اگر اللہ ہر جگہ ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آتا؟


ایک لیب میں ایک سائنس دان مائیکروسکوپ کے سامنے بیٹھا ہے۔ وہ ایک ننھے سے بیکٹیریا کو بڑا کر کے دیکھ رہا ہے، جو ننگی آنکھ سے کبھی نظر نہیں آتا۔ اسی لمحے اس کا ایک شاگرد کمرے میں داخل ہوتا ہے اور پوچھتا ہے: "سر، اگر اللہ واقعی موجود ہے اور ہر جگہ ہے، تو ہم اسے دیکھ کیوں نہیں سکتے؟" سائنس دان مائیکروسکوپ سے نظر ہٹائے بغیر جواب دیتا ہے: "پہلے یہ بتاؤ، کیا تم مقناطیسی میدان کو دیکھ سکتے ہو؟ کیا تم کشش ثقل کو، جو اسی وقت تمہیں کرسی سے چپکائے ہوئے ہے، اپنی آنکھ سے دیکھ سکتے ہو؟" شاگرد خاموش ہو جاتا ہے۔


یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اس پورے سوال کی اصل حقیقت کھلتی ہے۔ آئیے اسے قدم بہ قدم سمجھتے ہیں۔


پہلا دلیل: آنکھ ایک محدود آلہ ہے، معیارِ حقیقت نہیں


انسانی آنکھ ایک بہت ہی حیرت انگیز مگر انتہائی محدود آلہ ہے۔ یہ صرف روشنی کی ان لہروں کو پکڑتی ہے جو ایک مخصوص طول موج کے اندر ہوں — جسے سائنس "قابلِ رویت روشنی" (visible light) کہتی ہے۔ اس کے علاوہ ریڈیو لہریں، مائیکرو ویوز، الٹرا وائلٹ شعاعیں، ایکس ریز، یہ سب اسی روشنی کے خاندان کا حصہ ہیں، مگر ان میں سے کسی ایک کو بھی انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں موجود نہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہم روزانہ موبائل فون پر جو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، وہ ریڈیو لہروں ہی کے ذریعے سفر کرتا ہے، مگر کسی نے آج تک انہیں آنکھ سے نہیں دیکھا۔


اب سوچیے: اگر ایک مخلوق، یعنی روشنی کی ایک قسم، آنکھ کی حد سے باہر ہو سکتی ہے، تو وہ ذات جس نے خود روشنی، آنکھ، اور دیکھنے کا پورا نظام تخلیق کیا، اسے اسی آنکھ سے دیکھنے کی شرط لگانا کتنی بڑی منطقی غلطی ہے؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ "میں موسیقی پر اس وقت تک یقین نہیں کروں گا جب تک اسے سونگھ نہ لوں۔" سونگھنا موسیقی کو جاننے کا آلہ ہی نہیں، اس لیے ناکامی موسیقی کی نہیں بلکہ غلط آلے کے استعمال کی ہے۔ قرآن اسی حقیقت کو بڑی خوبصورتی سے یوں بیان کرتا ہے:


لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ


"نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں، مگر وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے، اور وہ باریک بین اور ہر چیز سے باخبر ہے۔"


(سورۃ الانعام، آیت ۱۰۳)


یعنی مسئلہ اللہ کے وجود میں نہیں، آنکھ کی صلاحیت میں ہے۔ آنکھ صرف انہی چیزوں کو دیکھنے کے لیے بنائی گئی ہے جن کا رنگ ہو، حجم ہو، اور جو روشنی کو منعکس کریں۔ اللہ ان تمام صفات سے ماورا ہے، اس لیے اسے آنکھ سے دیکھنے کا مطالبہ ہی بنیادی طور پر غلط جگہ پر امتحان لینے کے مترادف ہے۔


دوسری دلیل: کہانی کا کردار اپنے مصنف کو نہیں دیکھ سکتا


ذرا تصور کیجیے کہ آپ ایک ناول کے ایک کردار ہیں۔ آپ اس ناول کی دنیا میں چلتے پھرتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، فیصلے کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے: کیا آپ، بحیثیت کردار، اس ناول کے مصنف کو دیکھ سکتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ مصنف اس کہانی کی دنیا سے باہر ہے۔ وہ کہانی کے ہر صفحے پر موجود ہے، ہر واقعے کو تشکیل دے رہا ہے، مگر وہ خود کہانی کے اندر کا کوئی کردار نہیں، اس لیے کہانی کے قوانین کے مطابق اسے دیکھا نہیں جا سکتا۔


یہی مثال انسان اور اس کے خالق کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مددگار ہے۔ ہم اس کائنات کے اندر موجود ہیں، جو وقت، جگہ اور مادے کے قوانین میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہماری آنکھ اسی کائنات کے اندر کی چیزوں کو دیکھنے کے لیے بنی ہے۔ اللہ اس کائنات کا خالق ہے، وہ کائنات کے اندر کی کوئی چیز نہیں کہ اسی کائنات کے قوانین کے تحت نظر آئے۔ یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ واقعی ایک خالق ہے، نہ کہ مخلوق میں سے کوئی ایک شے۔


