فاریکس ٹریڈنگ اور پراپ فرم: شرعی حکم


پچھلے چند برسوں میں پاکستان کے شہروں ہی نہیں، قصبوں اور دیہات تک ایک نیا خواب پھیلا ہے: موبائل فون پر چند کلکس، اور گھر بیٹھے ڈالروں میں کمائی۔ یوٹیوب کے اشتہار، ٹیلیگرام کے گروپ اور ’’فنڈڈ اکاؤنٹ‘‘ کی پیشکشیں نوجوانوں کو بتاتی ہیں کہ فاریکس ٹریڈنگ اور پراپ فرم مالی آزادی کا سب سے تیز راستہ ہیں۔ مگر ایک مسلمان کے لیے رزق کا سوال صرف یہ نہیں کہ کمائی کتنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیسی ہے۔ فاریکس ٹریڈنگ کا شرعی حکم جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس کاروبار کی اصل حقیقت سمجھی جائے، پھر کرنسی کے لین دین کے بارے میں شریعت کے اصول دیکھے جائیں، اور آخر میں یہ جانچا جائے کہ اہلِ علم، خصوصاً اسلامی مالیات کے میدان میں سب سے نمایاں نام مفتی محمد تقی عثمانی، نے اس کاروبار کو کس نظر سے دیکھا ہے۔


فاریکس ٹریڈنگ کیا ہے؟


’’فاریکس‘‘ (Forex) دراصل Foreign Exchange کا مخفف ہے، یعنی مختلف ممالک کی کرنسیوں کا تبادلہ۔ اصولی طور پر یہ وہی کام ہے جو منی چینجر کی دکان پر ہوتا ہے: آپ روپے دے کر ڈالر لیتے ہیں یا ڈالر دے کر ریال۔ مگر آج جسے عام طور پر ’’فاریکس ٹریڈنگ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ اس سادہ تبادلے سے بہت مختلف ہے۔


عام آن لائن فاریکس ٹریڈنگ میں ایک شخص کسی بروکر کے پاس اکاؤنٹ کھولتا ہے، اس میں رقم جمع کرواتا ہے، اور پھر اسکرین پر کرنسیوں کے جوڑوں، مثلاً یورو اور ڈالر، کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر سودے کرتا ہے۔ اس نظام میں عموماً چار چیزیں شامل ہوتی ہیں:




  • لیوریج: بروکر آپ کو آپ کی اصل رقم سے کئی گنا بڑا سودا کرنے کی سہولت دیتا ہے، مثلاً سو ڈالر جمع کروا کر دس ہزار ڈالر کا سودا۔
  • سواپ یا رول اوور: اگر سودا رات بھر کھلا رہے تو اس پر ایک اضافی رقم لی یا دی جاتی ہے، جو دراصل دونوں کرنسیوں کی شرحِ سود کے فرق پر مبنی ہوتی ہے۔
  • CFD: اکثر صورتوں میں آپ حقیقی کرنسی خریدتے ہی نہیں، بلکہ ایک معاہدہ کرتے ہیں جس کے تحت قیمت کے فرق کا نفع یا نقصان طے ہوتا ہے۔
  • فیوچرز اور آپشنز: مستقبل کی کسی تاریخ پر خرید و فروخت کے معاہدے۔

یہی پہلو فاریکس کے شرعی حکم کی اصل بنیاد بنتے ہیں۔


کرنسی کے تبادلے کا شرعی اصول: بیعِ صرف


اسلامی فقہ میں سونا، چاندی یا کرنسی کو ایک دوسرے کے بدلے بیچنے کو ’’بیعِ صرف‘‘ کہا جاتا ہے، اور اس کے لیے شریعت نے سخت شرائط رکھی ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:




الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، حدیث: 1587)
سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے، برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اور جب یہ جنسیں مختلف ہوں تو جس طرح چاہو بیچو، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔

اس حدیث کو آج کے کاغذی نوٹوں پر کیسے منطبق کیا جائے، اس بارے میں معاصر اہلِ علم کی آرا میں کچھ فرق ہے۔ بہت سے معاصر اداروں کے نزدیک کرنسی نوٹ سونے چاندی کے حکم میں ہیں، اس لیے مختلف کرنسیوں کے تبادلے میں دونوں جانب سے مجلس ہی میں قبضہ ضروری ہے۔ برصغیر کے متعدد حنفی اہلِ علم کرنسی نوٹوں کو ’’ثمنِ عرفی‘‘ قرار دیتے ہیں، جو فقہ کی اصطلاح میں ’’فلوس‘‘ کے حکم میں ہیں۔ ان کے نزدیک ایک ہی ملک کی کرنسی کا کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ سود ہے، جبکہ مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے، کیونکہ ان کی جنس الگ ہے۔ البتہ ایسے تبادلے میں ضروری ہے کہ کم از کم ایک فریق مجلس میں اپنی کرنسی پر قبضہ کر لے، کیونکہ دونوں طرف ادھار رہتے ہوئے جدا ہونا حدیث کی رو سے جائز نہیں۔


ان دونوں آرا میں قبضے کی مقدار کا فرق ہے، مگر اس پر دونوں متفق ہیں کہ جس تبادلے میں کسی بھی جانب سے حقیقی یا حکمی قبضہ نہ ہو، وہ جائز نہیں۔


مروجہ فاریکس ٹریڈنگ میں شرعی خرابیاں


ان اصولوں کو سامنے رکھ کر جب مروجہ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو اس میں کئی بنیادی خرابیاں سامنے آتی ہیں۔ ان میں سے اکثر کی بنیاد ایک ہی جامع حدیث میں موجود ہے:




لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ (سنن ابی داود، کتاب البیوع، حدیث: 3504؛ جامع الترمذی، أبواب البیوع، حدیث: 1234)
قرض اور بیع کو یکجا کرنا جائز نہیں، نہ ایک بیع میں دو شرطیں، نہ اس چیز کا نفع جس کا ضمان (ذمہ داری) نہ اٹھایا ہو، اور نہ اس چیز کی بیع جو تمہارے پاس نہ ہو۔

امام ترمذیؒ نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔ یہ ایک حدیث مروجہ فاریکس کی چار بنیادی خرابیوں کی نشان دہی کر دیتی ہے:

1۔ لیوریج: قرض اور بیع کا اجتماع۔ جب بروکر آپ کو آپ کی رقم سے کئی گنا زیادہ سودا کرنے دیتا ہے، تو فرق کی رقم دراصل قرض ہے۔ یہ قرض اس شرط کے ساتھ ملتا ہے کہ سودے اسی بروکر کے ذریعے ہوں گے، جن سے وہ اسپریڈ یا کمیشن کماتا ہے۔ یہ بالکل وہی صورت ہے جس سے ’’لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ‘‘ میں منع کیا گیا ہے۔ اسلامی فقہ اکیڈمی کی ایک قرارداد میں بھی مارجن ٹریڈنگ کو اسی بنیاد پر ناجائز قرار دیا گیا ہے کہ بروکر کی یہ شرط قرض اور معاوضے کو یکجا کر دیتی ہے۔


2۔ سواپ: سود کی صریح صورت۔ رات بھر کھلے سودے پر لی یا دی جانے والی رقم شرحِ سود کے فرق پر مبنی ہوتی ہے، اور یہ سود ہے۔ قرآن کا فیصلہ واضح ہے: ’’وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا‘‘ (البقرة: 275)۔ بعض فتاویٰ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سواپ میں ایک مقررہ مدت کے بعد بیع ختم کرنے کی شرط لگائی جاتی ہے، جو بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔


3۔ قبضے کا فقدان اور CFD۔ اکثر آن لائن ٹریڈنگ میں کرنسی حقیقتاً کسی کے قبضے میں نہیں آتی۔ CFD کی صورت میں تو کرنسی خریدی ہی نہیں جاتی، صرف قیمت کے فرق کا معاہدہ ہوتا ہے۔ یہ ’’بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ‘‘ اور ’’رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ‘‘ کی صورت ہے، اور بیعِ صرف کی ’’یدًا بید‘‘ والی شرط کے بھی خلاف ہے۔


