اسلامی بینکاری کی اصطلاحات
کسی بھی علم کو سمجھنے کی پہلی سیڑھی اس کی اصطلاحات ہیں۔ اسلامی بینکاری میں یہ مشکل اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہاں فقہ کی صدیوں پرانی عربی اصطلاحات اور جدید بینکاری کے انگریزی الفاظ ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ بینک کا نمائندہ کہتا ہے: ’’آپ کی فنانسنگ مرابحہ پر ہے، سیکیورٹی کے لیے رہن ہوگا، اور آپ کو ایک انڈرٹیکنگ پر دستخط کرنے ہوں گے‘‘؛ اور عام آدمی ان الفاظ کے بوجھ تلے دب کر بغیر سمجھے دستخط کر دیتا ہے۔
یہ لغت اسی مشکل کا حل ہے۔ اس میں اسلامی بینکاری کی پچاس سے زائد اصطلاحات کو آٹھ خاندانوں میں تقسیم کر کے بیان کیا گیا ہے۔ ہر اصطلاح کی تعریف ’’جامع‘‘ بھی ہے، یعنی اس کے تمام افراد کو شامل کرتی ہے، اور ’’مانع‘‘ بھی، یعنی غیر متعلقہ چیزوں کو اس سے خارج کرتی ہے۔ ساتھ ہی ہر اصطلاح کی انگریزی، شرعی بنیاد اور ایک عملی مثال بھی دی گئی ہے۔
اسلامی بینکاری کی اصطلاحات کیسے پڑھیں؟
اسلامی بینکاری کی تقریباً تمام پروڈکٹس چند بنیادی معاہدوں سے بنتی ہیں، جنہیں فقہ کی زبان میں ’’عقود‘‘ کہا جاتا ہے۔ عقد (Contract) دو فریقوں کے درمیان ایسا معاہدہ ہے جس سے شرعی حقوق اور ذمہ داریاں پیدا ہوں۔ جس طرح چند حروف سے ہزاروں الفاظ بنتے ہیں، اسی طرح ان چند عقود کو ملا کر اسلامی بینک اپنی ہر پروڈکٹ تیار کرتے ہیں۔ اس لیے اس لغت کو خاندانوں کی ترتیب سے پڑھیے۔
پہلا خاندان: بنیادی شرعی اصول
یہ وہ اصول ہیں جن پر ہر اسلامی مالیاتی معاملہ پرکھا جاتا ہے۔
1۔ ربا (Riba / Interest):
قرض یا ادھار کے معاملے میں بغیر کسی عوض کے مشروط اضافہ۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
- ربا النسیئہ (Riba al-Nasi’ah): قرض پر مدت کے بدلے طے شدہ اضافہ؛ بینکوں کا سود اسی قسم کا ہے۔
- ربا الفضل (Riba al-Fadl): سونے، چاندی، کرنسی یا ہم جنس غذائی اجناس کے تبادلے میں کمی بیشی (صحیح مسلم، حدیث: 1587)۔
2۔ غرر (Gharar / Excessive Uncertainty):
ایسا معاملہ جس کی بنیادی چیزوں، یعنی چیز، قیمت، مقدار یا مدت، میں اتنا ابہام ہو کہ کسی فریق کے دھوکا کھانے کا قوی امکان ہو۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے غرر والی بیع سے منع فرمایا (صحیح مسلم، حدیث: 1513)۔ معمولی غرر جو ہر معاملے میں ہوتا ہے، معاف ہے؛ ممانعت بڑے غرر کی ہے۔
3۔ میسر یا قمار (Maysir / Gambling):
ایسا معاملہ جس میں ایک کا فائدہ لازماً دوسرے کا نقصان ہو، اور نتیجہ محنت یا پیداوار کے بجائے محض قسمت پر ہو (المائدۃ: 90)۔
4۔ الخراج بالضمان (Profit follows liability):
نفع اسی کا ہے جو نقصان کی ذمہ داری اٹھائے (سنن ابی داود، حدیث: 3508)۔ اسلامی بینکاری کا مرکزی اصول یہی ہے: بینک نفع اسی وقت لے سکتا ہے جب وہ کسی چیز کا خطرہ (Risk) بھی اٹھائے۔
5۔ الغنم بالغرم (Gain with risk):
