پریشانی آج کے انسان کی سب سے عام کیفیت بھی ہے اور سب سے کم سمجھی جانے والی بھی۔ رزق کی فکر، روزگار کی بے یقینی، رشتوں کی الجھنیں، بیماری کا اندیشہ اور آنے والے کل کا دھندلا منظر مل کر دل پر وہ بوجھ رکھ دیتے ہیں جسے لفظوں میں ڈھالنا بھی آسان نہیں۔ عجب تماشا ہے کہ آسائش کے وسائل جتنے بڑھے، دل کا سکون اتنا ہی گھٹتا گیا۔ گھر روشن ہو گئے مگر دل بجھ گئے؛ ہاتھوں میں دنیا بھر کی خبریں آ گئیں مگر اپنے اندر کی خبر لینے کی فرصت کسی کو نہ رہی۔ ایسے عالم میں پریشانی کی دعا محض چند الفاظ کا ورد نہیں، وہ دروازہ ہے جو بندے کو بلا واسطہ اس کے رب کے حضور لا کھڑا کرتا ہے۔

مومن کے سامنے پہلا سوال یہ نہیں ہوتا کہ مصیبت کیوں آئی، بلکہ یہ کہ اس گھڑی رخ کس طرف کیا جائے۔ لیکن اس سوال کے جواب تک پہنچنے سے پہلے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ بہت سے لوگ اپنی پریشانی کے ساتھ ایک دوسرا بوجھ بھی اٹھائے پھرتے ہیں: یہ احساس کہ ان کا غم شاید ان کے ایمان کی کمزوری کا ثبوت ہے۔


کیا غم ایمان کی کمزوری ہے؟


قرآنِ مجید نے انبیائے کرام علیہم السلام کو کہیں ایسی ہستیوں کے طور پر پیش نہیں کیا جو غم سے ماورا ہوں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام برسوں اپنے لختِ جگر کی جدائی میں روتے رہے، یہاں تک کہ آنکھوں کی روشنی متاثر ہو گئی، مگر زبان پر شکوہ نہیں، رجوع تھا:



قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (يوسف: 86)

انہوں نے کہا: میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

یہ آیت ایک بنیادی فرق کو نمایاں کرتی ہے۔ غم کا ہونا عیب نہیں؛ عیب یہ ہے کہ غم غلط دروازے پر دستک دینے لگے۔ جو دل اپنا درد اللہ کے سامنے رکھ دیتا ہے، وہ کمزور نہیں بلکہ اپنے صحیح ٹھکانے پر پہنچ جاتا ہے۔


یہی سبق رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کے اسوہ سے ملتا ہے۔ اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات پر آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کی آنکھیں اشک بار تھیں، اور آپ نے فرمایا:



إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ

(صحیح البخاری، کتاب الجنائز، حدیث: 1303)

آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے، مگر زبان سے ہم وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں۔

اس ارشاد میں آنسوؤں کی اجازت بھی ہے اور زبان کی حد بھی۔ غم فطرت کا تقاضا ہے، اور فطرت کو کچل دینا دین کا مطالبہ نہیں؛ دین کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ غم بندگی کی حدود سے باہر قدم نہ رکھے۔ بلکہ نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے یہ بشارت بھی دی کہ مسلمان کو جو تھکن، بیماری، فکر، غم، اذیت اور رنج پہنچتا ہے، یہاں تک کہ کوئی کانٹا بھی چبھ جائے، اللہ اس کے سبب اس کی خطائیں مٹا دیتا ہے (صحیح البخاری، کتاب المرضیٰ، حدیث: 5641، 5642)۔ گویا مومن کا آنسو بھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ اس بے قراری میں قرار ملے تو کہاں سے؟


دل کا قرار کہاں ہے؟


قرآنِ مجید نے اس سوال کا جواب ایک ایسے جملے میں دیا ہے جو انسانی نفسیات کی پوری داستان اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے:



الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 28)

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں۔ سن رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

’’أَلَا‘‘ کہہ کر پہلے سننے والے کو چونکایا گیا، پھر ’’بِذِكْرِ اللَّهِ‘‘ کو مقدم کر کے یہ حقیقت مؤکد کر دی گئی کہ دل کا اصل قرار اسی ذکر میں ہے۔ انسان سکون کو کبھی دولت میں ڈھونڈتا ہے، کبھی شہرت میں اور کبھی لوگوں کی داد میں، مگر یہ سب سہارے خود ڈانواں ڈول ہیں، اور جو سہارا خود ڈگمگا رہا ہو وہ کسی دل کو کیا تھامے گا۔ دل کو وہی ذات تھام سکتی ہے جو نہ بدلتی ہے، نہ تھکتی ہے، نہ غافل ہوتی ہے۔


دعا اسی ذکر کی سب سے زندہ صورت ہے، کیونکہ اس میں بندہ اللہ کو صرف یاد نہیں کرتا، اس سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قربت کا اعلان خود فرمایا ہے:



وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة: 186)

اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں؛ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔

