کرپٹو کرنسی: حلال یا حرام؟ ائمہ کے اصول اور عصرِ حاضر کے فتاویٰ کی روشنی میں


چند برس پہلے تک ’’بٹ کوائن‘‘ کا نام صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی زبان پر تھا، مگر آج یہ لفظ گلی محلے کے نوجوانوں تک پہنچ چکا ہے۔ کوئی راتوں رات امیر ہونے کی کہانیاں سناتا ہے، کوئی اپنی ساری جمع پونجی ڈوب جانے کا ماتم کرتا ہے۔ اس ہنگامے میں ایک دیانت دار مسلمان کے سامنے سب سے اہم سوال نفع یا نقصان کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی حلال ہے یا حرام؟ اس سوال کا جواب جذبات یا سنی سنائی باتوں سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ سمجھا جائے کہ کرپٹو کرنسی ہے کیا، پھر یہ دیکھا جائے کہ ائمۂ فقہ نے مال، کرنسی اور تجارت کے کیا اصول بیان کیے ہیں، اور آخر میں یہ جانچا جائے کہ عصرِ حاضر کے علما نے ان اصولوں کو اس نئی چیز پر کس طرح منطبق کیا ہے۔


کرپٹو کرنسی کیا ہے؟


کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل اکائی ہے جس کا وجود صرف کمپیوٹر کے ایک خاص نظام میں ہوتا ہے، جسے ’’بلاک چین‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا مشترکہ کھاتہ ہے جس میں ہر لین دین درج ہوتا ہے، اور اسے کسی ایک بینک یا حکومت کے بجائے دنیا بھر کے کمپیوٹروں کا ایک جال محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے پیچھے نہ سونا ہوتا ہے، نہ کسی حکومت کی ضمانت؛ اس کی قیمت مکمل طور پر طلب اور رسد سے طے ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کی قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا ہے۔


کرپٹو کی دنیا ایک چیز نہیں، بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں بٹ کوائن جیسے بنیادی سکے بھی ہیں، ’’اسٹیبل کوائن‘‘ بھی ہیں جن کی قیمت کسی کرنسی، مثلاً ڈالر، سے جوڑی جاتی ہے، اور ایسے بے شمار ’’ٹوکن‘‘ بھی ہیں جو کسی منصوبے یا خدمت سے وابستہ ہوتے ہیں۔ پھر ان کی خرید و فروخت کے طریقے بھی الگ الگ ہیں: سادہ خرید و فروخت، قرض پر لی گئی رقم سے تجارت (لیوریج)، فیوچرز اور دیگر مشتقات۔ اس تنوع کو سامنے رکھنا ضروری ہے، کیونکہ فقہی حکم بہت حد تک اسی پر منحصر ہے کہ سوال کس چیز اور کس طریقے کے بارے میں ہے۔


اصل فقہی سوال: تین بنیادی نکات


کسی بھی نئی چیز کا شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے فقہا پہلے اس کی ’’تکییفِ فقہی‘‘ کرتے ہیں، یعنی یہ طے کرتے ہیں کہ شریعت کی معروف اصطلاحات میں یہ چیز کس زمرے میں آتی ہے۔ کرپٹو کرنسی کے بارے میں یہ بحث تین سوالوں کے گرد گھومتی ہے:




  1. کیا کرپٹو کرنسی شرعی اعتبار سے ’’مال‘‘ ہے؟
  2. اگر مال ہے تو کیا یہ کرنسی یا ’’ثمن‘‘ کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے؟
  3. کیا اس کے لین دین میں ’’غرر‘‘ یعنی حد سے زیادہ غیر یقینی، یا ’’قمار‘‘ یعنی جوئے کا عنصر پایا جاتا ہے؟

ان تینوں سوالوں کے جواب ائمۂ فقہ کے بیان کردہ اصولوں میں موجود ہیں۔ البتہ انہیں ایک نئی چیز پر منطبق کرنے میں اہلِ علم کی آرا مختلف ہو گئی ہیں۔


