انسان زندہ بنایا گیا ہے لیکن یہی زندہ کبھی مردہ ہو جاتا ہے دنیا روشن پیدا کی گئی ہے لیکن یہی روشنی کبھی تاریکی میں تبدیل ہو جاتی ہے روئے زمین کے مختلف حصوں میں بڑے بڑے ہادی و رہنما ،رہبر اور پیشوا آئے اور گزر گئے۔ لیکن اب ایک مدت سے دنیا ان کی ہدایتوں سے محروم تھی ، بارش اپنے موسم میں زمین کو خوب سیراب کر چکی تھی،لیکن اب جلتی اور تپتی ہوئی زمین کے ہونٹوں پر پیاس سے خشکی کی پیڑیاں جمی ہوئی تھی ۔سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے کو ساڑھے پانچ سو سال کی مدت کا عرصہ بیت چکا تھا ، کرہ ارضی نورانیت کے فیض سے یکسر محروم تھی ، دن کی روشنی مدھم ہو چکی تھی ، اور عالم انسانیت پر رات کی سیاہی چھائی ہوئی تھی ۔ کسی ایک ملک یا اقلیم کی تخصیص نہیں بلکہ افتاب کے طلوع ہونے کی جگہ مشرق اور افتاب کے غروب ہونے کی جگہ مغرب سب گمراہی و سر کشتی کی اسی سیاہ چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔بحر و بر، شر ق و غرب ،عرب و عجم سب کی ظاہری و باطنی حیات موت سے "ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ" میں تبدیل ہو چکی تھی ۔اور کائنات انسانی کی ساری فضا ،شقاوت و نفس پرستی ،بدی و بدکاری اور شر انگیزی و نفاق کے گہرے بادلوں سے سیاہ ہو چکی تھی.
عالم انسانیت میں فسادات فی الارض اور گمراہی کی انتہا"وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ" کا منظر پیش کر رہی تھی۔اجسامِ انسانی کا مرکز و محور یعنی " قلب " " فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةًؕ " کی المناک حقیقت بن چکے تھے۔کرہ ارضی پر بستی انسانیت ’’ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ‘‘کو اپنا افتخار سمجھتی تھی بلکہ ِ عالم ِ انسانی ’’ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا ‘‘کا ماحول پیش کر رہی تھی ۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کے موقع پر دنیا کی صورت حال بالکل اُس ویران و بے آسرا مکان کی مانند تھی جس کی بنیادیں زلزلے کی لہروں کا سامنا کرتے ہوئے لرز اٹھیں اور دیوارِ حیات کی ہر اینٹ کھسک گئی ہو۔ اس خاکستری عمارت کی ہر شے بے ہنگم، بے پیرائے اور بے جگہ بکھری ہوئی تھی؛ ساز و سامانِ وجود زیر و زبر ہو چکا تھا اور جو قسمت سے سالم بچا تھا، وہ بھی اپنی سانچے سے بالکل باہر تھا۔ نظر آنے والوں کے لیے منظر ایک ایسے مضمحل انسان کا تھا جس نے اپنے آپ کی قدروقیمت کو روندڈالا تھا اور معبودیت کی گمراہی میں سرد و گرم، بے جان مورتوں اور عناصر کی پرستش اختیار کر لی تھی۔ معاشرہ اتنا مسخ و محو ہو چکا تھا کہ حقائقِ زندگی اپنے سادہ ترین روپ میں بھی اُس کی سمجھ سے بالاتر تھے، جہاں التجا اور احساس مکمل طور پر فنا ہو چکے تھے۔
دلوں کی تہہ میں دشمنی کو اپنے لیے گھر بنایا تھا، خیرخواہی کی جگہ دروغ گوئی نے قبضہ کیا تھا اور وفا کے بندھن ٹوٹ کر بنجارہ راہی کی مانند بکھر گئے تھے۔ ظالم خزاں کی سوغات بنے ہوئے تھے اور نیک لوگ محنت و مشقت کے صحراؤں میں ترستے تھے۔ نیک رُویے کو حقیر گھٹا کر بھیانک بد چلنی کو معیارِ حسنِ سلوک سمجھا جاتا تھا، اور جہاں فضیلت کا نشان ہونا چاہیے تھا، وہاں بگاڑ کا تسلسل جاری تھا۔