قرآن میں دوسرے کئی سوالوں کے جواب ’’قُلْ‘‘ (کہہ دیجیے) سے شروع ہوتے ہیں، مگر یہاں یہ واسطہ بھی درمیان سے ہٹا دیا گیا ہے، گویا دعا کے لمحے میں بندے اور رب کے بیچ کوئی فاصلہ باقی نہیں رہتا۔ اسی لیے پریشانی میں پہلا قدم کوئی تدبیر نہیں، ایک پکار ہے۔ اور اس پکار کے لیے قرآن و سنت نے وہ الفاظ بھی عطا کر دیے ہیں جو خود انبیا اور خود رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے۔


پریشانی کی دعا: قرآن و سنت کی چھ مستند دعائیں


ذیل کی تمام دعائیں قرآنِ مجید یا معتبر کتبِ حدیث سے لی گئی ہیں اور ہر دعا کے ساتھ اس کا ماخذ درج ہے، تاکہ قاری سنی سنائی بات کے بجائے تحقیق شدہ متن پر اعتماد کر سکے۔ ان کی ترتیب میں بھی ایک معنوی سفر ہے: اعترافِ عجز سے توکل تک، توکل سے حمد و ثنا تک، ثنا سے طلب تک، اور آخر میں اپنی پوری ذات کو اللہ کے سپرد کر دینے تک۔


1. حضرت یونس علیہ السلام کی دعا



لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (الأنبياء: 87)

تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک قصور میرا ہی تھا۔

یہ وہ دعا ہے جو اندھیروں کی تہ در تہ گہرائی میں مانگی گئی: رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا انجام بھی خود بیان فرما دیا: ’’فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ‘‘ (الأنبياء: 88)، یعنی ہم نے اس کی دعا قبول کی، اسے غم سے نجات دی، اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔ آیت کا آخری ٹکڑا اس واقعے کو ایک نبی کی سرگزشت سے اٹھا کر ہر مومن کے لیے وعدہ بنا دیتا ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے بھی فرمایا کہ جو مسلمان کسی بھی معاملے میں ان کلمات کے ساتھ دعا کرے، اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے (جامع الترمذی، أبواب الدعوات، حدیث: 3505؛ علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)۔ اس دعا کی روح یہ ہے کہ بندہ حالات یا لوگوں پر الزام دھرنے کے بجائے پہلے اپنے رب کی پاکی اور اپنی کوتاہی کا اقرار کرتا ہے، اور یہی اقرار بند دروازوں کی کنجی بن جاتا ہے۔


2. حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ



حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (آل عمران: 173)
ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔

یہ کلمہ اس وقت زبانوں پر آیا جب اہلِ ایمان کو دشمن کے لشکرِ جرار سے ڈرایا گیا، اور قرآن گواہی دیتا ہے کہ اس دھمکی نے ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بیان کے مطابق یہی کلمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں ڈالے جاتے وقت کہا تھا، اور یہی رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے اس موقع پر کہا جب آپ کو لشکروں کے جمع ہونے کی خبر دی گئی (صحیح البخاری، کتاب التفسیر، حدیث: 4563)۔ خوف کا علاج ہمیشہ خطرے کا انکار نہیں ہوتا؛ کبھی خطرے کے مقابل ایک بڑی حقیقت کا اقرار ہی اس کا توڑ بن جاتا ہے۔


3. شدید بے چینی اور کرب کی دعا



لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6346؛ صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، حدیث: 2730)

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو عظمت والا اور بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو عرشِ عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو آسمانوں کا رب، زمین کا رب اور عرشِ کریم کا رب ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کرب کے وقت یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس دعا میں کوئی مطالبہ نہیں، صرف اللہ کی کبریائی کا بیان ہے۔ جب کوئی مسئلہ دل پر پہاڑ بن کر چھا جائے تو اس کا ایک علاج یہ ہے کہ اس پہاڑ کے پیچھے آسمانوں اور عرش کے رب کی عظمت کو دیکھا جائے۔ مسئلہ اپنی جگہ رہتا ہے، مگر اپنے اصل حجم پر لوٹ آتا ہے۔


4. غم کو خوشی میں بدل دینے والی جامع دعا



اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي
اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا، تیری بندی کا بیٹا۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہے اور میرے حق میں تیرا ہر فیصلہ سراسر عدل ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنے لیے رکھا، یا اپنی کتاب میں اتارا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا اپنے علمِ غیب میں اپنے ہی پاس محفوظ رکھا، کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا مداوا اور میری فکر کا علاج بنا دے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جو بندہ فکر و غم میں یہ دعا پڑھے، اللہ اس کی فکر دور کر دیتا ہے اور اس کے غم کو کشادگی سے بدل دیتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم اسے سیکھ نہ لیں؟ فرمایا: کیوں نہیں، جو سنے اسے چاہیے کہ سیکھ لے (مسند احمد، حدیث: 3712؛ صحیح ابن حبان، حدیث: 972؛ علامہ البانی نے السلسلۃ الصحیحۃ، رقم: 199 میں اسے صحیح قرار دیا ہے)۔

