آئی برو بنوانا جائز ہے یا نہیں؟ تھریڈنگ کا شرعی حکم


بیوٹی پارلر ہو یا گھر کا آئینہ، آج تقریباً ہر خاتون کے سامنے یہ سوال آتا ہے: کیا آئی برو بنوانا جائز ہے؟ کیا Eyebrow Threading گناہ ہے؟ ایک طرف وہ حدیث ہے جس میں ابرو کے بال اکھاڑنے والی عورتوں پر لعنت آئی ہے، اور دوسری طرف یہ حقیقت کہ اسلام عورت کے لیے زینت کو پسند کرتا ہے۔ اس الجھن کا حل یہ ہے کہ ہم دیکھیں حدیث میں ممانعت کس بات سے ہے، اس کی اصل وجہ کیا ہے، اور فقہائے کرام نے کن صورتوں کو جائز قرار دیا ہے۔


حدیث میں کیا آیا ہے؟


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:





لَعَنَ اللَّهُ الوَاشِمَاتِ وَالمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ، وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، حدیث: 5931)
اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے جسم پر ٹیٹو بنانے اور بنوانے والی عورتوں پر، ابرو کے بال اکھڑوانے والی عورتوں پر، اور خوب صورتی کے لیے دانتوں میں فاصلہ کروانے والی عورتوں پر، جو اللہ کی تخلیق کو بدلنے والی ہیں۔

حدیث میں ’’متنمصات‘‘ کا لفظ آیا ہے، جو ’’نمص‘‘ سے ہے۔ مالکی فقیہ علامہ نفراویؒ کے مطابق نمص کا مطلب ہے ابرو کے بال اکھاڑنا تاکہ وہ باریک اور خوب صورت ہو جائیں (الفواکہ الدوانی، ج 2، ص 314)۔ یعنی آج کی زبان میں Eyebrow Threading یا Plucking۔

اسی مفہوم کی روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ہے، جس میں ایک اہم قید ہے: ’’مِنْ غَيْرِ دَاءٍ‘‘، یعنی جب یہ کام کسی بیماری کے بغیر کیا جائے (سنن ابی داود، حدیث: 4170)۔ اس سے معلوم ہوا کہ علاج کی ضرورت اس ممانعت میں شامل نہیں۔


ممانعت کی اصل وجہ کیا ہے؟


لعنت ایک سخت لفظ ہے، اور اس کے پیچھے کوئی سنگین خرابی ہونی چاہیے۔ زینت اختیار کرنا بذاتِ خود گناہ نہیں، کیونکہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ‘‘، اللہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے (صحیح ابن حبان، حدیث: 5466)۔ آپ نے ایک خاتون سے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم عورت ہو تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگتی (سنن النسائی، حدیث: 5089)۔

اسی لیے بہت سے فقہا نے اس ممانعت کو کسی علت سے جوڑا ہے۔ ان کی عبارات کی روشنی میں اس ممانعت کی تین بڑی وجوہ سامنے آتی ہیں:





  1. دھوکا (تدلیس): اپنی اصل حالت چھپا کر کسی کو دھوکا دینا، مثلاً رشتے کے وقت۔
  2. اجنبی مردوں کے لیے زینت: یعنی غیر مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے بناؤ سنگھار۔
  3. بدکار عورتوں کے شعار سے مشابہت: علامہ طاہر بن عاشورؒ کے مطابق اُس دور میں یہ کام بدکار اور مشرک عورتوں کی علامت سمجھے جاتے تھے (التحریر والتنویر، ج 5، ص 206)۔


فقہائے کرام کیا کہتے ہیں؟





  • علامہ شامیؒ (فقہ حنفی): ممانعت اس صورت پر محمول ہے جب عورت اجنبیوں کے لیے زینت اختیار کرے؛ ورنہ اگر چہرے پر ایسے بال ہوں جن کی وجہ سے شوہر کو کراہت ہو، تو ان کے صاف کرنے کو حرام کہنا بعید ہے، کیونکہ عورت کے لیے زینت مطلوب ہے (رد المحتار، ج 6، ص 373)۔

