بدلتے دور میں ایمان کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟ آج کا دور مادی ترقی، تکنیکی انقلاب اور سوشل میڈیا کی یلغار کا دور ہے۔ جہاں ایک طرف دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے، وہاں دوسری طرف نت نئے فتنوں، فکری گمراہیوں اور الحاد (Atheism) کی آندھیوں نے ہر مسلمان کے ایمان کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اپنے اور اپنی نسلوں کے ایمان کو بچانا اس وقت کی سب سے بڑی پکار ہے۔


بدلتے دور میں ایمان کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟


اس کائنات کا سب سے قیمتی سرمایہ، سب سے بڑی دولت اور آخرت میں نجات کا واحد ذریعہ "ایمان" ہے۔ اگر ایمان سلامت ہے تو دنیا کی ہر مصیبت عارضی ہے، اور اگر خدانخواستہ ایمان ہی ہاتھ سے نکل جائے تو انسان کی ابدی زندگی ہمیشہ کے لیے برباد ہو جاتی ہے۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اسے اگر "فتنوں کا دور" کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آج کفر اور الحاد نے روایتی شکلیں بدل کر فلسفے، سائنس، اور تفریح (Entertainment) کا لبادہ اوڑھ لیا ہے، جس کی وجہ سے ایک عام مسلمان شعوری یا لاشعوری طور پر فکری غلامی کا شکار ہو رہا ہے۔

آج جب مشرق و مغرب کے نظریات آپس میں ٹکرا رہے ہیں اور ہر سکرین پر اخلاقی و فکری بگاڑ کا مواد چند سیکنڈز کے فاصلے پر موجود ہے، تو یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کی اس پیشگوئی کا سچ ہونا ہے جس سے آپ ﷺ نے چودہ سو سال پہلے امت کو ڈرایا تھا۔ قرآن مجید نے ایمان کی حفاظت کے لیے ثابت قدمی کا اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا:

يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ

"اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ٹھوس بات (ایمان) پر ثابت قدم رکھتا ہے۔"

(سورۃ ابراہیم، آیت ۲۷)

ذرا اس آیتِ کریمہ کے پسِ منظر میں جائیے۔ ثباتِ قدمی اور ایمان پر قائم رہنا کوئی ایسی چیز نہیں جو خود بخود حاصل ہو جائے، بلکہ یہ اللہ کی خاص توفیق اور بندے کی مسلسل جدوجہد سے مشروط ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کی وہ فکر سامنے آتی ہے جو دورِ حاضر کے فتنوں کے سامنے سپر بننے کا درس دیتی ہے:


وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلماں بھی ہو؟


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا اس پرآشوب دور میں ایمان کو بچانا ناممکن ہو چکا ہے؟ اس کا جواب سمجھنے کے لیے ہمیں احادیثِ نبویہ کی روشنی میں اس دور کی سنگینی کو دیکھنا ہوگا اور پھر ان عملی تدابیر کو اپنانا ہوگا جو اسلافِ امت نے ہمیں سکھائی ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فتنوں کے اس دور کی منظر کشی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"فتنوں کے آنے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے۔ آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر۔ وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی فائدے کے بدلے بیچ ڈالے گا۔"

(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر ۱۱۸)

یہ حدیث مبارکہ گویا ہمارے آج کے دور کا مرثیہ ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک کلک پر انسان کا نظریہ بدل جاتا ہے، ایک گمراہ کن ویڈیو انسان کے ذہن میں شکوک و شبہات کے بیج بو دیتی ہے۔ ایسے میں ایمان کی حفاظت کے لیے کون سے عملی اقدامات ضروری ہیں؟ آئیے مستند اسلامی مآخذ کی روشنی میں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔


۱۔ علمِ نافع کا حصول: شکوک و شبہات کا واحد علاج


آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ "شبهات" (Doubts) کا فتنہ ہے۔ اسلام، ذاتِ باری تعالیٰ، اور رسالت پر ایسے عقلی اور فلسفیانہ اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں کہ کم علم مسلمان پریشان ہو جاتا ہے۔ اس کا واحد علاج علمِ دین کا حصول ہے۔

امام غزالیؒ اپنی معرکہ آرا کتاب "احیاء علوم الدین" (جلد ۱، صفحہ ۳۵) میں لکھتے ہیں:

"جب معاشرے میں فتنے اور بدعات پھیل جائیں، تو ایک عام مسلمان پر اپنے عقائد کی حد تک علم حاصل کرنا فرضِ عین ہو جاتا ہے تاکہ وہ گمراہ کرنے والوں کے فریب سے بچ سکے۔ جو شخص علم کے بغیر دین پر چلنا چاہتا ہے، شیطان اسے آسانی سے بہکا دیتا ہے۔"

ہمیں دین کا بنیادی علم، عقائد کی پختگی اور سیرتِ نبوی ﷺ کا گہرا مطالعہ کرنا ہوگا تاکہ جب کوئی فکری حملہ ہو، تو ہمارے پاس اس کا مضبوط دفاع موجود ہو۔


