بینک کا منافع: سود یا حلال؟


مہینے کے آخر میں موبائل پر بینک کا پیغام آتا ہے: ’’آپ کے اکاؤنٹ میں منافع جمع کر دیا گیا ہے‘‘۔ اکثر لوگ اسے خوش خبری سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، مگر ایک باشعور مسلمان کے دل میں سوال اٹھتا ہے: یہ بینک کا منافع سود ہے یا حلال؟ یہ سوال اب محض ذاتی تقویٰ کا معاملہ بھی نہیں رہا۔ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے سود کو ہر شکل میں حرام قرار دیا ہے، اور آئین میں اس کے مکمل خاتمے کے لیے یکم جنوری 2028 کی مہلت مقرر ہو چکی ہے۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ شریعت کی نظر میں سود کیا ہے، روایتی بینک کا منافع کس زمرے میں آتا ہے، اسلامی بینک کا منافع اس سے کیسے مختلف ہے، اور جو سود پہلے مل چکا ہو اس کا کیا حکم ہے۔


سود کیا ہے؟ شریعت کی واضح تعریف


عربی میں سود کو ’’ربا‘‘ کہتے ہیں، جس کا لفظی معنی ہے اضافہ۔ شریعت کی اصطلاح میں قرض پر طے شدہ ہر اضافہ ربا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی کو رقم ادھار دے اور یہ شرط رکھے کہ واپسی پر اصل رقم سے زیادہ لے گا، تو وہ اضافہ سود ہے، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ، اور خواہ اسے ’’منافع‘‘ کہا جائے یا ’’مارک اپ‘‘۔

قرآنِ مجید نے سود کے بارے میں جتنا سخت لہجہ اختیار کیا ہے، اتنا شاید کسی اور معاشی گناہ کے بارے میں نہیں:




يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (البقرة: 278، 279)

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔ اور اگر توبہ کر لو تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا ہے؛ نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

اس آیت کا آخری جملہ سود کے مسئلے کا پورا خلاصہ ہے: اصل سرمایہ تمہارا حق ہے، اس پر طے شدہ اضافہ نہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، اس کا معاملہ لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی، اور فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، حدیث: 1598)۔


روایتی بینک کا منافع: سود کیوں ہے؟


بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ بینک میں رقم رکھنا ایک طرح کی سرمایہ کاری ہے، اس لیے اس پر ملنے والا منافع کاروبار کا نفع ہے۔ مگر حقیقت مختلف ہے۔ جب آپ کسی روایتی بینک میں رقم جمع کرواتے ہیں تو قانونی اور فقہی دونوں اعتبار سے آپ بینک کو قرض دیتے ہیں۔ بینک اس رقم کا مالک بن جاتا ہے، اسے جہاں چاہے استعمال کرتا ہے، اور آپ کو اصل رقم واپس کرنے کی ضمانت دیتا ہے، خواہ اسے نفع ہو یا نقصان۔


اب اس قرض پر بینک آپ کو ایک طے شدہ شرح سے، مثلاً سالانہ اتنے فیصد، اضافی رقم دیتا ہے۔ یہ بالکل وہی صورت ہے جسے شریعت ربا کہتی ہے: قرض پر طے شدہ اضافہ۔ اسے ’’منافع‘‘ یا ’’پرافٹ‘‘ کا نام دینے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی۔ اسی بنا پر اسلامی دنیا کے بڑے فقہی اداروں نے بینک کے سود کو ربا قرار دیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے 1985 کی اپنی قرارداد میں قرض پر ہر طے شدہ اضافے کو حرام ربا قرار دیا۔


