اس کائنات کا سب سے خوبصورت اور پاکیزہ جذبہ محبت ہے، اور جب یہ محبت خالقِ کائنات کی ذات سے ہو جائے تو انسان کی روح کو وہ معراج حاصل ہوتی ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ لیکن محبت محض ایک زبانی دعویٰ یا جذباتی کیفیت کا نام نہیں، بلکہ اس کا ایک خاص معیار ہے جسے قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین نے واضح طور پر بیان کیا ہے. 


اللہ سے محبت کا معیار کیا ہے؟


اس کائنات کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ انسانی دل کسی ایسی ذات کی تلاش میں رہتا ہے جو کامل ہو، بے عیب ہو اور جس کی رحمت کی کوئی حد نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی تمام محبتیں سمٹ کر اللہ رب العزت کی ذاتِ اقدس پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ تصوف اور سلوک کی دنیا میں محبتِ الٰہی کو تمام مقامات کا سلطان کہا گیا ہے، کیونکہ یہ وہ روشنی ہے جو انسان کے باطن کو اندھیروں سے پاک کر دیتی ہے۔

آج جب دنیا مادیت کے طوفان میں گھری ہوئی ہے اور انسان عارضی سہاروں کے پیچھے بھاگ رہا ہے، تو یہ سوال ہر مومن کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ آخر "اللہ سے محبت کا اصل معیار کیا ہے؟" کیا یہ محض چند زبانی کلموں کا نام ہے، یا اس کے لیے عملی زندگی میں کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے؟ قرآن مجید نے اس الجھن کو ایک ہی آیت میں ہمیشہ کے لیے سلجھا دیا اور محبتِ الٰہی کا وہ سنہرا اصول بیان فرمایا جس پر پوری اسلامی شریعت کی بنیاد ہے:


قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبَبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ


"(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔"

(سورۃ آلِ عمران، آیت ۳۱)


ذرا اس آیتِ کریمہ کی گہرائی پر غور کیجیے۔ اسے مفسرینِ کرام "آیتِ امتحان" کہتے ہیں، یعنی وہ آیت جو محبت کے

دعوے داروں کو پرکھنے کے لیے نازک ترین کسوٹی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا معیار اپنی ذات کی اندھی عقیدت کو نہیں بنایا، بلکہ اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کو قرار دیا۔ گویا کوئی شخص رات بھر مصلے پر آنسو بہائے، دن بھر گریہ و زاری کرے، لیکن اگر اس کی زندگی اسوۂ حسنہ ﷺ کے سانچے میں نہیں ڈھلی، تو اس کا محبت کا دعویٰ ادھورا ہے۔


اسی نکتے کو حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے اپنے لازوال انداز میں یوں بیان فرمایا:

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں


۱۔ اتباعِ سنت: محبت کا پہلا اور بنیادی معیار


اسلامی کتب کے مطالعہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اللہ سے محبت کا پہلا ثبوت یہ ہے کہ انسان نبی کریم ﷺ کی سنتوں سے محبت کرے اور ان پر عمل پیرا ہو۔

امام ابن کثیرؒ اپنی شہرہ آفاق تفسیر "تفسیر القرآن العظیم" (جلد ۲، صفحہ ۲۵) میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

"یہ آیتِ کریمہ ہر اس شخص کے خلاف ایک کھلا فیصلہ ہے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر اپنے افعال و اقوال میں طریقۂ محمدی (ﷺ) پر نہیں چلتا۔ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے جب تک کہ وہ تمام معاملات میں شریعتِ محمدی کی پیروی نہ کرے۔"

محبت کا تقاضا ہی یہی ہے کہ محبوب جس سے محبت کرے، محب بھی اس کا گرویدہ ہو جائے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو کائنات میں سب سے زیادہ پیار اپنے رسول ﷺ سے ہے، اس لیے بندے کی محبت کا معیار بھی یہی ٹھہرا کہ وہ رسول پاک ﷺ کا سچا امتی بن کر دکھائے۔