یہ سماج ہلاکت کے گھور ظلمت خانہ میں گرچکا تھا، جہاں سنگ دلی اتنی شدت اختیار کر چکی تھی کہ معصوم لڑکیوں کو زمین کی گود میں زندہ درگو کر دیا جاتا، شجاعت کو ظلم کی وردی پہنائی جاتی، فیاضی کو فضول خرچی کا نام دیا جاتا، خودداری اور غیرت کے منہ پر جاہلیت کی تلوار چلائی جاتی، اور عقل و فراست دھوکہ و مکاری کے نقاب میں چھپ گئی تھی۔ عقل کا کرشمہ بس جرائم کے نئے تریاق ایجاد کرنا اور خواہشات کو پورا کرنے کے نئے راستے تراشنا رہ گیا تھا۔
یکا یک رحمت خدا وندی جوش میں آئی اور کائنات ِ ارض و سما پر احسان ِ خداوندی ’’ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا‘‘ کا ظہور ہوا ۔دعائے سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تکمیل ہوئی اور بشارتِ سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام ’’ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ ‘‘ کی ولادت با سعادت ہوئی ۔
جس نبی رحمت ﷺ کو رب ذلجلال نے ’’ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا‘‘بنا کر مبعوث فرمایا حضور نبی کریمﷺ خالق کائنات کی تعلیم و ہدایت کے شاہد ،نیکوکاروں کو فلاح و سعادت کی بشارت سنانے والے مبشراور ہشیار و بیدار کرنے والے نذیر بن کر تشریف لائے۔ آپﷺ کے مقاصد بعثت کا بیان بھی خود ذات حق نے ان الفاظ میں فرمایا ’’ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ‘‘ جس کو نطق ِ کلام ’’ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى‘‘عطا فرمایا ۔جس کےاسلوب بیان کو ’’ اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ‘‘ کہا ۔جس کی مبارک ذاتِ گرامی کو سر تا پا ’’ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ ‘‘ کا مرقع بنایا اور عالمِ انسانیت کی فلاح و سعادت کی کامیابی و کامرانی کا تا قیامت بے مثال نمونہ کامل’’ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‘‘ کو بنایا ۔
اس وسیع و عمیق ایمان، محکم پیغمبرانہ تعلیم، اور حکیمانہ تربیت کی کرنوں سے منور، اپنی بیکراں شخصیت اور اس ماہرانہ کلامِ الہی سے جس کی گہرائیاں اور تازگی کبھی فرسودہ نہیں ہوتی، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کی زندگی میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ وہ پوشیدہ خزانے جو خام حالت میں پڑے رہ کر فنا کے دہانے پر تھے، جن کی افادیت و قدر کسی کو معلوم نہ تھی، اور جنہیں جہالت، کفر و کم حوصلگی نے مضمحل کر رکھا تھا، صاحب ِ قرآن کی رحمت و فیضان ِ نبوت نے انہیں حیات مستعار سے مزین کر دیا۔ اور بے بسی کی حالت سے نکال کر خود شناسی کا وہ مقام بخشا جہاں انسان اپنی قابلیتوں کے روشن ستارے بن کر آسمانِ معرفت میں چمکنے لگا۔ فیض ِ نبوت نے انہیں دنیا کی رہبر ی و امامت سےسرفراز کیا ، جن کی بصیرت اور بصاربھی نمونہ انسانیت بن گئی۔
وہ راہِ خدا پرستی جو جاہلیت کی حکومت میں کانٹوں اور رکاوٹوں سے بھرپور، ویران و خستہ تھی، اب بے خوف و باوقار شاہراہ کی صورت اختیار کر گئی۔ اطاعت کے دروازے کھل گئے اور نافرمانی کی راہیں دشوار ہو گئیں، جیسے رات کے اندھیرے کو سورج کی کرنوں نے چیر دیا ہو۔ اخلاقی تربیت نے ایسے جرثوموں کو دفن کر دیا جنہوں نے انسانیت کو ذلیل و رسوا کیا تھا۔ یہ وہ روحانی اور اخلاقی طوفان تھا جس نے لاکھوں انسانوں کو زوال و پستی سے نکال کر بلندیوں کی رفعت سے مرتفع کر دیا ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عرب معاشرے کےجاہل اور بدو کی چال ،چلن درست کی ، جذبات،احساسات اور ارادوں کو تشکیل دیا، نفوس و قلوب کے عروج و تزلزل کا فن ترتیب دیا جس سے دنیا کے صحیح تمدن اور صحیح معاشرت کی تکمیل ہوئی اخلاق و سیرت انسانیت کا جوہر قرار پایا نیکی اور بھلائی ایوان عمل کے نقش و نگار ٹھہرے خدا و بندہ کا رشتہ باہم مضبوط ہوا اور روز الست کا بھولا ہوا وعدہ پھر سے یاد کروایا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تربیت یافتہ جماعت علم و عمل ،تدبر و تفکر ،افہام و تفہیم اور ایسے خدا شناس کہ جن کے اوصاف حمیدہ کو ذات حق نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا‘‘ یہ جماعت فقط قرآن کے حافظ نہ تھے بلکہ ان کی سیرتوں سے ان کے گفتار اور کردار قرآن تعلیمات کا عکس تھا اور ’’ الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ‘‘ کا حقیقی اور عملی مظہر تھے ۔
نبوت محمدی ﷺکے فیضان اورآپ ﷺ کی تعلیم و تربیت سے تیار کردہ مردان حق کی جماعت نے ایک نئے زاویہ نگاہ سے اللہ تعالی کی تخلیق کردہ کائنات کا مشاہدہ کیا ،زمین و اسمان کا نظارہ کیا ،عالم ِ رنگ و بود کی کرشمہ سازیاں یکھی اور پھر اپنی تخلیقات پر غور کیا عقل و حکمت کی شعبدہ گری دیکھی تو بے ساختہ اس کائنات کی ترتیبِ اشیاء کی ترکیب ،خواص اور خالق و قادر کی صنعت کاری و صورت گری پر تعجب کرتا ہو ا ’’ ففَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ‘‘ کی صدا بلند کی ،سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ کی پیروی اور خد کو خدا سپردگی میں فنا کرتے ہوئے پکار اٹھتا۔
’’ اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا ‘‘
محسن انسانیت ﷺنے امت کو بتایا کہ اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ اس دنیا کے کاموں کو خدا کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق انجام دینا دین ہے، یعنی خدا کے قوانین کے مطابق دنیا داری ہی دینداری ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ ذکر و فکر گوشہ نشینی و عُزلت گری کسی غار اور پہاڑ میں خلوت نشیں ہو کر خدا کو یاد کرنا دینداری ہے اور دوست احباب آل، اولاد، ماں باپ ،قوم و ملک اور خود اپنی مدد آپ فکر معاش اور پرورش اولاد و دنیا داری ہے۔ اسلام نے اس غلطی کو مٹایا اور بتایا کہ خدا کے مطابق ان حقوق اور فرائض کو بخوبی بخوبی ادا کرنا بھی دینداری ہی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺنے دنیا کو ایک ایسی جماعت کی قیادت عطا فرمائی جس کے ہر قدم میں تدبرِ قرآن کی بصیرت اور اُسوہ محمدیﷺ کی متانت جھلکتی تھی۔ یہ مردانِ حر کا ایسا کارواں تھا جس کے پاوں خدا کی عطا کردہ روشنی سے منور تھے، اور وہ اجالے کے میعار پر چلتے ہوئے حق و انصاف کی سبیل پر گامزن تھا ۔ یہ ایسی قیادت تھی جس کی بنیاد نبوت کی مستحکم اخلاقی تربیت اور دینِ کامل کی تہذیب نفس پر رکھی گئی تھی، جس نے انسانی تاریخ کے اندھیروں میں روشنی کے چراغ روشن کر دیے۔ اس جماعت کی موجودگی نے ہلاکت کے کئی صدیوں پر محیط خطرات کی راہ میں ایسا بند باندھا جس نے انسانیت کو فتنوں کی لپیٹ سے محفوظ کر لیا اور دنیا کو صحیح منزل کی سمت لے کر چل پڑا۔
حضور نبی کریم ﷺکی تربیت یافتہ اس جماعت کے اثرات نےزندگی کے بہاؤ کو بدل کر ایک نئی سمت عطاء کی ، جہاں خود کشی اور خدا فراموشی جیسے مایوس کن بیابانوں میں لت پت اشخاص ہمہ گیر خدا پرستی ،خود شناسی سے خدا شناسی کی معرفت کے علمبردار بن گئے ، انسانی قلب و دماغ میں ایسا انقلاب آیا کہ جہاں پہلے فتنہ و فساد کے سائے تھے، وہاں نظم و اخلاق کے اعلیٰ معیارات نے اپنا گھر بنایا اور ناپاکی کے زوال کو بدل کر نیک طرزِ عمل اور دیانت کی بلندی روشنی بخشی ۔
