سورہ یٰسین کی فضیلت:
سورہ یٰسین مسلم دنیا کی محبوب ترین سورتوں میں سے ہے۔ یہ محفلوں میں پڑھی جاتی ہے، بیماروں اور قریب المرگ لوگوں کے سرہانے تلاوت کی جاتی ہے، اور لاکھوں مسلمان روزانہ اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ اسے عام طور پر ’’قرآن کا دل‘‘ کہا جاتا ہے۔ مگر سورہ یٰسین کی فضیلت میں جو بہت سی باتیں عام طور پر بیان کی جاتی ہیں، وہ ایسی روایات سے ماخوذ ہیں جنہیں محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ایک تحقیقی دینی ادارے کے طور پر ہمارا خیال ہے کہ مسلمانوں کو یہ فرق معلوم ہونا چاہیے۔ اس مضمون میں سورہ یٰسین کی فضیلت میں منقول روایات، ان کا درجہ، سورت کا اصل پیغام، اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ سورت آج بھی ایک بیش قیمت خزانہ کیوں ہے۔
سورہ یٰسین کا تعارف
سورہ یٰسین قرآنِ مجید کی 36ویں سورت ہے، جس کی 83 آیات ہیں۔ یہ مکی سورت ہے اور بائیسویں اور تیئسویں پارے میں ہے۔ دوسری مکی سورتوں کی طرح اس کا مرکزی موضوع ایمان کی بنیادیں ہیں: توحید، رسالت اور آخرت۔
سورہ یٰسین کی فضیلت میں منقول روایات اور ان کا درجہ
1۔ ’’قرآن کا دل‘‘
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے کہ ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل یٰسین ہے، اور جو اسے پڑھے، اسے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے (جامع الترمذی، حدیث: 2887)۔ خود امام ترمذیؒ نے اس روایت کو ’’غریب‘‘ کہا ہے، یعنی اس کی سند ایک ہی غیر معروف طریق سے آئی ہے، اور بہت سے محدثین نے اسے ضعیف، بلکہ بعض نے سخت ضعیف قرار دیا ہے۔
2۔ ’’اپنے مرنے والوں پر یٰسین پڑھو‘‘
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’اپنے مرنے والوں پر یٰسین پڑھو‘‘ (سنن ابی داود، حدیث: 3121؛ سنن ابن ماجہ، حدیث: 1448)۔ امام ابن حبانؒ نے اس روایت کو قبول کیا ہے، مگر کئی دیگر محدثین نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے علما نے قریب المرگ شخص کے پاس سورہ یٰسین پڑھنے کو مستحب کہا ہے، اور یہ عمل امت میں جاری رہا ہے، کیونکہ یہ سورت آخرت اور اللہ کی رحمت کا ذکر کرتی ہے۔
3۔ رات کو پڑھنے پر مغفرت
ایک روایت میں ہے کہ جو اللہ کی رضا کے لیے رات کو یٰسین پڑھے، اسے بخش دیا جاتا ہے۔ یہ روایت صحیح ابن حبان سمیت بعض کتب میں ہے، اور اس کے درجے میں محدثین کا اختلاف ہے۔
4۔ صبح پڑھنے پر حاجتیں پوری ہونا
یہ روایت کہ جو دن کے شروع میں یٰسین پڑھے، اس کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں، مرسل، یعنی منقطع سند، کے ساتھ آئی ہے اور ضعیف شمار ہوتی ہے۔
اس کا ہمارے لیے کیا مطلب ہے؟
سورہ یٰسین کی کوئی خاص فضیلت صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں موجود نہیں، اور اس سے متعلق اکثر روایات کی سند میں ضعف ہے۔ مگر اس سے سورہ یٰسین کی قدر و قیمت میں ذرہ برابر کمی نہیں آتی، اور اس کی دو وجوہ ہیں:
- یہ قرآن ہے: اس کے ہر حرف پر وہی اجر ہے جس کا وعدہ قرآن کی تلاوت پر ہے، یعنی ہر حرف پر ایک نیکی، اور ہر نیکی دس گنا (جامع الترمذی، حدیث: 2910)۔ سورہ یٰسین میں تقریباً تین ہزار حروف ہیں۔
