ملاقات کسی بھی انسان کی شخصیت کا پہلا تعارف ہوتی ہے۔ بسا اوقات چند لمحوں کی ایک مختصر ملاقات ایسی دیرپا یاد چھوڑ جاتی ہے جو برسوں بلکہ پوری زندگی ذہن سے محو نہیں ہوتی خصوصاً پہلی ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی منفرد ہے کہ اس کے تاثرات عموماً فطری بے ساختہ اور حقیقت کے زیادہ قریب ہوتے ہیں بعد کی ملاقاتیں اکثر پہلی ملاقات سے قائم ہونے والے ذہنی تاثر کے زیرِ اثر ہوتی ہیں لیکن پہلی ملاقات میں انسان عموماً ہر قسم کے مثبت یا منفی تعصب سابقہ تجربے اور ذاتی تعلق سے خالی الذہن ہوتا ہے اسی لئے سامنے والے کی شخصیت کا جو نقش اس کے دل و دماغ پر پہلی مرتبہ ثبت ہوتا ہے، وہ نہایت گہرا، دیرپا اور فیصلہ کن ہوتا ہے (First imprasion as the last imprasion) یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو برسوں بعد بھی اپنی پہلی ملاقات کا مقام، ماحول، گفتگو بلکہ بعض اوقات سامنے والے کے لباس کا رنگ تک یاد رہتا ہے، ماہرینِ نفسیات اور دانش وروں کا اتفاق ہے کہ پہلی ملاقات میں انسان کا اندازِ گفتگو، اخلاق، طرزِ عمل، چہرے کے تاثرات اور مجموعی شخصیت دوسروں کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہے، یہی سبب ہے کہ سفارتی، سیاسی اور سماجی دنیا میں پہلی ملاقات کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے اور اس کےلئے باقاعدہ آداب، پروٹوکول اور تیاری کا اہتمام کیا جاتا ہے _
ایک روز میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی مرتبہ ملاقات کرنے والوں کے دلوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت نے کیا اثر ڈالا؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی نظر میں کس انداز سے دیکھا؟ ان کی زبان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کون سے تاثرات ادا ہوئے؟ اور ان چند لمحوں کی ملاقات نے ان کی زندگی کا رخ کس طرح بدل دیا؟ اسی سوال نے مجھے کتبِ حدیث، سیرت، شمائل اور تاریخ کے مطالعے پر آمادہ کیا، اس تحقیق کے دوران مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ مختلف صحابہ، اہلِ کتاب، غیر مسلموں، وفود اور دیگر ملاقات کرنے والوں کے ایسے بے شمار تاثرات منتشر صورت میں محفوظ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتِ کردار، حسنِ اخلاق، جاذبیتِ شخصیت اور صداقتِ نبوت کی نہایت روشن تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر تاثر اپنی جگہ منفرد، دلنشین اور فکر انگیز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی پہلی ملاقات محض ایک رسمی تعارف نہ تھی بلکہ ایک ایسا روحانی، فکری اور قلبی انقلاب تھی جس نے ان کی سوچ، کردار، اخلاق اور زندگی کے ہر پہلو کو بدل کر رکھ دیا، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور پر نظر پڑتے ہی نبوت کی سچائی کو پہچان لیا، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے قرآنِ کریم کی تلاوت سن کر اپنے دل کی دنیا بدلتی محسوس کی، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلم، تواضع اور حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت، رحمت اور عفو و درگزر کا مشاہدہ کرکے اپنی برسوں پرانی دشمنی کو ہمیشہ کےلئے خیر باد کہہ دیا، یہ وہ گواہیاں ہیں جو نہ طویل رفاقت کے نتیجے میں وجود میں آئیں، نہ عقیدت کے تدریجی اثر سے بلکہ پہلی ہی ملاقات میں دلوں پر ثبت ہونے والے ان نقوش کی آئینہ دار ہیں جنہوں نے دیکھنے والوں کو یہ یقین دلا دیا کہ وہ ایک غیر معمولی، بے مثال اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں، میرے خیال میں یہ موضوع نہایت منفرد اور اثر انگیز ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی وہ حقیقی تصویر ہے جو عقیدت اور خاص تأثرات کے رنگ سے خالی ہے، جن لوگوں نے اپنی پہلی ملاقات کا نسبتاً مکمل اور جذباتی احوال خود بیان کیا ہے، ان میں نمایاں طور پر یہ حضرات ہیں _
ام معبد رضی اللہ عنہا
اُمِّ معبد خزاعیہ ایک باوقار صاحبِ ہمت اور فیاض خاتون تھیں اُس دور میں سفر نہایت دشوار طویل اور خطرات سے بھرپور ہوتا تھا مسافر کئی کئی دن بلکہ ہفتوں بیابانوں میں سفر کرتے جہاں دور دور تک انسانی آبادی کا نام و نشان نہ ہوتا یہی وجہ تھی کہ عرب معاشرے میں مسافروں کی مہمان نوازی ایک اعلیٰ اخلاقی وصف اور معاشرتی روایت سمجھی جاتی تھی، بعض اہلِ مروّت تو مسافروں کی خدمت کےلئے شاہراہوں کے کنارے مستقل خیمے نصب کئے رکھتے تھے جہاں آنے جانے والوں کو کھانا پانی اور آرام کی سہولت فراہم کی جاتی تھی اُمِّ معبد بھی انہی فیاض اور کریم النفس لوگوں میں شامل تھیں ان کا خیمہ شاہراہ پر واقع تھا اور وہ حسبِ استطاعت ہر آنے والے مسافر کی خدمت اور ضیافت کیا کرتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوسرے یا تیسرے روز، مکہ سے تقریباً ایک سو تیس کلومیٹر کے فاصلے پر مقامِ مُشَلَّل (قدید کے نواح) میں واقع امِّ معبد کے خیمے پر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عامر بن فہیرہؓ اور راہ نما حضرت عبداللہ بن اُریقط بھی تھے _
