیں، ترغیب بھی دیتا ہے، جیسا کہ صحابی کی سونے کی ناک والی حدیث سے واضح ہے۔ حادثے، جلنے، پیدائشی نقص یا بیماری کے بعد سرجری جائز ہے۔ البتہ جہاں کوئی عیب نہ ہو اور مقصد صرف فیشن ہو، وہاں احتیاط کیجیے، کیونکہ اللہ نے انسان کو ’’أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ‘‘، یعنی بہترین ساخت، میں پیدا کیا ہے (التین: 4)۔