- اس کا پیغام بہت مؤثر ہے: ایمان اور آخرت کے بارے میں اس کی آیات قرآن کی دل کو چھو لینے والی آیات میں سے ہیں۔
بہت سے اہلِ علم نے فضائلِ اعمال میں ایسی ضعیف روایات پر عمل کی اجازت دی ہے جن کا ضعف شدید نہ ہو، بشرطیکہ وہ عمل خود شریعت سے ثابت ہو اور اس روایت کو یقین کے ساتھ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔ اس لیے سورہ یٰسین کی باقاعدہ تلاوت بہت اچھا عمل ہے، بس اس کی فضیلت بیان کرنے میں دیانت داری ضروری ہے۔
سورہ یٰسین کا پیغام
رسالت کی صداقت: سورت کا آغاز قرآنِ حکیم کی قسم سے ہوتا ہے کہ محمد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ یقیناً رسولوں میں سے ہیں (یٰسین: 1 تا 4)۔
بستی کا مومن شخص: اس میں ایک بستی کا قصہ ہے جس نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، اور ایک شخص شہر کے دور کنارے سے دوڑتا ہوا ان کی تائید کو آیا۔ قتل کیے جانے کے بعد بھی اسے اپنی قوم ہی کی فکر تھی: ’’يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ‘‘ (یٰسین: 26، 27)، کاش میری قوم جان لیتی کہ میرے رب نے مجھے کس طرح بخش دیا اور مجھے عزت والوں میں شامل کر دیا۔
کائنات میں نشانیاں: مردہ زمین کو بارش سے زندہ کرنا، رات کا دن سے کھینچ لیا جانا، اور سورج و چاند کا اپنے اپنے مدار میں چلنا: ’’وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ‘‘ (یٰسین: 40)، اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔
آخرت پر عقلی دلیل: جب ایک شخص نے بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لے کر پوچھا کہ ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا، تو اللہ نے جواب دیا: ’’قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ‘‘ (یٰسین: 79)، کہہ دیجیے: انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا۔ جس نے ہمیں عدم سے پیدا کیا، اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا اور بھی آسان ہے۔ یہ ایک سادہ دلیل ہے جو براہِ راست عقل سے بات کرتی ہے۔
اللہ کی قدرت: سورت اس آیت پر ختم ہوتی ہے: ’’إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ‘‘ (یٰسین: 82)، اس کا حکم تو بس یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہہ دے: ’’ہو جا‘‘، تو وہ ہو جاتی ہے۔
سورہ یٰسین کو درست پڑھنا اور سمجھنا سیکھیں
کیا آپ سورہ یٰسین کو درست تجوید کے ساتھ پڑھنا، اس کا معنی سمجھنا یا اسے حفظ کرنا چاہتے ہیں؟ صراط اسلامک اکیڈمی میں ہر عمر کے افراد ماہر مرد و خواتین اساتذہ سے ون ٹو ون آن لائن کلاسز میں سیکھ سکتے ہیں۔ بچوں کو سلائیڈز کے ذریعے جدید انداز میں سکھایا جاتا ہے، اور ہر نئے طالبِ علم کے لیے 3 دن کی فری ٹرائل کلاس ہے۔
ابھی ہم سے رابطہ کیجیے: واٹس ایپ: 03224159683 · siratislamic.com@gmail.com · siratislamic.com/contact
آخری بات
سورہ یٰسین کو خاص بننے کے لیے ضعیف روایات کی ضرورت نہیں۔ یہ اللہ کا کلام ہے، جو ایمان، رحمت اور آخرت کی یاد دہانیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی کثرت سے تلاوت کیجیے، اس کا پیغام سمجھیے، اور اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے دیانت داری کا دامن نہ چھوڑیے۔ یہی قرآن اور سنت دونوں کی سچی تعظیم ہے۔