اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد افراد پر نہیں بلکہ وحیِ الٰہی پر قائم ہے، اسلام میں شخصیات کی محبت، تعظیم اور توقیر یقیناً مطلوب ہے بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، اہلِ علم، صالحین اور والدین کا احترام دینی تعلیمات کا حصہ ہے تاہم اسلام اس محبت کو اعتدال اور حدود کا پابند بناتا ہے، جب کسی شخصیت کی محبت اس درجے تک پہنچ جائے کہ اس کی ہر بات کو بلا دلیل حق سمجھا جائے، اس کی غلطی کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کی جائے، اس پر تنقید کو برداشت نہ کیا جائے یا اس کی مخالفت کو دین کی مخالفت قرار دیا جائے تو یہی شخصیت پرستی ہے، جسے اسلام پسند نہیں کرتا، اسلام نے انسانوں کو حق کا تابع بنایا ہے، حق کو انسانوں کا تابع نہیں بنایا۔ حق کی پہچان شخصیات سے نہیں ہوتی بلکہ شخصیات کی قدر و منزلت حق کی پیروی کی وجہ سے ہوتی ہے _


شخصیت پرستی کی تعریف


شخصیت پرستی سے مراد کسی انسان سے اس درجے کی وابستگی اختیار کرنا ہے کہ اس کی بات کو دلیل کے بغیر قبول کیا جائے، اس کی خطاء پر بھی پردہ ڈالا جائے، اس کے ہر فیصلے کو درست سمجھا جائے اور حق و باطل کا معیار اسی شخصیت کو بنا لیا جائے، یہ طرزِ فکر قرآن و سنت اور سلفِ صالحین کے منہج کے خلاف ہے کیونکہ اسلام ہر مسلمان کو دلیل، انصاف اور حق کی پیروی کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ اندھی وابستگی کی _


قرآنِ مجید کی تعلیم


اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ (النساء: 59)

"اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اولی الامر کی بھی، پھر اگر کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اصل معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں، کسی بھی اختلاف یا نزاع کا فیصلہ شخصیات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہونا چاہیے _

اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:

اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ (الأعراف: 3)

"اس ہدایت کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کی گئی ہے"

یہ آیت اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ ایک مسلمان کی اصل وابستگی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت سے ہونی چاہیے، نہ کہ کسی شخصیت یا گروہ سے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ (مسند احمد)

"خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں"

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخصیت، رہنماء یا بزرگ کی اطاعت اسی وقت تک معتبر ہے جب تک وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے مطابق ہو _

ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ (سنن ابی داؤد، جامع الترمذی)

"تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا ضروری ہے"

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اصل اتباع سنت کی ہے، نہ کہ کسی شخصیت کی اندھی پیروی کی _


صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل


صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عملی طور پر یہ تعلیم دی کہ کسی بھی شخصیت کو حق کا معیار نہیں بنایا جا سکتا بلکہ ہر شخصیت کو قرآن و سنت کے تابع سمجھا جائے گا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطبے میں فرمایا "مجھے تم پر حاکم بنایا گیا ہے حالانکہ میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں، اگر میں درست چلوں تو میری مدد کرنا اور اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کر دینا" (تاریخ الطبری، البدایہ والنہایہ)

یہ اسلامی قیادت کا ایک روشن نمونہ ہے کہ خلیفۂ وقت بھی خود کو تنقید اور احتساب سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنی اصلاح کو امت کا حق قرار دیتے تھے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے "اللہ اس شخص پر رحم کرے جو میری غلطی مجھے تحفے کے طور پر پیش کرے" یہ قول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام میں خیر خواہی، نصیحت اور اصلاح کو پسند کیا گیا ہے اور کسی شخصیت کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھا گیا _


ائمۂ مجتہدین کا موقف


چاروں ائمۂ مجتہدین نے ہمیشہ قرآن و سنت کو اپنی آراء پر مقدم رکھا اور امت کو بھی یہی تعلیم دی _

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"اگر میری بات حدیثِ صحیح کے خلاف ہو تو حدیث کو اختیار کرو اور میری بات چھوڑ دو"

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"ہر شخص کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور رد بھی، سوائے اس قبر والے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے"

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے"

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"نہ میری تقلید کرو، نہ مالک کی، نہ شافعی کی بلکہ وہاں سے لو جہاں سے انہوں نے لیا"

یہ اقوال واضح کرتے ہیں کہ ائمۂ کرام نے کبھی اپنی ذات کو معیارِ حق نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دی _


شخصیت پرستی کے اسباب


شخصیت پرستی اچانک پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے کئی اسباب ہوتے ہیں، جن میں نمایاں یہ ہیں _


  • دینی علم کی کمی، جس کی وجہ سے حق اور شخصیت میں فرق باقی نہیں رہتا
  • جذباتی وابستگی، جس میں محبت اعتدال سے بڑھ کر اندھی حمایت کی صورت اختیار کر لیتی ہے
  • تعصب، جس کے باعث انسان صرف اپنے گروہ یا رہنماء کی بات کو درست سمجھنے لگتا ہے
  • تحقیق سے دوری، جس کی وجہ سے دلائل کی بجائے سنی سنائی باتوں پر اعتماد کیا جاتا ہے
  • اندھی تقلید، جس میں بغیر دلیل کسی شخصیت یا جماعت کی ہر بات کو قبول کر لیا جاتا ہے
  • جماعتی یا ذاتی مفادات، جو بعض اوقات حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں


شخصیت پرستی کے نقصانات


شخصیت پرستی فرد اور معاشرے دونوں کےلئے نقصان دہ ہے، اس کے چند نمایاں نقصانات یہ ہیں _