ائمہ کے ہاں مال کی تعریف


فقہائے احناف کا نقطۂ نظر


فقہ حنفی میں مال کی جو تعریف مشہور ہے، اسے علامہ ابن عابدین شامیؒ نے ’’رد المحتار‘‘ میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے:



الْمُرَادُ بِالْمَالِ مَا يَمِيلُ إِلَيْهِ الطَّبْعُ وَيُمْكِنُ ادِّخَارُهُ لِوَقْتِ الْحَاجَةِ

مال سے مراد وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور جسے ضرورت کے وقت کے لیے ذخیرہ کیا جا سکے۔

اسی بحث میں یہ اصول بھی بیان ہوا ہے کہ کسی چیز کی مالیت لوگوں کے اسے مال سمجھنے سے ثابت ہوتی ہے، اور اس کا شرعاً قیمتی (متقوم) ہونا اس پر موقوف ہے کہ شریعت میں اس سے نفع اٹھانا جائز ہو:



وَالْمَالِيَّةُ إِنَّمَا تَثْبُتُ بِتَمَوُّلِ النَّاسِ كَافَّةً أَوْ بَعْضِهِمْ، وَالتَّقَوُّمُ يَثْبُتُ بِهَا وَبِإِبَاحَةِ الِانْتِفَاعِ بِهِ شَرْعًا

مالیت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب تمام لوگ یا ان میں سے کچھ لوگ اسے مال سمجھیں، اور شرعی قیمت اسی مالیت اور شریعت میں اس سے نفع اٹھانے کے جائز ہونے سے ثابت ہوتی ہے۔

یہیں سے کرپٹو کرنسی کی بحث کا پہلا بڑا اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے پیچھے کوئی حقیقی چیز نہیں، یہ محض کمپیوٹر کے کھاتے میں درج چند اعداد ہیں، اس لیے یہ مال کی تعریف پر پوری نہیں اترتی۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ لاکھوں لوگ اسے قیمتی سمجھتے ہیں، اس کا لین دین کرتے ہیں اور اسے ذخیرہ کرتے ہیں، لہٰذا ’’تمول الناس‘‘ کی شرط پوری ہو جاتی ہے۔


جمہور فقہا کا نقطۂ نظر


امام شافعیؒ کا ایک قول امام جلال الدین سیوطیؒ نے ’’الاشباہ والنظائر‘‘ میں نقل کیا ہے:



لَا يَقَعُ اسْمُ مَالٍ إِلَّا عَلَى مَا لَهُ قِيمَةٌ يُبَاعُ بِهَا، وَتَلْزَمُ مُتْلِفَهُ وَإِنْ قَلَّتْ

مال کا اطلاق صرف اسی چیز پر ہوتا ہے جس کی کوئی قیمت ہو جس کے بدلے اسے بیچا جا سکے، اور اسے ضائع کرنے والے پر اس کا تاوان لازم آئے، خواہ وہ قیمت تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔

یہ تعریف مادی وجود کے بجائے بازار میں قیمت ہونے اور تاوان لازم آنے کو بنیاد بناتی ہے۔ اسی لیے جمہور فقہا کے ہاں منافع اور حقوق کو بھی مال میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ احناف کے ہاں عام طور پر مال کے لیے کسی چیز کا مادی طور پر ذخیرہ ہونا ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ کرپٹو کرنسی کو مال ماننے والے علما زیادہ تر اسی وسیع تر تعریف سے استدلال کرتے ہیں۔


کرنسی: فطرت یا عرف؟


دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی چیز محض لوگوں کے قبول کر لینے سے کرنسی بن سکتی ہے؟ اس بارے میں ائمہ کے دو اقوال خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔ امام مالکؒ سے ’’المدونۃ‘‘ میں منقول ہے:



وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أَجَازُوا بَيْنَهُمُ الْجُلُودَ حَتَّى تَكُونَ لَهَا سِكَّةٌ وَعَيْنٌ، لَكَرِهْتُهَا أَنْ تُبَاعَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ نَظِرَةً
اگر لوگ آپس میں چمڑے کو (بطورِ کرنسی) رائج کر لیں، یہاں تک کہ وہ سکے اور نقدی کی حیثیت اختیار کر لے، تو میں اسے ناپسند کروں گا کہ اسے سونے اور چاندی کے بدلے ادھار بیچا جائے۔

یعنی امام مالکؒ کے نزدیک چمڑا بھی، اگر عرفاً کرنسی بن جائے، تو اس پر کرنسی کے احکام جاری ہوں گے۔ اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ میں لکھا:



وَأَمَّا الدِّرْهَمُ وَالدِّينَارُ فَمَا يُعْرَفُ لَهُ حَدٌّ طَبْعِيٌّ وَلَا شَرْعِيٌّ، بَلْ مَرْجِعُهُ إِلَى الْعَادَةِ وَالِاصْطِلَاحِ
درہم و دینار کی نہ کوئی فطری حد معلوم ہے نہ شرعی؛ بلکہ اس کا مدار عادت اور لوگوں کے باہمی اتفاق پر ہے۔

ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فقہ میں کرنسی کی بنیاد عرف پر ہے، کسی چیز کی ذاتی حیثیت پر نہیں۔ کرپٹو کرنسی کو جائز کہنے والے علما اسی اصول سے استدلال کرتے ہیں۔ مخالف رائے رکھنے والے علما کہتے ہیں کہ عرف وہ معتبر ہے جو عام، مستحکم اور کسی ذمہ دار اختیار کے تحت ہو؛ جبکہ کرپٹو کرنسی نہ کسی ریاست کی تسلیم شدہ کرنسی ہے، نہ اس کی قیمت میں وہ استحکام ہے جو کرنسی کا بنیادی وصف ہے۔


غرر اور قمار: تیسرا بنیادی سوال


تیسرا سوال کرپٹو کرنسی کی ذات سے زیادہ اس کے لین دین کے طریقوں سے متعلق ہے۔ شریعت نے تجارت میں دو چیزوں کو خاص طور پر حرام قرار دیا ہے۔ پہلی چیز غرر ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے دھوکے والی بیع سے منع فرمایا: ’’نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب البیوع، حدیث: 1513)۔ دوسری چیز قمار یعنی جوا ہے، جسے قرآنِ مجید نے شیطانی عمل قرار دیا:



يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة: 90)

اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور پانسے کے تیر سب ناپاک شیطانی کام ہیں، تو ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

اسی کے ساتھ قرآن کا ایک عمومی اصول بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے: ’’لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ‘‘ (النساء: 29)، یعنی آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔


کرپٹو کرنسی کی دنیا میں جو کاروبار عام ہے، اس کا بڑا حصہ حقیقی تجارت سے زیادہ قیمتوں پر شرط لگانے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ چند گھنٹوں میں خرید کر بیچ دینا، قرض کی رقم سے دس یا سو گنا بڑا سودا کرنا، اور ایسے ٹوکن خریدنا جن کے پیچھے نہ کوئی منصوبہ ہے نہ کوئی قابلِ شناخت ذمہ دار، یہ سب وہ صورتیں ہیں جن میں غرر اور قمار کا عنصر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔


عصرِ حاضر کے فتاویٰ: حرمت کا موقف


مفتی محمد تقی عثمانی کا فتویٰ (جون 2026)


اس موضوع پر پاکستان میں حالیہ اور سب سے نمایاں فتویٰ جامعہ دارالعلوم کراچی کا ہے۔ 10 جون 2026 (24 ذوالحجہ 1447ھ) کو جامعہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء نے ایک فتویٰ جاری کیا، جس پر مفتی محمد تقی عثمانی نے، جو وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور دارالعلوم کراچی کے صدر ہیں، پانچ دیگر علما کے ساتھ دستخط کیے۔ اس فتوے کے مطابق یہ حکم کرپٹو کرنسیوں، کرپٹو ٹوکنز اور اسٹیبل کوائنز سب پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسیاں اسلامی فقہ میں مال یا ملکیت کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں۔ Maal or Mirage? - Mufti Taqi Usmani's Fatwa on Cryptocurrency and the Future of Digital Assets in Islamic Jurisprudence by Muhammad Irfan Haroon :: SSRN +2

