ہر زندہ وجود کا ایک مزاج ہوتا ہے۔ آگ کا مزاج جلانا ہے، پانی کا مزاج بہنا ہے، اور اگر کبھی آگ ٹھنڈی ہو جائے یا پانی بہنا بھول جائے، تو سمجھ لیجیے کہ اس کی فطرت میں کوئی گڑبڑ آ گئی ہے۔ بالکل اسی طرح دین کا بھی ایک مزاج ہے، ایک مخصوص ساخت، ایک ایسی روح جو اسے دنیا کے باقی تمام نظاموں سے ممتاز کرتی ہے۔ اور جس دن کوئی قوم اپنے دین کے اس مزاج سے ناواقف ہو جاتی ہے، یا واقف ہو کر بھی اس سے رو گردانی کرتی ہے، اسی دن اس کی زندگی سے وہ حرارت، وہ تاثیر، وہ انقلابی کیفیت رخصت ہو جاتی ہے جو کبھی اس کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ سوال یہ ہے: کیا آج ہم، امتِ مسلمہ، اپنے دین کے اسی مزاج پر قائم ہیں، یا ہم نے کہیں راستے میں اس کی روح کو کھو دیا ہے؟
اسلام کا مزاج سمجھنے کے لیے پہلا در جو کھلتا ہے، وہ عقیدے کی دنیا ہے۔ اور یہاں اسلام کوئی لچک، کوئی مصالحت، کوئی درمیانی راستہ روا نہیں رکھتا۔ جب مکہ کے سرداروں نے آخری حربے کے طور پر یہ پیشکش کی کہ ایک سال ہم تمہارے معبود کی عبادت کر لیں، ایک سال تم ہمارے معبودوں کی، تو جواب آسمان سے نازل ہوا، اور وہ جواب کسی لچک کا نہیں بلکہ چٹان جیسی استقامت کا اعلان تھا:
قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
"کہہ دیجیے: اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔"
(سورۃ الکافرون)
غور کیجیے، یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک اصولی حد بندی ہے۔ یہاں مصالحت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ توحید کوئی ایسا معاملہ نہیں جس میں پچاس فیصد سمجھوتہ کیا جا سکے۔ یہ وہ چٹان ہے جس پر پورا دین کھڑا ہے، اور جو اسے ہلانے کی کوشش کرے، اسلام کا مزاج اس کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
مگر یہیں سے وہ حیرت انگیز موڑ آتا ہے جو اسلام کو دنیا کے ہر دوسرے نظام سے الگ کر دیتا ہے۔ وہی دین جو عقیدے میں چٹان ہے، وہی دین انسانی معاملات میں پانی کی طرح نرم اور بہاؤ والا بھی ہے۔ قرآن مجید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جس صفت کو خاص طور پر نمایاں کیا، وہ کوئی سختی نہیں بلکہ نرم دلی اور تحمل تھی:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
"بےشک ابراہیم بڑے نرم دل، تحمل والے تھے۔"
(سورۃ ہود، آیت ۷۵)
یہاں ایک عجیب امتزاج نظر آتا ہے: وہی ابراہیمؑ جنہوں نے بتوں کو کلہاڑی سے پاش پاش کیا، عقیدے کے معاملے میں کبھی نہ جھکے، وہی ابراہیمؑ اپنی قوم کے لیے، حتیٰ کہ اپنے سرکش باپ کے لیے بھی، نرمی اور دعا کا پیکر تھے۔ یہی وہ حسین امتزاج ہے جسے سمجھے بغیر اسلام کا اصل چہرہ کبھی نظر نہیں آتا: اصول میں فولاد جیسی سختی، اور انسانوں کے ساتھ برتاؤ میں پھول جیسی نرمی۔
