رمضان 2027 کب شروع ہوگا؟ متوقع تاریخ، رؤیتِ ہلال اور ملکوں میں فرق کی حقیقت
ہر سال شعبان کا چاند ڈھلتے ہی دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں ایک ہی سوال جاگ اٹھتا ہے: رمضان کب شروع ہوگا؟ یہ سوال محض ایک تاریخ جاننے کی خواہش نہیں، بلکہ اس مہمان کی آمد کا انتظار ہے جس کے لیے گھر بھی سنوارے جاتے ہیں اور دل بھی۔ رمضان 2027 کے بارے میں فلکیاتی اندازے آ چکے ہیں، مگر ان اندازوں کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اسلام میں مہینے کا آغاز کیسے طے ہوتا ہے، اور ایک ہی رمضان مختلف ملکوں میں مختلف دنوں میں کیوں شروع ہوتا ہے۔ اس مضمون میں ہم یہی تینوں باتیں ترتیب سے دیکھیں گے: متوقع تاریخ، اس کی بنیاد، اور اس میں فرق کی حقیقت۔
رمضان 2027 کی متوقع تاریخ
ہجری تقویم کے مطابق رمضان 2027 دراصل رمضان المبارک 1448ھ ہوگا۔ سعودی عرب کے سرکاری تقویم ’’ام القریٰ‘‘ کے مطابق رمضان 1448ھ کا آغاز اتوار 7 فروری 2027 کو غروبِ آفتاب سے ہوگا اور پہلا روزہ پیر 8 فروری کو ہوگا۔ یعنی پہلی تراویح اتوار کی شام ادا کی جائے گی۔
البتہ یہ تاریخ فلکیاتی حساب پر مبنی ہے، حتمی اعلان نہیں۔ اسی لیے یہ واضح رہنا چاہیے کہ جہاں رمضان کا آغاز مقامی طور پر نیا چاند دیکھنے پر ہوتا ہے، وہاں پہلا روزہ منگل 9 فروری کو بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان ممالک میں مقامی رؤیتِ ہلال کی بنیاد پر پہلا روزہ 9 فروری 2027 کو متوقع ہے۔
رمضان 2027 کی اہم متوقع تاریخیں
موقعام القریٰ کے مطابقپاکستان و بھارت میں ممکنہپہلی تراویحاتوار، 7 فروری 2027 (شام)پیر، 8 فروری 2027 (شام)پہلا روزہپیر، 8 فروری 2027منگل، 9 فروری 2027آخری عشرے کا آغازہفتہ، 27 فروری 2027 (شام)اتوار، 28 فروری 2027 (شام)ستائیسویں شبجمعہ، 5 مارچ 2027 (شام)ہفتہ، 6 مارچ 2027 (شام)عید الفطرمنگل، 9 مارچ 2027بدھ، 10 مارچ 2027
یہ تمام تاریخیں متوقع ہیں۔ ام القریٰ تقویم کے مطابق رمضان 2027 کا آخری عشرہ ہفتہ 27 فروری کو غروبِ آفتاب سے شروع ہوگا، اور ستائیسویں شب جمعہ 5 مارچ کو غروبِ آفتاب سے۔ عید الفطر کے بارے میں اندازہ یہ ہے کہ وہ منگل 9 مارچ 2027 کو ہوگی، یا اگر مہینہ تیس دن کا ہوا تو بدھ 10 مارچ کو۔ پاکستان اور بھارت کے کالم میں صرف یہ فرض کیا گیا ہے کہ وہاں ہر تاریخ ایک دن بعد آئے گی۔ اصل تاریخیں وہاں کی رؤیتِ ہلال پر منحصر ہوں گی، اور عید کی تاریخ اس پر بھی کہ رمضان 29 دن کا ہوتا ہے یا 30 دن کا۔
رمضان ہر سال دس گیارہ دن پہلے کیوں آتا ہے؟
اسلامی مہینے قمری ہیں، یعنی چاند کی گردش سے بنتے ہیں، جبکہ عام کیلنڈر شمسی ہے۔ قمری سال شمسی سال سے تقریباً گیارہ دن چھوٹا ہوتا ہے، اسی لیے رمضان ہر سال شمسی کیلنڈر میں تقریباً گیارہ دن پیچھے کھسک جاتا ہے۔ 2026 میں رمضان فروری کے وسط میں شروع ہوا تھا، اور 2027 میں وہ فروری کے آغاز میں آ رہا ہے۔
یہ نظام دراصل ایک حکمت رکھتا ہے۔ ایک مسلمان اپنی زندگی میں رمضان کو ہر موسم میں پاتا ہے: کبھی سخت گرمی کے لمبے دنوں میں، اور کبھی سردیوں کے چھوٹے دنوں میں۔ 2027 کا رمضان شمالی نصف کرے میں سردیوں کے آخری حصے میں آ رہا ہے، اس لیے پاکستان، بھارت، خلیج اور یورپ میں روزے نسبتاً مختصر ہوں گے۔ قرآنِ مجید نے چاند کے اس نظام کو انسانوں کے لیے وقت کا پیمانہ قرار دیا ہے:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ (البقرة: 189)
