اس وسیع و عریض کائنات پر نظر دوڑائیے تو ہر سو ایک ہی حقیقت جھلکتی نظر آتی ہے۔ شجر و حجر، شمس و قمر، بحر و بر، افلاک و ارض، بہار و خزاں، چرند و پرند — الغرض رنگ و بو کی یہ پوری دنیا، بلا استثنا، ایک ہی ذات کی کبریائی کا نظارہ پیش کر رہی ہے۔ تخلیق کا ہر کمال، ہر ترتیب، ہر توازن، اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ سب کچھ بےمقصد نہیں بلکہ ایک عظیم حکمت کے تحت وجود میں آیا۔ اور جب اسی خالق نے اپنی تمام تخلیقات میں سب سے بڑا شاہکار تراشنے کا ارادہ کیا، تو اس نے انسان کو منتخب کیا — اس مٹی کے پیکر کو وہ آزادی، وہ شجاعت، اور وہ صلاحیت عطا کی کہ اس نے سمندروں کی گہرائیوں کو چھو لیا اور خلاء کی وسعتوں کو کنگھال ڈالا۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ نے اسی رفعتِ انسانی کی گواہی یوں دی:
تسلیم کی خُوگر ہے جو چیز ہے دُنیا میں
انسان کی ہر قوّت سرگرمِ تقاضا ہے
اس ذرّے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم
یہ ذرّہ نہیں، شاید سِمٹا ہُوا صحرا ہے
اب ذرا ٹھہر کر سوچیے: آخر اس عظمت کی بنیاد کیا ہے؟ کیا یہ محض ایک شاعرانہ مبالغہ ہے، یا اس کی جڑیں خود قرآن مجید میں پیوست ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے متعلق جو اعلان فرمایا، وہ کسی معمولی مخلوق کے بارے میں نہیں ہو سکتا:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
"بےشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔"
(سورۃ التین، آیت ۴)
اور اسی پر بس نہیں — اسی انسان کے بارے میں فرمایا گیا:
فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي
"پھر جب میں اسے درست کر چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں۔"
(سورۃ الحجر، آیت ۲۹)
ذرا سوچیے، یہ کیسی عظمت ہے کہ خالقِ کائنات اپنی مخلوق میں اپنی روح کی اضافت کا ذکر فرماتا ہے۔ اور جب فرشتوں کو اسی پیکرِ خاکی کے سامنے جھکنے کا حکم دیا گیا، تو یہ محض ایک تعظیمی رسم نہیں تھی بلکہ اس بات کا اعلان تھا کہ یہ مخلوق کائنات کی کسی اور مخلوق سے بلند مقام رکھتی ہے:
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا
"اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا۔"
(سورۃ البقرہ، آیت ۳۴)
اور پھر یہ اعزاز کسی ایک فرد تک محدود نہ رہا بلکہ پوری نسلِ آدم کو عطا کیا گیا:
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا
"اور بےشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، اور انہیں خشکی و تری میں سواری دی، اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، اور اپنی بہت سی مخلوقات پر ایک نمایاں فضیلت عطا کی۔"
(سورۃ بنی اسرائیل، آیت ۷۰)
قلندرِ لاہوری نے اسی جلالتِ آدم کو ایک ہی مصرعے میں سمو دیا: "اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے، تھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے۔" اور یہیں سے وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جس نے اس شاہکار کو محض ایک عظیم تخلیق سے آگے بڑھا کر ایک بامقصد وجود بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نسلِ آدم کی رشد و ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ پیغمبر بھیجے، یہاں تک کہ سلسلۂ انبیاء کی آخری کڑی، خاتم المرسلین ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ نے اپنے دور کی اقوام کو بتوں کی پرستش سے نکال کر، جہالت کی اندھیری راتوں میں بھٹکتی انسانیت کو آفتابِ ہدایت کا خوگر بنا دیا۔ ناخواندگی، غلامی اور محکومی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی انسانیت کو حریت، حمیت اور خودداری کے رنگ میں رنگ دیا۔ اور یوں عرب کے وہ صحرا نشین، جو کل تک لات و ہبل کے سامنے جھکتے تھے، دنیائے انسانیت پر رحمت کی گھٹا بن کر چھا گئے۔