اور اگر اس امتزاج کی سب سے کامل تصویر دیکھنی ہو تو نگاہ اس ذات کی طرف اٹھانی پڑے گی جس نے اس مزاج کو اپنی مکمل زندگی میں مجسم کر دکھایا۔ صحیح مسلم کی روایت میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے دعوتِ حق کا آغاز کیا، تو اس کے پیچھے نہ مال کی طلب تھی، نہ اقتدار کی خواہش، نہ سرداری کا شوق، اور نہ کسی سے انتقام کا جذبہ۔ اور اسی خلوص کی سب سے روشن مثال طائف کے میدان میں ملتی ہے، جہاں ایک زخمی، مظلوم، تنہا انسان کی زبان سے صرف یہ نکلا: "اے اللہ! میں اپنی کمزوری اور بےبسی کی شکایت تجھی سے کرتا ہوں۔" یہ دعا نہ نفرت سے بھری تھی، نہ انتقام سے، بلکہ خالص عاجزی اور امید سے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اسلام کا مزاج، اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ، تاریخ کے صفحات پر ثبت ہو گیا: اصول پر ڈٹے رہنا، مگر دلوں کو جیتنے کے لیے نرمی اور رحمت کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دینا۔
اب یہاں ایک سوال ذہن میں کھٹکتا ہے، اور یہی وہ سوال ہے جو علامہ اقبالؒ کی شاعری میں بار بار گونجتا رہا: کیا آج کا مسلمان اسی مزاج پر قائم ہے؟ اقبالؒ نے صدیوں کے زوال کو دیکھ کر جو نوحہ لکھا، وہ دراصل اسی مزاج کے گم ہو جانے کا ماتم تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ
"وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود،
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود"
یعنی وہ چٹان جیسا عقیدہ اور وہ رحمت جیسی نرمی، دونوں کہیں کھو گئے، اور باقی رہ گیا صرف نام کا مسلمان، جس کے پاس نہ اصول کی مضبوطی ہے اور نہ اخلاق کی وہ بلندی جو کبھی اس کی پہچان تھی۔
ذرا خود سے پوچھیے: کیا میں عقیدے کے معاملے میں اتنا ہی غیر متزلزل ہوں جتنا سورۃ الکافرون کا تقاضا ہے، یا معمولی دنیاوی فائدے کے لیے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کر لیتا ہوں؟ اور دوسری طرف، کیا میں انسانوں کے ساتھ معاملات میں اتنا ہی نرم دل اور صابر ہوں جتنا حضرت ابراہیمؑ اور نبی کریم ﷺ کا اسوہ سکھاتا ہے، یا معمولی اختلاف پر رشتے توڑ بیٹھتا ہوں، معمولی گستاخی پر آپے سے باہر ہو جاتا ہوں؟ سچائی یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس امتزاج کو الٹا کر دیا ہے: جہاں سختی چاہیے، یعنی عقیدے اور اصولوں میں، وہاں مصالحت اور لچک برتی جاتی ہے، اور جہاں نرمی چاہیے، یعنی گھریلو رشتوں، سماجی معاملات، اور روزمرہ کے تعلقات میں، وہاں سختی اور تلخی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یہی وہ الٹ پھیر ہے جس نے امتِ مسلمہ کے کردار کو دھندلا کر دیا۔
اور یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے: اسلام کا مزاج محض عقیدے اور اخلاق تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو نہ محض روحانیت میں گم کر دیتا ہے کہ وہ دنیا سے بےگانہ ہو جائے، اور نہ اسے محض مادیت میں غرق کر دیتا ہے کہ وہ آخرت کو بھول جائے۔ قرآن نے اس اعتدال کو یوں بیان کیا:
وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا
"اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کر، اور دنیا سے اپنا حصہ بھی نہ بھول۔"
(سورۃ القصص، آیت ۷۷)
