اس کائنات کا سب سے بنیادی قانون یہ ہے کہ جمود موت ہے اور حرکت زندگی۔ یہ عالمِ ہست و بود کسی ساکت تالاب کا سا منظر نہیں، بلکہ ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے، جس کی ہر لہر گردشِ زمان و مکان کے کسی نئے طوفان کو جنم دیتی ہے۔ اور جو قوم اس حرکت سے منہ موڑ کر ٹھہر جاتی ہے، وہ دراصل زندگی کے اس بنیادی اصول سے ہی انکار کر بیٹھتی ہے جس پر خود کائنات کا نظام قائم ہے۔


آج جب مشرق کی کہن سالہ تہذیب اپنے خوابِ گراں سے انگڑائی لے رہی ہے، اور مغرب کے مادی خداؤں کے پاؤں، جنہیں کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، لڑکھڑانے لگے ہیں، تو یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ اسی ازلی قانون کی کارفرمائی ہے جسے قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا:


إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ


"بےشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے۔"


(سورۃ الرعد، آیت ۱۱)


ذرا ٹھہر کر اس آیت کی گہرائی میں اتریے۔ یہ کوئی تسلی آمیز نعرہ نہیں بلکہ ایک بےلاگ اصول ہے، جو نہ کسی قوم کی رعایت کرتا ہے نہ کسی زمانے کی: تبدیلی باہر سے نہیں آتی، وہ ہمیشہ اندر سے پھوٹتی ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے شاعرِ مشرق کی وہ للکار سنائی دیتی ہے جو صدیوں کی خاموشی توڑنے کے لیے کافی تھی:


اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا یہ محض ایک رومانوی شعر ہے، یا اس کے پیچھے کوئی ٹھوس فکری بنیاد بھی ہے؟ اس کا جواب سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر عروج و زوال کا اصل معیار کیا ہے۔ عام نظر یہی کہتی ہے کہ عروج کا مطلب زمین کی وسعت، فوج کی طاقت، یا معیشت کی چمک ہے۔ مگر قرآن مجید نے اس معیار کو یکسر بدل دیا۔ اس نے فرمایا:


وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ


"اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔"


(سورۃ النجم، آیت ۳۹)


یہاں غور کیجیے: نہ وراثت کا ذکر ہے، نہ نسب کا، نہ محض خواہش کا — صرف سعی، صرف مسلسل عمل۔ گویا وہ قوم جو خوابِ غفلت میں پڑی رہے اور محض ماضی کے کارناموں پر فخر کرتی رہے، وہ اس قانون کے تحت خود اپنے زوال کا سامان کر رہی ہوتی ہے۔ اور یہی وہ خطرہ ہے جس سے آج امتِ مسلمہ کو خبردار ہونا ہے: اگر ہم اب بھی مصلحتوں کے غلاف اوڑھ کر بیٹھے رہے، تو وقت کا بےرحم پہیہ ہمیں کچل کر آگے بڑھ جائے گا، اور ہم تاریخ کے اوراق میں بھی جگہ نہ پا سکیں گے۔


مگر یہاں ایک روشن پہلو بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ باطل، خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، اپنی فطرت میں فانی ہے۔ آج جو الحاد اور مادیت کی آندھیاں مغرب سے اٹھی تھیں اور جنہوں نے کبھی پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا، وہ اب خود اپنے ہی گھر کو جلا کر راکھ کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں بلکہ وہی سادہ اور اٹل اصول ہے جو قرآن نے صدیوں پہلے بیان کر دیا تھا:


جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا


"حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بےشک باطل مٹنے ہی والا تھا۔"


(سورۃ بنی اسرائیل، آیت ۸۱)


اب یہ سوال ذہن میں کھٹکتا ہے: اگر باطل کا مٹنا طے شدہ ہے، تو اس کی جگہ کیا آئے گا؟ دنیا آج ایک ایسے نظام کی پیاسی ہے جو عدل، حق اور انسانی وقار کا امین ہو۔ اور امتِ مسلمہ کے پاس وہ آفاقی نسخہ موجود ہے جو انسانیت کی کایا پلٹ سکتا ہے: قرآن کی تعلیمات اور اسوۂ نبوی ﷺ۔ مگر یہاں ایک شرط ہے، اور یہ شرط ہی دراصل اصل امتحان ہے: پہلے ہمیں اپنی فکر کو ذہنی غلامی کے بتوں سے پاک کرنا ہوگا، اپنی سوچ کو اسوۂ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ کیونکہ جو قوم خود اپنی فکری آزادی سے محروم ہو، وہ دوسروں کو آزادی کا راستہ کیسے دکھا سکتی ہے؟


اور جب یہ سوال کھلتا ہے تو نگاہ خودبخود اس دور کی طرف اٹھ جاتی ہے جہاں یہ سب کچھ پہلی بار ممکن ہوا تھا: مکہ کی وہ تیرہ سالہ زندگی، جہاں نبی کریم ﷺ نے بےسروسامانی کے باوجود باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ وہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صداقت، حضرت عمر فاروقؓ کی ہیبت و عدل، حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت و حیا، اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شجاعت و حکمت — یہ سب مل کر تاریخ کا دھارا موڑ گئے۔ اور وہ بلالی استقامت، جہاں تپتی ریت پر جسم جلتا رہا مگر زبان سے "احد، احد" کے سوا کچھ نہ نکلا۔ وہ حضرت سمیہؓ اور آلِ عمارؓ کی جگر سوز قربانیاں، وہ حضرت خبابؓ کا استقلال، وہ شعبِ ابی طالب کی بھوک اور محاصرے کی صبر آزما گھڑیاں — یہی وہ عناصر تھے جنہوں نے عرب کے ریگزاروں سے ایک ایسا آفاقی ارتعاش پیدا کیا جس نے قیصر و کسریٰ کے تخت الٹ دیے۔