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمِّ معبد سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کے پاس کھانے پینے کےلئے کچھ موجود ہے؟ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! اگر ہمارے پاس کچھ ہوتا تو آپ کی میزبانی میں ہرگز بخل نہ کرتے اس وقت قحط کا زمانہ ہے بکریاں چراگاہ میں ہیں اور گھر میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو آپ کی خدمت میں پیش کر سکوں اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر خیمے کے ایک گوشے میں بندھی ہوئی ایک نہایت کمزور بکری پر پڑی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے اُمِّ معبد! یہ بکری یہاں کیوں رہ گئی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ کمزوری کے باعث یہ ریوڑ کے ساتھ نہیں جا سکی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس میں دودھ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ اس سے بھی زیادہ کمزور ہے کہ دودھ دے سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اجازت ہو تو میں اسے دوہ لوں؟ اُمِّ معبد نے نہایت ادب سے عرض کیا: "میرے ماں باپ آپ پر قربان! اگر آپ کو اس میں دودھ کی کوئی امید نظر آتی ہے تو ضرور دوہ لیجئے" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے تھن پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور اس کےلئے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے اسی لمحے اپنی قدرت کا ایسا ظہور فرمایا کہ بکری کے تھن دودھ سے بھر گئے اور وہ مضبوطی سے کھڑی ہو گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا برتن منگوایا، جو ایک جماعت کو سیراب کرنے کےلئے کافی تھا اور اس میں اتنا دودھ دوہا کہ برتن جھاگ سے بھر گیا، سب سے پہلے اُمِّ معبد کو پلایا یہاں تک کہ وہ خوب سیر ہو گئیں، پھر اپنے رفقاء کو پلایا، وہ بھی آسودہ ہوگئے اور آخر میں خود نوش فرمایا اس کے بعد دوبارہ برتن بھر کر دودھ دوہا اور وہ اُمِّ معبد کے پاس چھوڑ دیا، پھر قافلہ مدینہ کی جانب روانہ ہوگیا ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ان کے شوہر، ابو معبد، اپنی بکریاں ہانکتے ہوئے واپس آ گئے گھر میں دودھ سے بھرا برتن دیکھ کر حیران رہ گئے اور پوچھا کہ اے اُمِّ معبد! یہ دودھ کہاں سے آیا؟ بکریاں تو ابھی چراگاہ میں ہیں اور گھر میں کوئی دودھ دینے والا جانور بھی موجود نہ تھا! امِّ معبد نے انہیں ابتدا سے انتہا تک سارا واقعہ سنایا یہ سن کر ابو معبد بولے "اللہ کی قسم! معلوم ہوتا ہے یہ وہی قریشی شخصیت ہیں جن کی تلاش میں قریش سرگرداں ہیں ذرا ان کے اوصاف تو بیان کرو" تب اُمِّ معبد نے نہایت فصیح، جامع اور دلنشین الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سراپا اور شخصیت بیان کی، عربی ادب اور سیرتِ نبوی میں یہ وصف اس قدر بلند پایہ سمجھا جاتا ہے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل کے بہترین اور جامع ترین بیانات میں شمار کیا جاتا ہے _
رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهَرَ الْوَضَاءَةِ أَبْلَجَ الْوَجْهِ حَسَنَ الْخَلْقِ لَمْ تَعِبْهُ ثُحْلَةٌ، وَلَمْ تُزْرِ بِهِ صَعْلَةٌ وَسِيمٌ فِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ وَفِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ، وَفِي عُنُقِهِ سَطَعٌ، وَفِي لِحْيَتِهِ كَثَاثَةٌ، أَزَجُّ أَقْرَنُ، إِنْ صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ سَمَاهُ وَعَلَاهُ الْبَهَاءُ، أَجْمَلُ النَّاسِ وَأَبْهَاهُ مِنْ بَعِيدٍ، وأَحْلَاهُ وَأَحْسَنُهُ مِنْ قَرِيبٍ، حُلْوُ الْمِنْطَقِ، فَصْلٌ لَا هَذِرٌ وَلَا تَزِرٌ، كَأَنَّ مَنْطِقَهُ خَرَزَاتٌ نَظْمٌ يَتَحَدَّرْنَ، رَبْعٌ لَا يَأْسَ مِنْ طُولٍ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ فَهُوَ أَنْضَرُ الثَّلَاثَةِ مَنْظَرًا، وَأَحْسَنُهُمْ قَدْرًا، لَهُ رُفَقَاءُ يَحُفُّونَ بِهِ، إِنْ قَالَ أَنْصَتُوا لِقَوْلِهِ، وَإِنْ أَمَرَ تَبَادَرُوا إِلَى أَمْرِهِ، مَحْفُودٌ مَحْشُودٌ لَا عَابِسٌ وَلَا مُفَنَّدٌ [1].
"میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو نہایت روشن و تابناک چہرے والے تھے، انکا چہرہ کشادہ اور نورانی تھا، جسمانی ساخت خوبصورت اور متناسب تھی، نہ موٹاپا ان کے حسن میں خلل ڈالتا تھا اور نہ دبلے پن کے سبب ان کی شخصیت میں کوئی نقص محسوس ہوتا تھا بلکہ وہ سراپا حسین و جمیل تھے، انکی آنکھیں بڑی، گہری سیاہ اور نہایت دلکش تھیں، پلکیں لمبی اور گھنی تھیں، آواز میں قدرتی بھاری پن اور وقار تھا، گردن بلند، خوب صورت اور چمکدار تھی اور داڑھی گھنی تھی، ان کی بھنویں باریک، لمبی اور خوب صورت خم دار تھیں اور ایک دوسرے کے قریب معلوم ہوتی تھیں، جب خاموش رہتے تو وقار اور ہیبت ان پر چھائی رہتی، جب گفتگو فرماتے تو ان کا جمال، شان اور رعب و جلال مزید نمایاں ہو جاتا، دور سے دیکھنے والا بھی انہیں سب لوگوں سے زیادہ باوقار اور حسین محسوس کرتا اور قریب سے دیکھنے والا ان کی دلکشی، مٹھاس اور حسن کا اور بھی زیادہ معترف ہو جاتا، ان کی گفتگو نہایت شیریں، واضح اور فیصلہ کن ہوتی، نہ بے جا طویل ہوتی اور نہ اس قدر مختصر کہ مفہوم ادھورا رہ جائے، یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ان کے الفاظ پروئے ہوئے موتیوں کی لڑی ہوں جو نہایت ترتیب اور حسن کے ساتھ ایک ایک کرکے جھر رہے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد درمیانہ تھا؛ نہ غیر معمولی لمبا کہ نگاہ کو ناگوار معلوم ہو اور نہ اتنا پست کہ آنکھ اسے حقیر سمجھے، اپنے دو ساتھیوں کے درمیان اس طرح معلوم ہوتے تھے جیسے دو شاخوں کے درمیان ایک سرسبز، شاداب اور خوبصورت شاخ ہو، اپنے رفقاء میں سب سے زیادہ حسین، بارونق اور بلند مرتبہ نظر آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ساتھی حلقہ بنائے رہتے تھے، جب آپ کچھ فرماتے تو سب خاموش ہو کر پوری توجہ سے سنتے اور جب کسی کام کا حکم دیتے تو سب فوراً اس کی تعمیل کےلئے لپک پڑتے، آپ ایسے پیشوا تھے جن کی خدمت کےلئے ہر شخص تیار رہتا تھا، جن کے گرد لوگوں کا ہجوم رہتا تھا مگر نہ آپ ترش رو تھے، نہ کسی کی بات کو حقارت سے رد کرنے والے اور نہ فضول گوئی کرنے والے" _
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ
حضرت سلمان فارسیؓ کا پیدائشی نام مابہ (بعض روایات کے مطابق روزبہ) تھا، آپ کا تعلق ایران کے شہر اصفہان کے نواحی علاقے جِی سے تھا ایک معزز مجوسی (آتش پرست) خاندان میں پیدا ہوئے آپ کے والد اپنے مذہب کے نہایت پکے پیروکار تھے یہاں تک کہ سلمانؓ کو آتش کدے کی مقدس آگ کی نگہبانی پر مامور کر رکھا تھا اور وہ پوری ذمہ داری سے اس خدمت کو انجام دیتے تھے ایک روز کسی کام سے گھر سے نکلے تو راستے میں ایک گرجا گھر سے عبادت کی آواز سنائی دی تجسس کے باعث اندر چلے گئے عیسائیوں کو نہایت خشوع و خضوع سے عبادت کرتے دیکھا تو محسوس کیا کہ یہ دین مجوسیت کے مقابلے میں حق کے زیادہ قریب ہے، جب گھر واپس آئے تو والد کو سارا واقعہ بتایا والد نے یہ سن کر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور انہیں گھر میں زنجیروں سے باندھ دیا تاکہ دوبارہ عیسائیوں کے پاس نہ جا سکیں ایک دن موقع پا کر سلمانؓ نے بیڑیاں توڑ دیں اور شام جانے والے ایک قافلے کے ساتھ روانہ ہو گئےشام پہنچ کر دریافت کیا کہ یہاں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے ایک راہب کا پتا بتایا سلمانؓ اس کی خدمت میں حاضر ہوئے عیسائیت اختیار کی اور اس کے زیرِ سایہ تعلیم و تربیت حاصل کرنے لگے، جب وہ راہب وفات پا گیا تو اس کی وصیت کے مطابق موصل گئے پھر نصیبین اور وہاں سے عموریہ پہنچے اس طرح ایک کے بعد دوسرے ایسے عالم کی صحبت اختیار کرتے رہے جس کے بارے میں معلوم ہوتا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دینِ حنیف کی باقی ماندہ تعلیمات پر قائم ہے، آخر کار عموریہ کے عالم کی وفات کا وقت آیا تو سلمانؓ نے عرض کیا کہ "آپ مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کرتے ہیں؟" اس نے جواب دیا کہ "آج روئے زمین پر مجھے کوئی ایسا شخص معلوم نہیں جو دین حنیف کی اصلی تعلیمات پر قائم ہو البتہ اب آخری نبی کے ظہور کا زمانہ قریب آ چکا ہے وہ سر زمینِ عرب میں مبعوث ہوں گے، دینِ ابراہیمی کو زندہ کریں گے اور کھجوروں والی سر زمین کی طرف ہجرت کریں گے ان کی چند نمایاں نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہدیہ قبول کریں گے لیکن صدقہ نہیں کھائیں گے اور ان کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت ہوگی اگر تم ان تک پہنچ سکو تو ضرور پہنچنا۔"
یہ بشارت سن کر سلمانؓ کا دل سر زمینِ عرب کی طرف کھنچ گیا مگر وہاں پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہ تھاکچھ عرصے بعد بنو کلب کے چند عرب تاجر وہاں آئے سلمانؓ نے ان سے کہا کہ "اگر تم مجھے عرب پہنچا دو تو میں اپنی تمام گائیں اور بکریاں تمہیں دے دوں گا" وہ بظاہر راضی ہو گئے لیکن وادیٔ القریٰ پہنچ کر وعدہ خلافی کی، انہیں ایک یہودی کے ہاتھ فروخت کر دیا وادیٔ القریٰ میں کھجوروں کے باغات دیکھ کر سلمانؓ کے دل میں امید کی ایک کرن جاگی کہ شاید یہی وہ سر زمین ہو جس کی خبر اس عالم نے دی تھی بعد ازاں اس یہودی کا ایک رشتہ دار مدینہ منورہ سے آیا اور سلمانؓ کو خرید کر اپنے ساتھ مدینہ لے گیا مدینہ پہنچ کر جب کھجوروں کے باغات اور دیگر علامات دیکھیں تو امید پھر تازہ ہو گئی کہ شاید یہی وہ بابرکت سر زمین ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لانے والے ہیں، چنانچہ وہ اسی انتظار میں دن گزارنے لگے، ادھر مکہ مکرمہ میں آفتابِ رسالت طلوع ہو چکا تھا لیکن غلامی کی زندگی میں مشغول سلمانؓ اس عظیم خبر سے بے خبر تھے حضرت سلمانؓ خود بیان کرتے ہیں کہ "ایک دن میں کھجور کے ایک درخت پر چڑھا ہوا کام کر رہا تھا اور میرا آقا نیچے بیٹھا تھا کہ اچانک اس کا ایک رشتہ دار آیا اور کہنے لگا: اللہ بنی قیلہ (انصار) کو ہلاک کرے! وہ سب اس وقت قبا میں ایک ایسے شخص کے گرد جمع ہیں جو مکہ سے آیا ہے اور لوگ اسے نبی سمجھتے ہیں، یہ الفاظ میرے کانوں میں پڑے تو مجھ پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ میرا پورا جسم کانپ اٹھا خوشی اور اضطراب کے عالم میں قریب تھا کہ درخت سے نیچے گر پڑتا، فوراً اتر کر اس آدمی سے بے اختیار پوچھا: 'تم کیا کہہ رہے ہو؟