کیا فطرت خود خدا کی طرف رہنمائی کرتی ہے؟
تصور کیجیے ایک طیارہ فضا میں ہچکولے کھا رہا ہے۔ انجن سے عجیب آواز آ رہی ہے، مسافر خوفزدہ ہیں، اور اچانک پورے کیبن میں ایک عجیب خاموشی چھا جاتی ہے۔ اسی خاموشی میں، ایک سرگوشی سنائی دیتی ہے: "یا اللہ، بچا لے۔" یہ الفاظ کسی مولوی کے نہیں، بلکہ اس شخص کے ہیں جو شاید برسوں سے کسی عبادت گاہ میں قدم نہیں رکھتا تھا، جو شاید اپنے آپ کو ملحد یا لادین کہتا تھا۔ مگر اس ایک لمحے میں، جب موت سامنے کھڑی نظر آتی ہے، اس کے اندر سے ایک ایسی پکار نکلتی ہے جسے اس نے کبھی نہیں سیکھا تھا۔
یہ کوئی فرضی منظر نہیں، بلکہ نفسیات دانوں نے اسے ایک نام بھی دیا ہے: "Foxhole atheism" کا الٹ، یعنی وہ لمحہ جب انسان کا ہر نظریاتی خول اتر جاتا ہے اور اندر کی خام فطرت بول اٹھتی ہے۔ سوال یہ ہے: یہ آواز آتی کہاں سے ہے؟ کیا یہ محض خوف کا کیمیائی ردعمل ہے، یا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے اندر خدا کو پہچاننے کی ایک فطری صلاحیت پہلے سے موجود ہے، جسے صرف حالات باہر نکال لاتے ہیں؟
پہلا زاویہ: بچے کا ذہن سب سے بے آلائش گواہ
جدید نفسیاتی تحقیق میں ایک دلچسپ میدان ہے جسے "Developmental Psychology of Religion" کہا جاتا ہے۔ اس میں چھوٹے بچوں پر تجربات کیے گئے، خاص طور پر ایسے بچوں پر جنہیں کسی مذہبی ماحول یا تعلیم سے بالکل دور رکھا گیا۔ نتیجہ حیران کن تھا: بچے فطری طور پر ہر چیز کے پیچھے ایک "مقصد" اور ایک "بنانے والا" تلاش کرتے ہیں۔ اگر کسی بچے کو ایک پتھر دکھایا جائے اور پوچھا جائے کہ یہ گول کیوں ہے، تو وہ اکثر یہی جواب دیتا ہے: "تاکہ لوگ اس پر بیٹھ سکیں،" نہ کہ "کیونکہ پانی نے اسے گھسایا۔" ماہرینِ نفسیات اسے "Promiscuous Teleology" کہتے ہیں — یعنی ہر چیز میں مقصد اور ارادہ ڈھونڈنے کا فطری رجحان۔
اب یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر یہ رجحان محض تعلیم یا معاشرے کی پیداوار ہوتا، تو مختلف براعظموں کے، مختلف مذاہب کے، اور بغیر کسی رابطے کے پروان چڑھنے والے بچوں میں یہ رجحان یکساں طور پر کیوں پایا جاتا؟ یہ خود اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ رجحان انسان کے اندر پہلے سے نصب ہے، سکھایا نہیں گیا۔ قرآن اسی حقیقت کو صدیوں پہلے بیان کر چکا تھا:
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ
"سو اپنا رخ دین کی طرف سیدھا رکھو، اللہ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی سیدھا دین ہے۔"
(سورۃ الروم، آیت ۳۰)
یعنی خدا کو ماننے کا رجحان کوئی بعد میں ڈالی گئی چیز نہیں، بلکہ وہ اصل ترتیب ہے جس پر انسان بنایا گیا، اور بعد کے حالات و ماحول اسے دباتے یا ابھارتے ہیں، پیدا نہیں کرتے۔
دوسرا زاویہ: ہر تہذیب میں ایک ہی پکار
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیجیے — قدیم مصر کے اہرام سے لے کر امریکہ کے قدیم قبائل تک، افریقہ کے جنگلوں سے لے کر ایشیا کے دور دراز جزیروں تک — ایسا کوئی معاشرہ آج تک دریافت نہیں ہوا جس میں کسی نہ کسی صورت خدا یا کسی مافوق الفطرت طاقت کا تصور موجود نہ ہو۔ ماہرینِ عمرانیات نے ہزاروں قبائل اور تہذیبوں کا جائزہ لیا، اور نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا نکلا: مکمل الحاد، بطور اجتماعی معاشرتی نظام، تاریخ میں کبھی معمول نہیں رہا، بلکہ ہمیشہ ایک استثناء رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بغیر کسی رابطے کے، ہزاروں میل کے فاصلے پر، مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک ہی نتیجے پر پہنچیں، اگر یہ نتیجہ کسی بیرونی ثبوت کی بجائے ان کے اندر کی فطرت سے نہ ابھرا ہو؟
یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے دنیا کے ہر کونے میں انسان بھوک لگنے پر کھانا تلاش کرتا ہے، بغیر کسی کے سکھائے۔ بھوک ایک فطری احساس ہے جو کھانے کی حقیقی ضرورت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اسی طرح، خدا کی تلاش کا یہ عالمگیر رجحان بھی ایک فطری پیاس ہے جو ایک حقیقی وجود کی طرف اشارہ کرتی ہے — کیونکہ فطرت میں کوئی بھوک بغیر کسی حقیقی غذا کے پیدا نہیں کی جاتی۔
تیسرا زاویہ: اخلاقی شعور وہ آواز جسے کوئی خاموش نہیں کر سکتا
اب ایک اور زاویے سے سوچیے۔ جب کوئی شخص، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا نظریے کا ماننے والا ہو، کسی معصوم بچے پر ظلم ہوتے دیکھتا ہے، تو اس کے اندر ایک شدید ردعمل پیدا ہوتا ہے — غصہ، تکلیف، یہ احساس کہ "یہ غلط ہے۔" یہ ردعمل کسی قانون کی کتاب سے نہیں آتا، بلکہ اندر سے خود بخود ابھرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اسے "Moral Intuition" کہتے ہیں — ایک ایسا فطری اخلاقی احساس جو تعلیم سے پہلے موجود ہوتا ہے۔
اگر انسان محض ارتقائی حادثوں کا نتیجہ ہے، اور اخلاق محض بقا کی ایک تدبیر ہے، تو یہ احساس صرف اسی حد تک محدود ہونا چاہیے جہاں تک بقا کا فائدہ ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان اس وقت بھی انصاف کی طرف مائل ہوتا ہے جب اس میں اس کا کوئی ذاتی فائدہ نہ ہو، بلکہ نقصان ہی ہو — جیسے کوئی اجنبی کسی دوسرے اجنبی کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دے۔ یہ فطری اخلاقی کھنچاؤ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اخلاق کوئی سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کا عکس ہے جو خود انسان سے بلند تر ہے۔ قرآن اس فطری الہام کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے:
وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَاۙ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَاۙ
"اور نفس کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے درست بنایا، پھر اسے اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری کی سمجھ عطا کی۔"
(سورۃ الشمس، آیات ۷-۸)
یعنی نیکی اور بدی کی پہچان انسان کے اندر ہی الہام کے طور پر رکھ دی گئی ہے — یہ کوئی بعد کی ایجاد نہیں۔
چوتھا زاویہ: حیرت کا احساس سائنس کی بنیاد بھی وہی فطرت ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود سائنس کی بنیاد بھی اسی فطری صلاحیت پر کھڑی ہے جو خدا کو تلاش کرنے کا محرک بنتی ہے۔ جب آئن سٹائن نے کائنات کی ترتیب کو دیکھا، تو انہوں نے کہا کہ اس کائنات کے بارے میں سب سے ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ یہ قابلِ فہم ہے۔ یعنی یہ حیرت کا احساس — کہ آخر یہ سب کچھ اتنے حسین انداز میں کیوں ترتیب پایا ہے — وہی احساس ہے جو ایک سائنس دان کو تحقیق پر ابھارتا ہے، اور وہی احساس ایک عام انسان کو خدا کی تلاش پر ابھارتا ہے۔ دونوں کی جڑ ایک ہی فطری پیاس ہے: یہ جاننے کی خواہش کہ اس سب کے پیچھے کوئی معنی، کوئی حکمت ضرور ہے۔
جدید نفسیاتی اصطلاح میں اسے "Sense of Awe" یعنی "خشیت کا احساس" کہا جاتا ہے، اور تحقیق بتاتی ہے کہ یہی احساس انسان کو اپنی ذات سے باہر نکل کر کسی بڑی حقیقت سے جوڑتا ہے۔ یہ احساس نہ کسی کتاب سے آتا ہے نہ کسی درسگاہ سے، بلکہ ستاروں بھرے آسمان کو دیکھ کر، سمندر کی وسعت کو دیکھ کر، یا نوزائیدہ بچے کو گود میں لے کر، خود بخود ابھرتا ہے۔
پانچواں زاویہ: تنہائی کا لمحہ — جب نقاب اتر جاتے ہیں
