دانت سیدھے کروانا اور دانتوں میں فاصلہ: جائز صورتیں
خوب صورت اور صحت مند دانت ہر انسان کی خواہش ہیں۔ آج بچوں سے لے کر بڑوں تک بہت سے لوگ دانت سیدھے کروانے کے لیے Braces لگواتے ہیں، دانت سفید کرواتے ہیں (Teeth Whitening)، یا ٹوٹے ہوئے دانتوں کی جگہ Dental Implants لگواتے ہیں۔ مگر دوسری طرف وہ حدیث بھی ہے جس میں خوب صورتی کے لیے دانتوں میں فاصلہ کروانے والی عورتوں پر لعنت آئی ہے۔ تو سوال یہ ہے: کیا دانت سیدھے کروانا جائز ہے؟ اس مضمون میں اس کا واضح جواب حدیث اور فقہا کی آرا کی روشنی میں دیا گیا ہے۔
حدیث میں کیا آیا ہے؟
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے:
... وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، حدیث: 5931)
... اور خوب صورتی کے لیے دانتوں میں فاصلہ کروانے والی عورتوں پر، جو اللہ کی تخلیق کو بدلنے والی ہیں۔
’’تفلیج‘‘ کا مطلب ہے صحیح سالم دانتوں کو ریتی سے گھس کر ان کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا، تاکہ عورت کم عمر نظر آئے، کیونکہ اُس دور میں دانتوں کا یہ فاصلہ کم عمری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ فقہ مالکی کے علامہ نفراویؒ کے مطابق ’’وشر‘‘، یعنی دانت ترشوانا، یہ ہے کہ دانتوں کو گھس کر ان میں فاصلہ پیدا کیا جائے یا لمبے دانتوں کو چھوٹا کیا جائے تاکہ وہ خوب صورت لگیں (الفواکہ الدوانی، ج 2، ص 314)۔
’’لِلْحُسْن‘‘ کی قید: اصل نکتہ
اس حدیث میں ایک بہت اہم لفظ ہے: ’’لِلْحُسْنِ‘‘، یعنی خوب صورتی کے لیے۔ اس سے واضح ہے کہ ممانعت اس فاصلے کی ہے جو محض حُسن کے لیے، صحیح دانتوں میں پیدا کیا جائے۔ علاج کی ضرورت یا کسی عیب کی اصلاح اس میں شامل نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت میں یہ قید بھی ہے: ’’مِنْ غَيْرِ دَاءٍ‘‘، یعنی جب کسی بیماری کے بغیر کیا جائے (سنن ابی داود، حدیث: 4170)۔
فقہا نے اس ممانعت کی وجہ بھی بیان کی ہے: دھوکا، یعنی عورت اپنی اصل عمر چھپا کر کم عمر نظر آئے۔ اور فقہ شافعی کے فقیہ سلیمان الجملؒ نے لکھا ہے کہ دانتوں کو ترشوانا عورت کے لیے ممنوع ہے، لیکن اگر شوہر اجازت دے تو جائز ہے (حاشیۃ الجمل، ج 1، ص 418)۔
دانتوں کے علاج کی جائز صورتیں
ان اصولوں کی روشنی میں دانتوں کا یہ علاج جائز ہے:
- Braces سے دانت سیدھے کروانا: ٹیڑھے، آگے نکلے ہوئے یا بے ترتیب دانتوں کو سیدھا کرنا عیب کی اصلاح اور دانتوں کو ان کی فطری حالت پر لانا ہے، اس لیے جائز ہے۔ ٹیڑھے دانت اکثر چبانے، صفائی اور بات کرنے میں بھی مشکل پیدا کرتے ہیں۔
- دانتوں کا غیر معمولی فاصلہ بند کروانا: اگر قدرتی طور پر دانتوں میں نمایاں فاصلہ ہو جو بدنمائی یا تکلیف کا باعث ہو، تو اسے بند کروانا جائز ہے، کیونکہ یہ ’’فاصلہ پیدا کرنے‘‘ کے برعکس، عیب کی اصلاح ہے۔
- Teeth Whitening (دانت سفید کروانا): دانتوں کی صفائی اور چمک اسلام میں پسندیدہ ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اگر مجھے امت پر مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا (صحیح البخاری، حدیث: 887)۔ اس لیے صحت کو نقصان پہنچائے بغیر دانت سفید کروانا جائز ہے۔
- Filling، Root Canal اور Crown: دانتوں کی بیماری کا علاج، اس لیے جائز۔
- Dental Implants اور مصنوعی دانت (Dentures): ٹوٹے یا گرے ہوئے دانتوں کی جگہ نئے دانت لگوانا جسم کی بحالی ہے، اس لیے جائز۔
- سونے کا دانت یا تار: صحابی حضرت عرفجہؓ کی ناک کٹ گئی تو رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے انہیں سونے کی ناک لگوانے کا حکم دیا (سنن ابی داود، حدیث: 4232)۔ اسی بنیاد پر فقہا نے ضرورت کے وقت مردوں کے لیے بھی سونے سے دانت مضبوط کروانے یا لگوانے کی اجازت دی ہے۔
Veneers: تفصیل
Veneers پتلی پرتیں ہوتی ہیں جو دانتوں کے سامنے لگائی جاتی ہیں، اور ان کے لیے عام طور پر دانتوں کو کچھ گھسنا پڑتا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں:
- ٹوٹے، داغ دار یا خراب دانتوں کے لیے Veneers: یہ عیب کی اصلاح ہے، اس لیے جائز ہے۔
- بالکل صحیح دانتوں پر محض فیشن کے لیے Veneers: اس میں صحیح دانتوں کو گھسنا شامل ہے، جو ’’وشر‘‘ کے قریب ہے۔ جمہور علما اس سے منع کرتے ہیں۔ البتہ فقہ شافعی کی مذکورہ عبارت کے مطابق شوہر کی اجازت سے، اور دھوکے کے بغیر، اس کی گنجائش کا ذکر ملتا ہے۔ احتیاط کا راستہ یہ ہے کہ صحت مند دانتوں کو محض فیشن کے لیے نہ گھسوایا جائے۔
دانتوں کے علاج کے ساتھ وضو اور غسل
- Braces، Filling، Crown اور Implants: یہ دانتوں میں مستقل طور پر لگے ہوتے ہیں اور ضرورت کے تحت ہیں، اس لیے ان کے ساتھ وضو اور غسل درست ہیں۔ فقہ حنفی میں غسل کے لیے کلی فرض ہے، اور یہ لگے ہوئے دانت اس میں رکاوٹ نہیں بنتے۔
- نکالنے والے مصنوعی دانت (Removable Dentures): احتیاط یہ ہے کہ غسل کے وقت انہیں نکال کر کلی کی جائے۔
آخری بات
دانتوں کے بارے میں اسلام کا اصول بالکل واضح ہے: علاج، صفائی اور عیب کی اصلاح جائز اور پسندیدہ ہے، جبکہ صحیح دانتوں کو محض فیشن یا دھوکے کے لیے گھسوانا ممنوع ہے۔ Braces، Whitening، Implants اور Filling سب جائز ہیں۔ اپنی مسکراہٹ کو صحت مند اور خوب صورت رکھیے، اور مسواک کی سنت کو کبھی نہ چھوڑیے۔