اسلام کیا ہے؟
اسلام کا معنی و مفہوم:
اسلام ایک جامع دین اور مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی، اطاعت، اخلاقِ حسنہ، امن و سلامتی اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔ لفظ اسلام عربی مادہ س، ل، م سے مشتق ہے۔ اس مادے میں سلامتی، امن، محفوظ رہنے، صلح اور اطاعت کے مفاہیم پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے اسلام کے مفہوم میں ایک طرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور اس کی اطاعت کرنے کا تصور شامل ہے اور دوسری طرف انسانوں کے لیے امن و سلامتی کا باعث بننا بھی اس کا اہم تقاضا ہے۔
اسلام کی لفظی تعریف:
لغت کے اعتبار سے اسلام بابِ اِفعال سے مصدر ہے اور اس کا مادہ ”سَلِمَ، يَسْلَمُ “ہے۔ اس کے بنیادی مفاہیم میں سلامتی، امن، عافیت، صلح، اطاعت، تسلیم اور خود سپردگی شامل ہیں۔ عربی لغت میں اسلام کے معنی کسی معاملے کو قبول کرنا، کسی کے سامنے جھک جانا اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دینا بھی بیان کیے گئے ہیں۔ عربی لغت کے معروف مصادر میں ابن منظور کی لسان العرب اور راغب اصفہانی کی مفردات ألفاظ القرآن میں مادۂ ’’سلم‘‘ کے تحت سلامتی، اطاعت اور صلح سے متعلق مختلف معانی بیان ہوئے ہیں۔ معاصر عربی لغت میں بھی اسلام کے معنی اللہ تعالیٰ کے سامنے خضوع اور اس دین کے طور پر بیان کیے گئے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے ذریعے مبعوث فرمایا۔
اس اعتبار سے اسلام کا لفظ انسان کو دو بنیادی حقیقتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائے اور اس کے احکامات کو قبول کرے۔ دوسری یہ کہ وہ اپنی زندگی میں امن، سلامتی اور خیر کو اختیار کرے اور دوسروں کے لیے بھی امن کا ذریعہ بنے۔ چنانچہ اسلام کا لغوی مفہوم صرف ’’مان لینا‘‘ تک محدود نہیں بلکہ اس میں اطاعت، خود سپردگی، امن اور سلامتی سب شامل ہیں۔ فراہم کردہ ماخذ میں بھی اسلام کے لغوی مفاہیم کے طور پر امن و سکون، تسلیم و اطاعت، صلح و آشتی اور بلندی کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسلام کی اصطلاحی تعریف:
اصطلاحی اعتبار سے اسلام سے مراد اللہ تعالیٰ کی توحید کو ماننا، اس کے احکامات کو قبول کرنا، اس کے سامنے مکمل طور پر سرِ تسلیم خم کرنا اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ اس مفہوم میں اسلام صرف چند عبادات یا مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔قرآن مجید اسلام کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول دین قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے:
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ۔([i])
’’بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔‘‘
اسی طرح ارشاد فرمایا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔([ii])
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔‘‘
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسان کی زندگی کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت اور انسانی تعلقات سب شامل ہیں۔ لہٰذا اسلام کی اصطلاحی تعریف کو صرف ’’اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے‘‘ تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کی اتباع اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی تعلیمات کی پیروی شامل ہے۔
قرآن مجید کی روشنی میں اسلام
قرآن مجید میں اسلام کا تصور مختلف مقامات پر نہایت واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔ قرآن کے مطابق اسلام انسان کو سلامتی کی راہوں کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَهْدِيْ بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلَامِ۔([iii])
’’اللہ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیرو ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو ایسی زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا، نیکی، پاکیزگی اور سلامتی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلام انسان کو برائی اور گمراہی سے نکال کر ہدایت اور نور کی طرف لے جاتا ہے۔ چنانچہ اسلام کا مقصد صرف انسان کے عقیدے کو درست کرنا نہیں بلکہ اس کے کردار اور عمل کو بھی بہتر بنانا ہے۔قرآن مجید اسلام کے ایک اور بنیادی پہلو یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل تسلیم و اطاعت کو بھی بیان کرتا ہے۔ ارشاد ہے:
إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ۔([iv])