اب ذرا خود سے پوچھیے: کیا آج میرے دل میں وہی جذبہ باقی ہے؟ کیا مجھ میں وہ استقامت ہے جو بلالؓ نے دکھائی، وہ صبر ہے جو آلِ عمارؓ نے دکھایا؟ یا ہم نے مکی زندگی کے اس جنونِ عشق کو، جو سنگ باری کے جواب میں بھی دعا کا ہاتھ بلند کرتا تھا، کہیں فراموش کر دیا ہے؟ یہی وہ خود احتسابی ہے جس سے گزرے بغیر بیداری کا کوئی دعویٰ سچا نہیں ہو سکتا۔


اور یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ یہ جدوجہد محض جذباتی نعروں سے مکمل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ ضرور فرمایا:


وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ


"اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔"


(سورۃ آلِ عمران، آیت ۱۳۹)


مگر غور کیجیے، یہ وعدہ مشروط ہے — "اِن کُنتُم مُّؤمِنِین"۔ یعنی غلبہ محض دعوے سے نہیں بلکہ حقیقی ایمان سے مشروط ہے، اور حقیقی ایمان کی پہچان فہمِ قرآن، تدبرِ قرآن، اور اسوۂ نبوی ﷺ کی مسلسل اتباع میں پنہاں ہے۔ اسی لیے اللہ نے اس امت کو یہ اعزاز بخشا:


كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ


"تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی اصلاح کے لیے نکالی گئی ہو۔"


(سورۃ آلِ عمران، آیت ۱۱۰)


مگر یہ کوئی ازلی سرٹیفکیٹ نہیں جو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہو، بلکہ ایک مستقل ذمہ داری ہے جسے ہر نسل کو اپنے کردار سے نئے سرے سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ہماری آج کی زندگی، ہمارا آج کا کردار، اس "خیرِ امت" ہونے کی گواہی دیتا ہے، یا ہم نے اسے محض ایک زبانی دعویٰ بنا کر رکھ دیا ہے؟


تاریخ کے اس نازک موڑ پر، جہاں پرانی قدریں دم توڑ رہی ہیں اور نیا سورج طلوع ہونے کو ہے، اہلِ ایمان کا کردار محض تماشائی کا نہیں بلکہ معمارِ جہاں کا ہونا چاہیے۔ ہماری حرکیت میں وہ تلاطم ہونا چاہیے جو باطل کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کر دے، اور ہماری فکر میں وہ نور ہونا چاہیے جو گم کردہ راہ انسانیت کو منزل کا سراغ دے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس نصرت کی شرط بھی واضح فرما دی:


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ


"اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔"


(سورۃ محمد، آیت ۷)


یہاں پھر وہی اصول دہرایا گیا: نصرت پہلے، مدد بعد میں — یعنی پہلا قدم ہمیشہ ہمیں اٹھانا ہے۔ نصرتِ الٰہی ان کے قدم چومتی ہے جو خود ثابت قدم رہتے ہیں، جو خود میدانِ عمل میں اترتے ہیں، جو خود اپنی ذات کی اصلاح سے آغاز کرتے ہیں۔


سو اب یہ سوال ہر صاحبِ ایمان کے ضمیر کے سامنے کھڑا ہے: کیا میں چراغِ مصطفوی ﷺ میں اپنے خونِ جگر کی روشنی شامل کر کے اس کی لو کو برقرار رکھے ہوئے ہوں، یا میں محض ایک تماشائی بن کر اس روشنی کے دھیمے پڑ جانے کا منتظر ہوں؟ کیا میں حضور ﷺ کا امتی ہونے کا حق ادا کر رہا ہوں، یا محض نام لیوا بن کر رہ گیا ہوں؟


یہی وہ سوال ہے جس کا جواب علامہ اقبالؒ نے ایک ہی مصرعے میں سمو دیا، ایک ایسا نسخہ جو ہر دور کے مسلمان کے لیے یکساں طور پر روشن ہے:


یقیں محکم، عملِ پیہم، محبت فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں


یقینِ محکم — یعنی وہ ایمان جو کسی آندھی سے نہ ڈگمگائے۔ عملِ پیہم — یعنی وہ مسلسل کوشش جو تھکن سے نا آشنا ہو۔ اور محبتِ فاتحِ عالم — یعنی وہی عشقِ رسول ﷺ جو طائف کی گلیوں میں لہو بن کر بہا اور دشمن کے لیے ہدایت کی دعا بن گیا۔ یہی تین ہتھیار ہیں جن سے یہ امت دوبارہ اپنی وہ منزل حاصل کر سکتی ہے جو کبھی اس کا مقدر تھی۔


اگر آپ کے دل میں بھی یہ اشتیاق جاگ اٹھا ہے کہ اس یقین، اس عمل، اور اس محبت کو گہرائی اور ترتیب کے ساتھ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں — تاکہ یہ محض جذباتی الفاظ نہ رہیں بلکہ ایک زندہ کردار بن جائیں — تو Sirat Islamic Academy کے قرآن، سیرت اور اسلامی علوم کے مستند آن لائن کورسز میں آج ہی شامل ہوں، اور اس بیداری کے سفر میں اپنا حصہ ڈالیں جو صدیوں سے اس امت کا انتظار کر رہی ہے۔