شبِ برات احادیث کی روشنی میں: ثابت شدہ روایات، اہلِ علم کی آرا اور معتدل طرزِ عمل
شعبان کا مہینہ آتے ہی برصغیر کی فضا میں ایک خاص رات کا ذکر گونجنے لگتا ہے۔ کہیں مسجدیں رات بھر آباد رہتی ہیں، کہیں قبرستانوں میں چراغ جلتے ہیں، اور کہیں یہی رات بحث و مناظرے کا موضوع بن جاتی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو شبِ برات کو تقدیر کے فیصلوں کی رات سمجھ کر غیر معمولی اعمال کا اہتمام کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ جو اس رات کی ہر فضیلت کو بے اصل قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک طالبِ حق کے لیے صحیح راستہ یہ ہے کہ وہ جذبات اور روایتی رسموں سے ہٹ کر سیدھا اس سوال پر آئے کہ احادیث اس بارے میں کیا کہتی ہیں، اور محدثین نے ان احادیث کو کس درجے میں رکھا ہے۔ یہی اس مضمون کا موضوع ہے۔
شبِ برات کیا ہے؟
’’شبِ برات‘‘ فارسی ترکیب ہے۔ ’’شب‘‘ رات کو کہتے ہیں اور ’’برات‘‘ کا مفہوم نجات یا بری ہونا لیا جاتا ہے، یعنی گناہوں اور جہنم سے نجات کی رات۔ احادیث میں اس رات کے لیے یہ نام نہیں آیا؛ وہاں اسے ’’لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ‘‘، یعنی نصف شعبان کی رات، کہا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ رات ہے جو چودہ شعبان کا سورج غروب ہونے سے شروع ہو کر پندرہ شعبان کی فجر تک رہتی ہے۔
2027 میں یہ رات اندازاً جنوری کے تیسرے ہفتے میں آئے گی۔ ام القریٰ تقویم کے حساب سے یہ جمعہ 22 جنوری 2027 کی شام ہوگی، جبکہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں، جہاں مہینے کا آغاز عموماً مقامی رؤیت سے ہوتا ہے، یہ ہفتہ 23 جنوری 2027 کی شام متوقع ہے۔ حتمی تاریخ شعبان کے چاند پر منحصر ہوگی۔
اس رات کی سب سے اہم روایت
نصف شعبان کی رات کے بارے میں جو روایت محدثین کے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ اعتنا سمجھی گئی ہے، وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَى خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ (صحیح ابن حبان، حدیث: 5665)
اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنی مخلوق کی طرف (خاص) توجہ فرماتا ہے اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔
اسی مفہوم کی روایت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنن ابن ماجہ (کتاب اقامۃ الصلاۃ، حدیث: 1390) میں بھی آئی ہے، اور دیگر صحابہ سے بھی اس کے ہم معنی طرق مروی ہیں۔
محدثین نے اس روایت کی الگ الگ سندوں
پر کلام کیا ہے، اور ان میں سے کوئی سند اپنی جگہ مضبوط نہیں سمجھی گئی۔ البتہ متعدد طرق جمع ہونے کی بنا پر بعض محدثین نے اسے قوی قرار دیا ہے۔ امام ابن حبانؒ نے اسے اپنی ’’صحیح‘‘ میں درج کیا، اور علامہ ناصر الدین البانیؒ نے ’’السلسلۃ الصحیحۃ‘‘ (رقم: 1144) میں تمام طرق جمع کر کے اسے صحیح قرار دیا۔ دوسری طرف بعض اہلِ علم کے نزدیک یہ طرق ایک دوسرے کو اس درجے تک تقویت نہیں دیتے۔ یوں اس رات کی مغفرت والی فضیلت کے بارے میں ایک معتبر علمی رائے موجود ہے کہ وہ ثابت ہے، اگرچہ اس پر اہلِ علم کا اتفاق نہیں۔
اس روایت میں ایک پہلو خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ اس میں فضیلت کا ذکر تو ہے، مگر کسی خاص عبادت، مخصوص نماز یا معین وظیفے کا ذکر نہیں۔ اس کے برعکس، اس میں مغفرت سے محرومی کی دو وجوہ بتائی گئی ہیں: شرک اور کینہ۔ گویا اس رات کا سب سے بڑا پیغام عبادات کی کثرت سے پہلے دل کی صفائی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
