دسمبر کی ایک سرد شام۔ آپ دفتر سے نکلتے ہیں، گھڑی پر نظر پڑتی ہے: ابھی پانچ ہی بجے ہیں، مگر سورج کب کا افق کے پیچھے جا چکا ہے۔ سڑک کی بتیاں جل چکی ہیں، ہوا میں خنکی ہے، اور دل میں ایک ہلکی سی اداسی اتر آتی ہے۔ اب منظر بدلیے۔ جون کی ایک شام۔ وہی دفتر، وہی سڑک، وہی آپ۔ گھڑی سات بجا رہی ہے، اور آسمان پر ابھی سنہری روشنی پھیلی ہوئی ہے۔ بچے گلی میں کھیل رہے ہیں، چھتوں پر لوگ بیٹھے ہیں، اور دن ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔
آپ ایک لمحے کو رکتے ہیں اور دل میں ایک سوال ابھرتا ہے: دن تو وہی ہے، سورج بھی وہی ہے، پھر کبھی یہ پانچ بجے سمٹ جاتا ہے اور کبھی سات بجے تک پھیلا رہتا ہے۔ یہ گھٹنا بڑھنا کون طے کرتا ہے؟ اور اگر کوئی طے نہیں کرتا، تو یہ حساب اتنا پکا کیوں ہے کہ صدیوں سے ایک دن بھی ادھر ادھر نہیں ہوا؟
یہ سوال کسی کتاب سے نہیں آتا۔ یہ ہر دیکھنے والی آنکھ کے اندر خود بخود جنم لیتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بچہ پہلی بار آسمان کو دیکھ کر پوچھتا ہے: "یہ کس نے بنایا؟" اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہم بڑے ہو کر اس سوال کو بھول جاتے ہیں، مگر سوال ہمیں نہیں بھولتا۔ آئیے آج اسی سوال کا ہاتھ تھام کر چلتے ہیں، اور دیکھتے ہیں کہ سورج، پانی، ہوا اور خود ہماری اپنی عقل، سب ایک ہی طرف اشارہ کرتے نظر آتے ہیں یا نہیں۔
پہلی دلیل: دن کا گھٹنا بڑھنا اور وقت کا پکا حساب
سائنس بتاتی ہے کہ زمین اپنے محور پر تقریباً ساڑھے تئیس ڈگری جھکی ہوئی ہے۔ اسی جھکاؤ کی وجہ سے سال کے مختلف حصوں میں سورج کی روشنی زمین کے کسی حصے پر زیادہ دیر ٹھہرتی ہے اور کسی پر کم۔ اسی سے گرمیوں کے لمبے دن اور سردیوں کے چھوٹے دن بنتے ہیں۔ یہ سن کر شاید آپ کہیں کہ بات تو سمجھ آ گئی، اس میں خدا کہاں سے آ گیا؟
ذرا رکیے، کیونکہ کہانی یہیں سے دلچسپ ہوتی ہے۔ اس جھکاؤ کو ایک تجربے کی نظر سے دیکھیے۔ اگر یہ جھکاؤ صفر ہوتا تو موسم بدلتے ہی نہ۔ نہ بہار آتی، نہ خزاں، اور زمین کے بڑے حصے یا ہمیشہ کے لیے برف میں دبے رہتے یا ہمیشہ جھلستے رہتے۔ اگر یہ جھکاؤ بہت زیادہ ہوتا تو گرمی اور سردی اتنی انتہا کو پہنچتی کہ فصل اگانا اور شہر بسانا ناممکن ہو جاتا۔ یعنی یہ جھکاؤ نہ کم ہے نہ زیادہ، بس اتنا ہے جتنا زندگی کو چاہیے۔
اب اس کے ساتھ ایک اور حیرت دیکھیے۔ آج کا سائنس دان کاغذ پر حساب لگا کر بتا دیتا ہے کہ سو سال بعد فلاں تاریخ کو، فلاں منٹ اور فلاں سیکنڈ پر سورج گرہن ہوگا، اور ٹھیک اسی وقت ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی منطقی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ سائنس کی پوری عمارت اس اصول پر کھڑی ہے کہ فطرت میں قوانین ہیں، اور وہ قوانین ہر جگہ اور ہر وقت یکساں رہتے ہیں۔ اسی لیے ہم آج کے تجربے سے کل کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ مگر اتفاق تو بےترتیبی کا نام ہے، اور بےترتیبی کی پیش گوئی نہیں ہو سکتی۔ جہاں پیش گوئی ممکن ہو، وہاں ترتیب ہے، اور جہاں ترتیب ہو، وہاں ایک ترتیب دینے والے کا سوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کیا آج تک کوئی قانون بغیر قانون ساز کے دیکھا گیا ہے؟ قرآن اسی نظام کی طرف توجہ دلاتا ہے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ
"بےشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
(سورۃ آل عمران، آیت ۱۹۰)
اور ایک اور جگہ اس ترتیب کی سختی کو یوں بیان کیا:
لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ
"نہ سورج کے بس میں ہے کہ چاند کو جا پکڑے، نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے، اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔"
(سورۃ یٰسٓ، آیت ۴۰)
مگر یہ تو صرف وقت کا حساب تھا۔ اصل حیرت تو اس سورج میں ہے جو اس حساب کو چلا رہا ہے۔
دوسری دلیل: ایک ہی سورج، دو بالکل مختلف چہرے
جنوری کی ایک صبح کا تصور کیجیے۔ آپ چھت پر کھڑے ہیں، ہاتھ ٹھنڈے ہیں، اور دھوپ کی پہلی کرن جسم پر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی نے مہربان ہاتھ سے کندھا تھپتھپا دیا ہو۔ آپ آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور دل سے ایک شکر نکلتا ہے۔ اب جون کی دوپہر کا منظر سامنے لائیے۔ وہی سورج، مگر اب اسی کے نیچے ایک منٹ کھڑا ہونا مشکل ہے۔ لو چل رہی ہے، سڑکیں تپ رہی ہیں، اور اگر کوئی مزدور گھنٹوں اس کے نیچے بغیر پانی کے رہ جائے تو اس کی جان تک جا سکتی ہے۔
ایک ہی سورج، ایک ہی آگ کا گولا، مگر کبھی جان بخشنے والا اور کبھی جان لینے والا۔ فرق کس چیز نے پیدا کیا؟ صرف زاویے اور ٹھہراؤ کی مقدار نے۔ اور یہی وہ بات ہے جو غور کرنے والے کو ٹھٹھکا دیتی ہے۔
سورج کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً ساڑھے پانچ ہزار ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اتنی بھڑکتی ہوئی آگ کو زمین سے تقریباً پندرہ کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر رکھا گیا ہے۔ یہی فاصلہ ہے جس کی وجہ سے اس آگ کی روشنی ہمیں اتنی ملتی ہے کہ پودے غذا بنا سکیں، جسم کو وٹامن ملے اور موسم بنیں، اور اتنی نہیں ملتی کہ سمندر ابل جائیں۔ اگر یہ فاصلہ ذرا سا بھی مختلف ہوتا تو زمین یا یخ بستہ صحرا ہوتی یا سلگتی ہوئی بھٹی۔ سائنس اس پٹی کو "Habitable Zone" یعنی "رہنے کے قابل خطہ" کہتی ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک کی معلومات کے مطابق زندگی کی واضح مثال ہمیں صرف زمین پر ملی ہے۔
ذرا سوچیے، ایک ایسا آتشیں گولا جو ہمیں زندہ بھی رکھتا ہے اور اگر حد سے بڑھ جائے تو ہلاک بھی کر دے، اسے ٹھیک اس نقطے پر ٹھہرانا کہ وہ نعمت بنے، زحمت نہ بنے، کیا یہ بغیر کسی ارادے کے ہو سکتا ہے؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ماہر باورچی آگ کو اتنا دھیما رکھے کہ کھانا پک جائے مگر جلے نہیں۔ آگ خود نہیں جانتی کہ اسے کتنا جلنا ہے، کوئی ہے جو جانتا ہے۔ قرآن اسی ارادے کی طرف اشارہ کرتا ہے:
وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ
"اور سورج اپنے مقررہ ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے، یہ زبردست، سب کچھ جاننے والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔"