4۔ فیوچرز اور قمار۔ مستقبل کی تاریخ پر کرنسی کا سودا بیعِ صرف میں جائز نہیں، کیونکہ اس میں تبادلہ فوری ہونا ضروری ہے۔ پھر جب کاروبار کا مقصد کرنسی حاصل کرنا نہیں بلکہ محض قیمت کے اتار چڑھاؤ پر شرط لگانا ہو، تو وہ تجارت سے زیادہ قمار، یعنی جوئے، کے قریب ہو جاتا ہے۔


مفتی محمد تقی عثمانی کی رائے


اسلامی مالیات کے میدان میں مفتی محمد تقی عثمانی کا نام اس دور کے سب سے معتبر ناموں میں شمار ہوتا ہے۔ وہ دارالعلوم کراچی کے صدر ہیں، اسلامی بینکاری کے بین الاقوامی معیارات کی تشکیل میں ان کا بنیادی کردار رہا ہے، اور ’’فقہ البیوع‘‘ جیسی کتابوں میں انہوں نے جدید معاملات پر تفصیلی بحث کی ہے۔

فاریکس ٹریڈنگ کے بارے میں ان کی رائے واضح ہے: وہ مروجہ فاریکس ٹریڈنگ کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ اسلامی مالیات پر ایک تحقیقی مطالعے میں 2007 کے ان کے ایک انگریزی جواب کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے:




کرنسیاں اصلاً تبادلے کا ذریعہ ہیں، اور انہیں مختلف ممالک میں ذاتی استعمال ہی کے لیے بدلا جانا چاہیے۔ انہیں محض نفع کمانے کی خاطر ایک قابلِ تجارت جنس بنا دینا اسلامی معیشت کے بنیادی فلسفے کے بھی خلاف ہے۔ (مفہوم، ترجمہ)

یہ بات ان کی رائے کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ وہ صرف تکنیکی خرابیوں، یعنی قبضے کے فقدان اور سود کی شمولیت، ہی کی بنا پر فاریکس کو ناجائز نہیں کہتے، بلکہ ایک اصولی بات بھی کہتے ہیں: اسلامی معیشت میں پیسہ تبادلے کا ذریعہ ہے، خود تجارت کا مال نہیں۔ جب پیسے سے پیسہ کمانے ہی کو کاروبار بنا لیا جائے اور حقیقی معیشت میں کوئی چیز پیدا نہ ہو، تو یہ اس مقصد ہی کے خلاف ہے جس کے لیے کرنسی بنی ہے۔


اسی طرح وہ فیوچرز اور آپشنز کو بھی شرعاً درست نہیں سمجھتے، اور آپشن کے بارے میں ان کی معروف رائے یہ ہے کہ وہ دراصل ایک وعدہ ہے، جسے بیچا یا خریدا نہیں جا سکتا۔ مروجہ فاریکس اور پراپ فرموں میں یہی آلات بڑی کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔


دیگر علما کے فتاویٰ


پاکستان کے دینی اداروں کی بڑی تعداد نے بھی مروجہ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کو ناجائز قرار دیا ہے۔ ایک معروف فتوے میں، جو روزنامہ جنگ کے دینی کالم میں شائع ہوا، اس کی کئی وجوہ بیان کی گئیں۔ پہلی یہ کہ فاریکس کمپنی کے ذریعے خریدی گئی چیز کا وجود قطعی اور یقینی نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ آن لائن خریدی گئی چیز کے مقام اور مقدار کا تعین نہیں ہوتا۔ تیسری اور بنیادی وجہ یہ کہ مختلف ملکوں کی کرنسیوں کے تبادلے کے وقت کسی بھی جانب سے مکمل قبضہ نہیں پایا جاتا۔


ملائیشیا کی قومی فتویٰ کونسل اور وہاں کی کئی ریاستی فتویٰ کمیٹیوں نے بھی آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کو ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ کرنسی ربوی مال ہے اور اس کا لین دین بیعِ صرف کی شرائط کا پابند ہے۔ اسلام سوال و جواب (IslamQA) پر ایک جواب میں اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں ہونے والی فاریکس ٹریڈنگ میں عموماً کئی حرام امور پائے جاتے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ کرنسی کا لین دین شرعی قبضے کے بغیر ہوتا ہے۔


