پیشگی زکوٰۃ اور قسطوں میں زکوٰۃ
سال کے آخر میں ایک بڑی رقم یکمشت زکوٰۃ میں دینا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہےاور بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ ضرورت مندوں کی سال بھر مسلسل مدد ہوتی رہے۔ اس لیے یہ سوال اہم ہے: کیا زکوٰۃ پیشگی یعنی سال پورا ہونے سے پہلے یا ہر مہینے قسطوں میں دی جا سکتی ہے؟
پیشگی زکوٰۃ: جائز ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عباسؓ نے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ سے سال پورا ہونے سے پہلے اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کی اجازت مانگی، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی (سنن ابی داود، حدیث: 1624؛ جامع الترمذی، حدیث: 678)۔
اسی بنا پر فقہ حنفی، فقہ شافعی اور فقہ حنبلی کے نزدیک صاحبِ نصاب بننے کے بعد سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کرنا جائز ہے۔ امام مالکؒ کے نزدیک سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ دینا درست نہیں، سوائے اس کے کہ سال پورا ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی ہو۔
شرط یہ ہے کہ آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہوں۔ جو شخص ابھی نصاب کا مالک ہی نہیں وہ مستقبل کی زکوٰۃ پیشگی ادا نہیں کر سکتااس کا دیا ہوا مال نفلی صدقہ ہوگا۔
قسطوں میں زکوٰۃ: جائز اور آسان
پیشگی زکوٰۃ کے جائز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے سال میں قسطوں میں بھی زکوٰۃ دے سکتے ہیں:
اندازہ لگائیے کہ اس سال آپ کی زکوٰۃ تقریباً کتنی ہوگی۔
اسے بارہ حصوں میں تقسیم کر کے ہر مہینے زکوٰۃ کی نیت سے ادا کرتے رہیے۔
زکوٰۃ کی سالانہ تاریخ پر اصل حساب لگائیےاگر زکوٰۃ زیادہ بنی، تو باقی رقم ادا کر دیجیے۔
اگر کم بنی تو زائد رقم کو اگلے سال کی پیشگی زکوٰۃ میں شمار کر لیجیے یا نفلی صدقہ سمجھ لیجیے۔
علامہ یوسف القرضاویؒ تنخواہ کی زکوٰۃ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اسے یا تو ہر تنخواہ ملنے پر ادا کیا جائے یا سالانہ جمع کر کے اور جو رقم وصولی کے وقت ادا کر دی گئی سالانہ حساب میں اس پر دوبارہ زکوٰۃ نہیں ہوگی (فقہ الزکوٰۃ، اردو ترجمہ، ص 656، 657)۔
وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ حکومتوں کا ملازمین کی تنخواہ سے ماہانہ زکوٰۃ کاٹنا ایک معروف طریقہ ہے (فقہ الزکوٰۃ، ص 653)۔
زکوٰۃ میں تاخیر: جائز نہیں
پیشگی دینا جتنا آسان ہے تاخیر اتنی ہی ناپسندیدہ ہے۔ جب زکوٰۃ کا سال پورا ہو جائے تو زکوٰۃ فوری ادا کرنا ضروری ہے بلا عذر اسے مہینوں ٹالتے رہنا جائز نہیں کیونکہ یہ فقیر کا حق روکنا ہے۔ اگر کوئی شخص زکوٰۃ قسطوں میں دینا چاہتا ہے، تو بہتر طریقہ پیشگی ادائیگی ہے نہ کہ واجب ہونے کے بعد تاخیر۔
کیا زکوٰۃ صرف رمضان میں دینی ہے؟
زکوٰۃ کا رمضان سے کوئی لازمی تعلق نہیں زکوٰۃ اسی دن واجب ہوتی ہے جس دن آپ کا زکوٰۃ کا سال پورا ہو۔ البتہ رمضان میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے اس لیے بہت سے لوگ اپنی زکوٰۃ کی تاریخ رمضان میں رکھتے ہیں۔
اگر آپ کی زکوٰۃ کی تاریخ رمضان سے پہلے ہے تو زکوٰۃ رمضان تک مؤخر نہ کیجیے۔
اگر رمضان میں ادا کرنا چاہتے ہیں تو اپنی زکوٰۃ پیشگی رمضان میں دے دیجیے، تاخیر سے نہیں۔
آخری بات
اسلام نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں آسانی رکھی ہے صاحبِ نصاب بننے کے بعد آپ اسے پیشگی بھی دے سکتے ہیں اور قسطوں میں بھی، تاکہ آپ پر بوجھ نہ ہو اور فقرا کی مدد سال بھر جاری رہے۔ بس ایک بات یاد رکھیے زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد اسے ٹالنا نہیں کیونکہ وہ فقیر کا حق ہے جو آپ کے پاس امانت ہے۔