اسلامی ہوم فنانسنگ: مشارکہ متناقصہ کی مکمل رہنمائی
اپنا گھر ہر انسان کا خواب ہے۔ مگر بڑھتی قیمتوں کے اس دور میں ایک تنخواہ دار شخص کے لیے یکمشت گھر خریدنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں اس مشکل کا عام حل ’’مارگیج‘‘ (Mortgage) ہے، یعنی گھر کے لیے سود پر طویل مدتی قرض۔ ایک مسلمان کے لیے یہ راستہ بند ہے، کیونکہ سود کو قرآن نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ قرار دیا ہے (البقرۃ: 279)۔
اسلامی بینکاری نے اس کا متبادل ’’مشارکہ متناقصہ‘‘ کی صورت میں پیش کیا ہے: ایک ایسی شراکت جس میں آپ بینک کے ساتھ مل کر گھر خریدتے ہیں، اور آہستہ آہستہ پورے گھر کے مالک بن جاتے ہیں۔ یہ رہنمائی اسی طریقے کو اس کی تمام تفصیلات، شرائط اور اعتراضات کے ساتھ بیان کرتی ہے۔
مشارکہ متناقصہ کی تعریف
مشارکہ متناقصہ (Diminishing Musharakah) کا لفظی مطلب ہے ’’گھٹتی ہوئی شراکت‘‘۔ اصطلاح میں یہ ایسی شراکت ہے جس میں ایک شریک، یعنی بینک، کا حصہ بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، اور دوسرا شریک، یعنی آپ، اسے تھوڑا تھوڑا خریدتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پوری چیز کا مالک بن جائے۔
یہ پروڈکٹ تین الگ الگ شرعی معاملات سے مل کر بنتی ہے:
- شرکتِ ملک (Shirkat al-Milk): گھر کی مشترکہ ملکیت، جیسے دو بھائیوں کو وراثت میں ملا ہوا مکان۔
- اجارہ (Ijarah): بینک کا اپنا حصہ آپ کو کرائے پر دینا۔
- بیع (Sale): بینک کا اپنا حصہ مرحلہ وار آپ کو بیچنا۔
شرعی بنیاد
شراکت قرآن، سنت اور اجماع سے ثابت ایک جائز معاملہ ہے۔ قرآنِ مجید نے شرکا کے بارے میں فرمایا: ’’وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ‘‘ (ص: 24)، اور بہت سے شریک ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ اس آیت سے شراکت کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے، اور اس میں دیانت کی تاکید بھی۔
اسی طرح اجارہ اور بیع، دونوں اپنی جگہ جائز عقود ہیں۔ فقہی سوال صرف یہ ہے کہ ان تینوں کو کس طرح جمع کیا جائے کہ وہ جائز رہیں؛ اس کا جواب نیچے ’’شرعی شرائط‘‘ میں دیا گیا ہے۔
ایک مثال سے سمجھیے
فرض کیجیے آپ ایک کروڑ روپے کا گھر خریدنا چاہتے ہیں، اور آپ کے پاس بیس لاکھ روپے ہیں۔
مرحلہ 1: مشترکہ خریداری:
آپ بیس لاکھ اور بینک اسی لاکھ روپے ملا کر گھر خریدتے ہیں۔ اب گھر میں آپ کا حصہ 20 فیصد اور بینک کا 80 فیصد ہے۔
مرحلہ 2: یونٹس میں تقسیم:
بینک کا حصہ چھوٹے حصوں، یعنی ’’یونٹس‘‘ (Units)، میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، مثلاً اسی لاکھ کے 80 یونٹ، ہر یونٹ ایک لاکھ روپے کا۔
مرحلہ 3: بینک کے حصے کا کرایہ:
آپ پورے گھر میں رہتے ہیں، مگر اس میں 80 فیصد حصہ بینک کا ہے۔ اس لیے آپ صرف بینک کے حصے کا ماہانہ کرایہ ادا کرتے ہیں؛ اپنے حصے کا نہیں۔
مرحلہ 4: یونٹس کی خریداری:
کرائے کے ساتھ ساتھ آپ ہر ماہ بینک کے کچھ یونٹ خریدتے رہتے ہیں۔ ہر یونٹ کی خریداری ایک الگ بیع ہے۔
مرحلہ 5: کرایہ کم ہوتا جاتا ہے:
جیسے جیسے آپ یونٹ خریدتے ہیں، بینک کا حصہ کم ہوتا جاتا ہے، اور اسی تناسب سے کرایہ بھی کم ہوتا جاتا ہے۔
مرحلہ 6: مکمل ملکیت:
جب آپ بینک کے تمام یونٹ خرید لیتے ہیں، تو گھر سو فیصد آپ کا ہو جاتا ہے اور شراکت ختم ہو جاتی ہے۔
مثال کا خلاصہ:

مشارکہ متناقصہ کی شرعی شرائط
شرط 1: تینوں عقود الگ الگ ہوں
یہ سب سے بنیادی شرط ہے۔ AAOIFI کے معیار نمبر 12 میں صراحت ہے کہ ایک عقد کو دوسرے عقد کے لیے شرط بنا کر کرنا جائز نہیں۔ یعنی شراکت کے معاہدے میں یہ شرط نہیں ہو سکتی کہ ’’اگر آپ یہ گھر شراکت میں لیں گے تو لازماً کرائے پر بھی لیں گے اور خریدیں گے بھی‘‘؛ بلکہ ہر عقد اپنی جگہ آزاد اور مکمل ہو۔ azmilaw
شرط 2: خریداری کا وعدہ یکطرفہ ہو
بینک کا حصہ خریدنے کے لیے گاہک ایک یکطرفہ وعدہ (Wa’d) کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے AAOIFI کا معیار نمبر 49، یعنی یکطرفہ اور دو طرفہ وعدے کا معیار، بھی اپنایا ہے، جس میں مشارکہ متناقصہ میں ادارے کے وعدے کے لازم ہونے کا ذکر موجود ہے۔
(https://www.sbp.org.pk/ibd/2020/C3-Annex-A.pdf)
شرط 3: یونٹس کی قیمت کا تعین (ایک انتہائی اہم مسئلہ)
یہ مشارکہ متناقصہ کا سب سے نازک مسئلہ ہے: بینک کے حصے، یعنی یونٹس، کی قیمت کیسے طے ہو؟
AAOIFI کا موقف: AAOIFI کے معیار نمبر 12 کی شق 5/7 کے مطابق ایک شریک یہ لازمی وعدہ کر سکتا ہے کہ دوسرا شریک اس کا حصہ بیع کے ذریعے تدریجاً بازاری قیمت پر یا خریداری کے وقت باہمی طور پر طے کی گئی قیمت پر حاصل کرے؛ لیکن یہ شرط لگانا جائز نہیں کہ حصہ اصل یا فیس ویلیو پر خریدا جائے گا، کیونکہ یہ ایک شریک (ادارے) کے حصے کی قیمت کی دوسرے شریک کی طرف سے ضمانت بن جائے گی۔ islamicfinanceguru
بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کا موقف: اکیڈمی نے بھی اپنی قرارداد میں یہی کہا کہ وعدہ اس بات کا نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرے فریق کے حصے برابر کی قیمت (Par Value) پر خریدے جائیں گے، کیونکہ اس صورت میں یہ ضمانت دینے کے مترادف ہے؛ حصوں کی خریداری کی قیمت بازاری قیمت پر، یا باہمی طور پر طے کردہ قیمت پر ہونی چاہیے۔
(قرارداد: https://iifa-aifi.org/en/32878.html) iifa-aifi