یہ سن کر آقا نے غصے میں ایک زور کا گھونسا مارا اور ڈانٹتے ہوئے کہا کہ 'تمہیں اس سے کیا غرض؟ اپنا کام کرو!سلمانؓ خاموش ہو گئے مگر شام ہونے کا بے چینی سے انتظار کرتے رہے، کام سے فارغ ہوئے تو اپنے پاس موجود کچھ کھانے کی چیزیں جمع کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں اور آپ کے ساتھ کچھ غریب اور ضرورت مند لوگ بھی ہیں یہ چند چیزیں میں صدقہ کی نیت سے لایا ہوں، میرے خیال میں آپ لوگوں سے بڑھ کر اسکے مستحق کوئی نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھانا صحابۂ کرامؓ کو دے دیا لیکن خود اس میں سے کچھ تناول نہ فرمایا سلمانؓ کہتے ہیں کہ میں نے دل میں کہا: پہلی نشانی پوری ہوگئی چند روز بعد وہ دوبارہ کچھ کھانے کی چیزیں لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ پچھلی مرتبہ میں صدقہ لایا تھا آپ نے اس میں سے نہیں کھایا تھا، آج یہ ہدیہ ہے اسے قبول فرمائیے اس مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدیہ قبول فرمایا، خود بھی تناول فرمایا اور صحابۂ کرامؓ کو بھی کھلایا سلمانؓ فرماتے ہیں: میں نے دل میں کہا کہ دوسری نشانی بھی پوری ہوگئی۔ پھر ایک دن حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرامؓ کے درمیان تشریف فرما تھے سلمانؓ اس امید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد چکر لگانے لگے کہ کسی طرح مہرِ نبوت دیکھ سکوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کیفیت بھانپ لی تو اپنی چادر مبارک کو قصداً اس طرح ہٹایا کہ دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت نمایاں ہوگئی جونہی سلمانؓ کی نظر اس مبارک مہر پر پڑی وہ بے اختیار آگے بڑھے اس پر جھک گئے اسے بوسہ دیا اور شدتِ مسرت سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے برسوں کے متلاشی کو منزل مل گئی تھی اور حق کے متلاشی کا سفر اپنے حقیقی مقصود تک پہنچ چکا تھا [2] _
عبد الله بن سلام رضی اللہ عنہ
عبد ﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ یہود کے جلیل القدر عالم تھے آپ کا نام حصین تھا والد کا نام سلام اور دادا کا نام حارث ہے کنیت ابو یوسف ہے مسلمان ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا اسلامی نام عبد اللہ تجویز کیا عبداللہ بن سلام بہت خوب صورت اور وجیہ جوان تھے .[3]
آپ کا شجرہ نسب اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی حضرت یوسف علیہ السلام سے ملتا ہے، اسی عالی نسبت اور خاندانی شرافت کی وجہ سے آپ یہود کے ہاں مسلّمہ روحانی شخصیت تصور کئے جاتے تھے اور دور دراز کے علاقوں سے یہودی آپکی زیارت کےلئے آتے تھے، جب انہوں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے ہیں تو وہ اپنے علم کی بنیاد پر تحقیق کرنے کےلئے حاضر خدمت ہوئے وہ خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں _
لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ.
"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کے استقبال کےلئے یہ کہتے ہوئے تیزی کے ساتھ بڑھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں تو میں بھی لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کےلئے آیا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے" مزید فرماتے ہیں "سب سے پہلی بات جو (میں نے سنی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُونَ الجَنَّةَ بِسَلَامٍ.[4]
"اے لوگو! سلام کو عام کرو (یعنی ہر ایک کو سلام کرو) کھانا کھلاؤ، نماز پڑھو جب لوگ سور ہے ہوں (یعنی نماز تہجد پڑھو) تو آسانی سے جنت میں داخل ہوجاؤگے"
پھر اگلے دن حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند ایک سوال کئے، وہ فرماتے ہیں:
إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاَثٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ: مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الجَنَّةِ؟ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَنْزِعُ الوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ؟ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَنْزِعُ إِلَى أَخْوَالِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَبَّرَنِي بِهِنَّ آنِفًا جِبْرِيلُ» قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَاكَ عَدُوُّ اليَهُودِ مِنَ المَلاَئِكَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ المَشْرِقِ إِلَى المَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا الشَّبَهُ فِي الوَلَدِ: فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَشِيَ المَرْأَةَ فَسَبَقَهَا مَاؤُهُ كَانَ الشَّبَهُ لَهُ، وَإِذَا سَبَقَ مَاؤُهَا كَانَ الشَّبَهُ لَهَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ.[5]
"میں نے عرض کی کہ میں آپ سے تین سوالات پوچھنا چاہتا ہوں، جن کے جواب نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا: (1) قیامت کی سب سے پہلی نشانی کیا ہے؟ (2) اہل جنت سب سے پہلے کونسا کھانا کھائیں گے؟ (3) کس وجہ سے بچہ کبھی اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور کبھی اپنے ماموؤں کی مشابہت اختیار کر لیتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ابھی ابھی مجھے جبریل نے ان کے متعلق بتایا ہے، عبداللہ بن سلام کہنے لگے: وہ فرشتہ تو قوم یہود کا دشمن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: 'قیامت کی پہلی نشانی آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی، اہل جنت سب سے پہلے جو کھانا تناول فرمائیں گے وہ مچھلی کے جگر کےساتھ کا بڑا ہوا ٹکڑا ہوگا اور بچے کی مشاہبت اس طرح ہوتی ہے کہ جب مرد بیوی سے جماع کرتا ہے تو اگر مرد کا پانی عورت غالب آجائے تو بچہ باپ کے مشابہ ہوتا اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی سے بڑھ جائے تو بچے عورت کے مشابہت ہوجاتا ہے' تب عبد اللہ کو سلام (کو یقین آگیا تو انہوں) نے کہا: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الله (میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں)" .
