اللہ کہاں ہے؟
ایک بچہ، شاید سات آٹھ برس کا، اپنی دادی کی گود میں بیٹھا ہے۔ چھت پر تارے چمک رہے ہیں، رات ٹھنڈی ہے، اور اچانک وہ پوچھتا ہے: "دادی، اللہ کہاں ہے؟" دادی کچھ دیر خاموش رہتی ہے، پھر آسمان کی طرف انگلی اٹھاتی ہے۔ بچہ مطمئن ہو جاتا ہے۔ مگر یہی سوال، بیس سال بعد، جب وہی بچہ جوان ہو کر یونیورسٹی میں فزکس پڑھ رہا ہوتا ہے، ایک نئی شکل میں لوٹتا ہے: "اگر اللہ آسمان میں ہے، تو کس آسمان میں؟ خلا میں؟ کس کہکشاں کے کس کونے میں؟" اور اگر جواب نہ ملے، تو وہ سوچتا ہے: شاید کہیں بھی نہیں، شاید یہ سب ایک کہانی تھی۔
یہ صرف ایک بچے یا ایک نوجوان کی کہانی نہیں، یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو کبھی نہ کبھی اس سوال سے گزرا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سوال جتنا معصوم لگتا ہے، اتنا ہی گمراہ کن بھی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس سوال کے اندر ہی ایک ایسا فرض چھپا ہوا ہے جسے ہم نے کبھی جانچا نہیں۔
سوال کی اصل بیماری
جب ہم کسی سے پوچھتے ہیں "تم کہاں ہو؟" تو اس سوال کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص کسی جگہ، کسی وقت، کسی خاص مقام پر موجود ہے، اور باقی تمام جگہوں پر موجود نہیں۔ یعنی "کہاں" کا سوال خود اس بات کا اعتراف ہے کہ جس چیز کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے، وہ محدود ہے، وہ جگہ کی قید میں ہے۔ اب ذرا رکیے اور سوچیے: جگہ خود کہاں سے آئی؟ خلا، وقت، فاصلہ، یہ سب کس نے بنائے؟ اگر یہ سب چیزیں خود مخلوق ہیں، تو ان کا خالق ان کے اندر کیسے قید ہو سکتا ہے؟
یہ وہی غلطی ہے جیسے کوئی کسی مصور سے پوچھے: "تم اپنی پینٹنگ کے کس کونے میں کھڑے ہو؟" مصور پینٹنگ کے باہر ہے، وہ پینٹنگ کا خالق ہے، اسے پینٹنگ کے کسی کونے میں تلاش کرنا ہی بنیادی غلطی ہے۔ بالکل اسی طرح، جس ذات نے خود جگہ اور خلا کو پیدا کیا، اس سے یہ پوچھنا کہ وہ کس جگہ ہے، دراصل ایک ایسا سوال ہے جو اپنے اندر ہی اپنا تضاد رکھتا ہے۔
قرآن اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے:
هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
"وہی اول ہے اور وہی آخر، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔"
(سورۃ الحدید، آیت ۳)
یعنی وہ وقت اور جگہ دونوں سے پہلے ہے، اور دونوں کے بعد بھی باقی رہنے والا ہے۔ جو خود وقت اور جگہ سے پہلے موجود تھا، اسے وقت اور جگہ کے اندر ڈھونڈنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی گھڑی کے اندر گھڑی ساز کو تلاش کرے۔
ایک جدید مثال: سگنل کا سوال
آج کے دور کی ایک عام مثال لیجیے۔ آپ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اور موبائل پر وائی فائی چلا رہے ہیں۔ اگر کوئی آپ سے پوچھے "یہ سگنل کہاں ہے؟" تو آپ کیا جواب دیں گے؟ یہ سگنل کسی ایک کونے میں نہیں، پورے کمرے میں یکساں طور پر موجود ہے، مگر آپ کی آنکھ اسے کہیں نہیں دیکھ سکتی۔ اب اگر ایک غیر مرئی سگنل، جو خود انسان کا بنایا ہوا ہے، کسی ایک جگہ محدود نہیں ہو سکتا، تو وہ ذات جس نے خود کائنات کے تمام قوانین، تمام لہریں، تمام میدان (fields) تخلیق کیے، اسے کسی ایک نقطے میں محدود سمجھنا کتنی بڑی زیادتی ہے؟
جدید طبیعیات (فزکس) میں ایک اصطلاح ہے "کوانٹم فیلڈ" — ایک ایسا میدان جو پوری کائنات میں پھیلا ہوا ہے، جس سے ذرات ابھرتے اور مٹتے رہتے ہیں، اور جو خود کسی ایک جگہ محدود نہیں۔ اگر مادی کائنات میں ایسی حقیقتیں موجود ہیں جو ہر جگہ ہیں مگر کسی ایک جگہ نہیں، تو خالقِ کائنات کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ کسی ایک مقام میں محدود ہوگا، دراصل خالق کو اپنی مخلوق سے بھی کم تر سمجھنے کے مترادف ہے۔