۲۔ صالحین کی صحبت اور دینی ماحول کا انتخاب


بدلتے دور میں جہاں ہر طرف گناہ اور الحاد کا ماحول ہے، ایمان کو بچانے کا ایک بڑا نسخہ اچھے اور نیک لوگوں کی صحبت ہے۔ انسان جس ماحول میں رہتا ہے، اسی کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔

حافظ ابن قیم الجوزیہؒ اپنی شہرہ آفاق تصنیف "مدارج السالکین" (جلد ۲، صفحہ ۳۶۵) میں صحبتِ صالحین کی اہمیت پر لکھتے ہیں:

"ایمان داروں کی صحبت دل کے زنگ کو دور کرتی ہے اور ایمان کو جلا بخشتی ہے۔ فتنوں کے دور میں تنہائی یا برے دوستوں کی مجالس انسان کو ایمان کے دائرے سے دور کھینچ لیتی ہیں، جبکہ نیک لوگوں کے پاس بیٹھنا انسان کو غفلت کے خواب سے بیدار کرتا ہے۔"

قرآن مجید نے بھی اسی لیے حکم فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔"

(سورۃ التوبہ، آیت ۱۱۹)


۳۔ کثرتِ دعا اور دل کی نگرانی


ایمان کی حفاظت کے لیے سب سے بڑا ہتھیار اللہ کے حضور گریہ و زاری اور دعا ہے۔ دل انسان کے بس میں نہیں ہے، یہ بدلتا رہتا ہے، اسی لیے اسے "قلب" (بدلنے والی چیز) کہا جاتا ہے۔

جامع ترمذی کی مستند روایت کے مطابق، ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ یہ دعا مانگا کرتے تھے:

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ

"اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔"

(جامع الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث نمبر ۳۵۲۲)

جب کائنات کے سب سے معصوم انسان اور سید الانبیاء ﷺ یہ دعا مانگ رہے ہیں، تو سوچئے کہ مجھ جیسے اور آپ جیسے کمزور انسانوں کو اس دعا کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔


اسلافِ امت اور فتنوں کے سامنے استقامت کی مثالیں


جب ہم تاریخِ اسلام پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں ایسے کٹھن ادوار بھی نظر آتے ہیں جہاں ایمان پر قائم رہنا انگارے کو ہاتھ میں پکڑنے کے مترادف تھا، مگر اسلاف نے سمجھوتہ نہیں کیا۔

امام احمد بن حنبلؒ کا دورِ محنت یاد کیجیے، جب وقت کے حکمرانوں نے "خلقِ قرآن" کا فتنہ کھڑا کیا اور بڑے بڑے علماء دباؤ میں آ گئے۔ مگر امام احمد بن حنبلؒ نے کوڑے کھائے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کی اور امت کے عقیدے کو بچا لیا۔

عہدِ حاضر کے فتنوں میں فکری استقامت: اجداد کی قربانیوں کا تسلسل ہمیں شعبِ ابی طالب کے محاصرے سے لے کر اندلس کے زوال تک ہر جگہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے بھوک پیاس برداشت کر لی، جلاوطنی قبول کر لی، مگر ایمان کا سودا نہیں کیا۔


حاصلِ کلام: اب ہمارا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟


عزیز قارئین! بدلتے دور کے تقاضے بدل سکتے ہیں، سکرینوں کے سائز بدل سکتے ہیں، ٹیکنالوجی ترقی کر سکتی ہے، لیکن اللہ کا قانون اور ایمان کی بنیادی حقیقتیں کبھی نہیں بدلتیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس پرآشوب دور میں ہمارا اور ہماری اگلی نسلوں کا ایمان محفوظ رہے، تو ہمیں تین کام فوری طور پر کرنے ہوں گے:

اپنے ڈیجیٹل ڈیوائسز کا آڈٹ کریں: ایسی تمام چیزوں کو اپنی زندگی سے نکال دیں جو دل میں غفلت پیدا کرتی ہیں اور شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہیں۔

روزانہ قرآن و حدیث سے رشتہ جوڑیں: تدبرِ قرآن اور فہمِ دین کے لیے روزانہ کم از کم ۱۵ سے ۲۰ منٹ وقف کریں۔

دینی اداروں اور مستند علماء سے وابستگی اختیار کریں: تاکہ کسی بھی فکری الجھن کی صورت میں فوری طور پر صحیح رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

یاد رکھیے! فتنوں کے اس طوفان میں سمندر کا رخ بدلنا ہمارے بس میں شاید نہ ہو، لیکن اپنی کشتی کو مضبوط کرنا اور اسے ساحلِ عافیت تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔

اگر آپ بھی دورِ حاضر کے ان فکری حملوں کا سامنا کرنے کے لیے اپنے ایمان کو علمِ نافع کے ہتھیار سے لیس کرنا چاہتے ہیں، مستند عقائد سیکھنا چاہتے ہیں، اور اپنے بچوں کے ایمان کی فکری تربیت کرنا چاہتے ہیں تو Sirat Islamic Academy کے جامع آن لائن کورسز (فہمِ قرآن، اصولِ حدیث، اسلامی عقائد اور جدید فقہی مسائل) میں آج ہی شمولیت اختیار کریں۔ یہ کورسز آپ کو بدلتے دور کے چیلنجز کے مطابق اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کا راستہ دکھائیں گے۔