تہجد کا وقت اور طریقہ


جب دنیا گہری نیند میں ڈوبی ہوتی ہے، شہر کی روشنیاں مدھم ہو جاتی ہیں اور ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے، اس وقت کچھ لوگ نرم بستر چھوڑ کر وضو کرتے ہیں اور اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے، نہ داد دینے والا؛ صرف بندہ ہوتا ہے اور اس کا رب۔ یہی تہجد ہے، وہ نماز جسے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے زندگی بھر نہیں چھوڑا اور جسے فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز قرار دیا۔ اس مضمون میں تہجد کا وقت، رات کا آخری تہائی حصہ معلوم کرنے کا آسان طریقہ، تہجد کی رکعتیں اور اسے پڑھنے کا مسنون طریقہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔


تہجد کیا ہے؟


’’تہجد‘‘ عربی لفظ ’’ہجود‘‘ سے ہے، جس کا معنی سونا ہے، اور ’’تہجد‘‘ کا مطلب ہے نیند چھوڑ کر اٹھنا۔ اسی لیے لغوی اعتبار سے تہجد وہ نفل نماز ہے جو رات کو کچھ دیر سو کر اٹھنے کے بعد پڑھی جائے۔ اسی نماز کو حدیث میں ’’صلاۃ اللیل‘‘ اور ’’قیام اللیل‘‘ بھی کہا گیا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کو اس کا حکم دیا:



وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (الإسراء: 79)
اور رات کے کچھ حصے میں اس (قرآن) کے ساتھ تہجد پڑھیے، یہ آپ کے لیے اضافی عبادت ہے؛ امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز کرے گا۔

امت کے لیے تہجد سنت اور نفل ہے، فرض نہیں؛ مگر اس کی فضیلت اتنی بڑی ہے کہ صالحین نے اسے کبھی نہیں چھوڑا۔


تہجد کی فضیلت


فرض کے بعد سب سے افضل نماز: رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ‘‘، فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے (صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث: 1163)۔


اللہ کا خاص نزول: رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ہمارا رب ہر رات، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ (صحیح البخاری، حدیث: 1145؛ صحیح مسلم، حدیث: 758)


نیک لوگوں کی پہچان: قرآن نے اہلِ تقویٰ کی یہ صفت بیان کی: ’’كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ۝ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ‘‘ (الذاريات: 17، 18)، وہ رات کو کم ہی سوتے تھے، اور سحر کے اوقات میں بخشش مانگتے تھے۔

دل اور زبان کی یکسوئی: قرآن کہتا ہے: ’’إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا‘‘ (المزمل: 6)، بے شک رات کا اٹھنا نفس کو قابو میں رکھنے کے لیے زیادہ مؤثر ہے اور بات کو زیادہ درست رکھنے والا ہے۔ رات کی خاموشی میں دل اور زبان ایک ہو جاتے ہیں، اور قرآن کے الفاظ دل میں اترتے چلے جاتے ہیں۔


تہجد کا وقت

تہجد کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے فجر کا وقت شروع ہونے تک ہے، مگر اس کا سب سے افضل وقت رات کا آخری تہائی حصہ ہے، کیونکہ اسی وقت اللہ تعالیٰ کے خاص نزول اور دعا کی قبولیت کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔

رات کا آخری تہائی حصہ کیسے معلوم کریں؟

شرعی رات مغرب سے شروع ہو کر فجر تک رہتی ہے۔ آخری تہائی حصہ معلوم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے:



  1. اپنے شہر میں مغرب کا وقت اور فجر کا وقت دیکھیے۔
  2. دونوں کے درمیان کل وقت معلوم کیجیے؛ یہ رات کی لمبائی ہے۔
  3. اس وقت کو تین پر تقسیم کیجیے۔
  4. فجر کے وقت میں سے یہ ایک تہائی منفی کر دیجیے؛ جو وقت آئے، وہیں سے رات کا آخری تہائی حصہ شروع ہوتا ہے۔

