سورہ کہف کے فضائل اور وظائف
جمعہ کا دن آتے ہی دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان سورہ کہف کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ قرآنِ مجید کی اٹھارہویں سورت ہے، جو پندرہویں اور سولہویں پارے میں ہے اور جس کی 110 آیات ہیں۔ سورہ کہف کے فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں: یہ جمعہ کو پڑھنے والے کے لیے نور ہے، اس کی ابتدائی آیات دجال کے فتنے سے حفاظت کا ذریعہ ہیں، اور اس کی تلاوت پر سکینت نازل ہوتی ہے۔ اس مضمون میں سورہ کہف کی فضیلت، جمعہ کو اسے پڑھنے کا وقت، اس کے چار قصوں کا پیغام، اور اس کی چند ایسی آیات بیان کی گئی ہیں جو بطورِ دعا اور وظیفہ پڑھی جاتی ہیں۔
سورہ کہف کی فضیلت
1۔ جمعہ کے دن پڑھنے والے کے لیے نور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:
مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ (المستدرک للحاکم؛ السنن الکبریٰ للبیہقی)
جو شخص جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھے، اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان کا عرصہ نور سے روشن کر دیا جاتا ہے۔
علامہ البانیؒ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ بعض روایات میں یہ بات حضرت ابو سعیدؓ کے اپنے قول کے طور پر بھی آئی ہے، اور محدثین کے نزدیک ایسی بات، جو رائے سے نہیں کہی جا سکتی، حکماً مرفوع ہوتی ہے۔ یہ نور پورے ہفتے کی ہدایت، دل کی روشنی اور زندگی کی برکت ہے۔
2۔ دجال کے فتنے سے حفاظت
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:
مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث: 809)
جس نے سورہ کہف کی پہلی دس آیات یاد کر لیں، وہ دجال (کے فتنے) سے محفوظ رہے گا۔
صحیح مسلم ہی میں حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم میں سے جو اسے (دجال کو) پائے، وہ اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے (صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث: 2937)۔ اسی لیے سورہ کہف کی پہلی دس آیات یاد کرنا ہر مسلمان، بالخصوص بچوں، کے لیے بہترین عمل ہے۔
3۔ تلاوت پر سکینت کا نزول
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی سورہ کہف پڑھ رہے تھے اور قریب ہی ان کا گھوڑا بندھا تھا۔ اچانک ایک بادل نے انہیں ڈھانپ لیا اور وہ قریب آنے لگا، جس سے گھوڑا بدکنے لگا۔ صبح انہوں نے رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کو یہ واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا: ’’تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ‘‘، یہ سکینت تھی جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی (صحیح البخاری، حدیث: 5011؛ صحیح مسلم، حدیث: 795)۔
جمعہ کو سورہ کہف کب پڑھیں؟
اسلامی تقویم میں دن کا آغاز غروبِ آفتاب سے ہوتا ہے۔ اس لیے اہلِ علم کے نزدیک جمعہ کو سورہ کہف پڑھنے کا وقت جمعرات کی شام مغرب سے شروع ہو کر جمعہ کے دن غروبِ آفتاب تک ہے۔ اس دوران کسی بھی وقت پڑھ لیجیے؛ بہتر یہ ہے کہ جمعہ کے دن فجر کے بعد یا جمعہ کی نماز سے پہلے پڑھ لی جائے، تاکہ دن کی مصروفیت میں رہ نہ جائے۔ اگر پوری سورت ایک ساتھ نہ پڑھ سکیں تو دن بھر میں تھوڑا تھوڑا کر کے مکمل کر لیجیے۔
سورہ کہف کے چار قصے اور ان کا پیغام
سورہ کہف میں چار قصے بیان ہوئے ہیں۔ بہت سے اہلِ علم نے ان کا تعلق ان چار بڑے فتنوں سے جوڑا ہے جن سے ہر انسان کو واسطہ پڑتا ہے:
- اصحابِ کہف: دین کا فتنہ۔ چند نوجوانوں نے ایمان بچانے کے لیے سب کچھ چھوڑ دیا، اور اللہ نے انہیں اپنی پناہ میں لے لیا۔