فائدہ نقصان کے ساتھ جڑا ہے؛ یہ فقہی قاعدہ اوپر والے اصول ہی کی توسیع ہے۔
6۔ ضمان (Daman / Liability):
کسی چیز کے ہلاک یا ضائع ہونے کی صورت میں نقصان کی ذمہ داری۔ جس کے ضمان میں کوئی چیز ہو، اسی کا اس پر نفع جائز ہے۔
7۔ قبض (Qabd / Possession):
کسی چیز پر قبضہ۔ اس کی دو صورتیں ہیں:
- حقیقی قبضہ (Physical Possession): چیز عملاً ہاتھ میں آ جائے۔
- حکمی قبضہ (Constructive Possession): چیز ہاتھ میں نہ ہو، مگر اس کا خطرہ اور اختیار منتقل ہو جائے؛ مثلاً گودام کی رسید آپ کے نام ہو جائے۔
- بیچنے سے پہلے قبضہ ضروری ہے، کیونکہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے ایسی چیز کا نفع لینے سے منع فرمایا جس کا ضمان نہ اٹھایا ہو (جامع الترمذی، حدیث: 1234)۔ AAOIFI نے قبضے پر الگ شرعی معیار، یعنی معیار نمبر 18، جاری کیا ہے۔
دوسرا خاندان: خرید و فروخت کے عقود
8۔ بیع (Bai / Sale):
کسی چیز کی ملکیت قیمت کے بدلے منتقل کرنا۔ اسلامی بینکاری کی بنیاد یہی ہے: ’’وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا‘‘ (البقرة: 275)۔
9۔ مرابحہ (Murabaha / Cost-Plus Sale):
ایسی بیع جس میں بیچنے والا اپنی لاگت ظاہر کر کے اس پر طے شدہ نفع کے ساتھ بیچتا ہے۔ اسلامی بینکوں کی سب سے عام فنانسنگ یہی ہے۔ تفصیل اسی سلسلے کے مرابحہ والے بلاگ میں ہے۔
10۔ مرابحہ للآمر بالشراء (Murabaha to the Purchase Orderer):
بینکوں میں رائج مرابحہ کی وہ صورت جس میں گاہک پہلے بینک کو کوئی چیز خریدنے کا آرڈر دیتا ہے اور خریدنے کا وعدہ کرتا ہے؛ بینک وہ چیز خرید کر اسے نفع پر بیچتا ہے۔ AAOIFI کا شرعی معیار نمبر 8 اسی کے بارے میں ہے۔
11۔ مساومہ (Musawamah / Negotiated Sale):
ایسی بیع جس میں بیچنے والا اپنی لاگت ظاہر نہیں کرتا، اور قیمت باہمی گفتگو سے طے ہوتی ہے۔ بازار کی عام خرید و فروخت یہی ہے۔ مرابحہ سے فرق: مرابحہ میں لاگت بتانا لازم ہے، مساومہ میں نہیں۔
12۔ بیع مؤجل (Bai Muajjal / Deferred Payment Sale):
ایسی بیع جس میں چیز فوراً دے دی جائے اور قیمت بعد میں، یکمشت یا قسطوں میں، ادا ہو۔ ادھار کی وجہ سے نقد سے زیادہ قیمت رکھنا جائز ہے، بشرطیکہ قیمت سودا کرتے وقت ایک بار طے ہو جائے اور بعد میں تاخیر پر نہ بڑھے۔
13۔ سلم (Salam / Advance Payment Sale):
ایسی بیع جس میں پوری قیمت پیشگی ادا ہو اور چیز ایک مقررہ تاریخ پر بعد میں دی جائے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو سلم کرے، وہ معلوم پیمانے، معلوم وزن اور معلوم مدت کے ساتھ کرے (صحیح البخاری، حدیث: 2240)۔ کسانوں کی فنانسنگ کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ AAOIFI کا معیار نمبر 10۔
14۔ استصناع (Istisna / Manufacturing Contract):
