بالوں میں ایکسٹینشن اور وگ لگانا: شرعی حکم
لمبے اور گھنے بال ہر عورت کی خواہش ہوتے ہیں، اور آج Hair Extensions، Clip-in Hair اور Wig عام ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف بیماری، کیموتھراپی یا گنج پن (Baldness) کی وجہ سے بہت سے مرد و خواتین اپنے بالوں کے بارے میں پریشان رہتے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے: کیا بالوں میں ایکسٹینشن یا وگ لگانا جائز ہے؟ اس مضمون میں احادیث اور فقہا کی آرا کی روشنی میں اس مسئلے کی تمام صورتیں بیان کی گئی ہیں۔
حدیث میں کیا آیا ہے؟
حدیث میں بال جوڑنے کے لیے ’’وصل‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ کئی صحابہ کرامؓ سے اس بارے میں روایات ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی، وہ بیمار ہوئی اور اس کے بال جھڑ گئے، تو گھر والوں نے چاہا کہ اس کے بالوں میں دوسرے بال جوڑ دیں۔ انہوں نے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا:
لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، حدیث: 5934)
اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت فرمائی۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں خطبہ دیتے ہوئے بالوں کا ایک گچھا دکھایا اور فرمایا کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے اسے ’’الزور‘‘، یعنی دھوکا اور جھوٹ، قرار دیا ہے (صحیح البخاری، حدیث: 5938)۔ اسی مفہوم کی روایات حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ (حدیث: 5936) اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ (حدیث: 5937) سے بھی ہیں۔
ممانعت کی وجہ: دھوکا
حضرت معاویہؓ کی روایت میں اسے ’’الزور‘‘ کہا گیا ہے، جس سے ممانعت کی وجہ واضح ہوتی ہے: دھوکا۔ فقہائے کرام نے بھی یہی وجہ بیان کی ہے:
- علامہ قرافیؒ (فقہ مالکی): بال جوڑنے کی ممانعت کا سبب اپنی اصل حالت کو چھپانا اور دھوکا دینا ہے، تاکہ رشتے میں زیادہ مہر لیا جا سکے (الذخیرہ، ج 13، ص 315)۔
- علامہ شامیؒ (فقہ حنفی): بال جوڑنا حرام ہے، کیونکہ اس میں دھوکا ہے، اور دوسرے انسان کے بال لگانے میں انسانی جسم کے جز سے فائدہ اٹھانا بھی ہے، جو انسان کی تکریم کے خلاف ہے (رد المحتار، ج 6، ص 373)۔
انسانی بالوں کی ایکسٹینشن: جمہور کے نزدیک ناجائز
جمہور فقہا کے نزدیک کسی دوسرے انسان کے بال اپنے بالوں میں جوڑنا، یعنی Human Hair Extensions، ناجائز ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں: ایک دھوکا، اور دوسری انسانی جسم کے جز کا استعمال، جو انسانی تکریم کے خلاف ہے۔ یہ حکم مرد و عورت دونوں کے لیے ہے۔
البتہ فقہ شافعی کے امام ماوردیؒ نے ایک تفصیل بیان کی ہے: اگر پاک بال جوڑنے کا مقصد کسی کو دھوکا دینا ہو، مثلاً رشتے کے وقت اپنی اصل حالت چھپانا، تو حرام ہے؛ لیکن اگر شادی شدہ عورت محض اپنے شوہر کے لیے زینت کے طور پر ایسا کرے تو حرام نہیں، کیونکہ عورت کو شوہر کے لیے زینت اختیار کرنے کا حکم ہے (الحاوی الکبیر، ج 2، ص 257)۔ یہ ایک معتبر علمی رائے ہے، مگر جمہور کا موقف زیادہ محتاط ہے۔
