رمضان 2027 کب ختم ہوگا؟ آغاز، اختتام اور عید کی متوقع تاریخیں
ہر سال مسلمان دو تاریخوں کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں: رمضان کا پہلا دن اور اس کا آخری دن۔ پہلی تاریخ بتاتی ہے کہ دل اور گھر کی تیاری کب سے شروع کرنی ہے، اور دوسری یہ یاد دلاتی ہے کہ آخری راتوں کی قدر کب کرنی ہے، صدقۂ فطر کب ادا کرنا ہے اور عید کی تیاری کب کرنی ہے۔ رمضان 2027 کب ختم ہوگا اور کب شروع ہوگا، اس بارے میں سعودی عرب کی ام القریٰ تقویم کا اندازہ یہ ہے کہ رمضان 1448ھ پیر 8 فروری کو شروع اور پیر 8 مارچ کو ختم ہوگا۔ مگر یہ تاریخیں فلکیاتی حساب پر مبنی ہیں، اور حتمی فیصلہ ہمیشہ چاند دیکھ کر ہوتا ہے۔ اس لیے آئیے مہینے کے دونوں سروں، یعنی آغاز اور اختتام، کو اور ان سادہ شرعی اصولوں کو دیکھیں جن سے یہ دونوں طے ہوتے ہیں۔

یہ سب متوقع تاریخیں ہیں، سرکاری اعلانات نہیں۔ پاکستان و بھارت کے کالم میں ہر تاریخ کو ایک دن آگے رکھا گیا ہے، کیونکہ ان ممالک میں رمضان عموماً مقامی رؤیت کے بعد شروع ہوتا ہے۔ آخری روزے اور عید کی دو دو ممکنہ تاریخیں اس لیے دی گئی ہیں کہ رمضان 29 دن کا بھی ہو سکتا ہے اور 30 دن کا بھی۔
رمضان 2027 کب شروع ہوگا؟
ام القریٰ تقویم کے مطابق رمضان 1448ھ کا پہلا دن پیر 8 فروری 2027 ہے۔ یعنی مہینے کا آغاز اتوار 7 فروری کو غروبِ آفتاب سے ہوگا، اسی شام پہلی تراویح ادا کی جائے گی، اور پیر کو پہلا روزہ رکھا جائے گا۔
اس تاریخ کی وجہ سادہ ہے۔ نیا چاند ہفتہ 6 فروری 2027 کی سہ پہر پیدا ہونے کی توقع ہے، جو اتنی تاخیر ہے کہ اس شام ہلال نظر آنا ممکن نہیں۔ جب 29 شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کیے جاتے ہیں، اور اس کے اگلے دن سے رمضان شروع ہوتا ہے۔
پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں، جہاں رمضان عموماً مقامی رؤیت سے شروع ہوتا ہے، پہلا روزہ منگل 9 فروری کو بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں حتمی اعلان مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کرے گی۔
رمضان 2027 کب ختم ہوگا؟
یہ وہ سوال ہے جو بہت سے لوگوں کو رمضان کے آخری ہفتے میں جا کر یاد آتا ہے۔ رمضان کا اختتام بھی پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کا فیصلہ شوال کا چاند دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے اس کا واضح اصول بیان فرما دیا ہے:
الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ (صحیح البخاری، کتاب الصوم، حدیث: 1907)
مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے، اس لیے جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو، اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس کی گنتی پوری کر لو۔
یہی حدیث رمضان کے اختتام کا طریقہ بھی طے کر دیتی ہے۔ 29 رمضان کی شام شوال کا چاند تلاش کیا جاتا ہے۔ اگر نظر آ جائے تو رمضان 29 دن پر مکمل ہو گیا اور اگلے دن عید ہے۔ اگر نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس دن پورے کیے جاتے ہیں، اور اس کے بعد والے دن عید ہوتی ہے۔
ام القریٰ تقویم کے مطابق 29 رمضان 1448ھ پیر 8 مارچ 2027 کو ہوگا۔ یہی تقویم رمضان 1448ھ کو 29 دن کا شمار کرتی ہے، جس کے مطابق آخری روزہ پیر 8 مارچ کو اور عید منگل 9 مارچ کو ہوگی۔ اگر مہینہ تیس دن کا ہوا تو آخری روزہ منگل 9 مارچ کو اور عید بدھ 10 مارچ کو ہوگی۔
پاکستان اور بھارت میں اگر رمضان منگل 9 فروری کو شروع ہوا تو 29 رمضان منگل 9 مارچ کو ہوگا۔ اس صورت میں 29 دن کا مہینہ ہونے پر عید بدھ 10 مارچ کو، اور 30 دن کا مہینہ ہونے پر جمعرات 11 مارچ کو ہوگی۔
رمضان کبھی 29 اور کبھی 30 دن کا کیوں ہوتا ہے؟
قمری مہینہ اس مدت کا نام ہے جس میں چاند ایک نئے چاند سے اگلے نئے چاند تک کا سفر طے کرتا ہے، اور یہ مدت تقریباً ساڑھے انتیس دن کی ہوتی ہے۔ چونکہ مہینہ کسی دن کے بیچ میں ختم نہیں ہو سکتا، اس لیے کوئی مہینہ 29 دن کا بنتا ہے اور کوئی 30 دن کا۔ اوپر کی حدیث اسی حقیقت کو بیان کرتی ہے۔