البتہ علمی دنیا میں ایک مختلف زاویہ بھی موجود ہے۔ بعض معاصر محققین نے یہ رائے پیش کی ہے کہ کرنسیوں کا بنیادی تبادلہ اصلاً جائز ہے، اور جو اشکالات ہیں وہ زیادہ تر لیوریج، سواپ اور بروکر کی شرائط جیسے لوازمات سے متعلق ہیں۔ غور کیا جائے تو یہ رائے بھی دراصل یہی کہتی ہے کہ مروجہ نظام کی خرابیاں اس کے لوازمات میں ہیں۔


’’اسلامک اکاؤنٹ‘‘ کی حقیقت


بہت سے بروکر مسلمانوں کے لیے ’’اسلامک‘‘ یا ’’سواپ فری‘‘ اکاؤنٹ پیش کرتے ہیں، جن میں رات بھر کے سودوں پر سواپ نہیں لیا جاتا۔ اس سے سود کی ایک صورت ضرور ختم ہو جاتی ہے، مگر باقی خرابیاں ختم نہیں ہوتیں۔ لیوریج کی صورت میں قرض اور بیع کا اجتماع بدستور موجود رہتا ہے، اکثر سودے CFD کی شکل میں ہوتے ہیں جن میں قبضہ نہیں پایا جاتا، اور بعض بروکر سواپ کی جگہ ’’انتظامی فیس‘‘ کے نام سے وہی رقم وصول کر لیتے ہیں۔ پھر مفتی تقی عثمانی کا یہ اصولی اعتراض بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کرنسی کو محض نفع کمانے کی جنس بنا دینا اسلامی معیشت کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس لیے کسی اکاؤنٹ پر ’’اسلامک‘‘ کا لیبل بذاتِ خود اس کے جائز ہونے کی دلیل نہیں۔


کیا ٹریڈنگ پلیٹ فارمز پر شیئرز بھی شریعہ کمپلائنٹ ہوتے ہیں؟


یہ ایک اہم سوال ہے، اور یہاں بہت سے لوگ دھوکا کھاتے ہیں۔ فاریکس بروکرز اور پراپ فرموں کے پلیٹ فارمز پر کرنسیوں کے ساتھ ساتھ ’’اسٹاکس‘‘، ’’انڈیکسز‘‘ (مثلاً NASDAQ)، سونا اور تیل بھی نظر آتے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کسی جائز کاروبار والی کمپنی کا اسٹاک خرید رہے ہیں تو یہ شریعہ کمپلائنٹ سرمایہ کاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان پلیٹ فارمز پر موجود اسٹاکس عموماً CFD ہوتے ہیں۔ آپ اس کمپنی کے حصے کے مالک نہیں بنتے، آپ کے نام کوئی شیئر منتقل نہیں ہوتا، اور آپ صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ کے فرق پر بروکر سے معاہدہ کرتے ہیں۔ اس لیے ان پر وہی تمام اشکالات لاگو ہوتے ہیں جو فاریکس پر ہیں: قبضے کا فقدان، لیوریج اور اکثر سواپ۔


حقیقی شریعہ کمپلائنٹ شیئرز بالکل الگ چیز ہیں۔ جب آپ کسی کمپنی کا شیئر حقیقتاً خریدتے ہیں تو آپ اس کمپنی کے حصہ دار، یعنی شریک، بن جاتے ہیں: اس کے اثاثوں میں آپ کا حصہ ہوتا ہے اور اس کے نفع و نقصان میں آپ شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ شیئرز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے رجسٹرڈ بروکر کے ذریعے خریدے جاتے ہیں اور آپ کے CDC اکاؤنٹ میں منتقل ہوتے ہیں۔


مفتی محمد تقی عثمانی ایسے شیئرز کی خرید و فروخت کو شرائط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسلامی سرمایہ کاری فنڈز کے شرعی اصولوں پر اپنی معروف تحریر میں انہوں نے یہ شرائط بیان کی ہیں:




  1. کمپنی کا بنیادی کاروبار جائز ہو۔ سودی بینکوں، روایتی انشورنس کمپنیوں، یا شراب، خنزیر، جوئے اور اسی نوعیت کے ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے شیئرز خریدنا جائز نہیں۔
  2. کمپنی کے پاس غیر نقد اثاثے ہوں۔ اگر کمپنی کے تمام اثاثے صرف نقد رقم کی صورت میں ہوں تو اس کے شیئر کی خرید و فروخت کرنسی کے تبادلے کے حکم میں آ جاتی ہے، اور پھر اسے صرف برابری کی قیمت پر بیچا جا سکتا ہے۔
  3. سودی لین دین سے اظہارِ براءت۔ اگر کمپنی سودی قرض لیتی ہو یا اپنی رقم سودی کھاتوں میں رکھتی ہو، تو شیئر ہولڈر کمپنی کے سالانہ اجلاس میں اس کے خلاف آواز اٹھائے۔
  4. منافع کی تطہیر۔ کمپنی کی آمدنی کا جو حصہ سود سے حاصل ہوا ہو، شیئر ہولڈر اپنے منافع میں سے اسی تناسب سے رقم صدقہ کر دے۔

انہی اصولوں کی بنیاد پر بعد میں شیئرز کی جانچ کے باقاعدہ معیارات بنے، جن میں سودی قرض اور ناجائز آمدنی کی ایک خاص حد مقرر کی گئی ہے۔ یہ حدیں مختلف اداروں کے ہاں کچھ مختلف ہیں۔ پاکستان میں KMI-30 اور KMI All Share جیسے اسلامی اشاریے انہی معیارات کے تحت شریعہ کمپلائنٹ کمپنیوں کی فہرست فراہم کرتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ اگر آپ واقعی شیئرز میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تو اس کا راستہ فاریکس پلیٹ فارم یا پراپ فرم نہیں، بلکہ PSX کا رجسٹرڈ بروکر اور شریعہ کمپلائنٹ کمپنیوں کی فہرست ہے، یا کسی مستند شریعہ بورڈ کی نگرانی میں چلنے والا اسلامی میوچل فنڈ۔ پھر بھی یاد رکھیے کہ حقیقی شیئرز میں بھی لیوریج، شارٹ سیلنگ، فیوچرز اور آپشنز جیسے طریقے شرعی اشکالات سے خالی نہیں۔


پراپ فرم کیا ہے؟


پراپ فرم (Proprietary Trading Firm) کا ماڈل عام بروکر سے مختلف ہے۔ اس میں تاجر کو اپنی رقم سے تجارت نہیں کرنی پڑتی؛ وہ فرم کا ’’سرمایہ‘‘ استعمال کرتا ہے۔ عملاً یہ نظام کچھ یوں کام کرتا ہے:




  1. تاجر ایک فیس ادا کر کے ’’چیلنج‘‘ یا ’’ایویلیوایشن‘‘ خریدتا ہے۔
  2. اسے ایک ڈیمو یا مصنوعی اکاؤنٹ میں مقررہ مدت کے اندر مخصوص نفع کا ہدف حاصل کرنا ہوتا ہے، اور ایک حد سے زیادہ نقصان کی اجازت نہیں ہوتی۔
  3. ہدف حاصل کرنے پر اسے ’’فنڈڈ اکاؤنٹ‘‘ ملتا ہے، اور اس میں ہونے والے نفع کا ایک بڑا حصہ اسے دیا جاتا ہے۔
  4. ناکامی کی صورت میں فیس ضائع ہو جاتی ہے۔

یہاں ایک اہم حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے: کئی پراپ فرموں کی اپنی وضاحتوں کے مطابق ’’فنڈڈ اکاؤنٹ‘‘ بھی اکثر حقیقی منڈی میں نہیں بلکہ مصنوعی ماحول ہی میں ہوتا ہے، اور تاجر کو جو رقم ادا کی جاتی ہے وہ فرم اپنے فنڈ سے دیتی ہے۔ پھر ان فرموں میں تجارت عموماً کرنسیوں، انڈیکسز اور فیوچرز کے CFD میں ہوتی ہے، حقیقی شیئرز میں نہیں۔