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ
حضرت عدی بن حاتمؓ کی کنیت ابو ظریف اور بعض اہلِ سیر کے نزدیک ابو وہب تھی آپ عرب کے مشہور سخی "حاتم طائی" کے فرزند اور قبیلۂ طَی کے موروثی سردار تھے ابتدا میں بت پرست تھے اور اپنے قبیلے کے معبود "فُلْس" کی عبادت کرتے تھے لیکن جب اسکی بے بسی اور بے اختیاری کا یقین ہوا تو بت پرستی ترک کر کے عیسائیت اختیار کر لی قبیلے کی سرداری کے باعث آپ اپنی قوم کی غنیمت کا چوتھا حصہ وصول کرتے تھے اور اسے اپنا جائز حق سمجھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام جب جزیرۂ عرب میں پھیلنے لگی اور یکے بعد دیگرے اسلام کو فتوحات حاصل ہونے لگیں تو عدی بن حاتمؓ شدید اضطراب کا شکار ہو گئے ایک طرف قبائلی سرداری اور اقتدار کا غرور انہیں اسلام قبول کرنے سے روکتا تھا اور دوسری طرف انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ اس دعوت کا راستہ اب روکا نہیں جا سکتا، چنانچہ ان کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور نفرت بڑھتی چلی گئی حضرت عدیؓ خود اپنی داستان ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی قوم کا سردار تھا جب میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبر سنی تو پورے عرب میں شاید ہی کوئی شخص مجھ سے زیادہ آپ سے نفرت کرتا ہو، میں عیسائی مذہب کا پیروکار تھا اور اپنے آپ کو بڑا دین دار سمجھتا تھا جوں جوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیوں کی خبریں پہنچتیں میری دشمنی اور نفرت میں اضافہ ہوتا جاتا" اسی اندیشے کے پیشِ نظر انہوں نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ چند عمدہ اور تیز رفتار اونٹنیاں ہر وقت تیار رکھے تاکہ اگر مسلمانوں کا لشکر ان کے علاقے کی طرف بڑھے تو فوراً شام کی طرف نکل جائیں چند روز بعد غلام گھبرایا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ "اے عدی! اگر اپنی جان بچانی ہے تو اب دیر نہ کیجئے میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے جھنڈے ہماری طرف بڑھتے دیکھ لیے ہیں" یہ سنتے ہی انہوں نے اپنی بیوی اور بچوں کو اونٹنیوں پر سوار کیا اور شام کی طرف روانہ ہو گئے مگر جلد بازی میں اپنی بہن "سفانہ بنت حاتم" کو وہیں چھوڑ گئے ان کے روانہ ہونے کے بعد مسلمانوں کا لشکر آیا قبیلۂ طَی مغلوب ہوا اور بہت سے افراد قیدی بنائے گئے جن میں "سفانہ" بھی شامل تھیں انہیں مدینہ منورہ لایا گیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد حاتم طائی کی سخاوت اور اپنی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے رہائی کی درخواست کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف انہیں آزاد فرمایا بلکہ عزت و احترام کے ساتھ سامانِ سفر دے کر رخصت کیا سفانہ شام پہنچیں تو بھائی سے نہایت شکوہ کیا اور کہا کہ "تم اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے گئے مگر اپنی بہن کو دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا" عدیؓ نے خاموشی سے ساری ملامت سنی معذرت کی تو سفانہ کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔ پھر انہوں نے کہا کہ "بھائی! میری رائے ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤاگر وہ واقعی اللہ کے نبی ہیں تو ان پر ایمان لانے میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی سعادت ہے اور اگر وہ ایک فرمانروا ہیں تو بھی تم حاتم طائی کے بیٹے ہو وہ تمہاری عزت کریں گے" بہن کا یہ مخلصانہ مشورہ عدیؓ کے دل میں اتر گیا انہوں نے سوچا کہ ایک مرتبہ خود جا کر حقیقت معلوم کرنی چاہیے اگر وہ سچے نبی ہوئے تو ان کی پیروی اختیار کروں گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے کوئی نقصان نہ ہوگا چنانچہ وہ شام سے مدینہ منورہ روانہ ہوئے حضرت عدیؓ بیان کرتے ہیں کہ "جب میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرامؓ کے درمیان تشریف فرما تھے لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! یہ عدی بن حاتم ہیں' میں بغیر کسی امان نامے یا معاہدے کے حاضر ہوا تھا" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی شفقت سے ان کا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑے راستے میں ایک ضعیف عورت اپنے ایک بچے کے ساتھ حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ "یارسول اللہ! مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے" آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً رک گئے نہایت توجہ اور تحمل کے ساتھ اس کی پوری بات سنی اس کی ضرورت پوری کی پھر عدیؓ کو ساتھ لے کر آگے بڑھے، عدیؓ کہتے ہیں: "میں نے دل ہی دل میں کہا: اللہ کی قسم! یہ کسی بادشاہ کا طریقہ نہیں ہو سکتا۔" گھر پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پتوں سے بھرا ہوا ایک تکیہ میری طرف بڑھایا اور فرمایا: "اس پر بیٹھ جاؤ" میں نے عرض کیا: "یارسول اللہ! آپ اس پر تشریف رکھیں" لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا، مجھے تکیے پر بٹھایا اور خود زمین پر تشریف فرما ہو گئے میں نے دل میں کہا: "اللہ کی قسم! یہ کسی دنیا دار بادشاہ کی شان نہیں بلکہ اللہ کے نبی کی شان ہے۔" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "اے عدی! کیا تم اس لیے اسلام سے دور ہو کہ لا إله إلا الله کہنا تمہیں گوارا نہیں؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبودِ برحق ہے؟" میں نے عرض کیا: "نہیں۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کیا تم اس لئے بھاگ رہے ہو کہ اللہ اکبر کہنا پڑے؟ کیا اللہ سے بڑھ کر بھی کوئی ہستی ہے؟" میں نے عرض کیا: "ہرگز نہیں۔" پھر فرمایا: "اے عدی! اسلام قبول کر لو تم محفوظ ہو جاؤگے" میں نے کہا "میں تو ایک دیندار آدمی ہوں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں تمہارے دین کو تم سے زیادہ جانتا ہوں کیا تم رَکُو لسی نہیں ہو؟ اور کیا تم اپنی قوم کی غنیمت کا چوتھا حصہ وصول نہیں کرتے حالانکہ تمہارے مذہب میں بھی یہ تمہارے لئے جائز نہیں؟" یہ سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا کیونکہ یہ بات میرے اور میری قوم کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ اسی وقت مجھے یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کے سچے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ غیب کی خبریں عطا فرماتا ہے۔" اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "شاید تمہیں مسلمانوں کی غربت اسلام قبول کرنے سے روک رہی ہے اللہ کی قسم! وہ وقت دور نہیں جب مال اس قدر عام ہوگا کہ زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ ملے گا۔ شاید تم مسلمانوں کی کمزوری دیکھ کر رکے ہوئے ہو مگر وہ وقت بھی آئے گا جب ایک عورت تنہا حیرہ سے مکہ تک سفر کرے گی اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا اور عنقریب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے مسلمانوں کے قبضے میں ہوں گے۔" عدیؓ نے تعجب سے پوچھا: "کسریٰ بن ہرمز کے خزانے؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں کسریٰ بن ہرمز کے خزانے۔" ان دل نشین گفتگوؤں بے مثال اخلاق، عاجزی، حسنِ سلوک اور ان غیبی خبروں نے میرے دل کی تمام تاریکیاں دور کر دیں۔ میں نے فوراً عرض کیا: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أنك رسول الله، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بے حد مسرور ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور خوشی سے دمک اٹھا اور آپ نے مجھے ایک انصاری صحابی کے ہاں مہمان ٹھہرایا .[6]
