وضو کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے؟
وضو کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے؟ یہ مسلمانوں کے سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوالات میں سے ایک ہے، کیونکہ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے تمام علما کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے، کچھ میں فقہی مذاہب کا اختلاف ہے، اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں لوگ فکر مند رہتے ہیں مگر ان سے وضو ٹوٹتا ہی نہیں۔ اس مضمون میں قرآن و سنت کی روشنی میں وضو توڑنے والی چیزوں کی مکمل اور واضح فہرست دی گئی ہے، تاکہ آپ اطمینان سے اور بے جا شکوک کے بغیر نماز پڑھ سکیں۔
وہ چیزیں جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے (تمام علما کا اتفاق)
1۔ شرم گاہوں سے نکلنے والی ہر چیز: پیشاب، پاخانہ، ہوا کا خارج ہونا، اور اگلی یا پچھلی شرم گاہ سے نکلنے والی ہر چیز وضو توڑ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیتِ وضو میں فرمایا: ’’أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ‘‘ (المائدة: 6)، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کر کے آئے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جس کا وضو ٹوٹ جائے، اللہ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا جب تک وہ دوبارہ وضو نہ کر لے (صحیح البخاری، حدیث: 135)۔
2۔ گہری نیند: ایسی نیند جس میں جسم پوری طرح ڈھیلا ہو جائے، جیسے لیٹ کر یا ٹیک لگا کر سونا، وضو توڑ دیتی ہے، کیونکہ انسان کو معلوم نہیں رہتا کہ ہوا خارج ہوئی یا نہیں۔ فقہ حنفی میں جم کر بیٹھے ہوئے ہلکی اونگھ سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
3۔ ہوش کا ختم ہو جانا: بے ہوشی، بیماری یا دوا کی وجہ سے ہوش کھو دینا، نشہ اور جنون، سب وضو توڑ دیتے ہیں۔
4۔ غسل کو واجب کرنے والی چیزیں: جیسے ہم بستری، حیض اور نفاس کا ختم ہونا۔ ان میں صرف وضو کافی نہیں، پورا غسل واجب ہے۔
وہ چیزیں جن سے وضو نہیں ٹوٹتا
بہت سے لوگ عام غلط فہمیوں کی وجہ سے بلاوجہ دوبارہ وضو کرتے رہتے ہیں۔ ان چیزوں سے وضو نہیں ٹوٹتا:
- اپنا یا کسی کا ستر دیکھ لینا، یا کپڑے تبدیل کرنا
- بال یا ناخن کاٹنا
- رونا، یا معمولی خون جو بہے نہیں (فقہ حنفی میں)
- کھانا پینا (حنبلی مذہب میں اونٹ کے گوشت کے سوا)
- کریم، تیل یا خوشبو لگانا
- جم کر بیٹھے ہوئے ہلکی اونگھ (فقہ حنفی میں)
- کتے یا کسی جانور کو چھونا (البتہ ہاتھ ناپاک ہو جائیں تو انہیں دھونا چاہیے)
جھوٹ اور غیبت جیسے گناہوں سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ اس کا ثواب کم ہو جاتا ہے، اور ان کے بعد وضو تازہ کر لینا اچھا ہے۔
اگر شک ہو جائے تو؟
اگر آپ باوضو ہوں اور پھر شک ہو کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، تو بنیادی اصول یہ ہے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے اس شخص کے بارے میں، جسے نماز میں کچھ محسوس ہو، فرمایا کہ وہ نماز نہ چھوڑے جب تک آواز نہ سنے یا بو محسوس نہ کرے (صحیح البخاری، حدیث: 137؛ صحیح مسلم، حدیث: 361)۔ یعنی جب تک وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہو، وضو باقی ہے۔ یہ اصول مسلمان کو وسوسوں سے بچاتا ہے، جو عبادت کو بوجھ بنا
دیتے ہیں۔
مسلسل عذر والوں کے لیے
جس شخص کو کوئی مسلسل عذر ہو، مثلاً پیشاب کے قطرے مسلسل آتے ہوں، عورت کو حیض کے ایام کے علاوہ مسلسل خون آتا ہو (استحاضہ)، یا ہوا بے اختیار خارج ہوتی رہتی ہو، وہ شرعاً ’’معذور‘‘ ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق ایسا شخص ہر نماز کا وقت شروع ہونے پر ایک بار وضو کرے اور اس وقت کے ختم ہونے تک اسی وضو سے نماز پڑھے، چاہے عذر جاری رہے۔ اپنی مخصوص صورت کسی عالم سے ضرور پوچھ لیجیے۔
آخری بات
یہ جاننا کہ وضو کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے، عبادت میں اطمینان پیدا کرتا ہے۔ جو یقینی ہے اس پر قائم رہیے، بے جا شکوک سے بچیے، اور جن مسائل میں علما کا اختلاف ہے، ان میں اپنے مسلک پر اعتماد سے عمل کیجیے۔ پھر پاک جسم اور مطمئن دل کے ساتھ اپنے رب کے سامنے نماز کے لیے کھڑے ہو جائیے۔