اوور تھنکنگ اور بے چینی کا علاج: قرآن کی روشنی میں مکمل رہنمائی


رات کے دو بجے ہیں۔ جسم نڈھال ہے مگر ذہن رکنے کا نام نہیں لیتا۔ گزشتہ ہفتے کی کوئی گفتگو لفظ بہ لفظ ذہن میں گھوم رہی ہے۔ کل پیش آنے والی ہر ممکنہ خرابی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ آدمی فون اٹھاتا ہے اسکرول کرتا ہے، رکھ دیتا ہے، اور پھر اٹھا لیتا ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ یہ سوچیں کسی کام کی نہیں مگر وہ انہیں روک نہیں پاتا۔


یہ کیفیت آج کے دور کی سب سے عام آزمائشوں میں سے ہے خصوصاً طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد میں۔ اور بہت سے مسلمان دل ہی دل میں دو سوال کرتے ہیں:


کیا قرآن اس بارے میں کچھ کہتا ہے؟


اگر میرے دل میں ایمان ہے، تو پھر یہ بے چینی کیوں؟


یہ رہنمائی ان دونوں سوالوں کا تفصیلی جواب ہے۔ اس میں جدید نفسیات کے مشاہدات اور چودہ صدیاں پہلے نازل ہونے والے قرآن کی رہنمائی کو ایک ساتھ رکھ کر دکھایا گیا ہے کہ یہ دونوں کس طرح ایک دوسرے سے حیرت انگیز اور اطمینان بخش ہم آہنگی رکھتے ہیں۔


بے چینی کمزور ایمان کی علامت نہیں


آغاز ایک ایسی حقیقت سے کرتے ہیں جو بہت سے دلوں کا بوجھ ہلکا کر دیتی ہے. فکر، غم یا خوف محسوس کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کا ایمان کمزور ہے۔ قرآن انسانیت کی عظیم ترین شخصیات کی انہی کیفیات کا ذکر کرتا ہے۔


حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی کا ایسا غم تھا کہ ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں پھر بھی انہوں نے فرمایا:


إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ (یوسف: 86)


میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں۔


حضرت موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے جادوگروں کے مقابل کھڑے ہوئے تو قرآن کہتا ہے:


فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ ۝ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ (طٰہٰ: 67 تا 68)


تو موسیٰ نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔ ہم نے کہا: ڈرو نہیں، یقیناً تم ہی غالب رہو گے۔


اور خود رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:


وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (الحجر: 97)


اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔


اس اسلوب پر غور کیجیے۔ قرآن ان کیفیات کا کبھی انکار نہیں کرتا نہ انہیں شرمندگی کی بات بناتا ہے وہ انہیں دیانت داری سے تسلیم کرتا ہے اور پھر ان سے نکلنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کے معاملے میں اگلی ہی آیات میں تسبیح، سجدے اور عبادت پر قائم رہنے کی ہدایت ہے (الحجر: 98 تا 99)۔


رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ فکر اور غم سے پناہ کی یہ دعا کثرت سے مانگا کرتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ (صحیح البخاری)۔


جب کائنات کی سب سے عظیم ہستی فکر سے پناہ مانگتی ہے تو اس کا احساس ہونا انسان ہونے کا حصہ ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمیں یہ کیفیت محسوس ہوتی ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔


قرآن میں اضطراب کے دو الفاظ: خوف اور حزن


قرآن بار بار اہلِ ایمان سے دو چیزوں سے نجات کا وعدہ کرتا ہے:


فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: 38)


جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔


اہلِ لغت اور مفسرین نے ان دونوں الفاظ کا فرق یوں بیان کیا ہے:


خوف: اس ناگوار چیز کا اندیشہ ہے جو مستقبل میں پیش آ سکتی ہو۔

حزن: اس خیر پر غم ہے جو ہاتھ سے نکل گئی، یا اس تکلیف پر جو ماضی میں پیش آئی۔


اب اس کا موازنہ جدید نفسیات سے کیجیے، جو اوور تھنکنگ کی دو بڑی صورتیں بیان کرتی ہے:


جدید نفسیات          قرآنی اصطلاح   ذہن کا رخ


اندیشہ (Worry): ’’اگر کچھ برا ہو گیا تو؟‘‘         خوف      مستقبل

جگالی (Rumination): ’’میں نے ایسا کیوں کیا؟ کاش!‘‘    حزن      ماضی


نفسیات کے ان کیفیات کو نام دینے سے صدیوں پہلے قرآن نے ٹھیک انہی دو سمتوں کی نشان دہی کر دی تھی جن میں مضطرب ذہن بھٹکتا ہے اور یہ وعدہ بھی کیا کہ سچی ہدایت دل کو ان دونوں سے آزاد کر دیتی ہے۔ یہ وحی اور جدید فہم کے درمیان ہم آہنگی کے سب سے نمایاں مقامات میں سے ایک ہے۔


ذہن حد سے زیادہ کیوں سوچتا ہے؟


ہمارا دماغ ہماری حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے۔ جب ہمیں کسی خطرے کا احساس ہوتا ہے تو جسم میں ’’لڑو یا بھاگو‘‘ (Fight or Flight) کا ردِ عمل پیدا ہوتا ہے: دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانس تیز ہو جاتی ہے، اور ذہن چوکنا ہو جاتا ہے۔ حقیقی خطرے کے وقت یہ ردِ عمل بہت مفید ہے۔


مسئلہ یہ ہے کہ یہی خطرے کی گھنٹی خیالی خطرات پر بھی بج اٹھتی ہے: اگلے ہفتے کا امتحان، کسی پیغام کا جواب نہ آنا، یا مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ذہن ان خیالات کو حقیقی خطرہ سمجھ کر انہیں بار بار سوچ کر ’’حل‘‘ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


اندیشے اور جگالی، دونوں میں ایک بات مشترک ہے: ذہن اس چیز کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے اختیار میں نہیں۔ ماضی بدلا نہیں جا سکتا اور مستقبل پوری طرح جانا نہیں جا سکتا مگر مضطرب ذہن ان مسائل پر کام کرتا رہتا ہے جو محض سوچنے سے حل نہیں ہوتے۔


ماہرینِ نفسیات کا یہ مشاہدہ بھی ہے کہ بے چینی میں مبتلا افراد کے لیے غیر یقینی کیفیت کو برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے انسان آنے والے کل کے بارے میں جتنا زیادہ یقین چاہتا ہے اتنا ہی زیادہ مضطرب ہوتا ہے۔


قرآن اس کا براہِ راست جواب دیتا ہے:


وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا (لقمان: 34)


اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی۔


یہ آیت ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ آزاد کرنے کے لیے ہے۔ مستقبل کو نہ جاننا کوئی ذاتی ناکامی نہیں بلکہ انسانی حالت ہے کل کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ اس حقیقت کو قبول کر لینا ہی سکون کی طرف پہلا قدم ہے۔


مسلم علماء نے انسانی ذہن کو کیسے سمجھا


جدید نفسیات سے صدیوں پہلے مسلم علما نے انسان کی باطنی کیفیات پر غیر معمولی گہرائی سے غور کیا۔


ابنِ حزمؒ (م 456ھ) نے اپنی کتاب ’’الاخلاق والسیر‘‘ میں لکھا کہ انہوں نے ایک ایسا مقصد تلاش کیا جس پر تمام انسان متفق ہوں، تو انہیں صرف ایک ہی ملا: فکر اور غم کو دور کرنا۔ ہر انسان، خواہ کسی بھی مذہب یا پس منظر کا ہو، کسی نہ کسی طرح بے چینی سے نجات چاہتا ہے دولت، شہرت، لذت یا مصروفیت کے ذریعے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سا راستہ واقعی کامیاب ہے۔