در دل مسلم مقام مصطفی است آبروئے ما ز نام مصطفی است
’’وجودِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فکرِ انسانی کی معراج ہے اور عملِ انسانی کا نقطۂ کمال بھی۔ اس لیے اقبال کے نزدیک اتباعِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصول اس ذاتِ ستودہ صفات کے اندر فنا ہوئے بغیر میسر نہیں آسکتا۔ ‘‘
آج امت مسلمہ پھر سے زوال کا شکار ہے۔ہمارے قلوب مردہ اور دماغ مفلوج ہو گئے ہیں ۔جس نبی کریمﷺ کے ہم نام لیوا ہیں اس کے اسوہ حسنہ کو بھلا بیٹھے ہیں ۔تعلیماتِ محمدی ﷺ کو پسِ پشت ڈال کر مادیت پرستی کی عیش و عشرت میں مگن ہیں ۔
کبھی تنہائی کی گہری ساعتوں میں سوچیے: وہ اولاد جس سے ہم پر بے پناہ محبت اور شفقت کرتے ہیں، اگر اچانک درد و تکلیف میں مبتلا ہو جائے اور اپنی آہوں سے دل چیر نے لگے، تو کیا ہم سکون کی نیند سو پائیں گے؟ کیا ہم اس کے علاج اور مداوا کا بندوبست کیے بغیر، اس کی تکلیف میں بے حسی سے تڑپنے کو چھوڑ دیں گے اور خود اپنی راحت میں مست ہو جائیں گے؟
اسی طرح اس شریکِ حیات کا خیال کیجیے، جس پر جان چھڑک دی جاتی ہے اور جس کی مسکراہٹ دل کو سکون بخشتی ہے، اگر وہ بیماری کی آغوش میں چلی جائے اور درد و غم کی تصویر بن کر قبلے سے لپٹے، تو کیا آپ راحت کی سانس لے سکیں گے؟ کیا آپ کے دل و دماغ میں رنج و الم کا سیلاب نہیں اٹھے گا؟ اور اگر آپ اس کی فکر اور اس کی ضروریات سے غافل ہو گئے تو کیا یہ بے وفائی نہیں ہوگی؟
اسی طرح وہ والدین، جن کی بے پناہ شفقت اور محبت نے ہمیں زندگی کے ہنر سکھائے، اور جوانی کی نعمتوں کا حقدار بنایا، اگر کوئی عارضہ یا معذوری انہیں گرا دے تو کیا ہم ان کی تکلیف اور اذیت کو نظر انداز کر دیں گے؟ کیا ان کے علاج کے لیے ہم کوشش و جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے؟
بے شک، محبت کی یہی حقیقت ہے کہ جس سے تعلق ہو، اس کی پریشانی کو اپنی سمجھیں، اس کے درد پر آنسو بہائیں، اور اس کی صحت یابی کے لیے دعا و علاج کا سہارا لیں۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو یہ بے حسی و بے غیرتی ہے، اور ہماری ذات کے لیے شدید شرمندگی کا باعث ہے۔
رات کی تنہائی میں ذرا اس طرف بھی غور کیجیے کہ ہم سب وہی محسنِ انسانیت، ختمی مرتبت، شفیع امت، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا دم بھرتے ہیں۔ ہم روزانہ پانچ وقت لاؤڈ سپیکر سے ان کی رسالت کا اعلان کرتے ہیں، اور نمازوں میں ان پر بے شمار درود و سلام بھیجتے ہیں۔ مگر کیا ہم واقعی ان کی سنت اور شریعت کی زبوں حالی پر اپنے دل کو کسک محسوس کرتے ہیں؟ کیا رسول خدا کی امت کی کرب و درد کی فکر ہمارے دلوں میں جگہ بناتی ہے؟
کبھی ایسا ہوا کہ ہم نے شریعت محمدیﷺکی بگڑتی ہوئی حالت، امت کی رسوائی اور زوال پر غور کیا اور دل فگار ہو گیا؟ کیا ویسا غم کھایا جیسے اپنی اولاد، والدین کی تکلیف پر بے چین ہوتے ہیں؟
کوئی ایسی رات گزری ہے جب ہماری نیند اڑ گئی ہو کیونکہ روحِ محمدی ﷺبے چین تھی؟ کیا ہم نے بے قراری محسوس کی کیونکہ چراغِ محمدی اندھیروں میں جل رہا تھا؟ یا ہماری آنکھیں اشکبار ہوئیں کیونکہ امت کی کشتی بھنور میں گھری ہوئی تھی؟ کیا کوئی دن ایسا گزرا کہ رسولِ کریمﷺکی کتابِ ہدایت کو جب ہم نے غور و فکر اور عمل سے دور اور گردِ آلود جُزدانوں میں محصور دیکھا، تو ہمارا سینہ تڑپ اٹھا ہو اور ہم سراپا غم بن گئے ہوں ؟