فتوے میں کرپٹو کرنسی کو محض کسی کھاتے میں فرضی اعداد کا اندراج قرار دیا گیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کا یہ قول بھی نقل ہوا ہے کہ انہوں نے شرعی اصولوں کی روشنی میں یہ رائے دی ہے کہ کرپٹو کرنسی، کرپٹو ٹوکن اور اسٹیبل کوائنز کی خرید و فروخت جائز نہیں، کیونکہ شریعت میں انہیں ایسے مال یا اثاثے کی حیثیت حاصل نہیں جس کی ملکیت حاصل کی جا سکے؛ اور محض نام بدل دینے سے ان کی اصل حقیقت اور شرعی حکم نہیں بدلتا۔


اس فتوے کے بعد ایک اہم پیش رفت بھی سامنے آئی۔ 11 جولائی 2026 کو پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کی، جس میں اتھارٹی نے بلاک چین ٹیکنالوجی، حقیقی اثاثوں پر مبنی ٹوکنز اور اسٹیبل کوائنز کو قیاس آرائی پر مبنی کرپٹو تجارت سے الگ کر کے ان کا جداگانہ شرعی جائزہ لینے کی درخواست کی۔ یعنی یہ بحث ابھی جاری ہے، اور خاص طور پر ان ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں، جن کے پیچھے کوئی حقیقی چیز موجود ہو، مزید علمی غور و فکر کا دروازہ کھلا ہے۔


دیگر ممالک کے ادارے


پاکستان سے باہر بھی کئی سرکاری دینی اداروں نے کرپٹو کرنسی کو ناجائز قرار دیا ہے۔ مصر کے دار الافتاء کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے 2 جنوری 2018 کے بیان میں بٹ کوائن کی تجارت اور لین دین کو حرام قرار دیا گیا۔ اس موقف کی بنیاد یہ بیان کی گئی کہ بٹ کوائن کی قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور حقیقی پشت پناہی کا نہ ہونا دھوکے اور غیر یقینی کا ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جو اسلامی قانون میں ممنوع ہے۔


cryptodispensersstakeliquid


انڈونیشیا کی مجلس علمائے انڈونیشیا (MUI) کا فتویٰ زیادہ تفصیلی ہے۔ 12 نومبر 2021 کے فیصلے میں کرپٹو کو بطورِ کرنسی ناجائز قرار دیا گیا، اور اس کی وجوہ غیر یقینی، نقصان اور انڈونیشیا کے قوانین بتائی گئیں۔ ساتھ ہی ڈیجیٹل اجناس کی ایسی تجارت کو بھی رد کیا گیا جس میں مقررہ شرائط پوری نہ ہوں۔ البتہ ایک تیسری شق ایسی کرپٹو جنس کی اجازت دیتی ہے جو مطلوبہ معیار پر پوری اترے، جس کی کوئی بنیاد ہو اور جس کا واضح فائدہ ہو۔ اسی ماخذ کے مطابق یہ دستاویز یہ نہیں کہتی کہ بٹ کوائن خود بخود اس استثنا میں آ جاتا ہے۔


cryptodispenserscryptodispensers


عصرِ حاضر کے فتاویٰ: جواز کا موقف


دوسری طرف علما کا ایک گروہ کرپٹو کرنسی کو بعض شرائط کے ساتھ جائز سمجھتا ہے۔ اس رائے کے نمایاں نمائندے برطانیہ کے مفتی فراز آدم ہیں، جو اسلامی مالیات اور فِن ٹیک کے محقق ہیں۔ اس گروہ کا استدلال یہ ہے کہ بٹ کوائن مال کی تعریف پر پورا اترتا ہے اور اسے ایک ڈیجیٹل جنس کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی رائے کی تائید مفتی محمد ابو بکر اور دارالعلوم زکریا سے بھی منقول ہے۔


