کیا ٹیکس کو زکوٰۃ میں شمار کر سکتے ہیں؟
بہت سے لوگ کہتے ہیں: ’’ہم پہلے ہی حکومت کو بھاری ٹیکس دیتے ہیں، تو زکوٰۃ کیوں دیں؟ کیا ٹیکس ہی زکوٰۃ نہیں؟‘‘ یہ سوال جذباتی طور پر سمجھ میں آتا ہے، مگر شرعاً اس کا جواب واضح ہے: ٹیکس زکوٰۃ کا متبادل نہیں۔ اس مضمون میں اس کی وجوہ، اور اس سے جڑے عملی مسائل بیان کیے گئے ہیں۔
ٹیکس زکوٰۃ کیوں نہیں؟
1۔ زکوٰۃ عبادت ہے: زکوٰۃ نماز اور روزے کی طرح اسلام کا رکن ہے، جس کے لیے نیت ضروری ہے۔ ٹیکس ایک قانونی ادائیگی ہے، جس میں عبادت کی نیت نہیں ہوتی۔
2۔ زکوٰۃ کے مصارف اللہ نے مقرر کیے ہیں: زکوٰۃ صرف انہی آٹھ مصارف پر خرچ ہو سکتی ہے جو سورۃ التوبہ (آیت 60) میں بیان ہوئے ہیں۔ ٹیکس سڑکوں، دفاع، تنخواہوں اور ہر طرح کے سرکاری اخراجات پر خرچ ہوتا ہے۔
3۔ زکوٰۃ کی شرح اور نصاب مقرر ہیں: زکوٰۃ کی شرح ڈھائی فیصد، اور نصاب شریعت نے طے کیا ہے؛ جبکہ ٹیکس کی شرح حکومتیں اپنی ضرورت کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔
4۔ زکوٰۃ مسلمانوں کے غریبوں کا حق ہے: رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ زکوٰۃ مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے فقرا کو لوٹائی جائے گی (صحیح البخاری، حدیث: 1395)۔
اسی بنا پر مفتی محمد تقی عثمانی اور عصرِ حاضر کے علما کا عام موقف ہے کہ انکم ٹیکس یا دیگر ٹیکس زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوتے۔
تو ٹیکس کا زکوٰۃ پر کیا اثر ہے؟
ٹیکس زکوٰۃ نہیں، مگر وہ زکوٰۃ کی رقم کم ضرور کر سکتا ہے:
واجب الادا ٹیکس منہا ہوگا: جو ٹیکس زکوٰۃ کی تاریخ پر آپ کے ذمے واجب الادا ہو، وہ قرض کی طرح آپ کے قابلِ زکوٰۃ مال سے منہا ہوگا۔
آمدنی سے ٹیکس منہا: علامہ یوسف القرضاویؒ نے عمارتوں اور کارخانوں کی آمدنی پر زکوٰۃ کے حساب میں ٹیکس کو ان اخراجات میں شمار کیا ہے جو زکوٰۃ سے پہلے منہا کیے جاتے ہیں (فقہ الزکوٰۃ، اردو ترجمہ، ص 617)۔
مثال: کسی کے پاس دس لاکھ روپے قابلِ زکوٰۃ مال ہے، اور اس پر ایک لاکھ روپے ٹیکس واجب الادا ہے۔ تو زکوٰۃ نو لاکھ پر ہوگی، یعنی ساڑھے بائیس ہزار روپے۔
حکومت کی کاٹی ہوئی زکوٰۃ
پاکستان میں حکومت ہر سال رمضان کے آغاز میں بعض بینک اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کاٹتی ہے۔ یہ کٹوتی ’’زکوٰۃ‘‘ ہی کے نام سے ہوتی ہے، اور سرکاری زکوٰۃ نظام کے ذریعے مستحقین تک پہنچائی جاتی ہے۔
اس لیے علما کے نزدیک یہ رقم زکوٰۃ میں شمار ہو سکتی ہے؛ اپنے سالانہ حساب میں اسے منہا کیجیے اور باقی زکوٰۃ خود ادا کیجیے۔ یہ حکم صرف ’’زکوٰۃ‘‘ کے نام سے کاٹی گئی رقم کا ہے عام ٹیکس کا نہیں۔
آخری بات
ٹیکس ریاست کا حق ہے اور زکوٰۃ اللہ کا حق اور فقیر کا حصہ۔ ایک کی ادائیگی دوسرے کو ساقط نہیں کرتی۔ البتہ واجب الادا ٹیکس آپ کے قابلِ زکوٰۃ مال سے منہا ہو سکتا ہے اور حکومت کی ’’زکوٰۃ‘‘ کے نام پر کاٹی گئی رقم زکوٰۃ میں شمار ہو سکتی ہے۔