کسی کاریگر یا کارخانے سے کوئی چیز بنوانے کا معاہدہ، جس کی قیمت پیشگی، قسطوں میں یا بعد میں دی جا سکتی ہے۔ سلم سے فرق: استصناع صرف بنوائی جانے والی چیزوں میں ہوتا ہے، اور اس میں پوری قیمت پیشگی دینا ضروری نہیں۔ AAOIFI کا معیار نمبر 11۔
15۔ متوازی سلم اور متوازی استصناع (Parallel Salam / Parallel Istisna):
بینک ایک فریق سے سلم یا استصناع کرتا ہے، اور اسی طرح کا ایک الگ اور آزاد معاہدہ کسی دوسرے فریق سے کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ دونوں معاہدے ایک دوسرے پر موقوف نہ ہوں۔
16۔ صرف (Sarf / Currency Exchange):
سونے، چاندی یا کرنسی کا آپس میں تبادلہ۔ اس میں دونوں طرف سے فوری قبضہ ضروری ہے، اور ہم جنس ہو تو برابری بھی۔ فارن ایکسچینج کے لین دین کا حکم اسی سے نکلتا ہے۔
17۔ بیع العینہ (Bai al-Inah / Sale and Buy-back):
کسی کو چیز ادھار پر زیادہ قیمت میں بیچ کر، اسی سے فوراً نقد کم قیمت پر واپس خرید لینا۔ اس کا نتیجہ نقد کم دے کر زیادہ وصول کرنا ہے، اس لیے یہ سود کا حیلہ ہے، اور جمہور فقہا کے نزدیک ناجائز ہے۔
18۔ تورق (Tawarruq / Monetization):
نقد حاصل کرنے کے لیے کوئی چیز ادھار پر خریدنا، اور پھر اسے کسی تیسرے فریق کو نقد بیچ دینا۔
- سادہ تورق: جب گاہک خود بازار میں جا کر بیچے؛ اسے بعض فقہا نے جائز کہا ہے۔
- منظم تورق (Organized Tawarruq): جب پورا عمل بینک خود ترتیب دے؛ اسے اسلامی فقہ اکیڈمی نے ناجائز قرار دیا ہے، اور مفتی تقی عثمانی اسے شدید مجبوری تک محدود رکھنے کے قائل ہیں۔
19۔ کموڈیٹی مرابحہ (Commodity Murabaha):
بین الاقوامی منڈیوں میں دھاتوں یا اجناس کی خرید و فروخت کے ذریعے رقم کا انتظام؛ عموماً تورق ہی کی ایک صورت، اس لیے اس پر وہی تحفظات ہیں۔ AAOIFI کا معیار نمبر 20 منظم منڈیوں میں اجناس کی فروخت کے بارے میں ہے۔
20۔ بیع الدین (Bai al-Dayn / Sale of Debt):
قرض یا واجب الادا رقم کو کسی دوسرے کو بیچنا۔ اگر یہ کم یا زیادہ قیمت پر ہو، تو سود ہے؛ اسی لیے اسلامی بینک اپنی ’’قابلِ وصول رقوم‘‘ کو ڈسکاؤنٹ پر نہیں بیچ سکتے۔
تیسرا خاندان: اجارہ (کرایہ داری)
21۔ اجارہ (Ijarah / Lease):
کسی چیز کا فائدہ مقررہ مدت کے لیے مقررہ کرائے پر دوسرے کو دینا، جبکہ ملکیت مالک ہی کے پاس رہے۔ مالک ہونے کی وجہ سے چیز کے بڑے نقصان کا ذمہ دار بینک ہوتا ہے۔ AAOIFI کا معیار نمبر 9۔
22۔ اجارہ منتہیہ بالتملیک (Ijarah Muntahia Bittamleek):
وہ اجارہ جو ملکیت کی منتقلی پر ختم ہو؛ مدت پوری ہونے پر چیز ایک الگ بیع یا ہبہ کے ذریعے کرایہ دار کی ملکیت میں آ جاتی ہے۔ اسلامی کار فنانسنگ اسی پر مبنی ہے۔
23۔ اجارہ موصوفہ فی الذمہ (Forward Ijarah):
ایسی چیز کا اجارہ جو ابھی موجود نہیں، مگر اس کی صفات طے ہیں، اور جو مستقبل میں فراہم کی جائے گی؛ مثلاً زیرِ تعمیر مکان۔ کرایہ چیز کی حوالگی کے بعد ہی واجب ہوتا ہے۔
24۔ سیل اینڈ لیز بیک (Sale and Lease Back):