تیسری دلیل: سائنس خود غیر مرئی طاقتوں پر یقین رکھتی ہے


یہاں ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔ سائنس، جسے آج ہر چیز کی کسوٹی سمجھا جاتا ہے، خود کتنی چیزوں پر بغیر دیکھے یقین رکھتی ہے؟ کشش ثقل (Gravity) کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ ہم صرف اس کے اثرات دیکھتے ہیں — سیب کا زمین پر گرنا، سیاروں کا سورج کے گرد گھومنا۔ مقناطیسی میدان کو کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی، مگر کمپاس کی سوئی کا شمال کی طرف مڑنا اس کا ثبوت ہے۔ ڈارک انرجی، جو موجودہ سائنسی اندازوں کے مطابق کائنات کے تقریباً 68 فیصد حصے پر مشتمل ہے، آج تک کسی مائیکروسکوپ یا دوربین سے نہیں دیکھی جا سکی، مگر کہکشاؤں کے پھیلاؤ کی رفتار اس کے وجود کی گواہی دیتی ہے۔


اگر سائنس، جو خود کو مشاہدے کی بنیاد پر کھڑی سمجھتی ہے، ان تمام غیر مرئی حقیقتوں کو ان کے اثرات کی بنیاد پر تسلیم کر لیتی ہے، تو یہی اصول اللہ کے وجود پر کیوں لاگو نہیں ہو سکتا؟ کائنات کی حیرت انگیز ترتیب، ستاروں کی گردش میں بے مثال نظم، انسانی جسم کی پیچیدہ ساخت — یہ سب اسی خالق کے وہ اثرات ہیں جو ہر طرف بکھرے پڑے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کشش ثقل کے اثرات ہر طرف نظر آتے ہیں، حالانکہ خود کشش ثقل کبھی کسی نے نہیں دیکھی۔


چوتھی دلیل: انسان اپنی ہی ذات کا مرکز نہیں دیکھ سکتا


ایک اور گہرا پہلو یہ ہے کہ انسان خود اپنے وجود کی سب سے بنیادی حقیقت کو بھی نہیں دیکھ سکتا۔ وہ کون سی طاقت ہے جو آپ کو "آپ" بناتی ہے؟ وہ شعور، وہ ارادہ، وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت — کیا آپ نے کبھی اسے شیشے میں دیکھا ہے؟ کیا کوئی سرجن آج تک آپریشن کے دوران کسی کے "شعور" کو چھری سے تلاش کر سکا ہے؟ نہیں، ہم صرف اس کے اثرات دیکھتے ہیں: بولنا، سوچنا، فیصلہ کرنا، محبت کرنا۔ خود وہ چیز جو ان تمام کاموں کی جڑ ہے، ہمیشہ نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے۔


اگر انسان اپنے آپ کی سب سے قریبی حقیقت کو بھی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، تو یہ توقع رکھنا کہ کائنات کے خالق کو آنکھ سے دیکھا جائے، خود ایک ناانصافی ہے۔ یہاں مسئلہ وجود کا نہیں، ادراک کے آلے کا ہے۔


پانچویں دلیل: موسیٰ علیہ السلام کا سوال اور اس کا جواب


قرآن مجید میں ایک بہت اہم واقعہ ملتا ہے، جو اسی سوال کا سب سے واضح جواب دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ انہیں دیدار کرایا جائے:


رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا


"اے میرے رب! مجھے اپنا دیدار کرا کہ میں تجھے دیکھ لوں۔ فرمایا: تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گا، ہاں پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو تو مجھے دیکھ لے گا۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے۔"


(سورۃ الاعراف، آیت ۱۴۳)


یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مسئلہ اللہ کی موجودگی کا نہیں بلکہ انسانی جسم اور آنکھ کی برداشت کا ہے۔ جب ایک عظیم پہاڑ تک اس تجلی کی معمولی سی جھلک برداشت نہ کر سکا اور ریزہ ریزہ ہو گیا، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ دنیاوی جسم، جو مٹی سے بنا اور محدود قوت رکھتا ہے، اس عظمت کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس دیدار کو آخرت کے لیے مؤخر کیا، جہاں انسان کو ایک نئی، برتر صلاحیت والا وجود عطا کیا جائے گا:


وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ ۝ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ


"اس دن کچھ چہرے تر و تازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔"


(سورۃ القیامۃ، آیات ۲۲-۲۳)


یعنی دیدار کا وعدہ موجود ہے، مگر اس دنیا کے محدود آلوں سے نہیں، بلکہ ایک ایسے وقت اور ایسی صلاحیت کے ساتھ جو اس عظمت کے لائق ہو۔


خاتمہ: سوال کا رخ بدلنا


تو حقیقت یہ ہے کہ "اللہ نظر کیوں نہیں آتا" کا سوال دراصل اس بات کی گواہی ہے کہ ہم نے ایک محدود آلے سے ایک لامحدود ذات کو ناپنے کی کوشش کی۔ جس طرح مقناطیسی میدان، کشش ثقل، ڈارک انرجی، اور خود انسان کا اپنا شعور آنکھ سے پوشیدہ رہتے ہوئے بھی مکمل حقیقت ہیں، بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ کا وجود بھی آنکھ کی حد سے ماورا ہے، مگر اس کے اثرات، اس کی نشانیاں، اس کی حکمت — یہ سب کچھ ہر طرف روشن ہیں، بس دیکھنے کے لیے صحیح نظر چاہیے۔