پراپ فرم کے بارے میں علما کی آرا


پراپ فرم ایک نیا ماڈل ہے، اور اس پر علما کی آرا واضح طور پر مختلف ہیں۔

عدمِ جواز کا موقف: متعدد اہلِ علم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔ SeekersGuidance پر مولانا الیاس پٹیل کے ایک جواب میں کہا گیا ہے کہ پراپ فرموں کے ذریعے تجارت جائز نہیں، اور اس کی وجوہ یہ بیان کی گئیں: فیس ایک ایسی خدمت کے بدلے لی جاتی ہے جو شرعاً معتبر نہیں، اس میں ناجائز سودوں کی مشق ہوتی ہے، تربیت غیر شرعی آلات پر ہوتی ہے، اور نفع کی تقسیم ناجائز تجارتی سرگرمی سے ہوتی ہے۔ اسی جواب میں امام کاسانیؒ کی ’’بدائع الصنائع‘‘ کے حوالے سے یہ اصول بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کسی غیر یقینی نتیجے پر موقوف عوض کے لیے رقم ادا کرنا جائز نہیں۔ AboutIslam کے ایک حالیہ جواب میں بھی کہا گیا ہے کہ بہت سے علما ان چیلنجز کو فیس، غیر یقینی اور قیاس آرائی پر مبنی مالیاتی نظام سے تعلق کی بنا پر ناجائز سمجھتے ہیں۔


مشروط جواز کا موقف: دوسری طرف بعض اہلِ علم اسے کچھ شرائط کے ساتھ جائز سمجھتے ہیں۔ AboutIslam ہی کے ایک اور جواب میں یہ رائے دی گئی ہے کہ اگر ایویلیوایشن مصنوعی اکاؤنٹ پر ہو، اس میں سود شامل نہ ہو، یہ حقیقی تجارت کے بجائے مہارت کا امتحان ہو، اور فیس واضح طور پر پلیٹ فارم یا امتحان کے بدلے ہو نہ کہ شرط یا جوئے کے طور پر، تو یہ جائز ہو سکتا ہے۔ البتہ اسی جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر حقیقی اکاؤنٹ میں سود، غیر شرعی آلات یا جوئے جیسا ڈھانچہ آ جائے تو یہ حرام ہو جائے گا۔


مفتی تقی عثمانی کے بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو مروجہ پراپ فرموں میں تجارت جن آلات میں ہوتی ہے، یعنی کرنسیوں، انڈیکسز اور فیوچرز کے CFD، وہ ان کے نزدیک خود ہی شرعاً درست نہیں۔ اس لیے ان کے اصولوں کے مطابق ایسے ماڈل کو جائز قرار دینا مشکل ہے۔


پراپ فرم کا فقہی تجزیہ


ان تمام آرا کو سامنے رکھ کر پراپ فرم کے حکم کا مدار تین سوالوں پر نظر آتا ہے:

پہلا سوال: فیس کس چیز کا عوض ہے؟ اگر فیس کسی واقعی خدمت کا معاوضہ ہو، مثلاً تربیت، پلیٹ فارم یا مہارت کی جانچ، تو اسے اجرت کے دائرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر فیس ایک ایسی رقم ہو جو اس امید پر ادا کی جائے کہ کامیابی پر بڑی رقم ملے گی اور ناکامی پر ضائع ہو جائے گی، تو یہ جوئے کی ساخت کے بہت قریب ہے۔


دوسرا سوال: ادائیگی کہاں سے آتی ہے؟ اگر کامیاب تاجروں کو ادا کی جانے والی رقم دراصل ناکام تاجروں کی فیسوں سے جمع ہوتی ہو، تو یہ ماڈل تجارت نہیں بلکہ قمار کی ایک صورت بن جاتا ہے: بہت سے لوگ رقم لگاتے ہیں، چند جیتتے ہیں، اور جیتنے والوں کا انعام ہارنے والوں کے مال سے آتا ہے۔


تیسرا سوال: تجارت کس چیز میں ہو رہی ہے؟ اگر فنڈڈ اکاؤنٹ حقیقی منڈی میں ہو بھی، تب بھی اکثر پراپ فرموں میں تجارت لیوریج، CFD، فیوچرز اور انڈیکسز میں ہوتی ہے، جو خود شرعی اشکالات رکھتے ہیں۔ جو چیز اصلاً جائز نہ ہو، اس کی مصنوعی مشق کو کاروبار بنا کر اس پر نفع لینا بھی محلِ نظر ہے۔


