زکوٰۃ سے مسجد، مدرسہ یا ہسپتال بنانا جائز ہے؟
بہت سے لوگ نیک نیتی سے چاہتے ہیں کہ ان کی زکوٰۃ کسی مسجد کی تعمیر، مدرسے کی عمارت، ہسپتال یا پانی کے کنویں پر لگے، تاکہ اس کا فائدہ ہمیشہ جاری رہے۔ یہ جذبہ قابلِ قدر ہے، مگر زکوٰۃ کے اپنے مقرر شدہ اصول ہیں۔ اس مضمون میں واضح کیا گیا ہے کہ زکوٰۃ کن کاموں پر لگ سکتی ہے اور کن پر نہیں۔
بنیادی اصول: زکوٰۃ مستحق کا حق ہے
اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف خود مقرر کیے ہیں (التوبة: 60)، اور یہ سب افراد ہیں: فقیر، مسکین، قرض دار، مسافر وغیرہ۔ مسجد، عمارت یا سڑک ان میں شامل نہیں۔
فقہ حنفی کے مطابق زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک ضروری ہے، یعنی زکوٰۃ کی رقم کسی مستحق فرد کو اس کا مالک بنا کر دی جائے۔ مسجد یا عمارت کسی فرد کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لیے ان پر زکوٰۃ لگانے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔
کن کاموں پر زکوٰۃ نہیں لگ سکتی؟
مسجد کی تعمیر یا اس کے بل
مدرسے کی عمارت، فرنیچر یا اساتذہ کی تنخواہیں
ہسپتال کی عمارت یا مشینری
سڑک، پل، کنواں یا واٹر فلٹر پلانٹ
میت کا کفن دفن، کیونکہ میت مالک نہیں بن سکتی
ان سب نیک کاموں کے لیے نفلی صدقات اور عطیات دیجیے ان کا اجر بھی بہت بڑا ہے، اور صدقۂ جاریہ کے طور پر جاری رہتا ہے۔
مدرسے کو زکوٰۃ کیسے دیں؟
مدارس میں پڑھنے والے بہت سے طلبہ مستحق ہوتے ہیں۔ مدرسہ ان کا وکیل بن کر زکوٰۃ وصول کر سکتا ہے، اور اسے مستحق طلبہ کے کھانے، رہائش، کتابوں یا وظیفوں پر اس طرح خرچ کر سکتا ہے کہ وہ ان کی ملکیت بنے۔ اس لیے مدرسے کو زکوٰۃ دیتے وقت یہ تسلی کر لیجیے کہ وہ زکوٰۃ الگ رکھتا ہے اور اسے صرف مستحق طلبہ پر خرچ کرتا ہے۔
ہسپتال یا فلاحی ادارے کو زکوٰۃ
اسی طرح جو ہسپتال یا فلاحی ادارہ زکوٰۃ کو صرف مستحق مریضوں کے علاج، دواؤں یا آپریشن پر خرچ کرے، اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ یہاں بھی یہ اطمینان ضروری ہے کہ ادارہ زکوٰۃ کو عمارت، تنخواہوں یا عام اخراجات پر نہیں لگاتا۔
’’حیلۂ تملیک‘‘ سے احتیاط
بعض جگہ زکوٰۃ کو تعمیرات پر لگانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ پہلے رقم کسی مستحق کو دی جائے، اور پھر اسی سے کہا جائے کہ وہ مسجد یا عمارت کو عطیہ کر دے۔ علما نے اسے صرف حقیقی مجبوری میں، اور اس شرط کے ساتھ گوارا کیا ہے کہ مستحق واقعی مالک بنے اور اپنی مرضی سے عطیہ کرے۔ اسے عام معمول بنانا زکوٰۃ کے مقصد، یعنی فقیر کی مدد کے خلاف ہے۔
علامہ قرضاویؒ کی رائے
علامہ یوسف القرضاویؒ نے ’’فی سبیل اللہ‘‘ کے مصرف کو وسیع کر کے اس میں اسلام کی دعوت اور دفاع کی جائز کوششوں کو شامل کیا ہے۔
اس بنیاد پر بعض معاصر علما ایسے علاقوں میں اسلامی مراکز اور دعوتی اداروں کو زکوٰۃ دینے کی گنجائش دیتے ہیں جہاں دعوت کی حقیقی ضرورت ہو۔ البتہ برصغیر کے علما، بشمول مفتی تقی عثمانی، تملیک کی شرط کی بنا پر مساجد کی تعمیر پر زکوٰۃ کو جائز نہیں سمجھتے۔
آخری بات
زکوٰۃ فقیر کا حق ہے اور اس کا اصل مقصد انسانوں کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ مسجد، مدرسے کی عمارت اور ہسپتال جیسے نیک کاموں کے لیے نفلی صدقات دیجیے، اور اپنی زکوٰۃ مستحق افراد تک براہِ راست، یا ایسے معتبر اداروں کے ذریعے پہنچائیے جو اسے مستحقین ہی پر خرچ کریں۔