سب سے مضبوط دلیل شاید وہی لمحہ ہے جس سے ہم نے بات شروع کی تھی — مشکل کا لمحہ۔ نفسیاتی تحقیق میں ایک بار بار دہرایا جانے والا نتیجہ یہ ہے کہ شدید خطرے، بیماری، یا موت کے قریب پہنچنے کے تجربات میں، انسان کی اکثریت، چاہے وہ زندگی بھر خود کو غیر مذہبی سمجھتی رہی ہو، کسی بلند تر ہستی کی طرف رجوع کرتی ہے۔ اگر یہ رجحان محض معاشرتی تربیت کا نتیجہ ہوتا، تو مشکل وقت میں یہ کمزور پڑنا چاہیے تھا، کیونکہ اس وقت انسان اپنی تربیت یافتہ سوچ سے زیادہ اپنی خام، فطری حالت میں ہوتا ہے۔ مگر ہوتا اس کے برعکس ہے — مشکل وقت میں یہ رجحان مضبوط ہوتا ہے، کمزور نہیں۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ رجحان سکھایا ہوا نہیں بلکہ فطری ہے، اور فطری چیز مشکل وقت میں دب نہیں جاتی، ابھر آتی ہے۔ قرآن اسی منظر کو یوں بیان کرتا ہے:
فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَ
"پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں، خالص اسی کے لیے دین کو رکھتے ہوئے، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو اچانک وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔"
(سورۃ العنکبوت، آیت ۶۵)
یہ آیت ہزار چودہ سو سال پہلے بالکل وہی نفسیاتی حقیقت بیان کر چکی تھی جسے آج جدید تحقیق "Crisis-induced belief" یا "Terror Management Theory" جیسے ناموں سے دریافت کر رہی ہے — کہ انسان کی گہری فطرت مشکل کے وقت اپنا اصل رخ دکھا دیتی ہے۔
چھٹا زاویہ: کیا یہ محض دماغ کی کیمیا ہے؟
یہاں ایک اعتراض اکثر اٹھایا جاتا ہے: کیا یہ سب کچھ محض دماغ کے کیمیائی ردعمل نہیں؟ کیا خدا پر یقین محض ارتقاء کی ایک ضمنی پیداوار نہیں جو انسان کو نفسیاتی سکون دینے کے لیے وجود میں آئی؟ یہ اعتراض بظاہر مضبوط لگتا ہے، مگر ذرا گہرائی میں جائیں تو یہ خود اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں رہ پاتا۔ اگر ہر خیال کو صرف اس بنیاد پر رد کیا جائے کہ وہ دماغ کے کیمیائی عمل سے پیدا ہوتا ہے، تو پھر محبت کا احساس بھی محض کیمیا ہے، انصاف کا خیال بھی محض کیمیا ہے، اور خود یہی اعتراض بھی، جو ایک انسانی دماغ میں پیدا ہوا، وہ بھی محض کیمیا ٹھہرے گا — اور اس صورت میں کسی بھی خیال کو سچ یا جھوٹ کہنے کی کوئی بنیاد ہی باقی نہیں رہتی۔ یعنی یہ اعتراض خود اپنی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر خیال کسی نہ کسی جسمانی عمل کے ذریعے ہی محسوس ہوتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ خیال جھوٹا یا بے بنیاد ہے۔ محبت جسمانی طور پر بھی محسوس ہوتی ہے، مگر ہم اسے جھوٹ نہیں کہتے۔
خاتمہ: فطرت کا اشارہ کس طرف ہے؟
جب بچے کا معصوم ذہن، جب ہر تہذیب کی اجتماعی تاریخ، جب انسان کا اندرونی اخلاقی شعور، جب حیرت کا فطری احساس، اور جب مشکل وقت کی سب سے سچی اور خام حالت — یہ سب ایک ہی سمت اشارہ کریں، تو یہ اتفاق نہیں ہو سکتا۔ فطرت کوئی جھوٹی گواہ نہیں دیتی۔ جس طرح بھوک، پیاس، محبت — یہ سب فطری احساسات حقیقی چیزوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، بالکل اسی طرح خدا کی تلاش کا یہ عالمگیر، بےساختہ اور مسلسل احساس بھی ایک حقیقی وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فطرت کوئی الگ راستہ نہیں دکھاتی، وہی راستہ دکھاتی ہے جسے قرآن نے صدیوں پہلے متعین کر دیا تھا — کہ انسان کے اندر خدا کی پہچان پہلے سے موجود ہے، بس اسے جھٹلایا نہ جائے۔
اگر آپ اپنی اسی فطری آواز کو مزید سمجھنا اور اسے یقین کی مضبوط بنیاد بنانا چاہتے ہیں، تو Sirat Islamic Academy کے عقائد اور فکری تربیت کے مستند آن لائن کورسز میں آج ہی شامل ہوں۔