کلمہ طیّب، جسے پہلا کلمہ بھی کہا جاتا ہے اسلام کی بنیاد ہے۔ یہ وہ پہلا اقرار ہے جس سے ایک شخص دائرۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور یہی وہ جملہ ہے جو ہر مسلمان بچپن سے سیکھتا اور زندگی بھر دہراتا ہے۔

یہ کلمہ دو بنیادی عقائد پر مشتمل ہے: توحید یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار، اور رسالت، یعنی نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی۔


لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ


"اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں"۔


"There is no god but Allah and Muhammad (PBUH) is the Messenger of Allah"


کلمے کی اہمیت


یہ کلمہ محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل عقیدے کا خلاصہ ہے۔ اس کا پہلا حصہ "لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ" توحید کی بنیاد ہے یعنی عبادت کا حق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے نہ کسی فرشتے کو نہ کسی نبی کو اور نہ کسی اور مخلوق کو۔ اس کا دوسرا حصہ "مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ" نبی کریم ﷺ کی رسالت کی گواہی ہے، یعنی آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سب سے پہلا رکن یہی کلمہ ہے کیونکہ باقی چار ارکان یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج، اسی ایمان کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ جب تک دل سے اس کلمے کی تصدیق اور زبان سے اس کا اقرار نہ ہو کوئی عمل مکمل طور پر قبول نہیں ہوتا۔


کلمہ طیّب کیوں سیکھنا ضروری ہے؟


ہر مسلمان بچے کو سب سے پہلے یہی کلمہ سکھایا جاتا ہے کیونکہ یہ ایمان کا دروازہ ہے۔ یہ کلمہ روزانہ کی نماز، اذان اور عام دعاؤں میں بھی دہرایا جاتا ہے، اور اسی پر پورے دین کی بنیاد قائم ہے۔ قرآن اور احادیث میں بار بار توحید اور رسالت کی گواہی کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور یہی وہ پہلا قدم ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتا ہے۔