اس موقف کی فقہی بنیاد وہی عرف کا اصول ہے جو اوپر امام مالکؒ اور ابن تیمیہؒ کے اقوال میں گزرا۔ مفتی ابو بکر کے حوالے سے منقول ہے کہ چاروں مذاہب کے فقہا اس پر متفق ہیں کہ اگر کوئی چیز لوگوں کے عرف اور قبولیت کی وجہ سے قیمتی بن جائے تو وہ مال شمار ہوتی ہے، اور مفتی فراز آدم کا کہنا ہے کہ لوگوں میں قابلِ قبول نظام شریعت میں کرنسی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔



اسی رجحان کی نمائندگی ایک سرکاری ادارہ بھی کرتا ہے: ملائیشیا کی سیکیورٹیز کمیشن کی شریعہ ایڈوائزری کونسل نے 2020 میں ضابطے کے تحت آنے والے ڈیجیٹل اثاثوں کو جائز ملکیت تسلیم کیا۔


یہ بات خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ جواز کے قائل علما بھی ہر قسم کی کرپٹو تجارت کو جائز نہیں کہتے۔ ان کے بارے میں یہ صراحت ملتی ہے کہ جو علما بٹ کوائن میں نقد سرمایہ کاری کو جائز سمجھتے ہیں، وہ بھی اس بارے میں اتنے ہی واضح ہیں کہ لیوریج اور قیاس آرائی پر مبنی مشتقات اسلامی قانون کی حدود سے باہر ہیں۔ مفتی فراز آدم کے شریعہ جائزوں میں Aave اور Compound کو غیر شرعی قرار دیا گیا، کیونکہ یہ سود پر مبنی قرض کے پروٹوکول ہیں۔


دونوں مواقف کا علمی جائزہ


حرمت کے قائل علما کا سب سے مضبوط نکتہ یہ ہے کہ شریعت میں مال کا تصور کسی حقیقی چیز، نفع یا حق سے وابستہ ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی کے پیچھے ایسی کوئی چیز موجود نہیں۔ اس کی قیمت کا انحصار صرف اس توقع پر ہے کہ کل کوئی دوسرا شخص اسے زیادہ قیمت پر خرید لے گا، اور یہی وہ صورت ہے جو قمار کے بہت قریب ہے۔ پھر اس کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ، دھوکا دہی کے بے شمار واقعات اور کسی ذمہ دار ادارے کی عدم موجودگی سدِّ ذریعہ کے اصول کے تحت بھی احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔


جواز کے قائل علما کا مضبوط نکتہ یہ ہے کہ ائمہ نے کرنسی اور مال کی بنیاد عرف پر رکھی ہے، اور عرف بدلتا رہتا ہے۔ آج کاغذی نوٹ بھی کسی حقیقی سونے کے بغیر محض اعتماد اور قانون کی بنیاد پر چلتے ہیں، اور علما نے انہیں بھی بتدریج قبول کیا ہے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ چیز نہیں، اس کا استعمال ہے: اگر لین دین سود، جوئے اور دھوکے سے پاک ہو تو محض نیا ہونا کسی چیز کو حرام نہیں بنا دیتا۔


ان دونوں مواقف کے بیچ اختلاف کا اصل محور یہ ہے کہ کیا ڈیجیٹل اعداد کو ’’مال‘‘ تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ یہ اجتہادی سوال ہے، اور اس پر معتبر اہلِ علم کی آرا مختلف ہیں۔ کسی ایک رائے کو تمام امت کا متفق علیہ موقف قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔


کس بات پر علما متفق ہیں؟


اختلاف کے باوجود کچھ امور ایسے ہیں جن پر دونوں گروہوں کا اتفاق نظر آتا ہے، اور ایک عام مسلمان کے لیے یہی سب سے اہم ہیں:



  • لیوریج اور مشتقات: قرض کی رقم سے بڑے سودے کرنا، فیوچرز اور اس نوعیت کی تجارت دونوں گروہوں کے نزدیک ناجائز ہے۔
  • سودی پروٹوکول: کرپٹو کو سود پر قرض دینا یا ایسے نظاموں میں لگانا جو سود کی بنیاد پر منافع دیتے ہوں، ناجائز ہے۔
  • جوئے جیسی تجارت: محض قیمت کے اتار چڑھاؤ پر شرط لگانے کی نیت سے لمحہ بہ لمحہ خرید و فروخت قمار کے قریب ہے۔
  • مشکوک ٹوکن: ایسے ٹوکن خریدنا جن کے پیچھے نہ کوئی حقیقی منصوبہ ہو نہ قابلِ شناخت ذمہ دار، صریح غرر ہے۔


یعنی جو لوگ آج ’’کرپٹو ٹریڈنگ‘‘ کے نام پر لیوریج، فیوچرز اور راتوں رات منافع کمانے کے کاروبار میں مصروف ہیں، ان کے لیے جواز کے قائل علما کی رائے بھی کوئی گنجائش نہیں رکھتی۔


ایک عام مسلمان کیا کرے؟


ایک ایسے مسئلے میں جس پر معتبر علما کا اختلاف ہو، عام مسلمان کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی ایسے مستند عالم یا ادارے کی رہنمائی پر عمل کرے جس کے علم اور تقویٰ پر اسے اعتماد ہو، اور اپنی خواہش کے مطابق رائے تلاش کرنے سے گریز کرے۔ جو شخص آسان رائے صرف اس لیے اختیار کرے کہ اس سے منافع کا راستہ کھلتا ہے، وہ دراصل شریعت کی پیروی نہیں، اپنی خواہش کی پیروی کر رہا ہے۔


یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ رزقِ حلال کا معاملہ عام معاملات سے زیادہ نازک ہے۔ جہاں حلال و حرام میں واضح شبہ ہو، وہاں احتیاط ہی تقویٰ کا تقاضا ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے مشتبہ امور سے بچنے کو دین اور عزت کی حفاظت قرار دیا ہے (صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 52؛ صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، حدیث: 1599)۔ جو شخص پہلے سے کرپٹو میں سرمایہ لگا چکا ہو، وہ اپنی مخصوص صورتِ حال کسی معتبر مفتی کے سامنے رکھ کر رہنمائی حاصل کرے، کیونکہ اس کا حکم اس بات پر بھی منحصر ہے کہ اس نے کس چیز میں اور کس طریقے سے سرمایہ لگایا ہے۔


آخری بات


کرپٹو کرنسی کا مسئلہ اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ اسلامی فقہ کس طرح قدیم اصولوں کی روشنی میں نئے سوالوں کا سامنا کرتی ہے۔ امام مالکؒ نے چمڑے کو کرنسی بنا دینے کا فرضی سوال اٹھایا تھا؛ آج وہی سوال ڈیجیٹل اعداد کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ائمہ کے اصول واضح ہیں: مال وہ ہے جسے لوگ قیمتی سمجھیں اور شریعت جس سے نفع اٹھانے کی اجازت دے؛ تجارت وہ ہے جو دھوکے، جوئے اور سود سے پاک ہو۔ اختلاف صرف ان اصولوں کو اس نئی چیز پر منطبق کرنے میں ہے، اور یہ اختلاف ابھی ختم نہیں ہوا۔ مگر جو بات ہر حال میں یقینی ہے وہ یہ ہے کہ جس کاروبار کی بنیاد قسمت آزمائی، قرض کی رقم اور راتوں رات امیر ہونے کے خواب پر ہو، وہ کسی بھی رائے کے مطابق اس تجارت کے دائرے میں نہیں آتا جسے قرآن نے ’’تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ‘‘ کہا ہے۔