اس رات کے بارے میں دوسری مشہور روایت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات انہوں نے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کو بستر پر نہ پایا، تلاش کیا تو آپ بقیع کے قبرستان میں تھے۔ آپ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ (جامع الترمذی، أبواب الصوم، حدیث: 739؛ سنن ابن ماجہ، حدیث: 1389)
اللہ عزوجل نصف شعبان کی رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلۂ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔
یہ روایت بہت مشہور ہے، مگر سند کے اعتبار سے کمزور ہے۔ خود امام ترمذیؒ نے اسے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ انہوں نے امام بخاریؒ کو اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے سنا۔ اس لیے اس روایت کی بنیاد پر اس رات قبرستان جانے کو لازمی سنت قرار دینا درست نہیں۔ البتہ قبروں کی زیارت فی نفسہ ایک مسنون عمل ہے، کیونکہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا‘‘، میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب ان کی زیارت کیا کرو (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، حدیث: 977)۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اس رات کو لازم سمجھے بغیر، عام دنوں کی طرح، قبرستان جا کر دعا کر لے تو اس میں حرج نہیں؛ اسے اس رات کا لازمی جزو بنا لینا محلِ نظر ہے۔
’’رات کو قیام اور دن کو روزہ‘‘ والی روایت
تیسری روایت جو عوام میں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا (سنن ابن ماجہ، حدیث: 1388)
جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات قیام کرو اور اس کے دن روزہ رکھو۔
یہ روایت سند کے اعتبار سے سخت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ابو بکر بن ابی سبرہ نامی راوی ہیں، جن پر محدثین نے روایتیں گھڑنے کا الزام لگایا ہے۔ اسی بنا پر بعض محدثین نے اسے موضوع، یعنی من گھڑت، قرار دیا ہے۔ اس لیے پندرہ شعبان کے روزے کو اس رات کی ایک مخصوص اور ثابت شدہ سنت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
البتہ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس دن روزہ رکھنا منع ہے۔ اس کے لیے دو صحیح بنیادیں موجود ہیں۔ پہلی یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مطابق رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ رمضان کے سوا کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے (صحیح البخاری، کتاب الصوم، حدیث: 1969)۔ دوسری یہ کہ ہر مہینے کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ، یعنی ’’ایامِ بیض‘‘، کے روزے مسنون ہیں۔ جو شخص اس نیت سے پندرہ شعبان کا روزہ رکھے، اس کا عمل سنت کے دائرے میں ہے۔
بے اصل روایات اور رسوم
اس رات کے ساتھ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی ایسی چیزیں جڑ گئیں جن کی کوئی معتبر بنیاد نہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ’’صلاۃ الالفیہ‘‘ ہے: سو رکعت کی ایک مخصوص نماز، جس کی ہر رکعت میں دس بار سورۃ الاخلاص پڑھنے اور اس پر بڑے بڑے اجر کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ محدثین نے اس سے متعلق روایات کو موضوع قرار دیا ہے؛ علامہ ابن الجوزیؒ نے انہیں اپنی کتاب ’’الموضوعات‘‘ میں ذکر کیا۔ امام نوویؒ نے ’’المجموع‘‘ میں رجب کی ’’صلاۃ الرغائب‘‘ اور نصف شعبان کی اس نماز، دونوں کو منکر بدعات قرار دیا ہے۔