(سورۃ یٰسٓ، آیت ۳۸)
لیکن آگ کے اس قصے کے بعد اب ذرا اس چیز کی طرف چلتے ہیں جو آگ کو بجھاتی بھی ہے اور زندگی کو جلا بھی بخشتی ہے۔
تیسری دلیل: پانی، وہ عجیب چیز جو اپنے ہی اصول توڑتی ہے
سردیوں کی ایک صبح جھیل کے کنارے چلیے۔ سطح پر برف کی موٹی تہہ جم چکی ہے، ہر طرف سناٹا ہے، اور ایسا لگتا ہے جیسے پوری جھیل مر گئی ہو۔ مگر اسی برف کے نیچے مچھلیاں تیر رہی ہیں، زندہ، بےخبر، اور محفوظ۔
یہ منظر جتنا عام لگتا ہے، سائنس کی نظر میں اتنا ہی عجیب ہے۔ دنیا کی تقریباً ہر چیز ٹھنڈی ہو کر سکڑتی اور بھاری ہو جاتی ہے۔ مگر پانی وہ عجیب مادہ ہے جو تقریباً چار ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا ہو کر سب سے زیادہ بھاری ہوتا ہے، اور اس سے مزید ٹھنڈا ہو کر جمنے لگے تو پھیل جاتا ہے اور ہلکا ہو جاتا ہے۔ اسی لیے برف پانی کے اوپر تیرتی ہے، ڈوبتی نہیں۔
ذرا سوچیے اگر پانی بھی باقی چیزوں کی طرح ہوتا اور برف نیچے بیٹھ جاتی تو کیا ہوتا؟ جھیلیں اور سمندر نیچے سے اوپر کی طرف جمتے جاتے، اور کچھ ہی عرصے میں پوری آبی دنیا ٹھوس برف بن جاتی۔ مچھلیاں، پودے، پوری آبی زندگی ختم ہو جاتی۔ یہ ایک ایسی استثنائی خصوصیت ہے جو پانی کو دوسرے تمام مادوں سے الگ کرتی ہے، اور اسی ایک "اصول کی خلاف ورزی" پر زمین کی زندگی کھڑی ہے۔
یہاں ایک گہرا نکتہ چھپا ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ پانی ایسا کیوں کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتاتی کہ ایسا ہونا ہی کیوں لازم تھا۔ جس چیز کے بغیر زندگی ممکن نہ ہو، وہی چیز اتنی نادر خصوصیت کے ساتھ موجود ہو، تو کیا یہ محض حسنِ اتفاق ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے زندگی کا سامان بنانے سے پہلے اس کی ضرورتیں دیکھ لی ہوں۔ قرآن نے کتنی سادگی سے یہ حقیقت بیان کی:
وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ
"اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی، تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے؟"
(سورۃ الانبیاء، آیت ۳۰)
پانی کے بعد اب اس چیز کی باری ہے جو اس لمحے بھی آپ کے سینے میں آ اور جا رہی ہے۔
چوتھی دلیل: ہوا کا ترازو
ہم ہر سانس میں ہوا استعمال کرتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی سوچتے ہیں کہ اس میں کیا ہے۔ ہماری فضا میں آکسیجن کی مقدار تقریباً اکیس فیصد ہے۔ یہ کوئی معمولی عدد نہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق اگر آکسیجن کا تناسب اس سے کافی زیادہ ہوتا تو ایک معمولی سی چنگاری بھی جنگلوں کے جنگل جلا کر راکھ کر دیتی، آگ اتنی آسانی سے بھڑکتی کہ اسے بجھانا مشکل ہو جاتا۔ اور اگر یہ تناسب کافی کم ہوتا تو انسان کا دماغ اور جسم پورا کام ہی نہ کر پاتے، سانس لینا بوجھ بن جاتا۔
اور ہوا کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اسی فضا میں اوپر ایک باریک تہہ ہے جسے اوزون کہا جاتا ہے، جو سورج سے آنے والی نقصان دہ شعاعوں کو روک لیتی ہے۔ یعنی جو سورج زندگی دیتا ہے، اسی کی مہلک شعاعوں سے بچانے کے لیے ایک ڈھال بھی موجود ہے۔ سورج بھی، فاصلہ بھی، ہوا بھی، ڈھال بھی، سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے، جیسے کسی نے پہلے سے سوچ کر ہر کڑی دوسری میں پرو دی ہو۔
