پانچواں کلمۂ استغفار (Fifth Kalma Astaghfar)
اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُهٗ عَمَدًا اَوْ خَطَاً سِرًّا اَوْ عَلَانِيَةً وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ لَا اَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُيُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ
" میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں جو میرا پروردگار ہے، ہر گناہ سے جو میں نے جان بوجھ کر کیا یا بھول کر، چھپ کر کیا یا ظاہر ہو کر، اور میں اُس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اُس گناہ سے جس کو میں جانتا ہوں اور اُس گناہ سے جس کو میں نہیں جانتا۔ (اے اللہ!) بے شک تو غیبوں کا جاننے والا اور عیبوں کا چھپانے والا اور گناہوں کا بخشنے والا ہے، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے جو بہت بلند عظمت والا ہے".
I seek forgiveness from Allah, my Lord, from every sin. I commited knowingly or unknowingly, secretly or openly and I turn towards Him from the sin that I know and from the sin I do not know. Certainly you, You (are) the knower of the hidden things and the concealer (of) the mistakes and the forgiver (of) the sins. And (there is) no power and no strength except from Allah, the Most High & Most great.
اہمیت اور فضیلت
1۔ قرآن کا حکم:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ (سورۃ نوح: 10)
2۔ نبی ﷺ کاعمل:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں دن میں ستر سے زیادہ بار اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری 6307) جب نبی ﷺ کا یہ حال ہے تو ہمیں اس کی کتنی ضرورت ہے۔
3۔ توبہ کرنے والے بہترین ہیں:
نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر انسان خطا کار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو بہت توبہ کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی 2499؛ سنن ابن ماجہ 4251)
4۔ گناہ کے بعد استغفار:
قرآن نے متقین کی صفت بیان کی ہے کہ جب ان سے کوئی برا کام ہو جائے تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور جان بوجھ کر اس پر اڑے نہیں رہتے۔ (سورۃ آلِ عمران: 135)
5۔ سید الاستغفار:
استغفار کی ایک بہت فضیلت والی دعا "سید الاستغفار" ہے جو صحیح بخاری (6306) میں آئی ہے۔ یہ کلمہ اس سے الگ ہے۔
خلاصہ: یہ کلمہ ہر چھوٹے بڑے، معلوم اور نامعلوم گناہ سے توبہ اور معافی کی دعا ہے۔ اللہ کے رحم اور مغفرت سے مایوس نہ ہونا مسلمان کی شان ہے۔