ایک لیب کا تصور کیجیے، شیشے کی نلیوں، مائیکروسکوپ اور کمپیوٹر اسکرینوں سے بھری ہوئی۔ یہاں دنیا کے چند بہترین سائنس دان برسوں سے ایک ہی کوشش میں لگے ہیں: زندگی کو، بالکل شروع سے، خود اپنے ہاتھوں سے بنانا۔ وہ وہی کیمیائی مادے استعمال کرتے ہیں جو ابتدائی زمین پر موجود تھے، وہی درجہ حرارت، وہی بجلی کے جھماکے۔ اربوں ڈالر، ہزاروں تجربات، دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کا علم، سب اسی ایک مقصد کے پیچھے: ایک ایسا سادہ سا مالیکیول بنانا جو خود اپنی نقل بنا سکے، یعنی زندگی کی پہلی اینٹ۔ اور آج تک، تمام تر ذہانت اور وسائل کے باوجود، یہ کوشش مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی۔


اب ذرا سوچیے۔ اگر انسان، اپنی پوری عقل، منصوبہ بندی اور جدید ترین آلات کے ساتھ بھی، زندگی کو جان بوجھ کر نہیں بنا پا رہا، تو یہ سوال کتنا سنگین ہو جاتا ہے کہ اربوں سال پہلے، بغیر کسی لیب کے، بغیر کسی سائنس دان کے، محض اندھے اتفاق سے، یہی معجزہ خود بخود کیسے ہو گیا؟ یہی وہ دراڑ ہے جہاں سے "کیا خدا موجود ہے؟" کا سوال ایک نئی شدت کے ساتھ ابھرتا ہے۔ آئیے اس سوال کو تین مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں: زندگی کے آغاز سے، کائنات کے آغاز سے، اور انسان کے اندر چھپے اس احساس سے جسے ہم "خوبصورتی" کہتے ہیں۔


پہلی دلیل: زندگی کا وہ پہلا قدم جو کبھی دہرایا نہ جا سکا


جدید حیاتیاتی کیمیا (Biochemistry) بتاتی ہے کہ زندگی کی بنیاد ایک بہت ہی پیچیدہ پروٹین اور DNA کے نظام پر کھڑی ہے۔ سب سے سادہ خود مختار خلیے میں بھی سینکڑوں مختلف پروٹین درکار ہوتے ہیں، اور ہر پروٹین امینو ایسڈز کی ایک مخصوص ترتیب سے بنتا ہے، بالکل ایک الگورتھم کی طرح۔ ماہرینِ ریاضی نے حساب لگایا ہے کہ ایک درمیانے سائز کے پروٹین کی صحیح ترتیب اتفاقی طور پر بننے کا امکان اتنا کم ہے کہ اسے عملی طور پر ناممکن کہا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب یہ پروٹین اکیلے نہیں بلکہ سینکڑوں دوسرے پروٹینز کے ساتھ ایک ہی وقت میں، ایک ہی خلیے میں، صحیح ترتیب سے موجود ہونے چاہئیں تاکہ زندگی شروع ہو سکے۔


معروف ماہرِ فلکیات فریڈ ہوئل، جو خود کسی مذہبی نظریے کے حامی نہیں تھے، نے اس امکان کا موازنہ ایک ایسے طوفان سے کیا جو کسی جنک یارڈ سے گزرے اور اتفاقی طور پر ایک مکمل، اڑنے کے قابل بوئنگ ۷۴۷ طیارہ تیار کر دے۔ یہ محض ایک ادبی تشبیہ نہیں بلکہ اس گہرے مسئلے کی نشاندہی ہے جسے سائنس میں "Origin of Life Problem" یا "Abiogenesis" کہا جاتا ہے، اور جو آج بھی سائنس کے سب سے بڑے حل طلب معموں میں شمار ہوتا ہے۔


یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ ارتقاء کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ زندگی، ایک بار شروع ہونے کے بعد، کیسے بدلتی اور ترقی کرتی گئی۔ مگر وہ پہلا قدم، یعنی بےجان مادے سے پہلی زندہ اور خود کو دہرانے والی اکائی کا وجود میں آنا، ایک الگ اور کہیں زیادہ بنیادی سوال ہے، جس کا تعلق ارتقاء سے نہیں بلکہ کیمیا اور امکان کے قوانین سے ہے۔ اگر انسان، جو خود ایک باشعور، منصوبہ ساز مخلوق ہے، لیب میں بیٹھ کر بھی یہ قدم مکمل طور پر نہیں دہرا سکا، تو یہ ماننا کہ یہ سب کچھ بغیر کسی شعور، بغیر کسی ارادے کے، خود بخود ہو گیا، عقل پر بہت بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ قرآن اسی حیاتیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے:


اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۫ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ


"کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین ملے ہوئے تھے تو ہم نے انہیں جدا کیا، اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی، تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے؟"


(سورۃ الانبیاء، آیت ۳۰)


زندگی کے اس معمے کے بعد، اب ایک قدم اور پیچھے چلتے ہیں — خود کائنات کے آغاز کی طرف۔


دوسری دلیل: وہ ایک لمحہ جب کچھ بھی نہیں تھا


بیسویں صدی کے وسط تک بہت سے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ کائنات ازل سے موجود ہے، ہمیشہ سے، بغیر کسی شروعات کے۔ مگر پھر دوربینوں سے ایک ایسا مشاہدہ سامنے آیا جس نے یہ پورا نظریہ بدل دیا: دور دراز کہکشائیں ہم سے دور بھاگ رہی ہیں، اور جتنی دور ہیں اتنی ہی تیزی سے بھاگ رہی ہیں۔ اگر وقت کو الٹا چلایا جائے تو یہ تمام کہکشائیں ایک ہی نقطے پر سمٹ جاتی ہیں۔ اسی مشاہدے نے "بگ بینگ" کے نظریے کو جنم دیا، جسے بعد میں کائناتی پس منظر کی تابکاری (Cosmic Microwave Background Radiation) کی دریافت نے مزید مستحکم کر دیا۔


آج تقریباً پوری سائنسی برادری اس بات پر متفق ہے کہ ہماری کائنات کی ایک ابتدا تھی، ایک ایسا لمحہ جب مادہ، توانائی، خلا اور یہاں تک کہ وقت خود بھی وجود میں نہیں آئے تھے۔ یہاں ایک سادہ مگر نہایت طاقتور منطقی اصول لاگو ہوتا ہے: جس چیز کی ابتدا ہو، اس کی کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ کوئی بھی چیز خود بخود، بغیر کسی سبب کے، عدم سے وجود میں نہیں آتی۔ اگر کائنات کی ابتدا ہوئی، تو اس ابتدا کی کوئی وجہ ہونی چاہیے، اور وہ وجہ خود کائنات کے اندر کی نہیں ہو سکتی، کیونکہ کائنات خود اسی لمحے وجود میں آئی۔


یعنی وہ سبب خود مادے، وقت اور خلا سے آزاد ہونا چاہیے، اپنے آپ میں لازمی الوجود ہونا چاہیے، اور اتنی زبردست قوت رکھنے والا ہونا چاہیے کہ پوری کائنات کو عدم سے وجود میں لے آئے۔ فلسفہ اسے "غیر مسبب سبب" کہتا ہے، اور دینِ اسلام اسے ایک نام سے پکارتا ہے: اللہ۔ قرآن نے اس حقیقت کو صدیوں پہلے، ایک ایسے دور میں جب کائنات کے آغاز کا کوئی تصور بھی موجود نہ تھا، اس طرح بیان کیا:


اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ


"کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا ہو گئے، یا وہ خود اپنے خالق ہیں؟"


(سورۃ الطور، آیت ۳۵)


زندگی کے آغاز اور کائنات کے آغاز کے بعد، اب ایک بالکل مختلف میدان کی طرف چلتے ہیں: وہ احساس جو نہ لیب میں ناپا جا سکتا ہے، نہ دوربین سے دیکھا جا سکتا ہے، مگر جسے ہر انسان محسوس کرتا ہے۔


تیسری دلیل: وہ خوبصورتی جس کا کوئی فائدہ نہیں


کسی پہاڑی چوٹی پر کھڑے ہو کر غروبِ آفتاب دیکھنے کا تجربہ یاد کیجیے۔ سرخ اور نارنجی رنگوں کی وہ لہریں آسمان پر پھیلتی ہیں، اور اچانک آپ کے سینے میں ایک عجیب سا بھاری پن اتر آتا ہے، سانس رک سی جاتی ہے، اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ کوئی موسیقی کا ایک ٹکڑا سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کوئی پرانی عمارت کی نقش و نگاری دیکھ کر دیر تک وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔


ارتقائی نفسیات کے نقطۂ نظر سے یہ سوال بہت دلچسپ بن جاتا ہے۔ بقا اور افزائشِ نسل کے لیے ضروری صلاحیتیں، جیسے خوف، بھوک، یا جنسی کشش، کو تو سمجھا جا سکتا ہے کہ ارتقاء نے کیوں محفوظ رکھا۔ مگر ایک غروبِ آفتاب کو دیکھ کر آنسو بہانا، کسی بےمقصد پہاڑی سلسلے کی ہیبت سے مغلوب ہو جانا، یا کسی خلاصی نغمے پر رونگٹے کھڑے ہونا، ان میں سے کسی کا بقا سے کوئی براہِ راست فائدہ نہیں۔ ایک غار میں رہنے والا انسان جو شکار کے پیچھے بھاگنے کے بجائے غروبِ آفتاب دیکھ کر رک جائے، وہ ارتقائی اعتبار سے زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہونا چاہیے تھا، مگر یہ صلاحیت آج بھی ہر انسان میں یکساں طور پر موجود ہے۔


فلسفی اسے "Argument from Beauty" یعنی حسن کی دلیل کہتے ہیں۔ خیال یہ ہے کہ خوبصورتی، اگر وہ محض بقا کی افادیت پر مبنی ہوتی، تو صرف ان چیزوں تک محدود ہوتی جو براہِ راست فائدہ پہنچائیں۔ مگر انسان بےفائدہ چیزوں کی خوبصورتی سے بھی اتنا ہی متاثر ہوتا ہے، بلکہ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ جو نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں، جیسے سمندر کے طوفانی موجوں کا حسن۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خوبصورتی محض ایک حیاتیاتی افادیت نہیں بلکہ خود ایک حقیقت ہے، جسے انسان اپنی فطرت میں پہچاننے کی صلاحیت لے کر پیدا ہوا ہے۔ اور جو ذات خود حسن کی خالق ہو، وہی انسان کے اندر اس حسن کو پہچاننے اور اس سے متاثر ہونے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔ قرآن اللہ کی صفت ہی یوں بیان کرتا ہے:


صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ


"یہ اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط اور خوبصورت بنایا۔"


(سورۃ النمل، آیت ۸۸)


تینوں دلیلوں کا مشترکہ نقطہ


اب ان تینوں مناظر کو ایک ساتھ رکھیے: وہ لیب جو زندگی کا پہلا قدم نہ دہرا سکی، وہ دوربین جو کائنات کی ابتدا دیکھ رہی ہے، اور وہ پہاڑی چوٹی جہاں سے دیکھا گیا غروبِ آفتاب دل کو بھر دیتا ہے۔ تینوں الگ الگ میدان ہیں: کیمیا، طبیعیات، اور نفسیات۔ مگر تینوں ایک ہی سوال پر جا کر رکتے ہیں: کیا یہ سب کچھ بغیر کسی ارادے، بغیر کسی شعور، محض اندھے اتفاق سے وجود میں آیا؟


زندگی کی پیچیدگی کہتی ہے کہ اتفاق کے لیے یہ بہت زیادہ ہے۔ کائنات کی ابتدا کہتی ہے کہ ہر شروعات کی ایک وجہ ہوتی ہے۔ اور انسان کے اندر چھپا حسن کا احساس کہتی ہے کہ یہ کائنات محض ایک بےجان مشین نہیں بلکہ ایک ایسا فن پارہ ہے جسے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے انسان کو خاص طور پر تیار کیا گیا۔ تین الگ دروازے، مگر ایک ہی کمرے میں کھلتے ہیں۔


خاتمہ: سوال کا رخ

"کیا خدا موجود ہے؟" کا جواب تلاش کرنے کے لیے کسی معجزے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ہی علم اور اپنے ہی تجربات کو ایمانداری سے جوڑ کر دیکھیں۔ جو لیب زندگی نہیں بنا سکی، جو دوربین کائنات کی ابتدا دیکھ رہی ہے، اور جو دل حسن کے سامنے بےاختیار ہو جاتا ہے، یہ تینوں ایک ہی زبان میں بول رہے ہیں: کہ اس سب کے پیچھے کوئی علم والا، ارادہ رکھنے والا اور حکمت والا موجود ہے۔ جو شخص یہ سوال ایمانداری سے پوچھتا ہے، عقل اسے کسی اندھے اتفاق کی طرف نہیں بلکہ ایک باشعور، حکیم اور قادر ذات کی طرف لے جاتی ہے۔

اگر آپ ان دلائل کو صرف پڑھنے تک نہیں بلکہ اپنے ایمان کی مضبوط عقلی بنیاد بنانا چاہتے ہیں، تو Sirat Islamic Academy کے عقائد اور فکری تربیت کے مستند آن لائن کورسز میں آج ہی شامل ہوں۔