یہ توازن صرف ایک جگہ نہیں، ہر جگہ ہے: سورج میں، پانی میں، ہوا میں، زمین کے جھکاؤ میں۔ ہر چیز ایک ایسے نقطے پر ٹھہری ہے جس سے ذرا سا ادھر یا ادھر ہوتی تو زندگی کا امکان ہی ختم ہو جاتا۔ قرآن اسی طرف اشارہ کرتا ہے:
وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ
"اور ہواؤں کے رخ بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان تابع کیا گیا ہے، عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
(سورۃ البقرہ، آیت ۱۶۴)
مگر اب تک ہم نے کائنات کو دیکھا۔ اب ذرا اس آنکھ کو دیکھیے جو یہ سب دیکھ رہی ہے۔
پانچویں دلیل: کائنات اور عقل کا عجیب رشتہ
ایک سوال ہے جو سائنس دانوں کو بھی حیران کرتا رہا ہے۔ انسان کا دماغ، اگر ارتقاء کے نظریے کے مطابق، محض بقا کی جنگ میں شکار کرنے اور خطرے سے بچنے کے لیے بنا تھا، تو وہ کہکشاؤں کی چال، ایٹم کے اندر کی دنیا اور وقت کی ساخت کو سمجھنے کے قابل کیسے ہو گیا؟ اس کا کام تو جنگل میں زندہ رہنے تک کافی تھا۔
اس سے بھی بڑی حیرت یہ ہے کہ ریاضی، جو انسان اپنی میز پر بیٹھ کر کاغذ اور قلم سے بناتا ہے، خارجی کائنات پر اتنی درست بیٹھتی ہے۔ ایک ماہر کاغذ پر مساوات لکھتا ہے اور برسوں بعد دوربین یا تجربہ گاہ کی مشین اسی کو سچ ثابت کر دیتی ہے۔ ماہرینِ طبیعیات اس بات کو ایک معمہ کہتے آئے ہیں کہ انسانی ذہن کی بنائی ہوئی زبان اس کائنات کی زبان کیوں نکلتی ہے۔
یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ کو ایک تالا ملے اور آپ کی جیب میں پڑی ہوئی چابی اس میں ٹھیک بیٹھ جائے۔ ایک بار ہو تو اتفاق، مگر ہر بار ہو تو؟ کائنات اور عقل کا یہ میل اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں کسی ایک ہی ذات کی تخلیق ہیں، جس نے ایک کو دوسرے کے لیے سمجھنے کے قابل بنایا۔ اسی لیے قرآن غور و فکر کو عبادت کا درجہ دیتا ہے، اور عقل والوں کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے کہ وہ آسمان اور زمین کی تخلیق پر غور کر کے پکار اٹھتے ہیں:
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا
"اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بےمقصد پیدا نہیں کیا۔"
(سورۃ آل عمران، آیت ۱۹۱)
سب سے بڑا اعتراض: "یہ سب اتفاق ہے"
اب ایک اعتراض ضرور اٹھے گا، اور اس کا سامنا ایمانداری سے کرنا ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے: "ہم اس لیے زندہ ہیں کہ یہ حالات ہمارے لیے موزوں تھے۔ اگر موزوں نہ ہوتے تو ہم یہ سوال پوچھنے کے لیے موجود ہی نہ ہوتے۔" یہ بات سننے میں ٹھیک لگتی ہے، مگر فلسفے میں اس کا ایک بہت سادہ جواب موجود ہے۔
فرض کیجیے آپ کو ایک کمرے میں لے جایا جاتا ہے جہاں پچاس نشانہ باز آپ پر بندوقیں تانے کھڑے ہیں۔ گولیاں چلتی ہیں، اور پچاس کی پچاس آپ کے پاس سے گزر جاتی ہیں۔ آپ زندہ بچ جاتے ہیں۔ اب کوئی کہے: "اس میں حیرانی کیسی؟ اگر ایک بھی لگ جاتی تو آپ یہ سوچنے کے لیے زندہ ہی نہ ہوتے۔" کیا آپ اس جواب سے مطمئن ہوں گے؟ ہرگز نہیں۔ آپ کہیں گے: "میں زندہ ہوں، یہ تو ٹھیک ہے، مگر سوال یہ ہے کہ پچاس کے پچاس نشانے چوک کیسے گئے؟ یہ تو کسی نے چوکنے کا انتظام کیا ہوگا۔"