ذرا غور کیجیے: ہر روز ہمارے سامنے شریعت محمدی پر نادان دوست اور دانہ دشمن حملے کرتے ہیں، مگر ہم اپنے خواب و خیال میں مست ہیں۔ دنیا کی عیش و عشرت میں مگن ہیں، مناصب و عہدوں کی ہوس نے ہمیں اندھا و بے حس کر دیا ہے۔ امتِﷺپر حوادث کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، قتل ہوا، عصمتیں لُٹی جاتی ہیں، وارثوں کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں، مگر ہم اپنی عافیت کے قید خانے سے باہر نہیں نکلتے۔
امتِ محمدیﷺ کی وحدت کو ذات، برادری، مسلک، جماعت، علاقائیت، اور سیاست کی قربان گاہوں پر لٹا دیا جاتا ہے، مگر ہمارے ذہنوں اور دلوں میں کوئی خلل محسوس نہیں ہوتا۔ ہمارے قلم خشک ہو چکے ہیں، ہمارے قدم بوجھل ہو گئے ہیں،ہمارا شعور غلام بن چکا ہے،ہمارے تخیلاتی حس مفلوج ہو چکی ہے، اور ہمارے دل زنگ آلود اور مردہ ہو چکے ہیں ۔ ہم اپنے محبوب کریم ﷺکی میراث کی تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، مگر حفاظتی تدابیر کی طرف توجہ نہیں دیتے۔
کیا ہم سمجھتے ہیں کہ عشق کا انگارہ سلگ کر بجھ گیا ہے اور راک (بس) باقی رہ گئی ہے؟ کیا یہی محبت رسول ﷺہے؟ کیا یہی عشق رسول کی حقیقت ہے؟ کیا اسی کا نام غلامی رسول ہے؟
اگر واقعی ہم ذاتِ محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، تو ہمیں اس محبت کی گہرائی میں اُتر کر آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانا ہوگا۔ محبت کا تقاضا ہے کہ ہم نبی پاک کی ذاتِ مبارکہ سے الفت کی ایسی پریشانی محسوس کریں جو ہمیں ان کے پیغام کے لیے جگر کی آخری دھڑکن تک قربان ہونے پر مجبور کرے۔ محبوب کی کشش انسان کو پہاڑ توڑنے اور سمندر سمیٹنے کی جرات عطا کرتی ہے، مگر افسوس کہ ہماری محبت سے وہ جذبہ اور عمل کی طاقت نظر نہیں آتی، ہمیں اپنے اور محبت کے اس فاصلہ کو پر کرنا ہوگا۔
شبے پیش خدا بگریستم زار مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد نمی دانی کہ ایں قوم دلے دارند و محبوبے ندارند
علامہ اقبال نے اس نفسیاتی کمزوری کا ایسا دل دہلا دینے والا وصف پیش کیا ہے کہ وہ ہمیں حقیقت کی آنکھ سے دکھائے بغیر نہیں چھوڑتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک رات اللہ کے حضور زار و قدار رونے لگے اور پوچھا کہ مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کی اصل وجہ کیا ہے؟ جواب ملا: "تمہیں علم نہیں، یہ وہ قوم ہے جو دل تو رکھتی ہے مگر محبوب نہیں رکھتی۔" جس کے پاس سچا محبوب ہوتا ہے، وہ اس کی بات مانو، اس کی تعلیمات پر عمل کرو، جان و دل نچھاور کرو، اس کے لیے قربانیاں دو اور اس کے لائے ہوئے نئے نظام کو زندہ کر دو۔
آج بھی اگر اہل مغرب کو کسی بات کو خوف ہے وہ فقط بیدار اور پر مغز فکر ِقرآن اور صاحب قرآن کی معرفت سے لبریز جوش وجنوں اور ولولے کا ہے۔ ایسے جدید و قدیم مزاج سے ہم آہنگ اشخاص آج بھی اگر پیدا ہونا شروع ہو جائے تو اغیار اور دشمنان ِ اسلام کے اجسام پر لزا طاری ہو سکتا ہے،اور ان کی رات کی نیدیں حرام ہو سکتی ہیں ۔اسی بات کو مفکر پاکستان نے کچھ یوں بیان کیا ہے:
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اُس اُمّت سے ہے جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضُو
یہ تصور کہ مسلمان راکھ کے ڈھیر سے کم نہیں، ناقابلِ قبول ہے؛ مگر یہ انکار بھی مشکل ہے کہ ان کے دل میں محبت کی کوئی روشنی نہیں۔ محبت ہے، شدت نہیں، خوابیدہ درد ہے جو اگر جاگ اٹھے تو اندھیری راتوں میں شمعِ حیات بن جائے اور سلگتے سلگتے شعلہ اور آگ کی صورت بن کر امت کو روشنی بخشے۔