اس کی حکمت کیا ہے؟ شراکت کی روح یہ ہے کہ ہر شریک نفع اور نقصان، دونوں میں شریک ہو۔ اگر گھر کی قیمت گر جائے اور گاہک پھر بھی بینک کا حصہ اس کی اصل قیمت پر خریدنے کا پابند ہو، تو بینک کا سرمایہ ہر حال میں محفوظ ہو گیا؛ یہ شراکت نہیں، بلکہ قرض جیسی ضمانت ہے۔
پاکستان میں صورتِ حال: پاکستان میں مشارکہ متناقصہ کے لیے اسٹیٹ بینک کا اپنا الگ معیار نافذ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ’شرکتِ ملک اور مشارکہ متناقصہ‘ پر ایک مستقل شرعی معیار آئی بی ڈی سرکلر نمبر 2، 2013 کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔ اس لیے پاکستان میں اسلامی بینک اسی معیار کے تحت کام کرتے ہیں۔ صارف کو چاہیے کہ معاہدے سے پہلے اپنے بینک سے صاف پوچھے کہ یونٹس کی قیمت کس طریقے سے طے ہوگی۔
(https://www.sbp.org.pk/ibd/2013/C1-Annex-A.pdf) sbp
شرط 4: کرایہ قبضے کے بعد
کرایہ اسی وقت شروع ہو سکتا ہے جب گھر رہنے کے قابل ہو اور آپ کے حوالے کر دیا جائے۔ جس چیز کا فائدہ آپ کو ملا ہی نہیں، اس کا کرایہ جائز نہیں۔
شرط 5: خطرہ ملکیت کے مطابق
بینک گھر کا شریک مالک ہے، اس لیے اپنے حصے کے بقدر وہ گھر کا خطرہ بھی اٹھاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اس معاملے کو قرض سے الگ کرتی ہے۔
اخراجات کی ذمہ داری
- ملکیت سے متعلق اخراجات: جیسے عمارت کا تکافل اور بنیادی ساخت کی بڑی مرمت؛ یہ شریکوں پر ان کے حصوں کے تناسب سے ہیں۔ عملاً بینک اپنے حصے کا خرچ کرائے میں شامل کرتا ہے۔
- استعمال سے متعلق اخراجات: جیسے بجلی، گیس، پانی اور عام دیکھ بھال؛ یہ رہنے والے، یعنی آپ، کے ذمے ہیں۔
اگر گھر کو نقصان پہنچے؟
سودی مارگیج میں: گھر آپ کا ہے؛ بینک صرف قرض خواہ ہے۔ گھر زلزلے، آگ یا سیلاب میں تباہ ہو جائے، تب بھی پورا قرض اور سود آپ کے ذمے رہتا ہے، الا یہ کہ انشورنس اسے پورا کرے۔
مشارکہ متناقصہ میں: گھر میں بینک بھی مالک ہے۔ اگر گھر کسی آفت میں تباہ ہو جائے، اور اس میں آپ کی غفلت نہ ہو، تو نقصان دونوں شریکوں پر ان کی ملکیت کے تناسب سے آتا ہے؛ عملاً اس کا انتظام تکافل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
ا
گر ادائیگی نہ ہو سکے؟
اگر کسی وجہ سے آپ ادائیگی جاری نہ رکھ سکیں اور گھر بیچنا پڑے:
- مشارکہ میں گھر کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ملکیت کے تناسب سے تقسیم ہوتی ہے۔
- اگر گھر کی قیمت بڑھ چکی ہو، تو اس اضافے میں آپ کا حصہ آپ کو ملتا ہے؛ بینک صرف اپنے حصے کا حق دار ہے۔
- اگر کوئی کرایہ واجب الادا ہو، تو وہ آپ کے حصے سے ادا ہوگا، کیونکہ وہ آپ پر قرض ہے۔
زیرِ تعمیر گھر کا مسئلہ