عدد کی مثال: ریاضی کا سبق
ایک اور زاویے سے سوچیے۔ عدد "سات" کہاں ہے؟ کیا وہ کسی الماری میں رکھا ہے؟ کسی جگہ دفن ہے؟ نہیں، عدد سات کوئی مکانی وجود نہیں رکھتا، مگر پھر بھی وہ ایک حقیقت ہے — اتنی مضبوط حقیقت کہ ساری کائنات کے تمام حساب کتاب اسی پر ٹکے ہیں۔ کوئی سائنس دان یہ نہیں کہتا کہ چونکہ عدد سات کسی جگہ نظر نہیں آتا، اس لیے وہ موجود نہیں۔ بلکہ ہر انسان اسے حقیقت مانتا ہے، کیونکہ اس کا وجود مکانی نہیں بلکہ ایک اور ہی درجے کا ہے۔
اگر انسانی عقل ایک عدد کے غیر مکانی وجود کو باآسانی قبول کر لیتی ہے، تو پھر خالقِ کائنات کے وجود کو، جو ہر عدد، ہر قانون، ہر ذرے سے کہیں بلند ہے، مکانی پیمانوں پر پرکھنا خود عقل کی ہی ایک کمزوری ہے، نہ کہ عقل کا کمال۔
قرب کا سوال — دوری کا نہیں
اب یہاں سے ایک اور اہم زاویہ کھلتا ہے۔ جب انسان "اللہ کہاں ہے؟" پوچھتا ہے، تو دراصل وہ دور سے کسی چیز کو ڈھونڈ رہا ہوتا ہے، جیسے کوئی گمشدہ چیز تلاش کی جا رہی ہو۔ مگر قرآن اس سوال کو بالکل الٹ دیتا ہے۔ وہ دوری کا نہیں، قرب کا پیغام دیتا ہے:
وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ
"اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔"
(سورۃ ق، آیت ۱۶)
ذرا سوچیے، شہ رگ سے زیادہ قریب ہونے کا مطلب کیا ہے؟ شہ رگ آپ کے اپنے جسم کا حصہ ہے، پھر بھی آپ اسے دیکھ نہیں سکتے، محسوس نہیں کرتے، مگر وہ آپ کی زندگی کی بنیاد ہے۔ یہاں قرآن یہ نہیں کہتا کہ اللہ کسی دور کی کہکشاں میں بیٹھا ہے، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ اس کا قرب انسان کے اپنے وجود سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ یہ سوال کو "کہاں" سے ہٹا کر "کتنا قریب" کی طرف لے جاتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جو الحاد کے سب سے مضبوط اعتراض کو ہوا میں تحلیل کر دیتا ہے۔
اگر خدا ہر جگہ ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آتا؟
یہ سوال بھی اکثر اٹھایا جاتا ہے، اور اس کا جواب بھی اتنا ہی سادہ ہے جتنا سوال خود۔ آپ کبھی اپنی سوچ کو دیکھ سکتے ہیں؟ اپنی محبت کو کسی شیشے کی بوتل میں بند کر کے دکھا سکتے ہیں؟ نہیں۔ مگر کیا اس لیے آپ اپنی سوچ اور محبت کے وجود سے انکار کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ انسانی آنکھ صرف روشنی کی مخصوص لہروں کو دیکھنے کے لیے بنی ہے، اور جو چیز روشنی کی طرح مادی نہیں، اسے آنکھ سے دیکھنے کی توقع کرنا ہی ایک بنیادی غلط فہمی ہے۔ خالق، جس نے خود روشنی، رنگ اور آنکھ کو تخلیق کیا، وہ ان تمام حدود سے ماورا ہے جو اس نے اپنی مخلوق کے لیے مقرر کی ہیں۔
خاتمہ: سوال بدلنے کی ضرورت
تو "اللہ کہاں ہے؟" کا اصل جواب یہ نہیں کہ کسی خاص کہکشاں کا نام لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ یہ سوال خود از سرِ نو پوچھا جائے: کیا وہ ذات جس نے خود جگہ، وقت اور خلا کو تخلیق کیا، کسی جگہ کی محتاج ہو سکتی ہے؟ اور جب یہ سوال درست انداز میں پوچھا جاتا ہے، تو جواب خود بخود روشن ہو جاتا ہے — وہ کسی ایک جگہ میں محدود نہیں، بلکہ ہر جگہ، ہر لمحے، ہر دل کے اتنا قریب ہے جتنا خود انسان اپنے آپ سے بھی نہیں۔
وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ
"اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کے ہیں، تم جدھر بھی رخ کرو، ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے، بےشک اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے۔"
(سورۃ البقرہ، آیت ۱۱۵)
یہ وہ حقیقت ہے جو انسان کو ایک نئی نظر عطا کرتی ہے — ایک ایسی نظر جس سے دیکھا جائے تو ہر سمت، ہر لمحہ، ہر سانس اسی ذات کے قرب کی گواہی دیتی ہے۔