ضماد الأزدی رضی اللہ عنہ
حضرت ضِماد بن ثعلبہ الأزدیؓ کا تعلق عرب کے معروف قبیلہ اَزدِ شنوءہ سے تھا زمانۂ جاہلیت میں وہ طبابت اور جراحی کے ماہر تھے،اس کے ساتھ وہ دم جھاڑ بھی کرتے تھے خصوصاً جنون اور آسیب کے علاج میں ان کی بڑی شہرت تھی۔ لوگ دور دراز علاقوں سے ان کے پاس علاج کی غرض سے آتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد ضمادؓ حج یا عمرے کی غرض سے مکہ مکرمہ آئے مکہ پہنچ کر انہوں نے قریش کے لوگوں سے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ) جنون میں مبتلا ہو گئے ہیں قریش کی یہ بات سن کر انہوں نے دل میں سوچا کہ چونکہ میں اس مرض کا علاج جانتا ہوں اس لیے مناسب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر انہیں دم کروں شاید اللہ تعالیٰ میرے ہاتھوں انہیں شفا عطا فرما دے، اسی خیال کے تحت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا "اے محمد! میں جنون اور آسیب کے مریضوں پر دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھوں شفا عطا فرما دیتا ہے اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو بھی دم کر دوں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن کر نہ غصے کا اظہار فرمایا نہ ملامت کی اور نہ ہی ان کی جہالت کا مذاق اڑایا بلکہ نہایت وقار شفقت اور حکمت کے ساتھ ارشاد فرمایا _
إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ.
"یقیناً تمام تعریف اللہ ہی کےلئے ہے، ہم اسی کی حمد کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ چھوڑ دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اما بعد۔"
ضمادؓ صاحبِ فہم حکیم اور زبان و بیان کے رموز سے آشنا تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مبارک کلمات سنتے ہی انہوں نے محسوس کیا کہ یہ کسی عام انسان کا کلام نہیں ان کے معانی کی گہرائی الفاظ کی جامعیت اور بیان کی تاثیر نے ان کے دل کو اپنی گرفت میں لے لیا انہوں نے بے اختیار عرض کیا: "یہ کلمات ایک مرتبہ پھر سنائیے۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی خطبہ تین مرتبہ دہرایا۔ یہ سن کر ضمادؓ پکار اٹھے: "میں نے کاہنوں، جادو گروں اور شاعروں کا کلام بہت سنا ہے مگر اللہ کی قسم! آپ کے ان کلمات جیسا کلام کبھی نہیں سنا، یہ تو فصاحت و بلاغت کے سمندر کی انتہائی گہرائی تک پہنچا ہوا کلام ہے۔" پھر عرض کیا: "اپنا دستِ مبارک بڑھائیے، میں آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرتا ہوں" چنانچہ اسی پہلی ملاقات میں وہ مشرف بہ اسلام ہوگئے [7] یہ واقعہ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والے چند جملوں نے ایک صاحبِ علم، صاحبِ ذوق اور ماہرِ فن انسان کے دل کی دنیا بدل دی، یہاں تک کہ وہ چند لمحوں میں اسلام کے حلقۂ بگوش ہو گئے .
عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
عروہ بن مسعود بن معتب، قبیلۂ ثقیف کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، وہ طائف کے بڑے سرداروں میں شمار ہوتے تھے اور اپنی دانائی، قیادت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے عرب میں معروف تھے۔ عربوں میں ان کے مقام کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قریش سمجھتے تھے کہ اگر اللہ کو نبی بنانا ہوتا تو (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے) مکہ کے ولید بن مغیرہ کو بناتا یا طائف سے عروہ بن مسعود کو بناتا سنہ 6 ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کرنے کا پروگرام بنایا اور صحابہ کرام کو لے مکہ کی جانب عازم سفر ہوئے مکہ کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ مکہ والوں نے آپ کا راستہ روکنے کی پوری تیاری کر رکھی ہے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ذریعے قریش کو صلح کا پیغام بھیجا بسرداران قریش اس پر غور و خوض کرر ہے تھے اور عروہ بن مسعود بھی ان دنوں کسی غرض سے مکہ آئے ہوئے تھے اور اس مجلس میں موجود تھےکہنے لگے میری قوم کے لوگو! کیا تم اولاد کی طرح (میرے خیر خواہ) اور میں تم پر باپ کی طرح شفقت نہیں کرتا؟ انھوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں! عروہ نے کہا: کیا تم مجھ پر کوئی الزام لگاتے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، عروہ نے کہا: اگر تم چاہو میں جا کر محمد سے بات کروں؟ قریش نے اجازت دے دی، عروہ قریش کے سفیر کی حیثیت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بات چیت کی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، ادب اور اطاعت کا منظر دیکھا تو واپس جا کر قریش سے کہا: "اللہ کی قسم! میں بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں اور قیصر و کسریٰ، نیز نجاشی کے دربار بھی دیکھ آیا ہوں مگر میں نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اسکی ایسی تعظیم کرتے ہوں جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں اللہ کی قسم! جب وہ تھوکتے ہیں تو ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر پڑتا ہے اور وہ اس کو اپنے چہرے پر مل لیتا ہے اور جب وہ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ فوراً ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ وضو کرتے ہیں تو لوگ ان کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے لیے لڑتے مرتے ہیں اور جب گفتگو کرتے ہیں تو ان کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں اور تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتے، بے شک انھوں نے تمھیں ایک اچھی بات کی پیشکش کی ہے، تم اسے قبول کرلو. [8]"
غور کریں! عروہ بن مسعود اس وقت مسلمان نہیں تھےاس لئے ان کی یہ گواہی ایک غیر مسلم غیر جانب دار اور با اثر عرب سردار کی شہادت ہے انہوں نے دنیا کے عظیم حکمرانوں (قیصر، کسریٰ اور نجاشی) کے دربار دیکھنے کے باوجود بلکہ ان کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا ہے .
ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ
حضرت ثُمامہ بن اُثال حنفیؓ قبیلۂ بنو حنیفہ کے سربراہ اور یمامہ (موجودہ ریاض کے علاقے) کے بااثر حکمران تھے، عرب کے دیگر قبائلی سرداروں کی طرح وہ بھی اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین مخالفین میں شمار ہوتے تھے بعض روایات کے مطابق وہ عمرے کی نیت سے مکہ جا رہے تھے جبکہ بعض اہلِ سیر نے لکھا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلے تھے، راستے میں حضرت محمد بن مسلمہؓ کی قیادت میں واپس آنے والے ایک اسلامی دستے نے انہیں گرفتار کر لیا۔ صحابۂ کرامؓ انہیں مدینہ منورہ لائے اور مسجدِ نبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے بارے میں فیصلہ فرمائیں، اگلی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور نہایت اطمینان سے دریافت فرمایا: "اے ثمامہ! تمہارا کیا خیال ہے؟" ثمامہ نے اپنی قبائلی نخوت اور سخت لہجے میں جواب دیا:
عِنْدِي خَيْرٌ يَا مُحَمَّدُ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ المَالَ فَسَلْ مِنْهُ مَا شِئْتَ
"اے محمد! میرے پاس خیر ہی خیر ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، اور اگر احسان کرکے مجھے چھوڑ دیں گے تو ایک قدردان شخص پر احسان کریں گے، اور اگر مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں طلب کر لیجیے۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر سخت اور گستاخانہ جواب پر بھی کوئی ناگواری ظاہر نہ فرمائی، نہ کوئی جواب دیا، بلکہ خاموشی سے تشریف لے گئے، دوسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس ان کے پاس تشریف لائے، خیریت دریافت کی، مگر ثمامہ نے وہی جواب دہرایا۔ تیسرے دن بھی یہی منظر دہرایا گیا۔ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لہجے میں کوئی تبدیلی آئی، نہ ثمامہ کے جواب میں کوئی فرق، آخرکار تیسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرامؓ سے فرمایا: "ثُمامہ کو آزاد کر دو۔" یہ فیصلہ ثمامہ کےلئے غیر متوقع تھا وہ ان چند دنوں میں مسجدِ نبوی کا ماحول، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسنِ اخلاق، صحابۂ کرامؓ کی عبادت، نظم و ضبط، باہمی محبت اور ایک قیدی کے ساتھ ان کے حسنِ سلوک کو مسلسل دیکھ رہے تھے۔ وہ حیران تھے کہ جس شخص کے قتل کے ارادے سے وہ نکلے تھے، اس نے نہ ان سے انتقام لیا، نہ فدیہ طلب کیا، نہ سختی کی، بلکہ بلا کسی شرط کے آزاد کر دیا، آزادی کے بعد وہ مسجد کے قریب ایک کھجور کے باغ میں گئے، غسل کیا اور پھر فوراً مسجدِ نبوی واپس آئے، حاضر ہو کر بلند آواز سے کلمۂ شہادت پڑھا اور اسلام قبول کر لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر نہایت رقت آمیز انداز میں عرض کیا:
يَا مُحَمَّدُ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الوُجُوهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ البِلاَدِ إِلَيَّ.[9]
"اے محمد! اللہ کی قسم! روئے زمین پر آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ مجھے ناپسند نہ تھا مگر آج آپ کا چہرہ مجھے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین مجھے ناپسند نہ تھا مگر آج آپ کا دین مجھے تمام ادیان سے زیادہ محبوب ہے۔ اور اللہ کی قسم! آپ کے شہر سے بڑھ کر کوئی شہر مجھے ناپسند نہ تھا مگر آج آپ کا شہر مجھے تمام شہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے۔"
یہ الفاظ محض ایک نومسلم کے جذبات نہ تھے بلکہ اس قلبی انقلاب کی سچی ترجمانی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق، حلم، عفو و درگزر اور بے مثال کردار نے ایک سخت ترین دشمن کے دل میں برپا کر دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ دشمنی کی انتہا سے محبت کی معراج تک کا یہ سفر صرف تین دن میں طے ہوگیا .
