نماز کا طریقہ: مکمل مسنون طریقہ


نماز دین کا ستون اور اسلام کا دوسرا رکن ہے، اور قیامت کے دن سب سے پہلے اسی کا حساب ہوگا۔ کوئی بچہ نماز سیکھ رہا ہو، کوئی نو مسلم پہلی بار نماز پڑھنا چاہتا ہو، یا کوئی یہ اطمینان کرنا چاہتا ہو کہ اس کی نماز سنت کے مطابق ہے، ہر ایک کے لیے نماز کا درست طریقہ جاننا ضروری ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي‘‘، اسی طرح نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے (صحیح البخاری، حدیث: 631)۔ اس مضمون میں نماز کا طریقہ مرحلہ وار، عربی کلمات، ان کے ترجمے اور مستند حوالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

یہ طریقہ فقہ حنفی کے مطابق ہے، جو برصغیر میں رائج ہے، اور جہاں دیگر مذاہب کا فرق ہے وہاں اس کی نشان دہی کر دی گئی ہے۔


نماز سے پہلے: نماز کی شرائط


  1. طہارت: وضو کرنا، اور جہاں لازم ہو وہاں غسل۔
  2. بدن، کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا۔
  3. ستر کا چھپانا: مرد کے لیے کم از کم ناف سے گھٹنوں تک؛ عورت کے لیے چہرے، ہاتھوں اور فقہ حنفی کے مطابق پاؤں کے سوا پورا جسم۔
  4. قبلہ رخ ہونا: یعنی مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا۔
  5. وقت: ہر نماز اپنے وقت کے اندر پڑھنا۔
  6. نیت: دل میں یہ ارادہ کہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں۔


نماز کا طریقہ: مرحلہ وار


1۔ نیت

قبلہ رخ کھڑے ہو کر دل میں نیت کیجیے، مثلاً: ’’میں فجر کی دو رکعت فرض نماز اللہ کے لیے پڑھتا ہوں‘‘۔ نیت دل کا ارادہ ہے؛ زبان سے کہنا ضروری نہیں۔


2۔ تکبیرِ تحریمہ

دونوں ہاتھ اٹھائیے (فقہ حنفی میں مرد کانوں تک) اور کہیے: ’’اللہ اکبر‘‘۔ پھر دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر باندھ لیجیے۔ فقہ حنفی میں مرد ناف کے نیچے اور عورتیں سینے پر ہاتھ باندھتی ہیں، جبکہ دیگر مذاہب میں سینے پر یا اس سے اوپر باندھے جاتے ہیں۔


3۔ ثنا


سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ، وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ

ترجمہ: اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے؛ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں (سنن ابی داود؛ جامع الترمذی)۔


4۔ تعوذ اور تسمیہ

آہستہ پڑھیے: ’’أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ‘‘ اور ’’بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ‘‘۔


5۔ سورۃ الفاتحہ

سورۃ الفاتحہ پڑھیے اور آخر میں ’’آمین‘‘ کہیے۔ سورۃ الفاتحہ ہر رکعت کی روح ہے؛ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز نہیں (صحیح البخاری، حدیث: 756)۔


6۔ کوئی سورت

سورۃ الفاتحہ کے بعد کوئی سورت یا کم از کم تین چھوٹی آیات پڑھیے، مثلاً سورۃ الاخلاص۔ فرض نماز میں یہ پہلی دو رکعتوں میں ہوتا ہے۔


7۔ رکوع

’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر رکوع میں جائیے، گھٹنوں کو ہاتھوں سے پکڑیے اور کمر سیدھی رکھیے۔ کم از کم تین بار پڑھیے:


سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ

ترجمہ: پاک ہے میرا رب، جو عظمت والا ہے۔


8۔ قومہ (رکوع سے اٹھنا)

سیدھے کھڑے ہوتے ہوئے کہیے:


سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ

ترجمہ: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔ اے ہمارے رب! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔


9۔ سجدہ


’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر سجدے میں جائیے۔ سجدہ سات اعضا پر ہو: پیشانی ناک سمیت، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں، جیسا کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے حکم دیا (صحیح البخاری، حدیث: 812)۔ کم از کم تین بار پڑھیے:


سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ

ترجمہ: پاک ہے میرا رب، جو سب سے بلند ہے۔


10۔ جلسہ (دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا)

’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر تھوڑی دیر اطمینان سے بیٹھیے۔ اس دوران ’’رَبِّ اغْفِرْ لِي‘‘ (اے میرے رب! مجھے بخش دے) کہنا بھی منقول ہے۔


11۔ دوسرا سجدہ

’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر دوبارہ سجدہ کیجیے اور کم از کم تین بار ’’سبحان ربی الاعلیٰ‘‘ پڑھیے۔ اس طرح پہلی رکعت مکمل ہو گئی۔


12۔ دوسری رکعت

’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر کھڑے ہو جائیے اور سورۃ الفاتحہ سے رکعت دہرائیے؛ دوسری رکعت میں ثنا نہیں پڑھی جاتی۔


13۔ قعدہ اور التحیات

دوسری رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ کر التحیات پڑھیے:


التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

اگر نماز تین یا چار رکعت کی ہے تو التحیات کے بعد باقی رکعتوں کے لیے کھڑے ہو جائیے۔ فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۃ الفاتحہ پڑھی جاتی ہے۔


14۔ درود ابراہیمی اور دعا

آخری قعدے میں التحیات کے بعد درود ابراہیمی پڑھیے، پھر کوئی دعا، مثلاً وہ دعا جو رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو سکھائی:


اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (صحیح البخاری، حدیث: 834)

ترجمہ: اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا، اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا؛ پس اپنی طرف سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔


15۔ سلام

پہلے دائیں طرف منہ پھیر کر کہیے: ’’السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ‘‘، پھر بائیں طرف یہی کہیے۔ آپ کی نماز مکمل ہو گئی۔


عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے



  • رکوع اور سجدے میں جلدی: ہر رکن اطمینان سے ادا کیجیے۔
  • سورۃ الفاتحہ غلط پڑھنا: اس کے حروف کی غلطی نماز پر اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے اسے کسی استاد سے درست کیجیے۔
  • نماز میں ادھر ادھر دیکھنا: نگاہ سجدے کی جگہ پر رکھیے۔
  • کسی رکعت میں سورۃ الفاتحہ چھوڑ دینا: یہ ہر رکعت میں لازم ہے۔


آخری بات


نماز دن میں پانچ مرتبہ اللہ سے ملاقات ہے۔ اس کا ہر مرحلہ سیکھیے، جو پڑھتے ہیں اس کے معنی سمجھیے، اور حاضر دل کے ساتھ اطمینان سے نماز ادا کیجیے۔ آج ہی سے آغاز کیجیے، اور اسی طرح نماز پڑھیے جیسے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ پڑھتے تھے۔ نماز کی سورۃ الفاتحہ اور چھوٹی سورتیں درست پڑھنے کے لیے ہمارے قرآن ریڈنگ کورس اور تجوید کورس میں 3 دن کی فری ٹرائل کے ساتھ سیکھ سکتے ہیں۔