مثال: اگر مغرب شام 6 بجے ہو اور فجر صبح 5 بجے، تو رات 11 گھنٹے کی ہوئی۔ اس کا ایک تہائی تقریباً 3 گھنٹے 40 منٹ بنتا ہے۔ صبح 5 بجے میں سے 3 گھنٹے 40 منٹ منفی کیے تو آخری تہائی رات تقریباً 1 بج کر 20 منٹ پر شروع ہوگی۔ یاد رہے کہ یہ وقت موسم اور شہر کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے۔


کیا سونے سے پہلے تہجد پڑھ سکتے ہیں؟


اصل اور افضل تہجد وہی ہے جو کچھ دیر سو کر اٹھنے کے بعد پڑھی جائے۔ البتہ جو شخص رات کو اٹھ نہ سکتا ہو، وہ عشاء کے بعد سونے سے پہلے کچھ نفل اور وتر پڑھ لے؛ یہ بھی رات کی نماز (قیام اللیل) میں شمار ہوگی۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جسے اندیشہ ہو کہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ شروع رات ہی میں وتر پڑھ لے؛ اور جسے امید ہو کہ آخری حصے میں اٹھ جائے گا، وہ آخر رات میں وتر پڑھے، کیونکہ آخر رات کی نماز میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں اور وہ افضل ہے (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث: 755)۔


تہجد کی رکعتیں


تہجد کی رکعتوں کی کوئی ایسی تعداد مقرر نہیں کہ اس سے کم یا زیادہ جائز نہ ہو۔ کم از کم دو رکعت ہے، اور انسان اپنی ہمت کے مطابق جتنی چاہے پڑھ سکتا ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کا عام معمول کیا تھا، اس کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ رمضان ہو یا غیر رمضان، گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے (صحیح البخاری، حدیث: 1147؛ صحیح مسلم، حدیث: 738)۔ بعض روایات میں تیرہ رکعت کا ذکر بھی آیا ہے۔ ان گیارہ میں وتر بھی شامل ہیں۔

دو دو رکعت: رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى‘‘، رات کی نماز دو دو رکعت ہے؛ پھر جب صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے، جو اس کی پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی (صحیح البخاری، حدیث: 990؛ صحیح مسلم، حدیث: 749)۔

وتر آخر میں: آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا‘‘، رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ (صحیح البخاری، حدیث: 998؛ صحیح مسلم، حدیث: 751)۔ اس لیے جو شخص تہجد کے لیے اٹھنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے بہتر ہے کہ وتر تہجد کے بعد پڑھے۔ اگر وتر عشاء کے ساتھ پڑھ لیے ہوں تو تہجد کے بعد دوبارہ وتر نہ پڑھے۔

وتر کی رکعتوں کی تعداد اور ادائیگی کے طریقے میں فقہا کا اختلاف ہے۔ فقہ حنفی میں وتر تین رکعت ایک سلام کے ساتھ ہیں اور واجب ہیں، جبکہ دیگر فقہا کے نزدیک ایک رکعت وتر بھی درست ہے۔ ہر شخص اپنے مسلک کے مطابق عمل کرے۔


تہجد کا مسنون طریقہ


1۔ رات کو نیت کر کے سوئیں: سوتے وقت تہجد کے لیے اٹھنے کی نیت کیجیے اور الارم لگا لیجیے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو شخص رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کی نیت سے بستر پر آئے اور پھر نیند غالب آ جائے یہاں تک کہ صبح ہو جائے، تو اس کے لیے اس کی نیت کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور اس کی نیند اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہوتی ہے (سنن النسائی، حدیث: 1787؛ سنن ابن ماجہ، حدیث: 1344)۔

2۔ اٹھتے ہی اللہ کا ذکر: جاگتے ہی یہ دعا پڑھیے: ’’الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ‘‘، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت (نیند) کے بعد زندگی دی، اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے (صحیح البخاری، حدیث: 6312)۔

3۔ مسواک اور وضو: رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ رات کو اٹھتے تو مسواک سے منہ صاف کرتے تھے (صحیح البخاری، حدیث: 245)۔ پھر اچھی طرح وضو کیجیے۔


