چھٹا کلمۂ رَدِّ کفر (Sixth Kalma Radd-e-Kufr)
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ اَنْ اُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِهٖ وَاَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ بِهٖ تُبْتُ عَنْهُ وَتَبَرَّاْتُ مِنَ الْكُفْرِ وَالشِّرْكِ وَالْكِذْبِ وَالْغِيْبَةِ وَالْبِدْعَةِ وَالنَّمِيْمَةِ وَالْفَوَاحِشِ وَالْبُهْتَانِ وَالْمَعَاصِيْ كُلِّهَا وَاَسْلَمْتُ وَاَقُوْلُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ
"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اِس بات سے کہ میں کسی شے کو تیرا شریک بناؤں جان بوجھ کر، اور بخشش مانگتا ہوں تجھ سے اُس (شرک) کی جس کو میں نہیں جانتا اور میں نے اُس سے توبہ کی، اور بیزار ہوا کفر سے اور شرک سے اور جھوٹ سے اور غیبت سے اور بدعت سے اور چغلی سے اور بے حیائیوں سے اور بہتان سے اور تمام گناہوں سے، اور میں اسلام لایا اور میں کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں".
"O Allah! I seek protection in you from that I shoud not join any partner with you knowingly. I seek your forgiveness from that which I do not know. I repent from it (ignorance) I free myself from disbelief and joining partners with you and from all sins. I submit to your will I believe & I declare: There is none worthy of worship besides Allah and with Him Muhammad is His Messenger."
اہمیت اور فضیلت
1۔ شرک سے پناہ کی دعا:
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ شرک تم میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہوتا ہے، اور آپ ﷺ نے اس سے بچنے کے لیے "اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ" پڑھنے کی تعلیم دی۔ (الادب المفرد 716، مسند احمد)
2۔ شرک سب سے بڑا گناہ:
قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے علاوہ جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ (سورۃ النساء: 48)
اور شرک کو بہت بڑا ظلم کہا گیا ہے۔ (سورۃ لقمان: 13)
3۔ گناہوں سے توبہ کی تعلیم:
جھوٹ، غیبت، چغلی، بے حیائی اور بہتان سے بچنے اور ان پر توبہ کرنے کی تعلیم قرآن و سنت میں بار بار آئی ہے۔ یہ کلمہ ان سب سے بیزاری کے اقرار کا آسان طریقہ ہے۔
4۔ ایمان کی تجدید:
آخر میں "لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کہہ کر ایمان کی تجدید کی جاتی ہے یہی اسلام کی بنیاد ہے۔
خلاصہ: یہ کلمہ شرک، کفر اور گناہوں سے توبہ، اللہ کی پناہ طلب کرنے اور ایمان کے اقرار کا مجموعہ ہے۔