اب یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا یہ عظمت صرف انبیاء اور ان کے صحابہ تک محدود رہ گئی، یا اس کا کوئی تسلسل باقی رہا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں کچھ ایسی ہستیاں پیدا ہوتی رہیں جنہیں فطرت نے حسن تخلیق پر مامور کر دیا — علم و عرفان کے مسافر، جنہیں قرآن کی زبان میں "اولیاء اللہ" اور رسول اللہ ﷺ کی زبان میں "وارثینِ انبیاء" کہا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی زندگی کا مقصد یہ تھا کہ وہ دنیا کو جس حال میں پائیں، اس سے بہتر حال میں چھوڑ کر جائیں۔ جہاں ہر شخص محض اپنے لیے جینا پسند کرتا ہے، وہاں یہ فرہادی گروہ دوسروں کے لیے اپنی زندگیاں نچھاور کر دیتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے ایسے ہی مردِ مومن کی تصویر یوں کھینچی:
خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز
نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
یہاں تک بات پہنچتی ہے تو ایک روشن، امید افزا تصویر ابھرتی ہے: انسان، اگر چاہے، تو کائنات کا مظہرِ خدا بن سکتا ہے، تسخیرِ کائنات اور تعمیرِ کائنات دونوں کا اہل ہو سکتا ہے۔ اقبالؒ نے اسی صلاحیت کو یوں پکارا:
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
مگر یہیں سے وہ نکتہ بھی کھلتا ہے جسے نظر انداز کرنا اس پوری عظمت کے ساتھ سراسر بےانصافی ہوگی۔ اگر انسان اتنا ہی عظیم، اتنا ہی بلند، اتنا ہی بامقصد پیدا کیا گیا، تو آج کے انسانی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟ یہ کہ آج انسان کے پاس بےپایاں دانش ہے، بےحساب علم ہے، مشاہدہ و تجربہ کی انتہا ہے — مگر حسنِ معاملت، دلسوزی، اور ہمدردی کے جوہر نایاب ہو چکے ہیں۔ آدمی، آدمی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ علمی و عقلی بلندی اور اخلاقی پستی ایک ہی شخص میں، ایک ہی وقت میں، متوازی چل رہی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کسی صاحبِ علم و فضل کو محض اس کی علمی فضیلت کی بنیاد پر نہ سچا کہا جا سکتا ہے، نہ امانت دار، نہ مخلص، نہ ایثار پیشہ۔
اور یہی وہ گرہ ہے جسے سمجھے بغیر انسان کی اصل تکمیل کبھی ممکن نہیں: جب تک تزکیۂ نفس نہ ہو، جب تک روح آلائشوں سے پاک نہ ہو، اس وقت تک حسنِ اخلاق اور حسنِ معاملات کا بوجھ اٹھایا ہی نہیں جا سکتا۔ علم و فضل کا یہ تضاد، دانش و کردار کا یہ تصادم، دراصل شخصیت کے انتشار کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اور جس دن یہ تضاد دور ہو جائے، شخصیت میں توحید جلوہ گر ہو جاتی ہے، اور انسان کو وہ قیام اور وہ استحکام میسر آ جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا۔
یہی وہ سوال ہے جو ہر پڑھنے والے کے سامنے اب کھڑا ہے: کیا میری علمی ترقی میرے اخلاقی زوال کا پردہ تو نہیں بن گئی؟ کیا میں نے کائنات کی تسخیر کے خواب تو سجا لیے، مگر اپنے دل کی تسخیر کو بھلا بیٹھا؟ اور اگر جواب دل کو کچوکے دے، تو یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے واپسی کا سفر شروع ہو سکتا ہے — وہی سفر جو تزکیۂ نفس، صحبتِ صالحین، اور علمِ نبوت سے وابستگی کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوتا۔
اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ اپنے اندر کے اسی شاہکار کو پہچانیں، اپنی علمی صلاحیتوں کو اخلاقی بلندی کے ساتھ ہم آہنگ کریں، اور اس تزکیے کی طرف قدم بڑھائیں جو انسان کو حقیقی معنوں میں "احسن تقویم" کا مصداق بناتا ہے، تو Sirat Islamic Academy کے قرآن، سیرت اور تزکیۂ نفس کے مستند آن لائن کورسز میں آج ہی شامل ہوں، اور اپنی تخلیق کے اصل مقصد کی طرف پلٹ آئیں۔