دوسری جانب مسعود، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت سے محبت کا جو عالم ہے، وہ بے مثال ہے۔ امت پر شفقت اور انسانیت پر رحمت کی ایسی مثال دکھائی، جس کا تصور ایک ماہربھری ماں بھی نہیں کر سکتی۔ دن بھر انسانوں کی خدمت اور ہدایت کے لیے مشغول و سرگرداں رہتے ہیں، اور رات کو دعا و مناجات میں اس قدر بے تاب ہوتے ہیں کہ آنکھیں سوجھ جاتی ہیں، پاؤں میں روم آ جاتا ہے، لیکن امت کی سعادت و نجات کے لیے ان کی بے چینی اور بے قراری کبھی تھمتی نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور عرض کرتے ہیں:
اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
’’اگر تو انھیں عذاب دے تو وہ تیرے (ہی) بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو بیشک تو ہی بڑا غالب حکمت والا ہے‘‘
یہ نالہ و زاری اور بے قراری عمر بھر کا سفر ہے، جو محبت و عقیدت میں انسان کو دیوتا بناتی ہے اور مخالفت و عناد میں انہیں محض خبطی اور دیوانہ قرارا دیتی ہے۔ امت کی ہدایت کے لیے مصائب اٹھانا، ان کی نجات کے لیے اشک بہانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں حضور اکرم ﷺکی امت سے اس بے پناہ محبت کا اعتراف فرمایا ہے، جو ہر دل کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ارشادِ ربانی ہے :
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
’’بیشک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو ! ) وہ تمہارے لیے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لیے نہایت (ہی) شفیق بیحد رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘
ذرا تصور کیجیے، یہ وہ حسنِ خلق ہے جو محبوب کی خاطر جان نچھاور کرنے، انسانیت کی تاریکی راتوں کو جگمگانے کے جذبے کی علامت ہے، اور یہ نعمت صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیب ہوئی۔ آج کیا ہم اپنے دل میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کی محرومیوں اور زوال پذیری پر وہی بے قراری محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہم دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو زندہ کرنے کے لیے دل کی گہرائیوں سے کوشاں ہیں؟
جب رات کو سونے سے پہلے اپنے دن کا حساب کتاب کر لینا چاہیے تو قرآن کریم کو صرف الفاظ کا مجموعہ نہ سمجھیں، بلکہ تدبر و تفکر سے اسے سمجھ کر اپنی زندگی کا آئینہ بنائیں۔ سیرت و سنت کو محض عقیدت کی حد تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کو اپنی شخصیت، گفتار اور کردار کا حصہ بنا لیں۔
حضور نبی کریم ﷺکی سیرت اب بھی حیاتِ جاوِداں اور قوت و شجاعت کا ایسا سرچشمہ ہے جس سے عالم اسلام کی خُشک رگوں میں زندگی کا گرم اور تازہ خون پھر دوڑ سکتا ہے۔اُسوئےمحمدی ﷺ کی تاثیر سے ایک اونگتی سوتی قوم ایک پرجوش بے چین اور سرگرمِ عمل قوم بن سکتی ہے۔آپ ﷺکے پیش کردہ زریں اصولوں پر عمل پیرا ہونا سے ’’ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ ‘‘ کی سی اَخوتِ ایمان اور ’’ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘‘‘ کی حقیقی بندگی سے معمور معاشرے کی تعمیر کو عروج ِ کمال میسر آسکتا ہے۔بقول اقبال ؒ:
ہر کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ سامانِ اوست بحر و بر در گوشۂ دامانِ اوست