زندگی کے کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کے بعد راستہ ہی نہیں، منزل بھی بدل جاتی ہے۔ کسی رشتے کو قبول کرنا، نوکری بدلنا، کاروبار شروع کرنا یا شہر چھوڑنا، ایسے ہر موڑ پر انسان کی عقل اپنی پوری کوشش کے باوجود ایک حد پر جا کر رک جاتی ہے، کیونکہ کل کا پردہ کسی کے سامنے نہیں اٹھتا۔ اسی بے بسی کے لمحے کے لیے شریعت نے استخارہ کی تعلیم دی ہے۔ مگر افسوس کہ آج استخارہ کا مسنون طریقہ کم لوگ جانتے ہیں، اور اس کی جگہ خوابوں، رنگوں اور پیشہ ور ’’استخارہ کرنے والوں‘‘ کے ایک ایسے سلسلے نے لے لی ہے جس کا سنت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ استخارہ کو اس کی اصل صورت میں دیکھا جائے، جیسی رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے سکھائی تھی۔


استخارہ کیا ہے؟


’’استخارہ‘‘ عربی میں ’’خیر‘‘ سے ہے، اور اس کا مطلب ہے خیر طلب کرنا۔ یعنی بندہ کسی جائز معاملے میں اللہ سے درخواست کرتا ہے کہ اگر اس میں بھلائی ہے تو اسے میسر فرما دے، اور اگر اس میں برائی ہے تو اسے اس سے دور کر دے۔ لفظ ہی سے واضح ہے کہ استخارہ غیب کی خبر معلوم کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اپنا معاملہ اس ذات کے سپرد کرنے کا نام ہے جو غیب جانتی ہے۔ یہاں سوال ’’مجھے بتا دیجیے‘‘ نہیں ہوتا، بلکہ ’’میرے لیے بہتر کر دیجیے‘‘ ہوتا ہے۔ اور یہی فرق آگے چل کر خواب سے متعلق ساری غلط فہمیوں کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔

استخارہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ اسی اہتمام سے سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ قرآن کی سورت سکھانے کا اہتمام یہ ہوتا ہے کہ ایک ایک لفظ محفوظ رہے؛ گویا استخارہ بھی کوئی عام دعا نہیں، الفاظ کی پابندی کے ساتھ سیکھی جانے والی ایک مسنون عبادت ہے۔


استخارہ کا سنت طریقہ


اس عبادت کا پورا طریقہ صحیح بخاری کی اسی روایت میں محفوظ ہے:


كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي، قَالَ: وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ (صحیح البخاری، کتاب التہجد، حدیث: 1162؛ نیز کتاب الدعوات، حدیث: 6382)

رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت پڑھے، پھر یوں کہے: اے اللہ! میں تیرے علم کے واسطے سے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، تیری قدرت کے واسطے سے تجھ سے قدرت مانگتا ہوں اور تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں؛ کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین، میری معاش اور میرے انجامِ کار کے لیے، یا فرمایا: میرے حال اور مستقبل کے لیے، بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرما دے، آسان کر دے، پھر اس میں برکت عطا فرما۔ اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین، میری معاش اور میرے انجامِ کار کے لیے، یا فرمایا: میرے حال اور مستقبل کے لیے، برا ہے تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے، اور میرے لیے بھلائی مقدر فرما دے جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔ آپ نے فرمایا: اور (دعا کرتے وقت) اپنی حاجت کا نام لے۔

اس روایت سے استخارہ کا طریقہ بالکل سادہ اور واضح صورت میں سامنے آتا ہے۔ پہلے اس کام کا ارادہ ہو جو شرعاً جائز ہو، کیونکہ فرض کی ادائیگی یا حرام سے بچنے کے لیے استخارہ نہیں کیا جاتا۔ پھر فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نفل ادا کی جائیں، جو مکروہ اوقات کے سوا کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہیں۔ نماز کے بعد یہ دعا پڑھی جائے، اور جہاں ’’هَذَا الْأَمْرَ‘‘ آئے وہاں دل میں یا زبان سے اپنے معاملے کا تصور کیا جائے، مثلاً فلاں جگہ رشتہ یا فلاں ملازمت۔ بس یہی استخارہ ہے۔ نہ اس میں کسی خاص سمت میں لیٹنے کا ذکر ہے، نہ مخصوص اوراد کا، نہ کسی خواب کے انتظار کا۔