4۔ دو ہلکی رکعتوں سے آغاز: آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی رات کو اٹھے تو اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے (صحیح مسلم، حدیث: 768)۔ اس سے نیند کا اثر دور ہوتا ہے اور طبیعت عبادت کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔


5۔ نیت: دل میں ارادہ کیجیے کہ میں دو رکعت نماز تہجد پڑھ رہا ہوں۔ نیت دل کا ارادہ ہے؛ زبان سے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں۔

6۔ نماز کی ادائیگی: تہجد عام نفل نماز کی طرح دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے۔ ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد جو سورت یا آیات یاد ہوں، پڑھیے۔ تہجد کے لیے کوئی خاص سورت مقرر نہیں؛ جو سورتیں ثابت بتائی جاتی ہیں، وہ کسی صحیح حدیث میں مقرر نہیں کی گئیں۔ البتہ طویل قراءت، لمبے رکوع اور لمبے سجدے رات کی نماز کی خاص شان ہیں۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ جب عرض کیا گیا کہ اللہ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے ہیں، تو فرمایا: ’’أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا‘‘، کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ (صحیح البخاری، حدیث: 4837؛ صحیح مسلم، حدیث: 2820)


7۔ سجدوں میں دعا: سجدہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ تہجد کے سجدوں میں اپنی حاجتیں، اپنے گناہوں کی معافی اور اپنے پیاروں کے لیے دعائیں مانگیے۔

8۔ آخر میں وتر اور دعا: آخر میں وتر پڑھیے، پھر سحر کے اس بابرکت وقت میں استغفار اور دعا کا اہتمام کیجیے، کیونکہ یہی وہ لمحہ ہے جب اللہ پکارنے والوں کو پکار رہا ہوتا ہے۔


تہجد کے لیے جاگنے کی عملی تدابیر



  • جلدی سوئیں: رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ عشاء کے بعد غیر ضروری باتوں کو ناپسند فرماتے تھے۔ رات دیر تک موبائل اور ٹی وی تہجد کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
  • دن میں قیلولہ: دوپہر کو تھوڑا آرام رات کو اٹھنے میں مدد دیتا ہے۔
  • تھوڑے سے آغاز: شروع میں ہفتے میں ایک یا دو راتیں، صرف دو رکعت سے آغاز کیجیے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، چاہے تھوڑا ہو۔
  • گھر والوں کا ساتھ: میاں بیوی ایک دوسرے کو تہجد کے لیے جگائیں۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے اس شوہر اور بیوی کے لیے رحمت کی دعا فرمائی ہے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھیں اور ایک دوسرے کو جگائیں (سنن ابی داود، حدیث: 1308)۔
  • گناہوں سے بچیں: دن کے گناہ رات کی عبادت کی توفیق چھین لیتے ہیں۔ جو دن کو اپنی آنکھ اور زبان کی حفاظت کرتا ہے، اسے رات کو اٹھنے کی توفیق ملتی ہے۔

اگر تہجد رہ جائے تو؟


اگر نیند یا بیماری کی وجہ سے تہجد رہ جائے تو اس کی تلافی دن میں کی جا سکتی ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کی رات کی نماز نیند یا تکلیف کی وجہ سے رہ جاتی تو آپ دن میں بارہ رکعت پڑھ لیتے (صحیح مسلم، حدیث: 746)۔


آخری بات

تہجد محض چند رکعتوں کا نام نہیں؛ یہ رات کی خاموشی میں رب سے ملاقات کا وقت ہے۔ جب ساری دنیا سو رہی ہو اور آپ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں، تو وہ لمحہ آپ کی زندگی کا سب سے سچا لمحہ ہوتا ہے، جس میں نہ دکھاوا ہوتا ہے نہ ریاکاری؛ صرف بندگی ہوتی ہے۔ یاد رکھیے، ہر رات آخری تہائی حصے میں آسمان سے ایک صدا آتی ہے: کون ہے جو مانگے کہ میں عطا کروں؟ آج رات اس صدا کا جواب دینے والوں میں شامل ہو جائیے؛ شاید آپ کی کوئی دعا اسی گھڑی کی منتظر ہو۔