رمضان کے 29 دن کا ہونے سے اجر میں کوئی کمی نہیں آتی۔ جس مسلمان نے پورا مہینہ روزے رکھے، خواہ وہ 29 دن کا ہو یا 30 کا، اس نے رمضان کے روزے پورے کر لیے۔ اصل چیز چاند کی پیروی ہے، دنوں کی کوئی مقررہ گنتی نہیں۔
مختلف ملکوں میں رمضان مختلف دنوں میں ختم کیوں ہوتا ہے؟
جس طرح رمضان مختلف ملکوں میں مختلف دنوں میں شروع ہو سکتا ہے، اسی طرح مختلف دنوں میں ختم بھی ہو سکتا ہے۔ ایک شام ہلال دنیا کے کسی خطے میں نظر آ سکتا ہے اور دوسرے میں نہیں۔ کچھ ممالک اپنی مقامی رؤیت پر عمل کرتے ہیں، کچھ دوسرے ملک کی رؤیت قبول کر لیتے ہیں، اور کچھ فلکیاتی حساب سے تاریخ پہلے ہی طے کر لیتے ہیں۔
یہ اہلِ علم کے درمیان ایک قدیم اور معروف بحث ہے، اور ہر طریقے کے پیچھے دلائل موجود ہیں۔ عام مسلمان کے لیے اس کا عملی حل یہ ہے کہ وہ اپنے ملک یا اپنی بستی کے معتبر دینی ادارے کے اعلان کی پیروی کرے۔ روزہ اور عید اجتماعی عبادتیں ہیں، اور ایک شہر کے مسلمانوں کا ایک ساتھ رمضان شروع اور ختم کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ ہر شخص اپنی الگ تاریخ پر عمل کرے۔
عید کے دن روزہ نہ رکھیں
جب شوال کے چاند کا اعلان ہو جائے تو رمضان ختم ہو جاتا ہے، اور عید الفطر کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کے مطابق رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے دونوں عیدوں کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ عید شکر، خوشی، کھانے پینے اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کا دن ہے، اور شریعت چاہتی ہے کہ مسلمان اسے خوشی سے منائیں۔
اسی لیے 29 رمضان کی شام ہوشیار رہنا ضروری ہے۔ سرکاری اعلان پر نظر رکھیے، تاکہ نہ غلطی سے عید کے دن روزہ رکھ لیں اور نہ ایک دن پہلے روزہ چھوڑ دیں۔
رمضان ختم ہونے سے پہلے کیا کریں؟
رمضان کا اختتام صرف تاریخوں کا معاملہ نہیں؛ یہ اپنے ساتھ کچھ اہم ذمہ داریاں بھی لاتا ہے۔
آخری عشرے کی قدر کیجیے۔ ام القریٰ تقویم کے مطابق 2027 میں آخری عشرہ ہفتہ 27 فروری کی شام سے شروع ہوگا۔ انہی راتوں میں شبِ قدر ہے، جسے قرآنِ مجید نے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ یہ پورے سال کی سب سے قیمتی راتیں ہیں۔
صدقۂ فطر وقت پر ادا کیجیے۔ صدقۂ فطر ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو، اپنی طرف سے بھی اور اپنے زیرِ کفالت افراد کی طرف سے بھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے صدقۂ فطر کو لازم قرار دیا اور حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، حدیث: 1503)۔ چونکہ عید کا دن چاند پر منحصر ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ صدقۂ فطر رمضان کے متوقع اختتام سے ایک دو دن پہلے ادا کر دیا جائے، تاکہ وہ عید سے پہلے مستحقین تک پہنچ جائے۔
چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا یاد رکھیے۔ اگر بیماری، سفر یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے رمضان کے کچھ روزے چھوٹ جائیں تو یاد رکھیے کہ ان کی قضا رمضان کے بعد، اگلا رمضان آنے سے پہلے کرنی ہے۔
آخری بات
ام القریٰ تقویم کے مطابق رمضان 2027 پیر 8 فروری کو شروع اور پیر 8 مارچ کو ختم ہونے کی توقع ہے، اور عید الفطر منگل 9 مارچ کو متوقع ہے۔ جنوبی ایشیا میں ان میں سے ہر تاریخ ایک دن بعد بھی آ سکتی ہے۔ مگر رمضان کا آغاز اور اختتام تو اس تصویر کا محض فریم ہیں؛ تصویر کے رنگ وہ عبادت، صبر اور اخلاص ہیں جو ہم ان دونوں تاریخوں کے درمیان بھرتے ہیں۔ رمضان کب آئے گا اور کب جائے گا، اس کا فیصلہ چاند کرے گا؛ مگر ہم اس سے کتنا حاصل کرتے ہیں، اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے۔