دعا کے الفاظ میں چھپا ہوا فلسفہ


یہ دعا محض درخواست نہیں، ایک مکمل عقیدہ ہے جو انسان کو اپنے مقام اور اپنے رب کے مقام سے آگاہ کرتی ہے۔ ’’تو قدرت رکھتا ہے اور میں نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا‘‘، یہ دو جملے فیصلے کی ساری پریشانی کا سرچشمہ بھی بیان کر دیتے ہیں اور اس کا علاج بھی۔ انسان کی بے چینی اسی لیے ہے کہ اس کا علم ناقص ہے اور قدرت محدود؛ اور سکون اسی میں ہے کہ وہ اپنے ناقص علم کو کامل علم کے حوالے کر دے۔


پھر دعا خیر کی جو کسوٹی مقرر کرتی ہے وہ بھی قابلِ غور ہے: ’’دین، معاش اور انجامِ کار‘‘۔ یعنی کوئی کام محض اس لیے خیر نہیں کہ وہ دنیاوی اعتبار سے فائدہ مند ہے؛ خیر وہ ہے جو دین کو بھی سلامت رکھے، روزی کو بھی سنوارے اور انجام کے اعتبار سے بھی اچھا ہو۔ اور دعا کا آخری جملہ ’’ثُمَّ أَرْضِنِي‘‘ استخارہ کی روح ہے۔ بندہ صرف یہ نہیں مانگتا کہ اسے خیر مل جائے، بلکہ یہ بھی مانگتا ہے کہ جو کچھ ملے اس پر اس کا دل راضی ہو جائے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کو خیر ملی مگر رضا نہ ملی، اور وہ اپنی ہی بھلائی پر کڑھتے رہے۔


کیا استخارہ کے بعد خواب آنا ضروری ہے؟


یہی وہ سوال ہے جس کے گرد سب سے زیادہ غلط فہمیاں جمع ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عام تصور یہ ہے کہ استخارہ کے بعد سو جائیے، اگر خواب میں سفید یا سبز رنگ نظر آئے تو کام اچھا ہے اور سرخ یا سیاہ نظر آئے تو برا۔ اس تصور کی سنت میں کوئی بنیاد نہیں۔ اوپر پیش کی گئی صحیح بخاری کی روایت، جو استخارہ کے بارے میں بنیادی اور سب سے مستند ماخذ ہے، اس میں نہ سونے کا ذکر ہے، نہ خواب کا، نہ رنگوں کا۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے دعا کا ایک ایک لفظ قرآن کی سورت کی طرح سکھایا؛ اگر خواب استخارہ کا لازمی حصہ ہوتا تو اسے بیان نہ کرنا ممکن نہ تھا۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ خواب کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ سچا خواب بھی اللہ کی طرف سے ہو سکتا ہے، اور اگر استخارہ کے بعد کوئی واضح اور صاف خواب نظر آ جائے تو وہ ایک ضمنی اشارہ ضرور ہو سکتا ہے۔ مگر خواب استخارہ کی شرط ہے نہ اس کا لازمی نتیجہ؛ اور جو شخص خواب نہ دیکھے اس کا استخارہ ادھورا نہیں۔ یہاں ایک نفسیاتی حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ انسان جس معاملے میں دن بھر الجھا رہتا ہے، وہی اکثر رات کو خواب بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ ایسے خوابوں کو آسمانی فیصلہ سمجھ لینا خود اپنی خواہش کو وحی کا درجہ دے دینے کے مترادف ہے۔


پھر استخارہ کا نتیجہ کیسے معلوم ہو؟


اس سوال کا جواب دعا کے الفاظ ہی میں موجود ہے۔ بندہ یہ نہیں مانگتا کہ ’’مجھے دکھا دے‘‘، بلکہ یہ مانگتا ہے کہ ’’اگر خیر ہے تو مقدر کر دے اور آسان کر دے، اور اگر شر ہے تو مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے‘‘۔ گویا استخارہ کا جواب واقعات کی صورت میں آتا ہے، خواب کی صورت میں نہیں۔ استخارہ کے بعد انسان اپنی جائز کوشش جاری رکھے؛ اگر راستے کھلتے چلے جائیں اور کام آسان ہوتا جائے تو یہ قبولیت کی علامت ہے، اور اگر رکاوٹیں آئیں اور معاملہ خود بخود ٹل جائے تو یہ بھی دعا ہی کا جواب ہے: ’’فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ‘‘۔


اہلِ علم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ استخارہ کے بعد جس پہلو پر دل کو شرحِ صدر ہو، انسان اسی کو اختیار کرے۔ امام نوویؒ نے ’’الاذکار‘‘ میں یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ مگر محققین نے ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ یہ شرحِ صدر اس میلان کا نام نہیں جو استخارہ سے پہلے ہی خواہش کی صورت میں موجود تھا؛ ورنہ استخارہ اللہ سے رہنمائی مانگنے کے بجائے اپنی پسند پر مہر لگوانے کا ذریعہ بن جائے گا۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اسی حدیث کی شرح کے ذیل میں اس بحث کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔ سچا استخارہ وہ ہے جس میں بندہ اپنی پسند کو بھی اللہ کے حوالے کر دے۔