اپنی کوئی چیز بینک کو بیچ کر اسی سے کرائے پر لے لینا۔ یہ کچھ شرائط کے ساتھ جائز ہے، بشرطیکہ یہ بیع العینہ کا ذریعہ نہ بنے؛ اسی لیے شریعہ بورڈ اس کی کڑی نگرانی کرتے ہیں۔
25۔ سیکیورٹی ڈپازٹ (Security Deposit):
اجارہ میں کرایہ دار کی طرف سے دی جانے والی ضمانتی رقم، جو ملکیت میں حصہ نہیں، بلکہ کرایہ دار کی ذمہ داریوں کی ضمانت ہے۔
چوتھا خاندان: شراکت کے عقود
26۔ شرکت (Shirkah / Partnership):
دو یا زیادہ افراد کا کسی مال یا کاروبار میں شریک ہونا۔ اس کی دو بڑی قسمیں ہیں:
- شرکتِ ملک (Shirkat al-Milk): کسی چیز کی مشترکہ ملکیت، مثلاً دو بھائیوں کا وراثت میں ملا مکان۔
- شرکتِ عقد (Shirkat al-Aqd): معاہدے کے ذریعے کاروبار میں شراکت۔ AAOIFI کا معیار نمبر 12۔
27۔ مشارکہ (Musharakah):
دو یا زیادہ افراد کا سرمایہ ملا کر مشترکہ کاروبار کرنا۔
- نفع: باہمی رضامندی سے طے شدہ تناسب سے۔
- نقصان: لازماً سرمائے کے تناسب سے۔
- کسی شریک کے لیے نفع کی مقررہ رقم طے کرنا جائز نہیں۔
28۔ مشارکہ متناقصہ (Diminishing Musharakah):
ایسی شراکت جس میں ایک شریک کا حصہ بتدریج کم ہوتا جاتا ہے اور دوسرا اسے خریدتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پوری چیز کا مالک بن جائے۔ اسلامی ہوم فنانسنگ اسی پر مبنی ہے۔
29۔ رننگ مشارکہ (Running Musharakah):
کاروبار کے روزمرہ سرمائے کے لیے ایسی شراکت جس میں بینک ایک حد تک رقم دیتا ہے، اور کاروبار جتنی رقم جتنے دن استعمال کرے، اسی حساب سے بینک حقیقی نفع میں شریک ہوتا ہے۔
30۔ مضاربہ (Mudarabah):
ایسی شراکت جس میں ایک فریق سرمایہ دیتا ہے اور دوسرا محنت اور مہارت۔
- ربّ المال (Rabb al-Mal): سرمایہ دینے والا۔
- مضارب (Mudarib): محنت کرنے والا۔
- نفع: طے شدہ تناسب سے۔
- مالی نقصان: سرمایہ دینے والے کا، الا یہ کہ مضارب کی غفلت یا خیانت ثابت ہو۔
- AAOIFI کا معیار نمبر 13۔
31۔ مطلق اور مقید مضاربہ (Unrestricted / Restricted Mudarabah):
- مطلق مضاربہ: مضارب کو کسی بھی حلال کاروبار میں سرمایہ لگانے کا اختیار ہو۔
- مقید مضاربہ: سرمایہ دینے والا کاروبار کی قسم، جگہ یا مدت کی پابندی لگا دے۔
32۔ نفع کا تناسب (Profit Sharing Ratio, PSR):
وہ طے شدہ تناسب جس کے مطابق نفع تقسیم ہوتا ہے، مثلاً 60:40۔ تناسب طے ہوتا ہے، رقم نہیں۔
پانچواں خاندان: ڈپازٹس اور پول مینجمنٹ
33۔ قرض (Qard / Loan):
کسی کو رقم اس شرط پر دینا کہ وہ اتنی ہی واپس کرے۔ اس پر کوئی بھی مشروط اضافہ سود ہے۔ اسلامی بینک کا کرنٹ اکاؤنٹ شرعاً بینک کو دیا گیا قرض ہے۔ AAOIFI کا معیار نمبر 19۔
34۔ قرضِ حسنہ (Qard Hasan / Benevolent Loan):
خالص نیکی کی نیت سے دیا گیا قرض، جس پر کوئی اضافہ نہ ہو۔
35۔ پول (Pool):
ڈپازٹرز کی رقوم کا وہ مشترکہ ذخیرہ جسے بینک مضاربہ یا وکالہ کی بنیاد پر حلال سرمایہ کاری میں لگاتا ہے۔
36۔ ویٹیج (Weightage):
