حدیث نبوی ﷺ دینِ اسلام کا وہ دوسرا بنیادی ماخذ ہے جس کے بغیر نہ قرآن کی صحیح تفسیر ممکن ہے، نہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے تفصیلی مسائل کی تفہیم۔ لیکن جس طرح ہر علم کے کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں، اسی طرح حدیث کو سمجھنے، پرکھنے اور اس پر اعتماد کرنے کے لیے بھی ایک مکمل علمی نظام موجود ہے، جسے "اصولِ حدیث" یا "مصطلح الحدیث" کہا جاتا ہے۔ آج کے دور میں، جب انکارِ حدیث کا فتنہ مختلف صورتوں میں سر اٹھا رہا ہے، اس علم کو سیکھنا محض ایک علمی شوق نہیں بلکہ دین کی حفاظت کے لیے ایک لازمی ضرورت بن چکا ہے۔ اسی اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لیے Sirat Islamic Academy نے ایک مکمل تخصیصی آن لائن کورس متعارف کرایا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
حجیتِ حدیث و سنت
کورس کا پہلا اور بنیادی موضوع یہ ہے کہ حدیث اور سنت دین میں حجت (یعنی قابلِ اعتماد اور واجب الاتباع دلیل) کیوں اور کیسے ہیں۔ یہ باب ان بنیادی قرآنی و عقلی دلائل پر مشتمل ہے جو ثابت کرتے ہیں کہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بھی لازم ہے، اور یہ کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے حدیث کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ موضوع دراصل پورے کورس کی بنیاد ہے، کیونکہ جب تک حجیتِ حدیث ذہن نشین نہ ہو، آگے کے تمام مباحث بے معنی رہ جاتے ہیں۔
احکامِ حدیث
اس عنوان کے تحت حدیث کی مختلف اقسام اور ان کے شرعی احکام کا مطالعہ کرایا جاتا ہے — یعنی کونسی حدیث پر عمل واجب ہے، کونسی مستحب کے درجے میں آتی ہے، اور کس نوعیت کی حدیث سے احتیاط ضروری ہے۔ یہ مبحث طالب علم کو یہ صلاحیت عطا کرتا ہے کہ وہ کسی بھی حدیث کا حکم متعین کرتے وقت سرسری انداز کی بجائے علمی بنیاد پر فیصلہ کر سکے۔
مناہجِ محدثین
ہر بڑے محدث نے حدیث جمع کرنے، پرکھنے اور مرتب کرنے کا اپنا ایک منہج (طریقہ کار) اختیار کیا۔ امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، اور دیگر محدثینِ کرام کے مناہج میں فرق کو سمجھنا اس کورس کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس سے طالب علم کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صحاح ستہ اور دیگر کتبِ حدیث کیوں اور کیسے مرتب کی گئیں، اور ہر کتاب کی اپنی انفرادیت کیا ہے۔
مصطلحاتِ حدیث
علمِ حدیث کی اپنی ایک مخصوص اصطلاحی زبان ہے — جیسے صحیح، حسن، ضعیف، متواتر، آحاد، مرفوع، موقوف، منقطع، اور دیگر بےشمار اصطلاحات۔ ان اصطلاحات کو سمجھے بغیر کسی بھی حدیث کی کتاب یا شرح کا مطالعہ ادھورا رہتا ہے۔ یہ باب طالب علم کو وہ بنیادی ذخیرۂ الفاظ فراہم کرتا ہے جو علمِ حدیث کی دنیا میں داخل ہونے کے لیے ناگزیر ہے۔
تخریجِ حدیث
تخریجِ حدیث سے مراد یہ ہے کہ کسی حدیث کا ماخذ تلاش کیا جائے، اس کی اسناد کا جائزہ لیا جائے، اور یہ معلوم کیا جائے کہ وہ حدیث کن کن کتبِ حدیث میں کن الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ ایک عملی اور تحقیقی مہارت ہے جو طالب علم کو خود حدیث کی تحقیق کرنے کے قابل بناتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے حوالوں پر انحصار کرے۔
منکرینِ حدیث کے اعتراضات کا علمی محاکمہ
کورس کا یہ حصہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ عصرِ حاضر میں کچھ حلقوں کی جانب سے حدیث کی حجیت پر مختلف اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ یہ باب انہی اعتراضات کا تفصیلی، دلائل پر مبنی، اور علمی جواب فراہم کرتا ہے، تاکہ طالب علم نہ صرف خود مطمئن ہو بلکہ دوسروں کے شبہات کا بھی مدلل جواب دے سکے۔
کورس کی اہمیت
یہ کورس ان تمام افراد کے لیے نہایت اہم ہے جو دینی علوم میں سنجیدگی سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں — چاہے وہ عام دین دار مسلمان ہوں، دینی مدارس کے طلبہ ہوں، یا وہ لوگ جو سوشل میڈیا اور جدید فورمز پر پھیلائے جانے والے انکارِ حدیث کے شبہات کا سامنا کرتے ہیں۔ علمِ حدیث کی مضبوط بنیاد رکھے بغیر نہ دین کا صحیح فہم حاصل ہو سکتا ہے، نہ ایمان کو شکوک و شبہات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کورس اسی خلا کو پر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
کورس کی تفصیلات ایک نظر میں
- استاذِ کورس: ڈاکٹر علامہ جمیل حیدر الازہری (فاضل جامعہ الازہر، مصر)
- دورانیہ: چھ ماہ
- کلاسز: ہفتے میں دو دن
- آغاز: یکم اکتوبر 2026
- مقام: لاہور، پاکستان (آن لائن کلاسز بھی دستیاب)
- خصوصیات: ون ٹو ون کلاسز، مستند و اہل استاذ، دوستانہ ماحول، اوقات میں لچک
آج ہی شامل ہوں
اگر آپ بھی علمِ حدیث کی گہرائیوں کو سمجھنا چاہتے ہیں، انکارِ حدیث کے فتنے کا علمی جواب دینے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور ایک مستند استاذ کی نگرانی میں یہ اہم علم سیکھنا چاہتے ہیں، تو دیر نہ کیجیے۔ Sirat Islamic Academy کے اس تخصیصی "اصولِ حدیث کورس" میں آج ہی داخلہ لیں۔ مزید معلومات اور رجسٹریشن کے لیے رابطہ کریں:
📍 لاہور، پاکستان