بالکل یہی معاملہ کائنات کا ہے۔ ہمارا زندہ ہونا سوال نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ سورج کا فاصلہ، زمین کا جھکاؤ، پانی کا عجیب مزاج، ہوا کا تناسب، اور بےشمار دوسرے عوامل، سب کے سب ایک ہی وقت میں ٹھیک اسی نقطے پر کیسے آ گئے؟ ایک بار اتفاق ہو سکتا ہے، دو بار بھی، مگر جب ہر جگہ، ہر پیمانے پر ایک ہی پیغام ملے کہ "یہاں سب کچھ زندگی کے لیے ناپ تول کر رکھا گیا ہے"، تو عقل اسے اتفاق ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔ آپ کسی تالے کا نمبر ایک بار اندازے سے کھول لیں تو اتفاق ہے، مگر اگر ہر دن، ہر بار، بغیر کسی غلطی کے وہ کھلتا رہے تو آپ سمجھ جائیں گے کہ نمبر کسی کو معلوم ہے۔
کچھ لوگ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ شاید اربوں کائناتیں ہیں، اور ہم اتفاق سے اس کائنات میں ہیں جو زندگی کے قابل نکلی۔ مگر غور کیجیے، یہ نظریہ (جسے "ملٹی ورس" کہا جاتا ہے) ایک قیاس ہے، مشاہدہ نہیں۔ آج تک کسی نے دوسری کائنات کو دیکھا ہے نہ ناپا ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جو لوگ خدا کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ نظر نہیں آتا، وہ ان اربوں ان دیکھی کائناتوں پر بغیر کسی ثبوت کے یقین کر لیتے ہیں۔ پھر یہ سوال بھی باقی رہتا ہے کہ کائناتیں بنانے والی وہ مشین خود کہاں سے آئی، اور اسے چلانے کے قوانین کس نے طے کیے؟ یعنی سوال ختم نہیں ہوتا، صرف ایک قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔ قرآن نے اسی بات کو ایک جملے میں سمیٹ دیا:
اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ
"بےشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا۔"
(سورۃ القمر، آیت ۴۹)
خاتمہ: شام کی وہ خاموش گواہی
اب لوٹ چلتے ہیں اسی شام کی طرف جہاں سے بات شروع ہوئی تھی۔ دسمبر کی وہ چھوٹی شام اور جون کی وہ لمبی شام، دونوں دراصل ایک ہی گواہی دے رہی ہیں۔ سورج کا ٹھیک وقت پر ڈوبنا، زمین کا ناپ تول کے جھکنا، پانی کا اپنے اصول توڑ کر زندگی کو بچانا، ہوا کا عین اتنا ہونا جتنا سانس کو چاہیے، اور انسانی عقل کا اس پوری کائنات کو سمجھنے کے قابل ہونا، یہ سب ایک ہی زبان میں بول رہے ہیں کہ اس نظام کے پیچھے کوئی علم والا، ارادہ رکھنے والا اور حکمت والا موجود ہے۔
وجودِ خدا کی یہ دلیلیں کسی تاریک کمرے میں بند فلسفے کی نہیں، بلکہ ہر شام کی کھڑکی سے دکھائی دینے والی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی غروبِ آفتاب کو دیکھ کر صرف موبائل نکالتا ہے اور کوئی رک کر سوچتا ہے۔ جو رک کر سوچتا ہے، اسے سورج کے ہر ڈھلتے رنگ میں ایک سوال اور ایک جواب دونوں مل جاتے ہیں۔ اور جو شخص ان جوابوں کو ایمانداری سے سنتا ہے، وہ آخرکار اسی نتیجے پر پہنچتا ہے جہاں عقل، فطرت اور مشاہدہ تینوں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