ابنِ قیمؒ (م 751ھ) نے ’’الفوائد‘‘ میں بیان کیا کہ خیالات کیسے پروان چڑھتے ہیں۔ ایک گزرتا ہوا خیال، اگر اسے روکا نہ جائے، تو پختہ فکر بن جاتا ہے فکر خواہش بن جاتی ہے خواہش ارادہ اور ارادہ عمل اور عادت۔ ان کا مشورہ یہ تھا کہ خیالات کا مقابلہ ابتدا ہی میں کیا جائے اس سے پہلے کہ وہ جڑ پکڑ لیں۔ یہ بات جدید علاج کی اس تعلیم کے بہت قریب ہے کہ غیر مفید خیالات کو ابتدا ہی میں پہچانا جائے اور انہیں غذا نہ دی جائے۔


امام غزالیؒ (م 505ھ) نے ’’احیاء علوم الدین‘‘ میں دل میں گزرنے والے خیالات، یعنی خواطر، پر تفصیل سے لکھا: کچھ خیر کی طرف لے جاتے ہیں اور کچھ شر کی طرف اور انسان اللہ کے ذکر اور سچی خود آگاہی کے ذریعے دل کی تربیت کیسے کر سکتا ہے۔


ان علما نے ذہن کو کوئی ناقابلِ فہم معما نہیں سمجھا، بلکہ ایسی چیز جسے سمجھا اور تربیت دی جا سکتی ہے اور یہی دعوت قرآن دیتا ہے۔


اضطراب پر قابو پانے کی دو قرآنی داستانیں


حضرت مریمؑ: کیفیت کو تسلیم کیجیے، پھر ایک قدم اٹھائیے


قرآن کے سب سے دل گداز مقامات میں سے ایک وہ ہے جہاں حضرت مریم علیہا السلام، تنہائی اور دردِ زہ کی حالت میں، پکار اٹھیں:


يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا (مریم: 23)


کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی۔


دیکھیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کیا جواب دیا:


فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا ۝ وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا (مریم: 24 تا 25)


غم نہ کرو، تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، وہ تم پر تازہ پکی کھجوریں گرائے گا۔


اس میں تین سبق نمایاں ہیں:


ان کے درد پر کوئی ملامت نہیں کی گئی: اللہ نے ان کے الفاظ پر سرزنش نہیں فرمائی۔

پہلے تسلی دی گئی: ’’غم نہ کرو‘‘۔

پھر ایک چھوٹا سا عمل بتایا گیا: ’’تنے کو ہلاؤ‘‘۔ دردِ زہ میں مبتلا ایک خاتون کھجور کا تنا حقیقتاً کیا ہلا سکتی تھی؟ مگر اللہ نے انہیں ایک قدم اٹھانے کو کہا، اور نتیجہ خود عطا فرما دیا۔

یہی اضطراب کے بارے میں قرآنی نمونہ ہے: کیفیت کو تسلیم کیجیے، تسلی پائیے، اور ایک چھوٹا قدم اٹھا کر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیجیے۔


غارِ ثور: ’’اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘


ہجرتِ مدینہ کے موقع پر رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ غار میں پناہ گزیں تھے، اور دشمن غار کے دہانے پر کھڑے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ کو اپنی نہیں، رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کی فکر تھی۔ قرآن نے آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کا جواب محفوظ کیا:


لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (التوبة: 40)


غم نہ کرو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔


ان حضرات نے ہر عملی تدبیر اختیار کی تھی: محتاط منصوبہ بندی، پوشیدہ راستہ اور رہنما۔ اس کے بعد ہی انہوں نے مکمل طور پر اللہ پر بھروسہ کیا۔ تدبیر اور توکل ساتھ ساتھ چلے۔


قرآن مضطرب ذہن کا علاج کیسے کرتا ہے: سات راستے


1۔ اختیار اور بے اختیاری میں فرق


لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: 286)


اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔


ہماری بہت سی بے چینی ان ذمہ داریوں کے بوجھ سے پیدا ہوتی ہے جو ہماری ہیں ہی نہیں۔ آپ اپنی کوشش کے ذمہ دار ہیں، حتمی نتیجے کے نہیں۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو چیز تمہیں فائدہ دے اس کی حرص کرو، اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو اور اگر کوئی مصیبت آ جائے تو یہ نہ کہو کہ ’’کاش میں ایسا کر لیتا‘‘، بلکہ کہو کہ ’’اللہ نے یہی مقدر کیا تھا، اور جو چاہا کیا‘‘، کیونکہ ’’کاش‘‘ شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے (صحیح مسلم)۔

یہ ماضی کی جگالی کا براہِ راست علاج ہے: ’’کاش‘‘ کا لامتناہی چکر دانائی نہیں، بلکہ ایک جال ہے۔


2۔ پہلے عمل، پھر توکل


ایک شخص نے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ سے پوچھا کہ وہ اپنی اونٹنی باندھے یا اللہ پر توکل کرے؟ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اسے باندھو، اور پھر توکل کرو‘‘ (جامع الترمذی)۔


وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: 3)


اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔


توکل ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے کا نام نہیں یہ اپنا پورا حصہ ادا کر کے، باقی معاملہ اللہ کے سپرد کر دینے کا نام ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے یہ ذہن کو یہ اجازت دیتا ہے کہ اپنا کام کر لینے کے بعد وہ آرام کرے۔


3۔ دل کو حال میں ٹھہرانا


أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 28)


خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔


اوور تھنکنگ ذہن کو ماضی یا مستقبل میں کھینچ لے جاتی ہے ذکر اور نماز اسے حال میں واپس لاتے ہیں اسی سانس، اسی لفظ اور اسی سجدے میں۔ جب رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کو کوئی معاملہ پریشان کرتا، تو آپ نماز کی طرف متوجہ ہو جاتے (سنن ابی داود)


اور حضرت بلالؓ سے فرماتے: ’’ہمیں اس سے راحت پہنچاؤ‘‘ (سنن ابی داود)۔

نماز آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کے لیے فکروں پر ایک اضافی بوجھ نہیں بلکہ ان سے راحت تھی۔


قرآن ’’سکینہ‘‘ کا بھی ذکر کرتا ہے: وہ اطمینان جو اللہ اہلِ ایمان کے دلوں پر نازل فرماتا ہے:


هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ (الفتح: 4)


وہی ہے جس نے اہلِ ایمان کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی، تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور بڑھ جائے۔


دل کا سکون بالآخر اللہ کی عطا ہے اور اللہ کا ذکر وہ دروازہ ہے جس سے دل اس عطا کو قبول کرتا ہے۔


4۔ مشکل کو نئے زاویے سے دیکھنا


فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الشرح: 5 تا 6)


پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔


قرآن یہ نہیں کہتا کہ ’’مشکل کے بعد آسانی ہے‘‘ بلکہ یہ کہ ’’مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘: آسانی مشکل کے اندر ہی موجود ہوتی ہے۔ مفسرین نے یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ ’’العسر‘‘ دونوں جگہ معرفہ ہے اور ’’یسر‘‘ نکرہ، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایک مشکل کے ساتھ ایک سے زیادہ آسانیاں ہیں۔


وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ (البقرة: 216)


اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو۔


مضطرب ذہن ہمیشہ بدترین صورت کا تصور کرتا ہے۔ یہ آیات اسے یاد دلاتی ہیں کہ واقعات کے بارے میں ہماری نظر محدود ہے، اور ایک تکلیف دہ لمحہ بھی کسی پوشیدہ خیر کا حامل ہو سکتا ہے۔


5۔ دوسروں کے بارے میں حد سے زیادہ سوچنے کا علاج


ہماری بہت سی اوور تھنکنگ دوسروں کے بارے میں ہوتی ہے: ’’اس نے یہ بات کس نیت سے کہی؟ کہیں وہ ناراض تو نہیں؟‘‘


اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (الحجرات: 12)


بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہیں۔


لوگوں کے بارے میں بدترین گمان رشتوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور دل کا سکون بھی چھین لیتا ہے۔ حسنِ ظن صرف اچھا اخلاق ہی نہیں، بلکہ ذہن کی حفاظت بھی ہے۔