جہاں تک بار بار استخارہ کرنے کا تعلق ہے، اگر دل کو اطمینان نہ ہو تو دوبارہ استخارہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ سات دن تک استخارہ کرنے کی جو روایت مشہور ہے، محدثین نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے؛ اس لیے کسی خاص تعداد کو لازم سمجھنا درست نہیں۔


کیا کسی اور سے استخارہ کروانا درست ہے؟


حدیث کے الفاظ ’’إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ‘‘، یعنی ’’جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے‘‘، اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ استخارہ وہی شخص کرے جس کا معاملہ ہے۔ اس کی حکمت بھی ظاہر ہے: استخارہ بندے اور رب کے درمیان ایک براہِ راست تعلق ہے، جس میں انسان اپنے عجز کا اعتراف خود کرتا ہے اور اپنی حاجت خود پیش کرتا ہے۔ کسی نیک آدمی سے اپنے حق میں خیر کی دعا کروانا ایک الگ بات ہے اور اپنی جگہ درست ہے؛ مگر معاوضہ لے کر استخارہ کرنے اور پھر خواب کی بنیاد پر لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے سنانے کا جو کاروبار آج عام ہو چکا ہے، اس کی کوئی مثال نہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کے عہد میں ملتی ہے، نہ صحابہ کرامؓ کے دور میں۔ اس طریقے نے بہت سے گھروں میں رشتوں کو بلاوجہ توڑا ہے اور بہت سے لوگوں کو اپنی ذمہ داری سے فرار کا بہانہ دیا ہے۔


رشتے کے فیصلے میں استخارہ اور مشورہ


نکاح زندگی کا سب سے نازک فیصلہ ہے، اسی لیے اس میں استخارہ کا اہتمام بھی سب سے زیادہ کیا جاتا ہے، اور یہ اہتمام بجا ہے۔ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس جب رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کا پیغامِ نکاح پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے مشورہ کیے بغیر کچھ نہیں کروں گی، اور اپنی جائے نماز کی طرف چلی گئیں (صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: 1428)۔ اتنے عظیم پیغام کے سامنے بھی ان کا پہلا قدم اللہ کی طرف رجوع تھا۔


مگر استخارہ عقل، تحقیق اور مشورے کا متبادل نہیں، بلکہ ان کا تکملہ ہے۔ قرآنِ مجید نے فیصلے کی ترتیب خود بیان فرما دی ہے:


وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ (آل عمران: 159)

اور معاملات میں ان سے مشورہ کیجیے، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسا کیجیے۔

یعنی پہلے مشورہ اور تحقیق، پھر عزم، پھر توکل۔ رشتے کے معاملے میں دین، اخلاق، خاندان اور مزاج کی مناسبت کی پوری چھان بین کیجیے، تجربہ کار اور خیر خواہ لوگوں سے مشورہ لیجیے، اور پھر استخارہ کر کے معاملہ اللہ کے سپرد کر دیجیے۔ جو شخص تحقیق سے آنکھیں بند کر کے صرف استخارہ پر بھروسا کرتا ہے، وہ اونٹ کو کھلا چھوڑ کر توکل کرنے والے کی طرح ہے؛ اور جو صرف اپنی عقل پر بھروسا کر کے استخارہ کو غیر ضروری سمجھتا ہے، وہ اپنے محدود علم کو کامل سمجھ بیٹھا ہے۔


آخری بات

استخارہ دراصل ایک رویہ ہے، محض ایک عمل نہیں۔ یہ اس اعتراف کا نام ہے کہ میرا علم ادھورا ہے اور میرا رب سب کچھ جانتا ہے؛ میری قدرت محدود ہے اور میرا رب ہر چیز پر قادر ہے۔ جو بندہ اس شعور کے ساتھ دو رکعت پڑھ کر یہ دعا مانگ لیتا ہے، وہ خواب کا محتاج نہیں رہتا، کیونکہ اس نے اپنا فیصلہ اس ذات کے ہاتھ میں دے دیا جس کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔ پھر جو کچھ سامنے آئے، وہ اسے خیر سمجھ کر قبول کرتا ہے اور اپنی دعا کے آخری جملے کی تعبیر اپنی زندگی میں دیکھتا ہے: ’’ثُمَّ أَرْضِنِي‘‘، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