پاکستان میں یہ مسئلہ عدالتی سطح پر بھی طے ہو چکا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے 28 اپریل 2022 کو اپنے تاریخی فیصلے میں حکومت کو 31 دسمبر 2027 تک ربا کے خاتمے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ اس کی ہر شکل میں ممانعت قرآن و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قرض سمیت کسی بھی صورت میں لیا گیا سود ربا ہے، جو اسلام میں مکمل طور پر حرام ہے۔ اکتوبر 2024 میں 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 38 کی شق (f) کو تبدیل کر کے یہ طے کر دیا گیا کہ ربا کا مکمل خاتمہ یکم جنوری 2028 سے پہلے کیا جائے گا۔ وزارتِ خزانہ کی حکمتِ عملی کے مطابق یکم جنوری 2028 سے قرضوں سمیت تمام نئے مالیاتی معاہدے شریعت کے مطابق طریقوں پر کیے جائیں گے۔


کیا اس مسئلے میں کوئی اختلاف ہے؟

دیانت داری کا تقاضا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ عصرِ حاضر میں بعض اہلِ علم نے بینک کے مقررہ منافع کو جائز قرار دیا۔ ان میں سب سے معروف رائے مصر کے سابق شیخ الازہر ڈاکٹر محمد سید طنطاوی اور ان کے دور میں مجمع البحوث الاسلامیہ کی ہے، جنہوں نے 2002 میں بینک کو سرمایہ کار کا وکیل قرار دے کر پہلے سے طے شدہ منافع کی اجازت دی۔ مگر عالمِ اسلام کے علما اور فقہی اداروں کی بھاری اکثریت نے اس رائے کو قبول نہیں کیا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب بینک اصل رقم کی ضمانت دیتا ہے اور منافع کی شرح بھی پہلے سے طے کرتا ہے، تو معاملہ وکالت یا شراکت نہیں رہتا، قرض بن جاتا ہے؛ اور قرض پر طے شدہ اضافہ بلا شبہ ربا ہے۔ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ بھی اسی جمہور موقف کے مطابق ہے۔


اسلامی بینک کا منافع: فرق کہاں ہے؟


اسلامی بینکاری کا بنیادی تصور یہ ہے کہ رقم قرض کے بجائے شراکت یا مضاربت کی بنیاد پر رکھی جائے۔ مضاربت میں ایک فریق سرمایہ دیتا ہے اور دوسرا اسے کاروبار میں لگاتا ہے، اور نفع پہلے سے طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔ اسلامی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں:




  • منافع کی رقم طے نہیں ہوتی، صرف تقسیم کا تناسب طے ہوتا ہے، مثلاً بینک کے حقیقی نفع میں سے اتنے فیصد کھاتہ دار کا۔
  • منافع حقیقی کاروبار سے آتا ہے، جیسے اجارہ، مرابحہ اور شراکت پر مبنی سرمایہ کاری، نہ کہ سودی قرضوں سے۔
  • اصولاً نقصان کا خطرہ بھی ہوتا ہے، یعنی کھاتہ دار نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوتا ہے۔
  • ہر اسلامی بینک کا شریعہ بورڈ اس کے معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔

مفتی محمد تقی عثمانی سمیت بہت سے نامور علما نے اسی بنیاد پر اسلامی بینکاری کی تائید کی ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض علما نے موجودہ اسلامی بینکاری کے عملی طریقۂ کار پر تنقید کی ہے۔ ان کے نزدیک بہت سی جگہوں پر یہ نظام عملاً روایتی بینکاری سے زیادہ مختلف نہیں، اور اس کے منافع کی شرحیں بھی روایتی بینکوں کے قریب رہتی ہیں۔ یہ اختلاف علمی ہے، اور دونوں طرف معتبر اہلِ علم موجود ہیں۔ تاہم ایک بات پر بڑی اکثریت متفق ہے: سودی بینک کے مقابلے میں ایسا ادارہ جو شریعہ بورڈ کی نگرانی میں شرعی معاہدوں کے تحت کام کرتا ہو، کہیں بہتر اور شرعاً محفوظ راستہ ہے۔


روایتی بینک میں اکاؤنٹ رکھنے کا حکم

یہاں دو صورتوں میں فرق کرنا ضروری ہے:


کرنٹ اکاؤنٹ: اس میں بینک کوئی منافع نہیں دیتا۔ رقم کی حفاظت یا لین دین کی ضرورت کے لیے روایتی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ رکھنے کی بہت سے علما نے ضرورت کی بنا پر گنجائش دی ہے، کیونکہ اس میں سود لیا نہیں جاتا۔ البتہ جہاں اسلامی بینک دستیاب ہو، وہاں اسی کو ترجیح دینا بہتر ہے، تاکہ اپنی رقم سودی نظام کو تقویت دینے میں استعمال نہ ہو۔


سیونگ اکاؤنٹ یا فکسڈ ڈپازٹ: اس میں رقم اسی شرط پر رکھی جاتی ہے کہ اس پر طے شدہ سود ملے گا۔ یہ براہِ راست سودی معاہدہ ہے اور جائز نہیں۔ اگر کسی کا ایسا اکاؤنٹ ہو تو اسے چاہیے کہ اسے کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کرے یا کسی اسلامی بینک میں منتقل کرے۔


جو سود پہلے مل چکا ہو، اس کا کیا کیا جائے؟

بہت سے لوگ لاعلمی میں برسوں سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھتے رہے، اور اب ان کے اکاؤنٹ میں سود کی رقم جمع ہے۔ معاصر علما کی اکثریت کی رائے یہ ہے:




  1. سچی توبہ کیجیے اور آئندہ کے لیے سودی معاہدہ ختم کر دیجیے۔
  2. اپنی اصل رقم رکھ لیجیے، کیونکہ قرآن کہتا ہے: ’’فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ‘‘، تمہارا اصل سرمایہ تمہارا ہے۔
  3. سود کی رقم اپنے استعمال میں نہ لائیے۔ اسے بینک سے نکال کر ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحق یا رفاہی کام میں دے دیجیے، تاکہ اپنا مال اس سے پاک ہو جائے۔ بعض علما نے بینک ہی میں چھوڑ دینے کو منع کیا ہے، کیونکہ وہ رقم پھر سودی نظام ہی میں استعمال ہوتی ہے۔

اس مسئلے کی جزئیات ہر شخص کے حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے اپنی مخصوص صورتِ حال کسی معتبر مفتی کے سامنے رکھ کر رہنمائی لینا بہتر ہے۔


منافع اور سود میں بنیادی فرق


اس پوری بحث کا خلاصہ ایک سادہ اصول ہے، جو ہر مالیاتی پیشکش کو پرکھنے میں مدد دیتا ہے:

سودحلال منافعمعاہدہقرضشراکت، مضاربت یا تجارتاصل رقمہر حال میں محفوظ اور ضمانت شدہنقصان کا خطرہ بھی شاملمنافع کی مقدارپہلے سے طے شدہ شرححقیقی نفع میں سے طے شدہ تناسبمنافع کا ماخذقرض پر اضافہحقیقی کاروبار اور اثاثے

جہاں اصل رقم کی ضمانت بھی ہو اور اس پر طے شدہ اضافہ بھی، وہاں نام کچھ بھی ہو، معاملہ سود کا ہے۔


آخری بات


بینک کا منافع سود ہے یا حلال، اس کا جواب نام سے نہیں، معاہدے کی حقیقت سے طے ہوتا ہے۔ روایتی بینک کا سیونگ اکاؤنٹ قرض پر طے شدہ اضافے کا نام ہے، اس لیے وہ ربا ہے، جسے قرآن نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ قرار دیا ہے۔ اسلامی بینک کا منافع، جو شراکت اور حقیقی کاروبار سے آتا ہو، شریعہ بورڈ کی نگرانی میں ایک جائز متبادل ہے، اگرچہ اس کے عملی طریقۂ کار پر علمی بحث جاری ہے۔ پاکستان جب 2028 میں سود سے پاک نظام کی طرف بڑھ رہا ہے، تو ایک مسلمان کے لیے یہی بہترین وقت ہے کہ وہ ریاست کا انتظار کیے بغیر اپنے ذاتی مالی معاملات کو سود سے پاک کر لے۔ اصل سرمایہ آپ کا حق ہے؛ مگر برکت اسی رزق میں ہے جو اللہ کی حدود کے اندر