دوسرا کلمۂ شہادت (Second Kalma Shahadat)
اَشْهَدُ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں."
I bear witness that none is worthy of worthy but Allah, the one alone, with out partner, and i bear witness that Muhammad (PBUH) is his servant and Messenger
اہمیت اور فضیلت
1۔ اسلام کا پہلا رکن:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ (صحیح بخاری 8؛ صحیح مسلم 16)
2۔ وضو کے بعد پڑھنے کی فضیلت:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر یہ شہادت پڑھے، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو۔ (صحیح مسلم 234)
3۔ نماز اور اذان کا حصہ:
یہی گواہی نماز کے تشہد میں پڑھی جاتی ہے (صحیح مسلم 402)
اور اذان میں بھی دی جاتی ہے۔
4۔ اللہ، فرشتے اور اہلِ علم بھی گواہ ہیں:
قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور فرشتوں اور اہلِ علم نے بھی۔ (سورۃ آلِ عمران: 18)
خلاصہ: یہ کلمہ توحید اور رسالت کی گواہی ہے۔ ایمان کی بنیاد یہی ہے، اور اسے سمجھ کر پڑھنا اور اس پر زندگی گزارنا مسلمان کی پہچان ہے۔