یہی وہ اعتدال ہے، یہی وہ توازن ہے، جسے اقبالؒ نے "خودی" کی اصطلاح میں سمو کر یہ سکھایا کہ مسلمان نہ رہبانیت کا اسیر ہو نہ مادیت کا غلام، بلکہ وہ ایک ایسا مردِ مومن بنے جو زمین پر چلتا ہے مگر اس کی نگاہ آسمان پر رہتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج کا مسلمان اکثر انہی دو انتہاؤں کے درمیان بھٹکتا نظر آتا ہے: یا تو وہ مکمل طور پر مادیت میں کھو گیا ہے، دین کو صرف چند رسمی عبادات تک محدود کر کے، یا وہ ایک ایسی سطحی مذہبیت کا شکار ہو گیا ہے جس میں جوش تو ہے مگر بصیرت نہیں، جذبہ تو ہے مگر اعتدال نہیں۔
اب ذرا سوچیے، اگر آج کوئی امتحان لے کر کھڑا ہو جائے اور پوچھے: بتاؤ، تمہارا مزاج کیا ہے؟ کیا ہماری زندگیاں اس سوال کا وہی جواب دیں گی جو قرآن نے دیا؟ کیا ہمارے گھروں میں، ہمارے کاروبار میں، ہمارے سماجی تعلقات میں، وہی امتزاج نظر آتا ہے جو ابراہیمؑ کی زندگی میں اور محمد ﷺ کی سیرت میں جھلکتا تھا؟ یا ہم نے دین کو ایک ایسا خول بنا لیا ہے جو صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود ہے، اور باہر نکلتے ہی ہمارا مزاج بالکل بدل جاتا ہے؟
یہ کوئی معمولی سوال نہیں، بلکہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہماری انفرادی اور اجتماعی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔ اقبالؒ نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا تھا کہ قوموں کا عروج و زوال ان کے اپنے کردار کی تبدیلی سے وابستہ ہے، اور قرآن نے یہی اصول صدیوں پہلے یوں بیان کر دیا تھا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ
"بےشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالیں۔"
(سورۃ الرعد، آیت ۱۱)
یعنی اگر ہم چاہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ دوبارہ وہی عروج حاصل کرے جو کبھی اس کا مقدر تھا، تو راستہ کہیں باہر نہیں بلکہ ہمارے اپنے اندر ہے۔ ہمیں دوبارہ اسی مزاج کو اپنانا ہوگا: عقیدے میں چٹان جیسی مضبوطی، اور انسانوں کے ساتھ برتاؤ میں سمندر جیسی وسعت اور نرمی۔ ہمیں دوبارہ اپنی زندگیوں کو اس ترازو پر تولنا ہوگا کہ کہیں ہم اصول کے معاملے میں کمزور تو نہیں پڑ گئے، اور کہیں ہم اخلاق کے معاملے میں سخت تو نہیں ہو گئے۔
یہی وہ خود احتسابی ہے جس کی دعوت یہ پوری تحریر دیتی ہے۔ سیرت اور قرآن کا مطالعہ محض ماضی کی داستانیں سننے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے آج کو، اپنی موجودہ زندگی کو، اسی کسوٹی پر پرکھنے کے لیے ہے۔ اور جس دن یہ پرکھ ایمانداری سے کی جائے گی، اسی دن یہ راز کھلے گا کہ فاصلہ کوئی ناقابلِ عبور نہیں، بلکہ محض ایک فیصلے کا نام ہے — وہی فیصلہ جو ابراہیمؑ نے کیا، جو محمد ﷺ نے کیا، اور جو آج، اسی لمحے، ہر مسلمان کے سامنے کھڑا ہے۔
اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام کے اسی مزاج کو گہرائی اور ترتیب کے ساتھ سیکھیں، تاکہ یہ محض معلومات نہ رہے بلکہ آپ کی اپنی زندگی کا نقشہ بن جائے، تو Sirat Islamic Academy کے قرآن، سیرت اور عقائد کے مستند آن لائن کورسز میں آج ہی شامل ہوں، اور اپنی زندگی کو دوبارہ اسی حسین امتزاج کی طرف لوٹا لیں جو کبھی اس امت کی پہچان ہوا کرتا تھا۔