نمازِ جنازہ کا طریقہ اور دعا


نمازِ جنازہ وہ آخری خدمت ہے جو ایک مسلمان اپنے دنیا سے رخصت ہونے والے بھائی یا بہن کے لیے انجام دے سکتا ہے۔ ہر خاندان کو کبھی نہ کبھی، اکثر اچانک، اس کی ضرورت پڑتی ہے، اور بہت سے لوگ صفوں میں کھڑے ہو کر بھی یہ نہیں جانتے کہ کیا پڑھنا ہے۔ عام نماز کے برعکس نمازِ جنازہ میں رکوع اور سجدہ نہیں ہوتا؛ یہ کھڑے ہو کر چار تکبیروں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ اس مضمون میں نمازِ جنازہ کا طریقہ مرحلہ وار، اور میت کے لیے مسنون دعائیں عربی متن اور ترجمے کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔


نمازِ جنازہ کا حکم اور اجر


نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے: اگر کچھ مسلمان ادا کر لیں تو باقی سب کی طرف سے فرض ادا ہو جاتا ہے، اور اگر کوئی بھی ادا نہ کرے تو پوری بستی گناہ گار ہوتی ہے۔

اس کا اجر بہت بڑا ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو جنازے میں نماز تک شریک رہے، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن ہونے تک ساتھ رہے، اس کے لیے دو قیراط۔ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کے برابر (صحیح البخاری، حدیث: 1325؛ صحیح مسلم، حدیث: 945)۔


نمازِ جنازہ کا طریقہ: مرحلہ وار


یہ طریقہ فقہ حنفی کے مطابق ہے، اور دیگر مذاہب کے فرق کی نشان دہی بھی کر دی گئی ہے۔


1۔ نیت

امام کے پیچھے قبلہ رخ کھڑے ہو کر دل میں نیت کیجیے: ’’میں اللہ کے لیے نمازِ جنازہ ادا کرتا ہوں، اور اس میت کے لیے دعا، اس امام کے پیچھے۔‘‘


2۔ پہلی تکبیر

ہاتھ اٹھا کر ’’اللہ اکبر‘‘ کہیے اور ہاتھ باندھ لیجیے۔ پھر ثنا پڑھیے:



سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ

شافعی اور حنبلی فقہ میں پہلی تکبیر کے بعد ثنا کے بجائے سورۃ الفاتحہ پڑھی جاتی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھی اور فرمایا: تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے (صحیح البخاری، حدیث: 1335)۔


3۔ دوسری تکبیر

’’اللہ اکبر‘‘ کہیے (فقہ حنفی میں ہاتھ اٹھائے بغیر) اور درود ابراہیمی پڑھیے، وہی درود جو ہر نماز میں پڑھا جاتا ہے۔



4۔ تیسری تکبیر

’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر میت کے لیے دعا کیجیے۔ دعائیں آگے دی گئی ہیں۔


5۔ چوتھی تکبیر اور سلام

’’اللہ اکبر‘‘ کہیے، پھر دائیں اور بائیں ’’السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ‘‘ کہہ کر سلام پھیر دیجیے۔


بالغ مرد و عورت کی دعا


یہ جامع دعا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (جامع الترمذی، حدیث: 1024؛ سنن ابی داود، حدیث: 3201):




اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ

ترجمہ: اے اللہ! ہمارے زندوں اور مردوں کو، حاضر اور غائب کو، چھوٹوں اور بڑوں کو، مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھ، اور جسے موت دے، اسے ایمان پر موت دے۔

ایک اور خوب صورت دعا حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (صحیح مسلم، حدیث: 963):




اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ

ترجمہ: اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے اور اسے معاف فرما، اس کی مہمانی باعزت کر اور اس کے داخلے کی جگہ کشادہ کر۔ اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اور اسے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اسے اس کے گھر سے بہتر گھر اور اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے عطا فرما۔ اسے جنت میں داخل فرما، اور قبر کے عذاب اور جہنم کے عذاب سے بچا۔

عورت کی میت ہو تو ضمیریں ’’ہُ‘‘ سے ’’ہا‘‘ میں بدل دی جائیں، مثلاً ’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهَا وَارْحَمْهَا‘‘۔


نابالغ بچے کی دعا


نابالغ لڑکے کے لیے فقہ حنفی میں یہ دعا رائج ہے، اور اسی مفہوم کی دعا امام بخاریؒ نے حضرت حسن بصریؒ سے نقل کی ہے:




اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا، وَاجْعَلْهُ لَنَا أَجْرًا وَذُخْرًا، وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَمُشَفَّعًا

ترجمہ: اے اللہ! اسے ہمارے لیے آگے جا کر سامان کرنے والا بنا، اسے ہمارے لیے اجر اور ذخیرہ بنا، اور اسے ہمارے لیے ایسا سفارشی بنا جس کی سفارش قبول ہو۔

نابالغ لڑکی کے لیے:




اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطًا، وَاجْعَلْهَا لَنَا أَجْرًا وَذُخْرًا، وَاجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَمُشَفَّعَةً


اگر دعا یاد نہ ہو


اگر یہ دعائیں ابھی یاد نہ ہوں تو نمازِ جنازہ سے پیچھے نہ رہیے۔ تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے کوئی بھی سچی دعا کیجیے، مثلاً ’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ‘‘ (اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما)، یہاں تک کہ مکمل دعائیں یاد ہو جائیں۔


چند ضروری باتیں




  • رکوع اور سجدہ نہیں: پوری نماز کھڑے ہو کر ادا کی جاتی ہے۔
  • صفیں: امام کے پیچھے صفیں بنانا مستحب ہے، اور بہت سے علما طاق صفوں کو پسند کرتے ہیں۔
  • خواتین: خواتین نمازِ جنازہ میں شریک ہو سکتی ہیں۔ البتہ جنازے کے ساتھ قبرستان جانا ان کے لیے ناپسندیدہ ہے؛ حضرت ام عطیہؓ فرماتی ہیں کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا، مگر سختی سے منع نہیں کیا گیا (صحیح البخاری، حدیث: 1278)۔
  • غائبانہ نمازِ جنازہ: رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے نجاشی کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی (صحیح البخاری، حدیث: 1245)۔ شوافع اور حنابلہ غائبانہ نمازِ جنازہ کے قائل ہیں، جبکہ احناف اور مالکیہ عام طور پر اس کے قائل نہیں۔


آخری بات


نمازِ جنازہ دنیا سے رخصت ہونے والے کے لیے محبت کا آخری تحفہ ہے، اور اس سفر کی ایک گہری یاد دہانی بھی جو ہم سب کو ایک دن طے کرنا ہے۔ اس کا طریقہ اور دعائیں ابھی سے یاد کر لیجیے، تاکہ جب وہ گھڑی آئے تو آپ پوری سمجھ کے ساتھ صف میں کھڑے ہوں، اپنے بھائی یا بہن کے لیے سچے دل سے دعا کریں، اور پہاڑوں کے برابر اجر حاصل کریں۔