’’جب ان کے رب نے ان سے فرمایا: سرِ تسلیم خم کرو، تو انہوں نے عرض کیا: میں نے سارے جہانوں کے رب کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔‘‘
اس طرح قرآن کی روشنی میں اسلام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانے، اس کے احکامات کو قبول کرے، رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرے اور اپنی زندگی کو ہدایت کے مطابق ڈھالے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اسلام
احادیثِ نبوی ﷺ میں اسلام کے مفہوم کو عملی زندگی کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ۔([v])([vi])
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
یہ حدیث اسلام کے اخلاقی اور معاشرتی پہلو کو نہایت آسان انداز میں واضح کرتی ہے۔ اس کے مطابق حقیقی مسلمان وہ ہے جس سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ وہ اپنی زبان سے کسی کو تکلیف نہ دے، گالی، غیبت، بدزبانی اور دل آزاری سے بچے اور اپنے عمل سے بھی کسی پر ظلم یا زیادتی نہ کرے۔ اسی مضمون کی دوسری روایت میں جب پوچھا گیا کہ کون سا اسلام افضل ہے تو آپ ﷺ نے زبان اور ہاتھ سے دوسروں کو محفوظ رکھنے کو بیان فرمایا۔ اس حدیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا اخلاقی نظام بھی ہے جو انسان کو دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات کا مقصد ایسا فرد تیار کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی امن، خیر اور بھلائی کا سبب بنے۔
عام اور سادہ انداز میں دیکھا جائے تو اسلام ایک ایسا مذہبی اور اخلاقی نظام ہے جو انسان کو اپنے خالق کو پہچاننے، اس کے سامنے جواب دہ ہونے، اپنی زندگی کو اچھے اصولوں کے مطابق گزارنے اور دوسروں کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام انسان کی زندگی کو صرف عبادات یا مذہبی رسومات تک محدود نہیں کرتا بلکہ اس کے اخلاق، معاملات، معاشرت، خاندان، معیشت اور روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو ایک واضح مقصد کے ساتھ گزارے اور اپنے قول و عمل میں سچائی، انصاف، رحم، دیانت اور ذمہ داری کو اختیار کرے۔
اسلام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کی روحانی اور عملی زندگی دونوں کو اہم سمجھتا ہے۔ ایک طرف انسان کو اپنے خالق سے تعلق مضبوط کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے تو دوسری طرف اسے معاشرے میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے، ظلم سے بچنے، کمزوروں کی مدد کرنے اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح اسلام انسان کو صرف اپنی ذات کی اصلاح تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل پر بھی زور دیتا ہے جہاں امن، عدل، مساوات اور باہمی تعاون موجود ہو۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام کو صرف چند مذہبی اعمال کا مجموعہ سمجھنا اس کے وسیع تصور کو محدود کر دیتا ہے۔ درحقیقت اسلام انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک ایسا فکری، اخلاقی اور عملی تصور پیش کرتا ہے جس میں انسان کے اپنے خالق، اپنی ذات اور دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت حاصل ہے۔
سوالات:
سوال نمبر ۱: اسلام کا لفظی معنی کیا ہے؟
جواب: اسلام عربی لفظ ہے جو مادہ س، ل، م سے نکلا ہے، جس کے معنی امن و سلامتی، صلح و آشتی اور اطاعت و خود سپردگی کے ہیں۔ یعنی انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائے، اس کے احکامات کو قبول کرے اور دوسروں کے لیے بھی امن و سلامتی کا باعث بنے۔
سوال نمبر ۲: اسلام کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
جواب: اصطلاح میں اسلام سے مراد اللہ تعالیٰ کو اپنا رب ماننا، اس کے احکامات کو قبول کرنا اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
سوال نمبر ۳: اسلام انسان کو امن و سلامتی کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؟
جواب: اسلام انسان کو دوسروں کے لیے امن و سلامتی کا ذریعہ بننے اور اپنی زبان و ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ دینے کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث: 10)
مصادر و مراجع:
[i] آل عمران، 3:19
[ii] المائدۃ، 5:3
[iii] المائدۃ، 5:16
[iv] البقرۃ، 2:131
[v] بخاری، الصحيح، کتاب الايمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده، 1 : 13، رقم : 10
[vi] مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب : تفاضل الاسلام و ای اموره أفصل، 1 : 65، رقم : 40