6۔ غیر صحت مند وابستگی اور موازنے سے حفاظت


لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ (الحدید: 23)


تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے اس پر تم غم نہ کرو، اور جو تمہیں عطا ہو اس پر اترایا نہ کرو۔


آج کی بہت سی بے چینی موازنے سے پیدا ہوتی ہے: سوشل میڈیا پر دوسروں کی سیر و تفریح، گھر، کیریئر اور ’’مکمل‘‘ زندگیاں۔ قرآن ایک صحت مند بے نیازی سکھاتا ہے: نعمتوں سے فائدہ اٹھائیے، مگر دل کے سکون کو ان پر منحصر نہ کیجیے۔ اور وہ شکر سکھاتا ہے:


لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم: 7)


اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔


شکر توجہ کو اس چیز سے ہٹاتا ہے جو موجود نہیں، اور اس کی طرف لاتا ہے جو موجود ہے یہ مضطرب ذہن کی اس عادت کا عین الٹ ہے جو ہر وقت ممکنہ خرابیوں کو تلاش کرتی رہتی ہے۔


7۔ تکلیف کو معنی دینا


رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ مسلمان کو جو تھکاوٹ، بیماری، فکر، غم یا تکلیف پہنچتی ہے، یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے، اللہ اس کے ذریعے اس کے کچھ گناہ معاف فرما دیتا ہے (صحیح البخاری)۔


بے معنی محسوس ہونے والی تکلیف زیادہ بھاری لگتی ہے مگر جب مومن جانتا ہے کہ اس کی فکر بھی ضائع نہیں جاتی، تو اسے برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔


روزمرہ زندگی کی تین مثالیں


امتحان سے پہلے طالبہ: سارہ اپنے فائنل امتحانات سے پہلے سو نہیں پاتی ذہن بار بار کہتا ہے: ’’اگر میں فیل ہو گئی تو؟‘‘ قرآنی طریقے سے وہ ان چیزوں کو الگ کرتی ہے جو اس کے اختیار میں ہیں، یعنی دہرائی، نیند اور مطالعے کا منصوبہ اور جو نہیں، یعنی پرچے کے سوالات اور حتمی نتیجہ۔ وہ دہرائی کا ایک سادہ نظام الاوقات بناتی ہے، دو رکعت نماز پڑھتی ہے، ’’حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ‘‘ کہتی ہے، اور سو جاتی ہے۔ فکر پوری طرح ختم نہیں ہوتی، مگر اب وہ اس پر غالب نہیں رہتی۔


بچوں کے بارے میں فکر مند ماں: آمنہ ہر وقت اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پریشان رہتی ہیں۔ وہ ہر فکر کو ایک عمل میں بدلنا سیکھتی ہیں، جیسے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا یا انہیں کوئی سورت سکھانا، اور ایک دعا میں۔ بچوں کا پورا مستقبل اپنے کندھوں پر اٹھانے کے بجائے وہ اپنا حصہ ادا کر کے انہیں اللہ کے سپرد کر دیتی ہیں۔


نوجوان پیشہ ور اور سوشل میڈیا: بلال جب بھی سوشل میڈیا دیکھتا ہے، اسے لگتا ہے کہ وہ زندگی میں ’’پیچھے‘‘ رہ گیا ہے۔ وہ اسکرین کے وقت کی حد مقرر کرتا ہے، ہر رات تین نعمتیں لکھتا ہے، اور خود کو یاد دلاتا ہے کہ لوگ اپنی کامیابیاں دکھاتے ہیں، مشکلات نہیں۔ موازنے کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔


بے چینی اور ایمان کے بارے میں عام غلط فہمیاں


غلط فہمی 1: ’’اگر ایمان مضبوط ہو تو کبھی بے چینی نہیں ہوتی۔‘‘

انبیا علیہم السلام نے بھی خوف اور غم محسوس کیا، جیسا کہ قرآن صاف بتاتا ہے۔ بے چینی ایک انسانی تجربہ ہے، روحانی ناکامی کی علامت نہیں۔