یہ دعا پریشانی کی پوری نفسیات کا رخ موڑ دیتی ہے۔ انسان کی سب سے گہری بے چینی یہ احساس ہے کہ حالات اس کے بس سے باہر ہیں۔ یہ دعا اسے یاد دلاتی ہے کہ حالات بے شک اس کے بس میں نہیں، مگر بے لگام بھی نہیں؛ وہ ایک عادل اور حکیم ہستی کے قبضے میں ہیں۔ پھر یہ دعا سکون کو کسی وقتی کیفیت سے نہیں، قرآن جیسے دائمی سرچشمۂ ہدایت سے وابستہ کرتی ہے۔


5. فکر، غم اور بے بسی سے پناہ



اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ

(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6369)

اے اللہ! میں فکر اور غم سے، بے بسی اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ یہ دعا کثرت سے مانگا کرتے تھے۔ اس کی ترتیب بجائے خود ایک تشخیص ہے۔ ’’ہمّ‘‘ آنے والے کل کی فکر ہے اور ’’حزن‘‘ گزرے ہوئے کل کا غم؛ عجز اور کسل عمل کی راہ کے دو پتھر ہیں؛ اور قرض کا بوجھ اور لوگوں کا دباؤ وہ بیرونی اسباب ہیں جو آج بھی بے شمار لوگوں کی نیندیں چھین لیتے ہیں۔ یوں یہ ایک دعا پریشانی کے اندرونی اور بیرونی، دونوں سرچشموں سے پناہ مانگ لیتی ہے۔


6. اپنی ذات کو اللہ کے سپرد کر دینا



اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

(سنن ابی داود، کتاب الادب، حدیث: 5090؛ علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے)

اے اللہ! میں تیری ہی رحمت کا امیدوار ہوں، پس مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر، اور میرے سارے معاملات سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے اسے مصیبت زدہ کی دعا فرمایا۔ ’’مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر‘‘ وہ جملہ ہے جس میں انسانی کمزوری کا پورا اعتراف سمٹ آیا ہے۔ پریشانی کی شدت میں انسان کا اپنا ذہن ہی اکثر اس کا سب سے بڑا حریف بن جاتا ہے: وہی اندیشوں کو ہوا دیتا ہے، وہی مایوسی کو دلیل کا لباس پہناتا ہے۔ یہ دعا اسی اندرونی بھنور سے نکلنے کی التجا ہے۔


دعا اور علاج: دو راستے نہیں، ایک ہی راستہ


دعا کی اس عظمت سے یہ غلط فہمی جنم نہیں لینی چاہیے کہ اسلام پریشانی کا علاج صرف ورد و وظیفے میں دیکھتا ہے۔ اسلام کا مزاج توکل اور تدبیر کو یکجا کرنے کا ہے۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا کھلا چھوڑ کر؟ نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ‘‘، اسے باندھو، پھر توکل کرو (جامع الترمذی، أبواب صفة القيامة، حدیث: 2517؛ علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے)۔


یہی اصول بیماری پر بھی صادق آتا ہے۔ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کا ارشاد ہے:



تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً

(سنن ابی داود، کتاب الطب، حدیث: 3855؛ جامع الترمذی، أبواب الطب، حدیث: 2038)

علاج کرو، کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو۔

جس طرح جسم بیمار پڑتا ہے، اسی طرح ذہن اور اعصاب بھی بیمار ہو سکتے ہیں۔ اگر پریشانی ہفتوں تک ساتھ نہ چھوڑے، نیند اور بھوک متاثر ہونے لگیں، روزمرہ کے کام بوجھ بن جائیں یا دل میں مایوسی ڈیرا ڈال لے، تو کسی مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا اسی حدیث پر عمل ہے، ایمان کی کمزوری نہیں۔ دعا مریض کو مایوسی سے بچاتی ہے اور علاج مرض کا ازالہ کرتا ہے۔ مومن دونوں کو اختیار کرتا ہے، اور شفا کو بہرحال اللہ ہی کی عطا سمجھتا ہے۔


آخری بات

پریشانی سے یکسر خالی زندگی اس دنیا میں کسی کو نہیں ملی، انبیا کو بھی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک شخص پریشانی میں خود کو تنہا پاتا ہے، اور دوسرا جانتا ہے کہ اس کی پیشانی ایک رحیم و حکیم ہستی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ دعائیں اسی دوسرے شعور کو زندہ کرنے کا ذریعہ ہیں۔ انہیں رٹے ہوئے الفاظ کی طرح نہیں، معنی سمجھ کر اور دل کی حاضری کے ساتھ پڑھیے۔ کسی ایک دعا کو صبح و شام کا معمول بنا لیجیے، اور اپنی تدبیر میں بھی کمی نہ آنے دیجیے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی نجات کے ساتھ جو وعدہ کیا گیا تھا، وہ آج بھی ہر اس دل کے لیے قائم ہے جو اندھیرے میں اسی کو پکارتا ہے: ’’وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ‘‘۔