پول کے نفع میں ہر اکاؤنٹ کو اس کی رقم، مدت اور قسم کے لحاظ سے دیا جانے والا وزن؛ طویل مدتی ڈپازٹ کو زیادہ وزن ملتا ہے۔ یہ وزن پہلے سے ظاہر کرنا ضروری ہے۔
37۔ ہبہ (Hiba / Gift):
بینک کی طرف سے بغیر کسی پیشگی شرط کے دیا جانے والا تحفہ۔ اگر یہ پہلے سے طے یا لازمی ہو تو ہبہ نہیں رہتا، بلکہ ایک مشروط اضافہ بن جاتا ہے۔
38۔ پرافٹ ایکولائزیشن ریزرو (Profit Equalization Reserve, PER):
اچھے دنوں کے نفع کا ایک حصہ الگ رکھنا، تاکہ برے دنوں میں ڈپازٹرز کے نفع میں بہت زیادہ کمی نہ آئے۔ یہ ڈپازٹرز کی رضامندی سے اور شفاف طریقے سے ہونا چاہیے۔
39۔ انویسٹمنٹ رسک ریزرو (Investment Risk Reserve, IRR):
ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کے لیے ڈپازٹرز کے حصے کے نفع میں سے الگ رکھی گئی رقم۔
چھٹا خاندان: معاون عقود اور وعدے
40۔ وکالہ (Wakalah / Agency):
کسی کو اپنی طرف سے کام انجام دینے کا نمائندہ بنانا، اجرت کے ساتھ یا بغیر۔ AAOIFI کا معیار نمبر 23۔
41۔ وکالہ بالاستثمار (Wakalah bil Istithmar / Investment Agency):
سرمایہ کاری کے لیے وکالت، جس میں بینک ایک مقررہ فیس لے کر آپ کی رقم سرمایہ کاری میں لگاتا ہے، اور نفع آپ کا ہوتا ہے۔
42۔ کفالہ (Kafalah / Guarantee):
کسی دوسرے کی ذمہ داری کی ضمانت لینا، مثلاً بینک گارنٹی۔ AAOIFI کا معیار نمبر 5۔
43۔ رہن (Rahn / Pledge or Mortgage):
ادائیگی کی ضمانت کے طور پر کوئی قیمتی چیز گروی رکھنا۔ گروی رکھنے والا اس چیز سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ AAOIFI کا معیار نمبر 39۔
44۔ حوالہ (Hawalah / Transfer of Debt):
اپنا قرض کسی دوسرے کی طرف منتقل کرنا، جو اس کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرے۔ AAOIFI کا معیار نمبر 7۔
45۔ وعد (Wa’d / Unilateral Promise):
یکطرفہ وعدہ؛ جیسے مرابحہ میں گاہک کا یہ وعدہ کہ وہ بینک سے چیز خریدے گا۔ یہ وعدہ خود معاہدہ نہیں، مگر بعض صورتوں میں اس کی پابندی لازم قرار دی گئی ہے۔
46۔ مواعدہ (Muwa’adah / Bilateral Promise):
دونوں فریقوں کا ایک دوسرے سے وعدہ۔ اگر دونوں طرف کا وعدہ لازم ہو، تو یہ معاہدے جیسا بن جاتا ہے، اس لیے بعض صورتوں میں ممنوع ہے۔ AAOIFI کا معیار نمبر 49 وعد اور مواعدہ کے بارے میں ہے۔
47۔ عربون (Arbun / Earnest Money):
سودا پکا کرنے کے لیے پیشگی ادا کی گئی رقم؛ خریدار سودا مکمل کرے تو یہ قیمت کا حصہ بن جاتی ہے، اور انکار کرے تو بیچنے والے کی ہو جاتی ہے۔ امام احمدؒ اسے جائز کہتے ہیں، جبکہ دیگر ائمہ کو اس پر اعتراض ہے۔
48۔ جعالہ (Ju’alah / Reward Contract):
کسی مخصوص کام کے پورا ہونے پر مقررہ انعام کا وعدہ؛ مثلاً ’’جو میری گمشدہ چیز ڈھونڈ لائے، اسے اتنی رقم ملے گی‘‘۔ AAOIFI کا معیار نمبر 15۔
ساتواں خاندان: کیپیٹل مارکیٹ اور سرمایہ کاری
49۔ صکوک (Sukuk):