۲۔ ترجیحات کا بدل جانا (خالق کو مخلوق پر مقدم کرنا)


اللہ سے محبت کا دوسرا بڑا معیار یہ ہے کہ جب انسان کی زندگی میں اللہ کے حکم اور نفس کی خواہش (یا دنیاوی فائدے) کا ٹکراؤ ہو، تو وہ بلا جھجک اللہ کے حکم کو چن لے۔

امام الحرمین ابو نصر السراج اپنی تصنیف "کتاب اللمع فی التصوف" (صفحہ ۶۸) میں محبت الٰہی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اللہ سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ دل سے اللہ کے سوا ہر چیز کی محبت کا اثر نکل جائے، اور بندہ اپنے محبوب (اللہ) کی رضا کے لیے اپنی ہر پسندیدہ چیز کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔"

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث مبارکہ میں اس معیار کو "ایمان کی مٹھاس" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ ہوں گی، اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا: پہلی یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں..."

(صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث نمبر ۱۶)

اب ذرا ٹھہر کر اپنے گریبان میں جھانکنے کا مقام ہے۔ جب فجر کی اذان گونجتی ہے اور ہمارا نفس ہمیں گرم بستر پر سونے کی ترغیب دیتا ہے، تو اس وقت ہماری ترجیح کیا ہوتی ہے؟ بستر کی راحت یا اللہ کا حکم؟ جب کاروبار میں جھوٹ بول کر لاکھوں کا فائدہ ہو رہا ہو، تو اس وقت ہم کس چیز کو چنتے ہیں؟ دنیا کی دولت یا اللہ کی رضا؟ یہی وہ مقامات ہیں جہاں محبت کا معیار عملی طور پر سامنے آتا ہے۔


۳۔ کثرتِ ذکر اور استغفار


کہا جاتا ہے کہ "من أحب شیئاً أكثر من ذكره" (جو جس سے محبت کرتا ہے، اس کا ذکر کثرت سے کرتا ہے)۔ اللہ سے محبت کا ایک اہم معیار یہ ہے کہ انسان کی زبان اور اس کا دل ہر وقت اپنے خالق کے ذکر سے تر رہے۔

امام ابن قیم الجوزیہؒ اپنی مایہ ناز کتاب "الوابل الصیب من الکلم الطیب" (صفحہ ۸۵) میں لکھتے ہیں:

"محبتِ الٰہی کا درخت ذکرِ الٰہی کے پانی سے ہی پروان چڑھتا ہے۔ جس کا دل اللہ کے ذکر سے خالی ہو گیا، اس کا دل محبتِ الٰہی کی تپش سے محروم ہو کر مرجھا جاتا ہے۔"

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی یہ نشانی بیان فرمائی:

وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ

"اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ سے سب سے شدید محبت کرنے والے ہیں۔"

(سورۃ البقرہ، آیت ۱۶۵)

مفسرین فرماتے ہیں کہ اس "شدید محبت" کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مومن اٹھتے، بیٹھتے اور کروٹوں پر لیٹتے ہوئے اپنے رب کو یاد کرتا رہتا ہے۔


اسلافِ امت اور محبتِ الٰہی کے درخشندہ نقوش


جب ہم تاریخِ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں صحابہ کرامؓ اور اولیائے عظام کی زندگیوں میں محبتِ الٰہی کے ایسے ایسے معیار نظر آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کا وہ منظر یاد کیجیے جب غزوہ تبوک کے موقع پر انہوں نے اپنے گھر کا پورا اثاثہ لا کر حضور ﷺ کے قدموں میں رکھ دیا۔ جب پوچھا گیا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ تو جواب دیا: "اللہ اور اس کا رسول"۔ یہ تھی وہ محبت جہاں کائنات کی ہر مادی شے ہیچ ہو گئی تھی۔