- دو باغوں والا شخص: مال کا فتنہ۔ دولت نے ایک شخص کو مغرور کر دیا اور وہ اپنے رب کو بھول گیا، یہاں تک کہ اس کا سب کچھ تباہ ہو گیا۔
- حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام: علم کا فتنہ۔ یہ قصہ سکھاتا ہے کہ انسان کا علم کتنا ہی بڑا ہو، اللہ کی حکمت اس سے کہیں بڑی ہے۔
- ذوالقرنین: اقتدار کا فتنہ۔ ایک طاقت ور بادشاہ نے اپنی قوت کو عدل اور خدمت کے لیے استعمال کیا اور ہر کامیابی کو اللہ کی رحمت قرار دیا۔
دجال کا فتنہ بھی انہی چاروں کا مجموعہ ہوگا: وہ دین پر حملہ کرے گا، مال کا لالچ دے گا، علم کا دھوکا دے گا اور طاقت کا رعب ڈالے گا۔ اسی لیے یہ سورت ان فتنوں سے بچاؤ کا قرآنی نسخہ ہے۔
سورہ کہف کی آیات بطورِ دعا و وظیفہ
سورہ کہف میں چند آیات ایسی ہیں جو بطورِ دعا اور وظیفہ پڑھی جاتی ہیں۔ یہ قرآن کی آیات ہیں، اس لیے انہیں پڑھنا عبادت اور باعثِ اجر ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ ان کے لیے کوئی خاص تعداد یا مخصوص وقت کسی صحیح حدیث میں مقرر نہیں؛ انہیں دعا کے طور پر خلوص اور یقین کے ساتھ پڑھا جائے۔
1۔ رحمت اور درست رہنمائی کی دعا (آیت 10)
رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا (الكهف: 10)
اے ہمارے رب! ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، اور ہمارے معاملے میں ہمارے لیے درست راستہ مہیا فرما دے۔
یہ اصحابِ کہف کی دعا ہے، جو انہوں نے غار میں پناہ لیتے وقت مانگی۔ کسی بھی مشکل فیصلے، امتحان، نئے کام یا الجھن کے وقت یہ دعا بہترین ہے، کیونکہ اس میں رحمت بھی مانگی گئی ہے اور درست راستے کی رہنمائی بھی۔
2۔ نعمتوں کی حفاظت اور نظرِ بد سے بچاؤ (آیت 39)
وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ (الكهف: 39)
اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ ’’جو اللہ چاہے، اللہ کے سوا کسی میں کوئی قوت نہیں‘‘؟
جب اپنے گھر، مال، اولاد یا کسی نعمت کو دیکھ کر دل خوش ہو تو ’’مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ‘‘ کہنا اس آیت کی تعلیم ہے۔ یہ کلمات نعمت کو اس کے اصل دینے والے کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور غرور سے بچاتے ہیں۔ ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ‘‘ کو رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا (صحیح البخاری، حدیث: 4205؛ صحیح مسلم، حدیث: 2704)۔
3۔ بھول جانے پر اور ہدایت کی دعا (آیات 23، 24)
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ۚ وَاذْكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَىٰ أَن يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَٰذَا رَشَدًا (الكهف: 23، 24)
اور کسی کام کے بارے میں ہرگز نہ کہو کہ میں کل اسے کر دوں گا، مگر یہ کہ (ساتھ کہو) اگر اللہ نے چاہا۔ اور جب بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرو، اور کہو: امید ہے کہ میرا رب اس سے بھی زیادہ درست بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔
یہ آیات ہر مسلمان کو ’’ان شاء اللہ‘‘ کہنے کا ادب سکھاتی ہیں۔ جب کوئی بات یا کام بھول جائے تو اللہ کو یاد کیجیے اور یہ دعا پڑھیے: ’’عَسَىٰ أَن يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَٰذَا رَشَدًا‘‘۔
آخری بات
سورہ کہف جمعہ کا تحفہ ہے: ایک ہفتے کا نور، فتنوں سے حفاظت کا حصار، اور زندگی کے چار بڑے امتحانوں کا قرآنی نقشہ۔ اسے محض ثواب کے لیے نہیں، سمجھ کر پڑھیے، تاکہ اس کے قصے آپ کے ایمان، مال، علم اور اختیار کی حفاظت کریں۔ اگر ابھی تک یہ معمول نہیں بنا تو آج جمعہ ہے؛ آج سے آغاز کیجیے، اور اس کی پہلی دس آیات یاد کرنے کا عزم بھی کر لیجیے۔