  • حق چھپ جاتا ہے اور انصاف متاثر ہوتا ہے
  • امت مختلف گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہو جاتی ہے
  • اصلاح اور احتساب کا دروازہ بند ہو جاتا ہے
  • غلطیوں کا دفاع اور بعض اوقات ظلم کی حمایت بھی ہونے لگتی ہے
  • اختلاف علمی حدود سے نکل کر دشمنی اور نفرت میں تبدیل ہو جاتا ہے
  • قرآن و سنت کی اصل تعلیمات پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور شخصیات مرکزِ توجہ بن جاتی ہیں


اسلام کا متوازن راستہ


اسلام نہ بے ادبی کی تعلیم دیتا ہے اور نہ شخصیت پرستی کی بلکہ اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دیتا ہے، اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ __


  • علماء کا احترام کریں
  • اکابر سے محبت رکھیں
  • صالحین سے عقیدت رکھیں
  • اہلِ علم سے استفادہ کریں
  • لیکن کسی کو معصوم نہ سمجھیں
  • دلیل کو ہر شخصیت پر مقدم رکھیں
  • اختلاف کی صورت میں عدل، انصاف اور حسنِ ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں

یہی وہ متوازن منہج ہے جس پر چل کر امت اپنی علمی دیانت، دینی بصیرت اور باہمی وحدت کو برقرار رکھ سکتی ہے _


شخصیت پرستی اور محبت میں فرق


اسلام محبت، احترام اور عقیدت کی تعلیم دیتا ہے لیکن غلو اور اندھی وابستگی سے منع کرتا ہے، کسی شخصیت سے محبت کرنا ایمان، اخلاق اور حسنِ ادب کا تقاضا ہو سکتا ہے لیکن اس محبت کی بنیاد حق، عدل اور اعتدال پر ہونی چاہیے، جب محبت انسان کو انصاف، دلیل اور حق سے دور کر دے تو وہ محبت نہیں بلکہ شخصیت پرستی بن جاتی ہے _

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ (صحیح البخاری)

"میری اس طرح حد سے بڑھی ہوئی تعریف نہ کرو جیسے نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کی"

جب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذاتِ اقدس کے بارے میں غلو سے منع فرمایا تو کسی دوسرے انسان کے بارے میں غلو اور اندھی عقیدت کی گنجائش کیسے ہو سکتی ہے؟


سلفِ صالحین کا منہج


سلفِ صالحین نے ہمیشہ اعتدال، انصاف اور دلیل کا راستہ اختیار کیا، ان کے نزدیک حق کی بنیاد شخصیات نہیں بلکہ قرآن و سنت تھے، ان کا طرزِ عمل ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ _

▪️حق کو دلیل سے پہچانو

▪️شخصیت کا احترام کرو

▪️غلطی کی صورت میں خیر خواہی اور حسنِ ادب کے ساتھ اصلاح کرو

▪️اختلاف میں عدل اور انصاف کو ملحوظ رکھو

▪️تعصب اور اندھی تقلید سے بچو

یہی وہ منہج ہے جس نے ابتدائی صدیوں میں امت کو علمی عظمت، فکری اعتدال اور دینی بصیرت عطاء کی .


عصرِ حاضر میں شخصیت پرستی


موجودہ دور میں شخصیت پرستی مختلف شکلوں میں سامنے آتی ہے، بعض لوگ مذہبی شخصیات کو اس مقام پر پہنچا دیتے ہیں کہ ان کی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھ لیا جاتا ہے، بعض سیاسی رہنماؤں کی اندھی حمایت کرتے ہیں، بعض جماعتی وابستگی کو حق و باطل کا معیار بنا لیتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا کے دور میں بعض افراد مشہور شخصیات اور مؤثر مقررین کی باتوں کو تحقیق کے بغیر قبول کر لیتے ہیں، یہ تمام رویے ایک مسلمان کو قرآن و سنت کے اصل معیار سے دور کر سکتے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ ہر بات کو دلیل کی روشنی میں پرکھا جائے اور شخصیت سے زیادہ حق کو اہمیت دی جائے، ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شریعت کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ محبت، احترام اور عقیدت کا حق ہر اہلِ علم، اہلِ تقویٰ اور صالح شخصیت کو دیا جائے لیکن حق و باطل کا معیار ہمیشہ قرآنِ کریم اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی رہیں، علماء، ائمہ، مشائخ اور صالحین امت کا عظیم سرمایہ ہیں، ان سے محبت اور ان کا احترام ایمان کا تقاضا ہے لیکن کوئی بھی شخصیت قرآن و سنت سے بالاتر یا خطاء سے محفوظ نہیں _

ایک مسلمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ دلیل کی پیروی کرے، حق کو جہاں پائے قبول کرے اور اگر کسی محترم شخصیت سے اجتہادی خطاء ہو جائے تو ادب، انصاف اور حسنِ ظن کے ساتھ اس کی اصلاح کو قبول کرے، یہی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، ائمۂ مجتہدین اور سلفِ صالحین کا منہج تھا، آج کے دور میں جب شخصیات، جماعتیں، نظریات اور سوشل میڈیا کے اثرات لوگوں کی سوچ پر غالب آ رہے ہیں، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کو افراد کے بجائے وحیِ الٰہی کی روشنی میں سمجھے، تعصب، غلو اور اندھی تقلید سے بچے اور قرآن و سنت کو اپنی فکر و عمل کا اصل معیار بنائے، یہی طرزِ عمل امت کے اتحاد، دینی بصیرت، اعتدال اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے ـ

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے، باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کرنے، علماء و صالحین کا ادب و احترام برقرار رکھنے، اختلاف کے آداب ملحوظ رکھنے اور ہر قسم کے غلو، تعصب، اندھی تقلید اور شخصیت پرستی سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) _