کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ ایک کاریگر جب کوئی مشین بناتا ہے تو اس کے ساتھ ایک کتابچہ ضرور دیتا ہے، جس میں لکھا ہوتا ہے کہ اسے کیسے چلانا ہے، کن باتوں کا خیال رکھنا ہے، اور کن حالات میں یہ خراب ہو سکتی ہے؟ اب ذرا سوچیے کہ وہ ذات جس نے یہ زمین و آسمان، یہ سورج و چاند، اور خود انسان کو تخلیق کیا، کیا وہ اپنی سب سے نفیس تخلیق  یعنی انسان کو یونہی، بغیر کسی ہدایت نامے کے، اس دنیا میں چھوڑ دے گی؟ عقل خود اس بات کو تسلیم نہیں کرتی۔ جس اللہ نے ہمیں بنایا، اسی نے ہمیں بتایا بھی کہ ہم کیوں بنائے گئے، اور یہی بتانے کا نام "دین" ہے۔

قرآن مجید اس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے:


وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ


"اور میں نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"

 (سورۃ الذاریات، آیت ۵۶)


  یہ آیت دراصل زندگی کے سب سے بڑے سوال کا جواب ہے — وہ سوال جو ہر سوچنے والے انسان کے دل میں کبھی نہ کبھی ضرور اٹھتا ہے: میں کیوں ہوں؟ میرا یہاں ہونا کس لیے ہے؟ اور جب یہ جواب مل جاتا ہے تو ایک اور سوال خودبخود جنم لیتا ہے: اگر میں عبادت کے لیے بنایا گیا ہوں، تو عبادت کا صحیح طریقہ مجھے کون بتائے گا؟ کیا میں اپنی عقل کے سہارے، اپنی خواہشات کی روشنی میں، خود ہی طے کر لوں کہ اللہ کو کیسے راضی کیا جائے؟ یہیں سے دین سیکھنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ دین دراصل وہ نقشۂ راہ ہے جو خود خالق نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا، تاکہ کوئی انسان اندھیرے میں ٹٹولتا نہ پھرے۔


اب یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کا ہے۔ عام طور پر جب "دین" کا لفظ سنا جاتا ہے تو ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ گویا دین دنیا کا حریف ہے کہ دین کی طرف آنے کا مطلب دنیا کو چھوڑ دینا ہے۔ حالانکہ یہ ایک بنیادی غلط فہمی ہے۔ دین اور دنیا ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکمیل کنندہ ہیں۔ دین دراصل یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کھانا، پینا، کمانا، سونا، جاگنا، سب کچھ اللہ کے دیے ہوئے احکام کا پابند بنا دے۔ آپ اگر کھانا محض بھوک مٹانے کے لیے کھاتے ہیں تو یہ دنیا ہے، لیکن اگر یہی کھانا آپ اس نیت سے کھاتے ہیں کہ یہ اللہ کی نعمت ہے، حلال طریقے سے حاصل کی گئی ہے، اور اس لیے کھائی جا رہی ہے تاکہ اللہ کے حق کو ادا کر سکوں تو وہی کھانا عبادت اور دین بن جاتا ہے۔ گویا دین دراصل زاویۂ نگاہ کا نام ہے، اور یہ زاویہ سیکھے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔


یہیں سے یہ بات بھی روشن ہو جاتی ہے کہ دین سیکھنا کیوں محض ایک اختیاری مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ جس طرح ایک انسان بغیر روشنی کے اندھیرے میں چلتا ہے تو ٹھوکریں کھاتا ہے، بالکل اسی طرح بغیر دینی علم کے انسان زندگی کے فیصلے کرتا ہے تو غلطیاں کرتا ہے نہ اسے حلال و حرام کی صحیح پہچان ہوتی ہے، نہ حقوق العباد کا شعور، نہ عبادت کا صحیح طریقہ، اور نہ ہی اپنے خالق سے تعلق جوڑنے کا وہ راستہ جو دلوں کو سکون بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علم اور جہالت کو کبھی برابر قرار نہیں دیا:


قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

"کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟"

(سورۃ الزمر، آیت ۹)


اس آیت میں سوال کی صورت میں جو جواب دیا گیا ہے، وہ دراصل ہر انسان کی فطرت میں پہلے سے موجود ہے۔ کوئی بھی عقل مند شخص یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا ایک جیسے ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان دنیا کے ہر فن میں مہارت حاصل کرنے کو ضروری سمجھے، مگر اس دین کو سیکھنا ضروری نہ سمجھے جس پر اس کی دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی موقوف ہے؟


یہاں یہ سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ آخر دین سیکھنے کے لیے کسی استاد یا رہنما کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ کیا انسان خود اپنے طور پر قرآن و حدیث پڑھ کر دین کو نہیں سمجھ سکتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح طب، انجینئرنگ، یا کوئی بھی سنجیدہ علم بغیر استاد کے مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتا، اسی طرح دین بھی ایک ایسا علم ہے جس کی گہرائیوں تک پہنچنے کے لیے مستند اساتذہ کی رہنمائی ناگزیر ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے یہ اصول سکھایا ہے:


فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

"پس اہلِ علم سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔"

 (سورۃ النحل، آیت ۴۳)


یہی وہ اصول ہے جس پر صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ عمل کرتی آئی ہے کہ دین ہمیشہ سینہ بہ سینہ، استاد سے شاگرد تک منتقل ہوتا رہا ہے۔ نہ قرآن کی صحیح تلاوت بغیر تجوید سیکھے ممکن ہے، نہ حدیث کی صحیح تفہیم بغیر اصولِ حدیث جانے، نہ فقہی مسائل کا حل بغیر اصولِ فقہ سمجھے، اور نہ سیرت النبی ﷺ سے وہ روشنی حاصل ہو سکتی ہے جب تک اسے ترتیب اور تفہیم کے ساتھ نہ پڑھا جائے۔


آج کے دور میں ایک اور مشکل بھی پیش آتی ہے، اور وہ ہے وقت کی کمی۔ ملازمت، تعلیم، گھریلو ذمہ داریاں ان سب کے درمیان بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دینی تعلیم کے لیے وقت نکالنا ممکن نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید دور نے اس مشکل کا حل بھی پیدا کر دیا ہے۔ اب گھر بیٹھے، اپنے وقت کی سہولت کے مطابق، مستند اساتذہ سے آن لائن قرآن، تجوید، حدیث، سیرت، فقہ، اور عربی زبان جیسے علوم سیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ سہولت دراصل ایک نعمت ہے جس نے فاصلوں اور مصروفیت کی رکاوٹ کو ختم کر دیا ہے، اور ہر مرد و زن، نوجوان و بزرگ کے لیے دین سیکھنے کا راستہ آسان بنا دیا ہے۔

 

آخر میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ دین سیکھنا کسی مخصوص طبقے یا خاص علماء تک محدود کوئی معاملہ نہیں، بلکہ ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین کو اتنا ضرور جانے جتنا اس کی روزمرہ زندگی، عبادت، اور معاملات کے لیے درکار ہے۔ کیونکہ انسان کا ہر لمحہ دین بن سکتا ہے ،

بشرطیکہ اسے یہ معلوم ہو کہ دین ہے کیا اور اس پر عمل کیسے کیا جاتا ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ایک باشعور مسلمان کی زندگی کا اصل سفرشروع ہوتا ہے: علم سے عمل کی طرف، اور عمل سے اللہ کی رضا کی طرف۔


Sirat Islamic اگر آپ بھی اپنی زندگی کے اس سب سے اہم سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں، تو

پر مستند اساتذہ کی زیرِ نگرانی قرآن، حدیث، سیرت اور دیگر اسلامی علوم آن لائن سیکھنے کا آغاز کر سکتے ہیں۔"