ان تینوں سوالوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو مروجہ پراپ فرموں کی بھاری اکثریت میں کم از کم ایک بڑی شرعی خرابی ضرور پائی جاتی ہے۔ جو اہلِ علم مشروط جواز کے قائل ہیں، ان کی شرائط بھی ایسی ہیں جو عملاً بہت کم فرموں پر پوری اترتی ہیں۔


کن باتوں پر اتفاق ہے؟


اختلاف کے باوجود چند امور ایسے ہیں جن پر اہلِ علم کی بڑی اکثریت متفق نظر آتی ہے:




  • رات بھر کے سودوں پر سواپ لینا یا دینا سود ہے۔
  • لیوریج کے ساتھ بروکر کی شرط پر تجارت قرض اور بیع کا ناجائز اجتماع ہے۔
  • کرنسی کی مستقبل کی تاریخ پر بیع، یعنی فیوچرز، جائز نہیں۔
  • محض قیمت کے فرق پر شرط لگانا، جس میں نہ حقیقی خرید ہو نہ قبضہ، قمار کے قریب ہے۔
  • ٹریڈنگ پلیٹ فارمز پر موجود اسٹاکس کے CFD حقیقی شیئرز نہیں ہیں۔

حلال متبادل کیا ہیں؟


شریعت کسی کو کمانے سے نہیں روکتی؛ وہ صرف ناجائز راستوں سے روکتی ہے۔ جو شخص مالیاتی منڈیوں میں دلچسپی رکھتا ہو، اس کے لیے کئی جائز راستے موجود ہیں:




  • حقیقی کرنسی کا تبادلہ: اگر آپ کو کسی سفر یا کاروباری ضرورت کے لیے کرنسی درکار ہو، تو کسی مستند ادارے سے ہاتھوں ہاتھ تبادلہ کیجیے۔
  • شریعہ کمپلائنٹ شیئرز: PSX کے رجسٹرڈ بروکر کے ذریعے ایسی کمپنیوں کے حقیقی شیئرز خریدیے جو شریعہ اسکریننگ پر پوری اترتی ہوں، اور سود سے حاصل شدہ آمدنی کے تناسب سے منافع کی تطہیر کیجیے۔
  • اسلامی میوچل فنڈز: کسی مستند شریعہ بورڈ کی نگرانی میں چلنے والے فنڈز میں سرمایہ کاری کیجیے۔
  • مضاربہ اور شراکت: کسی حقیقی کاروبار میں سرمایہ یا محنت لگا کر نفع و نقصان دونوں میں شریک ہونا اسلامی مالیات کی اصل روح ہے۔
  • مہارت کا جائز استعمال: مالیاتی تجزیے کی مہارت کو کسی جائز ادارے میں ملازمت، مشاورت یا تحقیق کے ذریعے کمائی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

آخری بات


فاریکس اور پراپ فرم کا مسئلہ دراصل ایک پرانی آزمائش کی نئی صورت ہے: کم محنت اور کم وقت میں زیادہ دولت کی خواہش۔ شریعت نے اس خواہش کے سامنے ایک سادہ مگر گہرا اصول رکھا ہے: نفع اسی کا ہے جو ذمہ داری اٹھائے، اور تجارت وہی ہے جس میں حقیقی چیز کا حقیقی تبادلہ ہو۔ ’’لَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ‘‘ کا مطلب یہی ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی کی یہ بات بھی اسی اصول کی ترجمانی کرتی ہے کہ پیسہ تبادلے کا ذریعہ ہے، خود کمائی کی جنس نہیں۔ اسلامی معیشت میں دولت حقیقی کاروبار، حقیقی اثاثوں اور حقیقی محنت سے پیدا ہوتی ہے، اسکرین پر ہندسوں کے اتار چڑھاؤ پر شرط لگانے سے نہیں۔


جو مسلمان مالیاتی منڈیوں میں قدم رکھنا چاہے، اس کے لیے حلال دروازے کھلے ہیں، بالخصوص حقیقی شریعہ کمپلائنٹ شیئرز اور اسلامی فنڈز۔ البتہ کسی بھی ماڈل میں داخل ہونے سے پہلے اسے پوری تفصیل کے ساتھ کسی معتبر عالم کے سامنے رکھنا ضروری ہے، اور یہ یاد رکھنا بھی کہ رزقِ حلال کی تھوڑی مقدار حرام کی بڑی دولت سے بہتر ہے۔