  • سلیمان الجملؒ (فقہ شافعی): ابرو اور چہرے کے بال اکھاڑنا ممنوع ہے، لیکن اگر شوہر اجازت دے تو جائز ہے، کیونکہ شوہر کے لیے زینت ایک جائز مقصد ہے (حاشیۃ الجمل، ج 1، ص 418)۔

  • حافظ ابن حجرؒ: اس کا جواز شوہر کی اجازت اور علم سے مشروط ہے، اور ممانعت دھوکے کی وجہ سے ہے (فتح الباری، ج 10، ص 378)۔

  • علامہ نفراویؒ (فقہ مالکی): حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابرو اور چہرے کے بال صاف کرنے کا جواز منقول ہے (الفواکہ الدوانی، ج 2، ص 314)۔

آئی برو بنوانا کب جائز ہے؟


مذکورہ فقہا کی عبارات کی روشنی میں ان صورتوں میں آئی برو بنوانا جائز ہے:





  • شادی شدہ خاتون شوہر کے لیے، اس کی اجازت اور علم کے ساتھ آئی برو بنوائے۔
  • بے ترتیب اور زائد بال: ابرو کے وہ بال جو بے ترتیب ہوں، عام حد سے باہر نکلے ہوں یا چہرے کو بدنما بنا دیں، انہیں درست کروانا۔
  • دونوں ابرو کے درمیان کے بال (Unibrow): جو چہرے کو بدنما کر دیں۔
  • علاج یا طبی ضرورت: کسی بیماری یا زخم کی وجہ سے، جیسا کہ ’’مِنْ غَيْرِ دَاءٍ‘‘ کی قید سے واضح ہے۔

آئی برو بنوانا کب جائز نہیں؟





  • جب مقصد غیر مردوں کو متوجہ کرنا ہو۔
  • جب مقصد دھوکا دینا ہو، مثلاً رشتے کے لیے اپنی اصل صورت چھپانا۔
  • جب کسی ایسے فیشن کی نقالی ہو جو بے حیائی کی علامت سمجھا جاتا ہو۔

ایک ضروری وضاحت: اختلافِ رائے


یہ بات دیانت داری سے بیان کرنا ضروری ہے کہ بہت سے علما، بلکہ جمہور فقہا، کے نزدیک بغیر کسی ضرورت کے محض فیشن کے لیے ابرو باریک کروانا ممنوع ہے، اور وہ صرف بے ترتیب، زائد یا بدنما بالوں کی اصلاح کی اجازت دیتے ہیں۔ اوپر جو وسیع گنجائش بیان کی گئی ہے، یعنی شوہر کے لیے اس کی اجازت سے، وہ فقہ شافعی اور بعض دوسرے فقہا کی عبارات پر مبنی ایک معتبر علمی رائے ہے۔ احتیاط کی راہ یہ ہے کہ آئی برو کو قدرتی حد میں رکھا جائے اور صرف زائد بال درست کیے جائیں۔


Threading، Plucking یا Waxing: کیا طریقے سے فرق پڑتا ہے؟


شرعی حکم کا تعلق طریقے سے نہیں، مقصد سے ہے۔ Threading ہو، Plucking ہو یا Waxing، جو صورت جائز ہے وہ ہر طریقے سے جائز ہے، اور جو ناجائز ہے وہ کسی طریقے سے جائز نہیں ہوتی۔ البتہ بیوٹی پارلر میں یہ خیال رکھیے کہ کام کسی خاتون سے کروایا جائے اور پردے کے آداب ملحوظ رہیں۔


آخری بات

آئی برو بنوانے کا مسئلہ ’’ہاں یا نہ‘‘ کا سادہ سوال نہیں، بلکہ نیت اور مقصد کا معاملہ ہے۔ اسلام عورت کو زینت سے نہیں روکتا؛ وہ اس زینت سے روکتا ہے جو دھوکے، بے حیائی یا غیر مردوں کو مائل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اپنی نیت درست رکھیے، قدرتی حد کا خیال رکھیے، اور جہاں شک ہو وہاں احتیاط کو ترجیح دیجیے۔