لوگ آپ سے نئے چاندوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے: یہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے اوقات کی علامتیں ہیں۔
رمضان کا آغاز کیسے طے ہوتا ہے؟
اسلام میں رمضان کے آغاز کی بنیاد رؤیتِ ہلال، یعنی نیا چاند دیکھنے پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ‘‘ (البقرة: 185)، یعنی تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔ اس حکم کی عملی صورت رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے ان الفاظ میں واضح فرما دی:
صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ (صحیح البخاری، کتاب الصوم، حدیث: 1909)
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزے ختم کرو، اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو شعبان کے تیس دن پورے کر لو۔
اس حدیث سے دو اصول سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ شعبان کی 29 تاریخ کی شام چاند تلاش کیا جائے، اور اگر نظر آ جائے تو اگلے دن سے روزہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر چاند نظر نہ آئے تو شعبان کو تیس دن کا مان لیا جائے۔ چونکہ کوئی قمری مہینہ تیس دن سے زیادہ کا نہیں ہوتا، اس لیے رمضان کا آغاز ہر حال میں ان دو دنوں میں سے کسی ایک دن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلکیاتی حساب کے باوجود حتمی تاریخ میں ایک دن کا امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
2027 میں چاند کی صورتِ حال
اس سال فلکیات ابتدا ہی میں بڑی حد تک ابہام ختم کر دیتی ہے۔ ایک فلکیاتی تجزیے کے مطابق نیا چاند (اجتماع) ہفتہ 6 فروری 2027 کو تقریباً 16:00 بجے (عالمی وقت) پیدا ہوگا؛ اس لیے اس شام ہلال نظر آنا ممکن نہیں، جبکہ اتوار کی شام تک وہ ایک دن سے زیادہ عمر کا ہو چکا ہوگا۔
ام القریٰ تقویم میں 29 شعبان ہفتہ 6 فروری 2027 کو ہے، اور اسی شام سرکاری رؤیتِ ہلال کے ذریعے رمضان کے آغاز کی تصدیق کی جائے گی۔ چونکہ اس شام ہلال نظر آنے کا امکان نہیں، اس لیے شعبان کے تیس دن پورے ہوں گے اور رمضان پیر 8 فروری سے شروع ہوگا۔ یہی حساب ہمیں اس حدیث کے دوسرے حصے کی طرف لے جاتا ہے: ’’فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ‘‘۔
جن ممالک میں شعبان مقامی رؤیت کی بنیاد پر ایک دن بعد شروع ہوا ہوگا، وہاں 29 شعبان اتوار 7 فروری کو آئے گی، اور اسی شام چاند دیکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس شام چاند نظر آیا تو روزہ پیر 8 فروری کو ہوگا، ورنہ منگل 9 فروری کو۔ پاکستان میں اس بات کا حتمی فیصلہ مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کرے گی، اور اسی کا اعلان معتبر ہوگا۔
مختلف ملکوں میں رمضان ایک ہی دن کیوں شروع نہیں ہوتا؟
یہ سوال ہر سال اٹھتا ہے، اور اس کا تعلق ایک قدیم فقہی بحث سے ہے جسے ’’اختلافِ مطالع‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی چاند کے طلوع ہونے کی جگہوں کا فرق۔ زمین گول ہے، اس لیے ممکن ہے کہ ایک شام نیا چاند مکہ یا مراکش میں نظر آ جائے مگر لاہور یا ڈھاکہ میں نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک جگہ کی رؤیت سب کے لیے کافی ہے؟