ایسے سرمایہ کاری سرٹیفکیٹس جو کسی حقیقی اثاثے، منصوبے یا کاروبار میں ملکیتی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بانڈ سے فرق: بانڈ قرض کی رسید ہے، جبکہ صک ملکیت کا حصہ۔ AAOIFI کا معیار نمبر 17۔
50۔ شریعہ اسکریننگ (Shariah Screening):
کسی کمپنی کے شیئرز کو شرعی معیار پر پرکھنے کا طریقہ: اس کا بنیادی کاروبار حلال ہو، اور اس کے سودی قرضے اور سودی آمدنی مقررہ حد سے کم ہوں۔
51۔ تطہیر (Purification):
سرمایہ کاری میں شامل غیر ارادی غیر شرعی آمدنی کا تناسب نکال کر صدقہ کر دینا۔
52۔ شریعہ کمپلائنٹ فنڈ (Shariah Compliant Fund):
ایسا میوچل فنڈ جو صرف شرعی معیار پر پوری اترنے والی کمپنیوں کے شیئرز، صکوک یا دیگر حلال ذرائع میں سرمایہ لگائے۔
آٹھواں خاندان: تکافل
53۔ تکافل (Takaful):
باہمی تعاون کا ایسا نظام جس میں شرکا ایک مشترکہ فنڈ میں عطیات دیتے ہیں، اور اس فنڈ سے نقصان اٹھانے والے شرکا کی مدد کی جاتی ہے۔
54۔ شرکا کا تکافل فنڈ (Participants’ Takaful Fund, PTF):
وہ فنڈ جس میں شرکا کے عطیات جمع ہوتے ہیں اور جس سے دعووں (Claims) کی ادائیگی ہوتی ہے۔
55۔ وقف ماڈل (Waqf Model):
تکافل کا وہ ماڈل جس میں شرکا کے عطیات ایک وقف فنڈ میں جمع ہوتے ہیں؛ پاکستان میں تکافل کا یہی ماڈل رائج ہے۔
56۔ وکالہ فیس (Wakalah Fee):
تکافل کمپنی کی طرف سے فنڈ کا انتظام سنبھالنے کے عوض وصول کی جانے والی فیس؛ کمپنی فنڈ کی منتظم ہے، مالک نہیں۔
پاکستان میں ان اصطلاحات کا قانونی درجہ
یہ اصطلاحات محض فقہی بحث نہیں، بلکہ پاکستان میں قانونی طور پر لازمی معیارات کا حصہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 12 جنوری 2010 کے سرکلر کے ذریعے فیصلہ کیا کہ AAOIFI کے شرعی معیارات کو مقامی ماحول اور ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے تفصیلی جائزے کے بعد تدریجاً اپنایا جائے گا؛ پہلے مرحلے میں معیار نمبر 3 (قرض دار کی طرف سے ادائیگی میں تاخیر)، نمبر 8 (مرابحہ للآمر بالشراء)، نمبر 9 (اجارہ اور اجارہ منتہیہ بالتملیک) اور نمبر 13 (مضاربہ) اپنائے گئے۔ اس کے بعد مزید معیارات اپنائے جاتے رہے، اور اسٹیٹ بینک نے اپنائے گئے تمام شرعی معیارات کا ایک مجموعہ (Compendium) جاری کیا ہے، جو 31 جولائی 2025 تک اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ sbpsbp
(اسٹیٹ بینک کا مجموعۂ شرعی معیارات: https://www.sbp.org.pk/ifpd/compendium/Compendium.pdf)
آخری بات
یہ لغت اسلامی بینکاری کے سفر کا نقشہ ہے۔ جب آپ ان اصطلاحات کو سمجھ لیتے ہیں، تو بینک کا ہر کاغذ آپ کے لیے ایک کھلی کتاب بن جاتا ہے، اور آپ یہ پرکھ سکتے ہیں کہ آپ کا معاملہ واقعی شرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس سلسلے کے اگلے بلاگز میں ان میں سے ہر بڑی پروڈکٹ، یعنی مرابحہ، اجارہ، مشارکہ متناقصہ، اسلامی اکاؤنٹس، صکوک، تکافل، سلم اور استصناع، کی الگ تفصیلی رہنمائی پیش کی جائے گی۔