غسل کا طریقہ اور فرائض
غسل وہ مکمل طہارت ہے جو انسان کو بڑی ناپاکی سے پاک کرتی ہے۔ یہ ان موضوعات میں سے ہے جن کے بارے میں بہت سے لوگ پوچھتے ہوئے جھجکتے ہیں، مگر اسے درست طور پر جاننا ضروری ہے، کیونکہ جب غسل فرض ہو اور وہ صحیح طریقے سے نہ کیا جائے تو نماز قبول نہیں ہوتی۔ اس مضمون میں غسل کا طریقہ مرحلہ وار، اسی طرح بیان کیا گیا ہے جیسے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ غسل فرماتے تھے؛ ساتھ ہی یہ بھی کہ غسل کب فرض ہوتا ہے، اس کے فرائض کیا ہیں، اور کن غلطیوں سے بچنا چاہیے۔
قرآن میں غسل کا حکم
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا‘‘ (المائدة: 6)، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو۔ یہی پاکی غسل ہے۔
غسل کب فرض ہوتا ہے؟
ان صورتوں میں غسل فرض ہو جاتا ہے:
- ہم بستری کے بعد، چاہے انزال نہ ہوا ہو۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جب میاں بیوی کا ملاپ ہو جائے تو غسل واجب ہو گیا (صحیح البخاری، حدیث: 291؛ صحیح مسلم، حدیث: 348)۔
- شہوت کے ساتھ منی نکلنے پر، چاہے جاگتے ہوئے ہو یا احتلام کی صورت میں۔ حضرت ام سلیمؓ نے پوچھا کہ کیا احتلام کے بعد عورت پر غسل ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، جب وہ پانی (تری) دیکھے (صحیح البخاری، حدیث: 282)۔
- حیض ختم ہونے پر۔
- نفاس ختم ہونے پر۔
سنت غسل
بعض مواقع پر غسل فرض نہیں، مگر سنت ہے:
- جمعہ کی نماز سے پہلے، جس کی رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے بہت تاکید فرمائی۔
- دونوں عیدوں کے لیے۔
- حج یا عمرہ کا احرام باندھنے سے پہلے۔
- عرفہ کے دن۔
غسل کے فرائض
فقہ حنفی میں غسل کے تین فرائض ہیں:
- اچھی طرح کلی کرنا۔
- ناک میں نرم ہڈی تک پانی ڈالنا۔
- پورے جسم پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔
شافعی اور مالکی فقہ میں نیت اور پورے جسم کو دھونا بنیادی ہیں، جبکہ کلی اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہے۔ چونکہ فقہ حنفی میں یہ دونوں فرض ہیں، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان انہیں غسل میں ضرور شامل کرے۔
غسل کا مسنون طریقہ: مرحلہ وار
یہ طریقہ ام المومنین حضرت عائشہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما کی ان روایات پر مبنی ہے جن میں انہوں نے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کے غسل کا طریقہ بیان فرمایا (صحیح البخاری، حدیث: 248، 249؛ صحیح مسلم، حدیث: 316)۔
1۔ نیت اور بسم اللہ: دل میں ناپاکی سے پاک ہونے کی نیت کیجیے، اور غسل خانے میں داخل ہونے سے پہلے ’’بسم اللہ‘‘ کہیے۔
2۔ ہاتھ دھونا: دونوں ہاتھ تین بار دھوئیے۔
3۔ شرم گاہ دھونا: بائیں ہاتھ سے شرم گاہ اور جسم پر لگی ہوئی ناپاکی دھو ڈالیے۔
4۔ وضو کرنا: نماز والا مکمل وضو کیجیے۔ اگر ایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں پانی جمع ہوتا ہے تو پاؤں آخر میں دھو سکتے ہیں۔
5۔ کلی اور ناک میں پانی: منہ اور ناک کے ہر حصے تک پانی پہنچائیے۔
6۔ سر پر تین بار پانی ڈالنا: گیلی انگلیوں سے بالوں کا خلال کیجیے، تاکہ پانی جڑوں اور سر کی جلد تک پہنچ جائے۔
7۔ پورے جسم پر پانی بہانا: پہلے دائیں حصے پر، پھر بائیں حصے پر پانی بہائیے، اور خیال رکھیے کہ کانوں کے پیچھے، ناف، بغلوں، پاؤں کی انگلیوں کے درمیان اور جلد کی ہر سلوٹ تک پانی پہنچ جائے۔
8۔ پاؤں دھونا: اگر پاؤں مؤخر کیے تھے تو آخر میں دھو لیجیے۔
شاور سے بھی غسل بالکل درست ہو جاتا ہے، بشرطیکہ پانی پورے جسم تک پہنچ جائے۔
خواتین کی چوٹیوں کا حکم
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ سے پوچھا کہ کیا غسل کے لیے
انہیں اپنی چوٹیاں کھولنی ہوں گی؟ آپ نے فرمایا کہ سر پر تین چلو پانی ڈال لینا کافی ہے (صحیح مسلم، حدیث: 330)۔ فقہ حنفی کے مطابق عورت کو چوٹیاں کھولنا ضروری نہیں، بشرطیکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ البتہ اگر بال کھلے ہوں تو سارے بال دھونا ضروری ہے۔
غسل کی عام غلطیاں
- کلی اور ناک میں پانی ڈالنا چھوڑ دینا: فقہ حنفی میں ان کے بغیر غسل نہیں ہوتا۔
- کچھ جگہیں خشک رہ جانا، خصوصاً ناف، کانوں کے پیچھے، انگوٹھی اور بالیوں کے نیچے، اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان۔
- نیل پالش یا پانی روکنے والی کوئی تہ، جو ناخنوں تک پانی پہنچنے نہیں دیتی۔
- یہ سمجھنا کہ کلی اور ناک میں پانی ڈالے بغیر جلدی کا شاور کافی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا غسل کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟ نہیں۔ اگر غسل میں وضو کر لیا تھا یا پورا جسم دھو لیا، تو نئے وضو کے بغیر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے (جامع الترمذی، حدیث: 107)۔
کیا غسل میں تاخیر کر سکتے ہیں؟ ہاں، مگر اتنی تاخیر نہ ہو کہ نماز قضا ہو جائے۔ اگر غسل سے پہلے سونا ہو تو وضو کر کے سونا سنت ہے، جیسا کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے حضرت عمرؓ کو بتایا (صحیح البخاری، حدیث: 287)۔
غسل فرض ہو تو کیا کام منع ہیں؟ جس پر غسل فرض ہو، وہ غسل سے پہلے نماز نہ پڑھے، طواف نہ کرے، قرآنِ مجید کو نہ چھوئے، اور جمہور علما کے نزدیک قرآن کی تلاوت بھی نہ کرے۔
آخری بات
غسل جسم کی مکمل طہارت ہے، اور یہ اس حقیقت کی خوب صورت یاد دہانی بھی کہ اسلام ظاہر و باطن دونوں کی پاکیزگی کا خیال رکھتا ہے۔ اسے ایک بار درست طریقے سے سیکھ لیجیے، اطمینان اور مکمل طور پر ادا کیجیے، اور پھر پورے یقین کے ساتھ پاک ہو کر اپنے رب کے سامنے نماز کے لیے کھڑے ہو جائیے۔