اگر گھر ابھی تعمیر ہو رہا ہو، تو اس کا کرایہ نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ جو چیز موجود ہی نہیں، اس کا فائدہ آپ کو نہیں ملا۔ ایسی صورتوں کے لیے اسلامی بینک شریعہ بورڈ کی منظوری سے دوسرے طریقے، جیسے استصناع یا اجارہ موصوفہ فی الذمہ (مستقبل کا اجارہ)، استعمال کرتے ہیں، جن میں کرایہ گھر مکمل ہونے اور حوالگی کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔
کرایہ کیسے طے ہوتا ہے؟ KIBOR کا مسئلہ
مشارکہ متناقصہ میں بینک کے حصے کا کرایہ عام طور پر KIBOR جیسے بینچ مارک سے طے ہوتا ہے، اور ہر سال یا مقررہ مدت کے بعد بدل سکتا ہے۔ یہاں بھی وہی اصول ہے جو اجارہ میں ہے: کرائے میں تبدیلی کا طریقہ پہلے سے طے ہو، اور ہر مدت کا کرایہ اس مدت کے شروع میں طے ہو۔ کرایہ طے کرنے کے لیے کسی پیمانے کا استعمال معاملے کو سودی نہیں بناتا، کیونکہ بینک ایک حقیقی گھر کے حصے کا مالک ہے اور اس کا خطرہ اٹھا رہا ہے۔ اس اعتراض کا تفصیلی جائزہ حصہ چہارم میں آئے گا۔
تاخیر اور قبل از وقت ادائیگی
- تاخیر: بینک اپنے لیے کوئی اضافی رقم نہیں لے سکتا؛ آپ کے وعدے کے مطابق ایک رقم صدقہ کے طور پر چیریٹی فنڈ میں جاتی ہے۔
- قبل از وقت مکمل ملکیت: آپ کسی بھی وقت بینک کے باقی تمام یونٹس خرید کر گھر کے مکمل مالک بن سکتے ہیں۔ اس کے بعد کرایہ ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ بینک کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا۔
سودی مارگیج اور مشارکہ متناقصہ: تفصیلی موازنہ

عام اعتراضات اور ان کے جوابات
اعتراض 1: ’’ایک معاملے میں تین عقود جمع کرنا ’ایک بیع میں دو بیع‘ کی ممانعت کے خلاف ہے۔‘‘
جواب: یہ مشارکہ متناقصہ پر سب سے پرانا اعتراض ہے، جسے مختلف دارالافتاء نے بھی زیرِ بحث لایا ہے۔ عام طور پر مشارکہ متناقصہ پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں دو معاملات کو ایک میں جمع کیا جاتا ہے، جو شریعت میں جائز نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ممانعت اس صورت کی ہے جب ایک عقد کو دوسرے کی شرط بنایا جائے۔ اگر تینوں عقود الگ الگ، آزاد اور اپنی شرائط کے ساتھ مکمل ہوں، اور ملکیت کی منتقلی صرف ایک یکطرفہ وعدے پر مبنی ہو، تو یہ ممانعت لاگو نہیں ہوتی۔ AAOIFI اور اسلامی فقہ اکیڈمی نے اسی شرط کے ساتھ مشارکہ متناقصہ کو جائز قرار دیا ہے۔
(https://daruliftaa.com/?p=4273) daruliftaa
اعتراض 2: ’’ماہانہ ادائیگی تو سودی مارگیج جتنی ہی ہے۔‘‘
جواب: ادائیگی کا برابر ہونا معاملے کی حقیقت کو ایک نہیں بنا دیتا۔ اصل فرق ملکیت، خطرے، نقصان کی تقسیم اور قیمت بڑھنے کے فائدے میں ہے، جو اوپر کے موازنے میں واضح کیا گیا ہے۔
اعتراض 3: ’’بینک کوئی حقیقی خطرہ نہیں اٹھاتا، سب کچھ تکافل اور ضمانتوں سے محفوظ ہے۔‘‘