غلط فہمی 2: ’’بس نماز زیادہ پڑھو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

نماز اور ذکر سکون کے عظیم ذرائع ہیں مگر جب بے چینی شدید یا طویل ہو تو اسے پیشہ ورانہ علاج کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اسلام دونوں کی تعلیم دیتا ہے۔


غلط فہمی 3: ’’ماہرِ نفسیات سے رجوع کا مطلب ہے کہ اللہ پر بھروسہ نہیں۔‘‘

رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’علاج کرواؤ، کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی پیدا نہیں کی جس کی دوا پیدا نہ کی ہو‘‘ (سنن ابی داود)۔

علاج کروانا بھی ’’اونٹنی باندھنے‘‘ ہی کا حصہ ہے۔


اوور تھنکنگ سے نکلنے کا سات قدمی عملی طریقہ


پہچانیے: جب خیالات کا چکر شروع ہو، تو خود سے کہیے: ’’میں حد سے زیادہ سوچ رہا ہوں۔‘‘ کیفیت کا نام لے لینا ہی اسے کمزور کر دیتا ہے۔


سمت معلوم کیجیے: یہ خوف ہے، یعنی مستقبل کا اندیشہ، یا حزن، یعنی ماضی کا غم؟ ذہن کی سمت جان لینے سے اس کا جواب دینا آسان ہو جاتا ہے۔


چھانٹیے: پوچھیے: ’’کیا یہ میرے اختیار میں ہے؟‘‘ اگر ہاں، تو ایک چھوٹا عملی قدم طے کیجیے اگر نہیں، تو پانچویں قدم پر جائیے۔


عمل کیجیے: وہ ایک چھوٹا قدم اٹھائیے، خواہ صرف منصوبہ لکھ لینا ہو۔ یہی حضرت مریمؑ کا تنا ہلانا ہے۔


اللہ کے سپرد کیجیے: ’’حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ‘‘ (آلِ عمران: 173) پڑھیےیا حضرت یونس علیہ السلام کی دعا: لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (الانبیاء: 87) اور شعوری طور پر معاملہ اللہ کے سپرد کر دیجیے۔


حال میں لوٹیے: وضو کیجیے، دو رکعت نماز پڑھیے، یا آہستہ آہستہ تلاوت کیجیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ (البقرة: 153)یعنی صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔


کسی سے بات کیجیے: کسی قابلِ اعتماد شخص سے، یعنی گھر والوں، دوست، عالمِ دین یا ماہرِ نفسیات سے۔


نیند کے بارے میں ایک نکتہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے نیند کو راحت کا ذریعہ بنایا: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا (الفرقان: 47)۔


اوور تھنکنگ اکثر رات کو بڑھ جاتی ہے۔ سونے سے پہلے فون الگ رکھ دینا، شام کے اذکار، آیت الکرسی اور آخری تین سورتیں پڑھنا دن کا ایک پُرسکون اختتام بن جاتا ہے۔


ماہر سے رجوع کب کریں؟


اگر بے چینی:


ہفتوں یا مہینوں تک آپ کی نیند، تعلیم، کام یا تعلقات کو متاثر کر رہی ہو

اس کے ساتھ گھبراہٹ کے دورے،مسلسل جسمانی علامات یا تاریک خیالات ہوں

یا روزمرہ زندگی گزارنا مشکل بنا دے.


تو کسی ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے ضرور رجوع کیجیے۔ دعا اور علاج ساتھ ساتھ چلتے ہیں مدد طلب کرنا کمزوری نہیں، دانائی ہے۔


قرآن کو سمجھیے، اس کا سکون پائیے


اس مضمون کی آیات کا گہرا سکون اس وقت ملتا ہے جب انسان انہیں ان کے اصل الفاظ میں سمجھے۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنا تلاوت کو اللہ سے ایک مکالمہ بنا دیتا ہے۔