مصنوعی بال اور دھاگے (Synthetic Hair): جائز
جو چیزیں انسانی بال نہیں، جیسے دھاگے، اون یا مصنوعی ریشے (Synthetic Fiber)، انہیں بالوں میں باندھنے کی گنجائش ہے، خصوصاً جب وہ بالوں سے مختلف نظر آئیں اور ان میں دھوکا نہ ہو۔ تابعی حضرت سعید بن جبیرؒ سے منقول ہے کہ بالوں میں دھاگے (قرامل) باندھنے میں کوئی حرج نہیں (سنن ابی داود، کتاب الترجل)۔ فقہ حنفی میں بھی اون اور دھاگے وغیرہ کو بالوں میں ملانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس لیے:
- رنگین دھاگے، پراندہ اور Hair Accessories: جائز۔
- Synthetic Hair Extensions: بہت سے علما کے نزدیک شوہر کے لیے زینت کے طور پر گنجائش ہے، بشرطیکہ دھوکا مقصود نہ ہو۔ احتیاط یہ ہے کہ ایسے بال استعمال نہ کیے جائیں جو اصل بالوں سے بالکل مشابہ ہو کر دھوکا دیں۔
ہیئر ٹرانسپلانٹ (Hair Transplant): جائز
ہیئر ٹرانسپلانٹ میں انسان کے اپنے ہی جسم کے بال ایک جگہ سے نکال کر دوسری جگہ لگائے جاتے ہیں۔ یہ دوسرے انسان کے بال جوڑنا نہیں، بلکہ اپنے ہی جسم کا علاج ہے۔ اس لیے بہت سے معاصر علما کے نزدیک گنج پن یا بال جھڑنے کے علاج کے لیے Hair Transplant جائز ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کی روایت میں ’’مِنْ غَيْرِ دَاءٍ‘‘ کی قید (سنن ابی داود، حدیث: 4170) بھی بتاتی ہے کہ علاج کی ضرورت کا معاملہ مختلف ہے۔
بیماری یا کیموتھراپی میں وگ (Medical Wig)
بیماری یا کیموتھراپی کی وجہ سے بال جھڑ جائیں تو وگ کے بارے میں معاصر علما کی آرا مختلف ہیں۔ بعض علما حضرت عائشہؓ کی حدیث کی بنا پر اسے بھی ممنوع کہتے ہیں، کیونکہ اس میں بیماری کے باوجود اجازت نہیں دی گئی۔ جبکہ بعض علما، علاج اور شدید نفسیاتی تکلیف کی ضرورت کے پیشِ نظر، ایسی وگ کی گنجائش دیتے ہیں جو مصنوعی ریشوں سے بنی ہو اور جس کا مقصد کسی کو دھوکا دینا نہ ہو۔ ایسی صورت میں کسی معتبر عالم سے اپنے حالات کے مطابق رہنمائی لے لیجیے۔
وضو اور غسل کا مسئلہ
- وگ: وضو میں سر کا مسح اصل بالوں پر ہونا چاہیے۔ وگ پر مسح کافی نہیں، اس لیے وضو کے وقت اسے اتارنا ضروری ہے۔
- Glued Extensions: اگر ایکسٹینشن گوند یا کسی ایسی چیز سے لگی ہو جو بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچنے نہ دے، تو غسل درست نہیں ہوگا۔ غسل میں پانی کا جڑوں تک پہنچنا ضروری ہے۔
آخری بات
بالوں کے معاملے میں اسلام کا اصل اصول یہ ہے کہ دھوکا نہ ہو، انسانی جسم کی تکریم برقرار رہے، اور علاج کی ضرورت کا خیال رکھا جائے۔ اسی لیے دھاگے، Hair Accessories اور Hair Transplant جائز ہیں، جبکہ دوسرے انسان کے بال جوڑنے سے جمہور فقہا روکتے ہیں۔ اپنے بالوں کی قدرتی خوب صورتی کو سنواریے، اور جہاں شک ہو وہاں احتیاط کیجیے۔