حضرت بلال حبشیؓ کو تپتی ریت پر لٹایا جاتا، سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا، مگر ان کی زبان سے صرف ایک ہی لفظ نکلتا: "احد، احد" (ایک ہے، وہ ایک ہے)۔ جسم کا ذرہ ذرہ درد سے پکار رہا تھا مگر روح محبتِ الٰہی کے اس اعلیٰ معیار پر فائز تھی جہاں تکلیف بھی لذت بن چکی تھی۔

حضرت رابعہ بصریؒ کی وہ مشہور مناجات جو اسلامی تصوف کی کتب میں سنہری حروف سے لکھی ہیں، جہاں وہ بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتی تھیں: "اے اللہ! اگر میں تیری عبادت جہنم کے خوف سے کرتی ہوں تو مجھے اس میں جلا دے، اور اگر جنت کی لالچ میں کرتی ہوں تو مجھے اس سے محروم کر دے۔ میں تو صرف اور صرف تیری ذات کی محبت اور تیرے دیدار کے لیے تیری عبادت کرتی ہوں" (احیاء علوم الدین للامام الغزالی، جلد ۴)۔


محبت کا جھوٹا دعویٰ اور منافقت


تصوف کی مشہور کتاب "رسالہ قشیریہ" (امام عبد الکریم القشیریؒ، صفحہ ۳۱۵) میں منقول ہے کہ ایک بزرگ نے فرمایا:

"جو شخص اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کے احکامات کی نافرمانی کرتا ہے، وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص سورج کی روشنی کا دعویٰ کرے مگر رات کے اندھیرے میں کھڑا ہو۔"

عربی کا ایک بڑا مشہور شعر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:

تَعْصِي الإِلَهَ وَأَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ ... هَذَا لَعَمْرِي فِي الْقِيَاسِ بَدِيعُ

لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقاً لأَطَعْتَهُ ... إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيعُ

(تو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور ساتھ ہی اس کی محبت کا اظہار بھی کرتا ہے، میری عمر کی قسم! عقل کے ترازو میں یہ ایک عجیب بات ہے۔ اگر تیری محبت سچی ہوتی تو تو ضرور اس کی اطاعت کرتا، کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے)۔


حاصلِ کلام: ہم اپنی محبت کو کیسے پرکھیں؟


عزیز قارئین! اللہ سے محبت کا معیار کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں، یہ بالکل سادہ اور واضح ہے۔ اگر ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہمیں اللہ سے کتنی محبت ہے، تو ہمیں اپنے دن رات کے معمولات کو دیکھنا ہوگا۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ:

کیا ہماری زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی سنت زندہ ہے؟

کیا ہم گناہوں سے بچنے کے لیے اسی طرح تڑپتے ہیں جیسے آگ سے بچنے کے لیے؟

کیا ہمارا دل اللہ کے ذکر سے سکون پاتا ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہے، تو ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور اگر ابھی دل میں وہ تڑپ اور زندگی میں وہ اطاعت نظر نہیں آتی، تو ہمیں اپنے ایمان کی تجدید اور باطن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

محبتِ الٰہی کا یہ سفر اکیلے طے کرنا مشکل ہوتا ہے، اس کے لیے علمِ نافع، فکرِ صحیح اور مصلحین کی صحبت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر آپ بھی اپنے دل میں محبتِ الٰہی کے اس چراغ کو روشن کرنا چاہتے ہیں، اپنے باطن کو قرآنی تعلیمات کے نور سے منور کرنا چاہتے ہیں، اور دین کا مستند علم حاصل کرنا چاہتے ہیں — تو Sirat Islamic Academy کے آن لائن کورسز (قرآن تجوید، تفسیر، سیرتِ نبوی ﷺ اور فقه) میں آج ہی رجسٹریشن کروائیں اور علم و محبت کے اس نورانی سفر کا حصہ بنیں۔