اس بارے میں صحیح مسلم کی ایک روایت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت کریبؒ شام سے مدینہ آئے اور بتایا کہ شام میں جمعہ کی شب چاند دیکھا گیا اور لوگوں نے روزہ رکھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب دیکھا تھا، اس لیے ہم اپنے حساب سے روزے پورے کریں گے؛ اور فرمایا کہ رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے ہمیں اسی طرح حکم دیا ہے (صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث: 1087)۔
اس روایت کی تشریح میں فقہا کی آرا مختلف رہی ہیں۔ بعض فقہا کے نزدیک دور دراز علاقوں کے مطلع کا فرق معتبر ہے، اس لیے ہر خطہ اپنی رؤیت کا پابند ہے۔ دوسرے فقہا کے نزدیک کسی ایک جگہ کی معتبر رؤیت دوسری جگہوں کے لیے بھی کافی ہو سکتی ہے۔ عصرِ حاضر میں ایک تیسرا رجحان فلکیاتی حساب کو بنیاد بنانے کا بھی ہے، جیسا کہ ترکی کا ادارۂ دیانت اور انڈونیشیا کی تنظیم محمدیہ تاریخ کو پہلے سے حساب کے ذریعے طے کر لیتے ہیں، جبکہ بیشتر ممالک میں حتمی اعلان عملاً چاند دیکھنے ہی کے بعد ہوتا ہے۔
ان سب آرا کے پیچھے دلائل ہیں، اور یہ اختلاف اجتہادی ہے، یعنی معتبر علما کے درمیان دلیل کی بنیاد پر پایا جانے والا اختلاف۔ ایک عام مسلمان کے لیے اس کا عملی حل یہ ہے کہ وہ اپنے ملک یا اپنی بستی کے معتبر دینی ادارے کے اعلان کی پیروی کرے۔ روزہ اور عید اجتماعی عبادتیں ہیں، اور ایک ہی شہر کے مسلمانوں کا ان میں متحد رہنا انفرادی رائے پر اصرار سے کہیں بہتر ہے۔
رمضان 2027 کی تیاری کب اور کیسے؟
تاریخ کا علم صرف کیلنڈر پر نشان لگانے کے لیے نہیں، تیاری کے لیے ہے۔ شعبان کا مہینہ اسی تیاری کا موسم ہے، اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ رمضان کے سوا کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے نہیں رکھتے تھے (صحیح البخاری، کتاب الصوم، حدیث: 1969)۔ 2027 میں شعبان کا مہینہ جنوری کے وسط سے شروع ہو جائے گا۔
تیاری کے چند عملی پہلو یہ ہیں۔ جن کے ذمے پچھلے رمضان کے روزے باقی ہوں، وہ نئے رمضان سے پہلے ان کی قضا کر لیں۔ قرآن کی تلاوت کا معمول ابھی سے بنا لیا جائے، تاکہ رمضان میں وہ بوجھ نہیں، لذت بنے۔ زکوٰۃ کا حساب پہلے کر لیا جائے، کیونکہ بہت سے لوگ زکوٰۃ رمضان ہی میں ادا کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، دل کو گناہوں سے صاف کرنے اور رشتوں کی تلخیاں دور کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ جو دل کینے سے بھرا ہو، اس میں رمضان کی روشنی پوری طرح نہیں اترتی۔
آخری بات
رمضان 2027 کا آغاز فلکیاتی حساب کے مطابق پیر 8 فروری کو متوقع ہے، اور جنوبی ایشیا میں یہ آغاز ایک دن بعد بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اس ایک دن کے فرق پر بحث سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس مہینے کا استقبال کس دل کے ساتھ کرتے ہیں۔ تاریخ کا اعلان رؤیتِ ہلال کمیٹی کرے گی، مگر رمضان سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ ہر انسان کو خود کرنا ہے۔ جو شخص آج سے اس کی تیاری شروع کر دے، اس کے لیے رمضان محض تقویم کی ایک تاریخ نہیں رہے گا، بلکہ زندگی کا ایک نیا آغاز بن جائے گا۔