انسان پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں


ہسپتال کے کسی وارڈ میں کھڑے ہو جائیے، کسی جنازے میں شریک ہو جائیے، یا کسی ایسے گھر میں چلے جائیے جہاں روزی کا دروازہ بند ہو گیا ہو، تو ایک سوال خود بخود دل میں ابھرتا ہے: انسان پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟ اگر اللہ رحمٰن و رحیم ہے، ہر چیز پر قادر ہے اور اپنے بندوں سے ماں سے زیادہ محبت کرتا ہے، تو پھر یہ دکھ، یہ بیماریاں، یہ جدائیاں کیوں؟ یہ سوال نیا نہیں۔ فلسفیوں نے اسے ’’مسئلۂ شر‘‘ کا نام دیا، ملحدین نے اسے خدا کے انکار کی دلیل بنایا، اور مومن کے دل میں بھی یہ کبھی نہ کبھی کسک بن کر اٹھتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس سوال کو نظرانداز نہیں کیا، بلکہ اس کا ایسا جواب دیا ہے جو عقل کو بھی مطمئن کرتا ہے اور زخمی دل کو بھی تسلی دیتا ہے۔


یہ دنیا امتحان گاہ ہے، جنت نہیں


مصیبتوں کو سمجھنے کی پہلی کنجی یہ جاننا ہے کہ یہ دنیا کس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے۔ قرآن کا جواب صاف ہے:


الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (الملك: 2)
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے، اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔

یہ آیت ہمارے سوال کی بنیاد ہی بدل دیتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے ذہن میں لاشعوری طور پر یہ تصور ہوتا ہے کہ دنیا آرام اور خوشی کی جگہ ہونی چاہیے، اور اس میں دکھ کا آنا کسی گڑبڑ کی علامت ہے۔ مگر قرآن بتاتا ہے کہ دنیا انعام کی جگہ نہیں، امتحان کی جگہ ہے؛ انعام کا گھر آخرت ہے۔ امتحان گاہ میں مشکل سوال آنا خرابی نہیں، امتحان کا تقاضا ہے۔ جو طالبِ علم امتحان کے ہال میں بیٹھ کر یہ شکایت کرے کہ یہاں سوال کیوں ہیں، اسے دراصل یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ کہاں بیٹھا ہے۔


قرآن نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ایمان کا دعویٰ آزمائش کے بغیر قبول نہیں ہوتا:


أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت: 2)
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہہ دینے سے چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی؟

اور یہ آزمائش صرف دکھ سے نہیں ہوتی؛ خوش حالی بھی اتنا ہی بڑا امتحان ہے: ’’وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً‘‘ (الأنبياء: 35)، ہم تمہیں برائی اور بھلائی، دونوں سے آزماتے ہیں۔ دولت مند کا امتحان شکر اور سخاوت میں ہے، اور مصیبت زدہ کا امتحان صبر اور استقامت میں۔ دونوں امتحان گاہ میں ہیں، صرف سوال مختلف ہیں۔


مصیبتوں کی حکمتیں: قرآن و سنت کی روشنی میں


قرآن و سنت میں مصیبتوں کی ایک نہیں، کئی حکمتیں بیان ہوئی ہیں۔ ہر مصیبت میں ان سب کا ہونا ضروری نہیں، اور کسی خاص مصیبت کی اصل حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ مگر ان حکمتوں کو جان لینے سے دل کو یہ یقین ضرور مل جاتا ہے کہ کوئی دکھ بے مقصد نہیں۔


1. گناہوں کی معافی


مومن کے لیے مصیبت کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ مسلمان کو جو تھکن، بیماری، فکر، غم، تکلیف اور رنج پہنچتا ہے، یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھے، تو اللہ اس کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے (صحیح البخاری، کتاب المرضیٰ، حدیث: 5641، 5642)۔ گویا مومن کا کوئی آنسو، کوئی درد اور کوئی بے خواب رات حساب سے باہر نہیں جاتی۔ جو تکلیف دنیا میں چند دن کی ہے، وہ آخرت کے بوجھ کو ہلکا کر دیتی ہے۔


2. درجات کی بلندی


اگر مصیبتیں صرف گناہوں کی سزا ہوتیں تو سب سے کم تکلیف انبیا کو ہونی چاہیے تھی۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ سب سے سخت آزمائش کن لوگوں کی ہوتی ہے؟ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:


الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ (جامع الترمذی، أبواب الزهد، حدیث: 2398)
انبیا، پھر جو ان کے بعد سب سے بہتر ہوں، پھر جو ان کے بعد بہتر ہوں۔ آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔

امام ترمذیؒ نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ یہ حدیث ایک عام غلط فہمی کو جڑ سے ختم کر دیتی ہے کہ مصیبت اللہ کی ناراضی کی علامت ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام برسوں بیماری میں رہے، حضرت یعقوب علیہ السلام نے بیٹے کی جدائی سہی، اور خود رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے یتیمی، طائف کے پتھر، شعبِ ابی طالب کا محاصرہ اور اپنی اولاد کی وفات کا غم دیکھا۔ یہ سب اللہ کے محبوب ترین بندے تھے۔ کبھی مصیبت سزا نہیں، بلکہ بلند مقام تک پہنچنے کی سیڑھی ہوتی ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ بڑا اجر بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، اور اللہ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے؛ پھر جو راضی رہا اس کے لیے رضا ہے، اور جو ناراض ہوا اس کے لیے ناراضی (جامع الترمذی، أبواب الزهد، حدیث: 2396)۔


3. تنبیہ اور رجوع کی دعوت


کبھی مصیبت ایک جھٹکا ہوتی ہے جو غفلت کی نیند سے جگا دیتی ہے۔ قرآن کہتا ہے:


وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (السجدة: 21)
اور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ لوٹ آئیں۔

کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں صحت اور دولت کے دنوں میں کبھی اللہ یاد نہ آیا، مگر ایک بیماری یا ایک نقصان نے انہیں سجدے تک پہنچا دیا۔ ایسی مصیبت دراصل رحمت کا ایک کڑوا گھونٹ ہوتی ہے؛ جیسے ڈاکٹر کی کڑوی دوا، جو زبان کو بری لگتی ہے مگر جان بچا لیتی ہے۔


4. انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ


دنیا کے بہت سے دکھ آسمان سے نہیں، انسان کے اپنے ہاتھوں سے آتے ہیں۔ جنگیں، ظلم، ناانصافی، غربت کی بہت سی صورتیں، ماحول کی تباہی اور ملاوٹ زدہ خوراک سے پھیلنے والی بیماریاں، یہ سب انسانی فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ قرآن نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا:


ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الروم: 41)
خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: اللہ ظالم کو ظلم سے روک کیوں نہیں دیتا؟ اس کا جواب انسان کے اختیار میں ہے۔ اللہ نے انسان کو ارادے اور انتخاب کی آزادی دی ہے، اور یہی آزادی اسے فرشتوں اور حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔ اگر ہر برے ارادے کو زبردستی روک دیا جائے تو اختیار باقی نہیں رہتا، اور اختیار کے بغیر نہ نیکی کی کوئی قدر رہتی ہے نہ امتحان کا کوئی مطلب۔ البتہ یہ آزادی ہمیشہ کے لیے نہیں؛ ایک دن آنے والا ہے جب ہر ظالم کا حساب ہوگا اور ہر مظلوم کو اس کا حق ملے گا۔ اسلام میں عدل کا تصور دنیا کی چند سالہ زندگی تک محدود نہیں، آخرت تک پھیلا ہوا ہے۔


5. ایسی حکمت جو ہماری نظر سے اوجھل ہے


بعض مصیبتوں کی کوئی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی، اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان سب سے کڑا ہوتا ہے۔ قرآن نے سورۃ الکہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ اسی حقیقت کو سمجھانے کے لیے بیان کیا (الكهف: 65 تا 82)۔ ایک غریب کی کشتی میں سوراخ کر دیا گیا، ایک بچے کی جان لے لی گئی، اور ایک ایسی بستی کی دیوار مفت میں سیدھی کر دی گئی جس نے مسافروں کو کھانا تک نہ کھلایا تھا۔ ظاہری نظر میں یہ تینوں کام نامناسب تھے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی بھی خاموش نہ رہ سکے۔ مگر جب پردہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ کشتی کو ظالم بادشاہ کے قبضے سے بچانا تھا، بچے کے والدین کو آئندہ کی آزمائش سے محفوظ رکھنا تھا، اور دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ محفوظ کرنا تھا۔


یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم واقعات کو ایک چھوٹے سے روشن دان سے دیکھتے ہیں، جبکہ اللہ پوری تصویر دیکھتا ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے: ’’وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ‘‘ (البقرة: 216)، ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو؛ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔


ایک ضروری احتیاط: دوسروں کی مصیبت پر فیصلہ نہ سنائیں


قرآن نے یہ بھی فرمایا ہے: ’’وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‘‘ (الشورى: 30)، تم پر جو مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ہے، اور اللہ بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ یہ آیت انسان کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی دوسرے کی بیماری، حادثے یا نقصان کو دیکھ کر یہ فیصلہ سنا دیں کہ یہ اس کے گناہوں کی سزا ہے۔ اوپر کی حدیث بتا چکی ہے کہ سب سے سخت آزمائشیں انبیا کی ہوئیں۔

اپنی مصیبت میں اپنا محاسبہ کرنا ایمان کی علامت ہے؛ دوسرے کی مصیبت میں اس کا محاسبہ کرنا بے حسی ہے۔ مصیبت زدہ کو ہماری ہمدردی، دعا اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے فتوؤں کی نہیں۔


مصیبت کے وقت مومن کا طرزِ عمل


قرآن و سنت نے مصیبت کے فلسفے کے ساتھ ساتھ اس سے نمٹنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے۔

صبر اور استرجاع: اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو بشارت دی ہے، جو مصیبت کے وقت کہتے ہیں: ’’إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ‘‘، ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا: ’’أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ‘‘ (البقرة: 155 تا 157)، انہی پر ان کے رب کی عنایتیں اور رحمت ہیں اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔ یہ جملہ صرف زبانی کلمہ نہیں، ایک پورا عقیدہ ہے: جو کچھ ہم سے لیا گیا وہ ہمارا تھا ہی نہیں، اور جہاں سے آیا تھا وہیں لوٹ گیا۔


اللہ سے فریاد: صبر کا مطلب خاموش رہنا نہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا: ’’أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ‘‘ (الأنبياء: 83)، مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ اللہ سے اپنا دکھ کہنا صبر کے منافی نہیں؛ صبر کے منافی لوگوں کے سامنے اللہ کا شکوہ کرنا ہے۔


ہر حال میں خیر: رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے مومن کی شان یوں بیان فرمائی:


عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ (صحیح مسلم، کتاب الزهد والرقائق، حدیث: 2999)
مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ خیر ہی خیر ہے، اور یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے؛ اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

تدبیر کو نہ چھوڑیں: صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جانا بھی نہیں۔ بیماری میں علاج، غربت میں محنت، ظلم کے خلاف جائز جدوجہد اور نقصان کے بعد نئی کوشش، یہ سب اسی صبر کا حصہ ہیں جس کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ اور اگر کوئی دکھ مسلسل ذہنی بوجھ بن جائے تو کسی معتبر معالج سے رجوع کرنا بھی اسی تدبیر کا حصہ ہے۔


یقین کہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے: اللہ تعالیٰ نے دو بار تاکید کے ساتھ فرمایا: ’’فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا‘‘ (الشرح: 5، 6)۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہاں ’’بعد‘‘ نہیں، ’’مع‘‘ کہا گیا ہے، یعنی ساتھ۔ آسانی تنگی کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کرتی؛ وہ تنگی کے اندر ہی چھپی ہوتی ہے، اور صبر کرنے والا اسے پا لیتا ہے۔ اور یہ یقین بھی رکھیے کہ ’’لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا‘‘ (البقرة: 286)، اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔


آخری بات

انسان پر مصیبتیں اس لیے نہیں آتیں کہ اللہ اسے بھول گیا ہے، بلکہ اس لیے آتی ہیں کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے، اور امتحان میں ہر سوال کسی مقصد کے تحت رکھا جاتا ہے۔ کوئی مصیبت گناہوں کو دھو دیتی ہے، کوئی درجات بلند کرتی ہے، کوئی غفلت سے جگاتی ہے، کوئی انسان کے اپنے اعمال کا آئینہ بنتی ہے، اور کوئی ایسی حکمت رکھتی ہے جو ہماری نظر سے اوجھل ہے مگر اللہ کے علم میں روشن ہے۔ قرآن نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ ہر مصیبت پہلے سے ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے، تاکہ ’’لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ‘‘ (الحديد: 23)، جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر تم غم سے نڈھال نہ ہو، اور جو مل جائے اس پر اترانے نہ لگو۔


جو دل اس حقیقت کو پا لیتا ہے، وہ مصیبت میں ٹوٹتا نہیں بلکہ سنورتا ہے۔ اس کے آنسو بہتے ہیں مگر امید کا چراغ نہیں بجھتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ امتحان ختم ہوگا، نتیجہ آئے گا، اور اس دن ہر صبر کرنے والے کو اس کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