طفيل بن عمرو الدوسی رضی اللہ عنہ
حضرت طفیل بن عمرو دَوسیؓ قبیلۂ دَوس کے نامور سردار، ممتاز شاعر، زیرک سیاست دان اور نہایت صاحبِ عقل و فراست شخصیت تھے، ان کا لقب ذو النور تھا۔ یمن کے بعض علاقوں میں ان کے قبیلے کو نیم خود مختار حیثیت حاصل تھی اس لیے عرب قبائل میں ان کا بڑا احترام کیا جاتا تھا نبوت کے گیارہویں سال وہ حج عمرے یا کسی دوسری ضرورت کےلئے مکہ مکرمہ آئے، قریش نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، مگر ساتھ ہی انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدظن کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا: "اے طفیل! آپ ہمارے شہر میں تشریف لائے ہیں لیکن یہاں ایک شخص نے ہمیں شدید آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس نے ہماری جماعت کو منتشر کر دیا ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا اور خاندانوں میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ اس کی باتوں میں ایسا سحر ہے کہ وہ باپ اور بیٹے، بھائی اور بھائی، حتیٰ کہ میاں بیوی کے درمیان بھی جدائی ڈال دیتا ہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں آپ اور آپ کی قوم بھی اس فتنے کا شکار نہ ہو جائیں، اس لیے خبردار! نہ اس سے بات کیجیے اور نہ اس کی کوئی بات سنیے۔" حضرت طفیلؓ خود اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "قرش برابر مجھے ڈراتے رہے، یہاں تک کہ میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کروں گا اور نہ ان کی کوئی بات سنوں گا۔ اگلی صبح جب مسجد حرام جانے لگا تو میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی تاکہ ان کی آواز کا ایک لفظ بھی میرے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔" لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ حضرت طفیلؓ کہتے ہیں: "میں مسجد حرام پہنچا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانۂ کعبہ کے قریب نماز ادا فرما رہے ہیں۔ میں آپ کے قریب جا کھڑا ہوا۔ باوجود اس کے کہ میں نے اپنے کان بند کر رکھے تھے، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپ کے مبارک کلمات میں سے کچھ میرے کانوں تک پہنچ جائیں۔ جب میں نے جو کلام سنا، وہ نہایت دل نشین اور پراثر تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: 'میری ماں مجھ پر روئے! میں ایک سمجھ دار آدمی اور شاعر ہوں۔ اچھے اور برے کلام میں امتیاز کر سکتا ہوں۔ آخر مجھے کیا چیز روکتی ہے کہ اس شخص کی بات پوری طرح سن لوں؟ اگر وہ حق ہو تو قبول کر لوں اور اگر باطل ہو تو رد کر دوں۔' یہ سوچ کر میں وہیں ٹھہر گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر اپنے گھر تشریف لے گئے تو میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے اور اجازت لے کر اندر حاضر ہوگیا، عرض کیا: 'اے محمد! آپ کی قوم نے میرے سامنے آپ کے متعلق بہت سی باتیں بیان کیں۔ انہوں نے مجھے اس قدر ڈرایا کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی تک ٹھونس لی تھی تاکہ آپ کی بات نہ سن سکوں، مگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپ کا کچھ کلام میرے کانوں تک پہنچے، اور میں نے اسے نہایت عمدہ پایا۔ اب آپ مجھے اپنا دین پیش کیجیے۔' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت شفقت سے انہیں اسلام کی دعوت دی، اللہ تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی اور قرآنِ مجید کی چند آیات تلاوت فرمائیں۔ حضرت طفیلؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اس سے زیادہ حسین کلام کبھی نہیں سنا تھا، اور نہ اس سے بڑھ کر معتدل، پاکیزہ اور حکیمانہ دین دیکھا تھا۔" اسی مجلس میں انہوں نے کلمۂ شہادت پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔ حضرت طفیلؓ کی یہ پہلی ملاقات اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ قریش کے برسوں کے پروپیگنڈے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند مبارک جملے اور قرآنِ کریم کی چند آیات چند لمحوں میں بے اثر کر گئیں۔ جس شخص نے اپنے کانوں میں روئی اس لیے ٹھونسی تھی کہ کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہ سن لے، وہی چند لمحوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے آپ کا جاں نثار ساتھی بن گیا [10] _
ایک بدو کا قبول اسلام
حضرت انس بن مالک رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ جو بھی شخص اسلام قبول کرتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال طلب کرتا، آپ اسے ضرور عطا فرماتے۔ ایک مرتبہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان (وادی میں چرنے والی) بکریوں کا ایک ریوڑ عطا کر دیا۔ جب وہ شخص اپنی قوم کے پاس پہنچا انہیں کہنے لگا:
يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ [11]
"اے میری قوم! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا زیادہ مال دیتے ہیں کہ پھر فقر و فاقہ کا کوئی ڈر نہیں رہتا۔"
حاصل مطالعہ
ویسے تو ہر شخص جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاقات کرتا تھا متأثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا لیکن اس مضمون میں صرف ان چند ایک شخصیات کا تذکرہ بطور نمونہ پیش کیا ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی پہلی ملاقات کے احوال بیان کیے اور اپنے تأثرات کا اظہار کیا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی ان پہلی ملاقاتوں کے واقعات کو محفوظ رکھا اور محدثین و سیرت نگاروں نے انہیں روایت کیا، تاکہ آنے والی امت یہ جان سکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت میں وہ کون سی صفات تھیں جنہوں نے دلوں کو مسخر کر لیا اور دشمنوں کو بھی دوست بنا دیا۔۔ ان تأثرات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق، نورانیت، وقار، شفقت اور دعوت کے اسلوب کی حقیقی جھلک ملتی ہے، جنہیں ہم کافروں کے سامنے پیش کرسکتے ہیں، ان ملاقاتوں سے دعوتِ دین کے داعیوں کے لیے قیمتی اسباق ملتے ہیں کہ ایک داعی کی مسکراہٹ، حسنِ استقبال، نرم گفتگو، صبر، شفقت اور اخلاص بعض اوقات طویل تقاریر سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں، آج امتِ مسلمہ کو بھی اسی سیرتِ طیبہ سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق، نرم مزاجی، عدل، شفقت، حکمت اور خیرخواہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ معاشرے میں محبت، اخوت اور دین کی صحیح دعوت بھی عام ہو سکتی ہے .
ـــــــ حواشی ــــــــ
[1] المعجم الكبير ل
لطبراني (4/ 48) :3605، دلائل النبوة لأبي نعيم، ص: 337، :238، تاريخ الطبري :11/ 578
[2] مسند أحمد (39/ 140): 23737
[3] صحيح مسلم :2484
[4] سنن الترمذی :2485، الطبقات الكبرى: (1/ 181)
[5] صحيح بخاری :3329
[6] طبقات لابن سعد : 1/642: 291
[7] صحیح مسلم : 868
[8] صحیح بخاری :2731-2732
[9] صحيح بخاری :4372، صحيح مسلم :1764
[10] سیرت النبی لابن ہشام :1/386-387
[11] صحيح مسلم :2312