جواب: خطرے سے بچاؤ کا انتظام کرنا ہر سمجھ دار تاجر کا حق ہے؛ یہ خطرے کے وجود کی نفی نہیں کرتا۔ اگر تکافل دعویٰ پورا نہ کرے، یا گھر کی قیمت گر جائے، تو بینک اپنے حصے کا نقصان اٹھاتا ہے۔ البتہ یہ اعتراض اس وقت مضبوط ہو جاتا ہے جب یونٹس کی قیمت پہلے سے اصل لاگت پر لازم کر دی جائے؛ اسی لیے AAOIFI اور اسلامی فقہ اکیڈمی نے اس سے منع کیا ہے۔
مفتی تقی عثمانی کی رائے
مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب “An Introduction to Islamic Finance” میں مشارکہ متناقصہ کو ہوم فنانسنگ کا ایک بہتر شرعی متبادل قرار دیا ہے، اور اس پر زور دیا ہے کہ شراکت، اجارہ اور بیع، تینوں الگ الگ معاملات رہیں، اور ایک دوسرے کی شرط نہ بنیں۔ ان کے نزدیک مرابحہ کے مقابلے میں یہ طریقہ اسلامی بینکاری کی اصل روح، یعنی حقیقی شراکت، کے زیادہ قریب ہے۔
صارف کی چیک لسٹ
اسلامی ہوم فنانسنگ لینے سے پہلے یہ سوالات ضرور پوچھیے:
- کیا شراکت، کرایہ اور خریداری کے الگ الگ معاہدے ہیں؟
- بینک کے یونٹس کی قیمت کس طریقے سے طے ہوگی؟
- کیا کرایہ گھر کی حوالگی کے بعد ہی شروع ہوگا؟
- اگر گھر تباہ ہو جائے، تو معاہدے میں نقصان کس طرح تقسیم ہوگا؟
- اگر گھر بیچنا پڑے، تو کیا قیمت بڑھنے کا فائدہ میرے حصے کے مطابق مجھے ملے گا؟
- کرائے کی تبدیلی کا طریقہ کیا ہے؟
- تاخیر کی صورت میں اضافی رقم چیریٹی میں جاتی ہے یا بینک کی آمدنی میں؟
مستند ماخذ
- اسٹیٹ بینک کی بنیادی شرائط: https://www.sbp.org.pk/press/Essentials/Essentials%20of%20Islamic.htm
- اسٹیٹ بینک: AAOIFI معیار 12 اور مشارکہ متناقصہ کا مستقل معیار (2013): https://www.sbp.org.pk/ibd/2013/C1-Annex-A.pdf
- اسٹیٹ بینک: AAOIFI معیار 49، یکطرفہ اور دو طرفہ وعدہ (2020): https://www.sbp.org.pk/ibd/2020/C3-Annex-A.pdf
- بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی: مشارکہ متناقصہ کے شرعی ضوابط: https://iifa-aifi.org/en/32878.html
- اسٹیٹ بینک کا مجموعۂ شرعی معیارات: https://www.sbp.org.pk/ifpd/compendium/Compendium.pdf
آخری بات
مشارکہ متناقصہ اسلامی بینکاری کی ان پروڈکٹس میں سے ہے جو اپنی روح میں سود سے سب سے زیادہ دور ہیں، کیونکہ اس میں بینک حقیقی شریک اور مالک ہے، صرف قرض خواہ نہیں۔ مگر اس کی سچائی کا دار و مدار تین چیزوں پر ہے: عقود الگ الگ ہوں، خطرہ ملکیت کے مطابق ہو، اور یونٹس کی قیمت ایسے طے ہو کہ بینک کا سرمایہ ہر حال میں ضمانت یافتہ نہ بن جائے۔ ایک مسلمان جو اپنے گھر کا خواب حلال طریقے سے پورا کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ ایک عملی راستہ ہے؛ بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنے معاہدے کو سمجھ کر دستخط کرے۔