اسی طرح اس رات آتش بازی، چراغاں، حلوے کو لازمی رسم سمجھنا، اور یہ عقیدہ کہ اس رات مردوں کی روحیں اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں، قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ آتش بازی تو بسا اوقات اسراف اور دوسروں کی ایذا کا سبب بھی بنتی ہے۔ ان رسموں نے اس رات کی اصل روح، یعنی توبہ، مغفرت اور دل کی صفائی، کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
سلف اور اہلِ علم کی آرا
اس رات کے بارے میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں؛ یہ خیر القرون ہی سے چلا آ رہا ہے۔ حافظ ابن رجب حنبلیؒ نے ’’لطائف المعارف‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ شام کے بعض تابعین، جیسے خالد بن معدانؒ اور مکحولؒ، اس رات کی تعظیم کرتے اور اس میں عبادت کا اہتمام کرتے تھے۔ اس کے برعکس حجاز کے اکثر علما، جیسے حضرت عطاءؒ اور ابن ابی ملیکہؒ، اور مدینہ کے فقہائے مالکیہ، اس رات کے لیے مخصوص اجتماعی اہتمام کو بدعت سمجھتے تھے۔
بعد کے اہلِ علم میں بھی دونوں رجحانات ملتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اس رات کی فضیلت میں منقول بعض روایات اور آثار کو تسلیم کیا، اور یہ بھی ذکر کیا کہ سلف میں سے کچھ لوگ اس رات نماز پڑھا کرتے تھے؛ البتہ انہوں نے اس کے لیے مخصوص اجتماعی نمازوں کو بدعت قرار دیا۔ برصغیر کے حنفی علما کی ایک بڑی تعداد اس رات انفرادی عبادت کو مستحب سمجھتی ہے۔ دوسری طرف عصرِ حاضر کے بعض اہلِ علم، مثلاً شیخ عبدالعزیز بن بازؒ، اس رات سے متعلق روایات کو ضعیف قرار دے کر اس میں کسی مخصوص عبادت کو بدعت کہتے ہیں۔
یہ سب آرا دلائل پر مبنی ہیں، اور یہ اختلاف اجتہادی ہے۔ اسے مسلکی دشمنی یا ایک دوسرے کی تضلیل کا ذریعہ بنانا اس رات کے سب سے بڑے پیغام کی خلاف ورزی ہے۔ وہ پیغام یہی ہے کہ کینہ رکھنے والا مغفرت سے محروم رہتا ہے۔
اس رات کا معتدل اور مسنون طرزِ عمل
ان تمام روایات اور آرا کو سامنے رکھا جائے تو ایک متوازن طرزِ عمل سامنے آتا ہے، جو سنت سے قریب بھی ہے اور اختلاف کی شدت سے محفوظ بھی:
- دل کی صفائی سب سے پہلے: اس رات کی سب سے معتبر روایت کے مطابق مغفرت سے محرومی کی وجہ شرک اور کینہ ہے۔ اس لیے اس رات سے پہلے رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں سے ناراضیاں ختم کیجیے، معافی مانگیے اور معاف کیجیے۔
- انفرادی عبادت: اپنی استطاعت کے مطابق گھر میں نفل نماز، تلاوت، ذکر اور دعا کیجیے۔ کسی مخصوص تعداد کی رکعتوں یا مخصوص سورتوں کو لازم نہ سمجھیے۔
- توبہ اور استغفار: یہ رات اللہ کی مغفرت کی امید کی رات ہے، اس لیے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کیجیے۔
4۔بے اصل رسموں سے پرہیز: آتش بازی، چراغاں، اجتماعی شب بیداری کی خاص صورتیں اور ایسے عقائد جن کا ثبوت نہیں، ان سے اجتناب کیجیے۔
آخری بات
شبِ برات کے بارے میں حق دو انتہاؤں کے درمیان ہے۔ اس رات کی مغفرت والی فضیلت ایک ایسی روایت سے مروی ہے جسے متعدد محدثین نے اپنے طرق کی بنا پر قابلِ قبول قرار دیا ہے، جبکہ اس سے جڑی بہت سی روایات کمزور یا بے اصل ہیں، اور اس کے نام پر رائج کئی رسوم کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے محفوظ راستہ یہ ہے کہ وہ اس رات کو اللہ کی مغفرت کی امید میں سادگی اور اخلاص کے ساتھ گزارے، اور سب سے بڑھ کر اپنے دل کو کینے سے پاک کرے۔ کیونکہ جس رات کی سب سے بڑی بشارت ساری مخلوق کی مغفرت ہو، اس رات کا سب سے بڑا خسارہ یہ ہے کہ انسان کسی مسلمان بھائی کے خلاف دل میں کینہ لیے ہوئے اس رات میں داخل ہو۔