جاز کیش اور ایزی پیسہ کا منافع اور انعامات: حلال یا حرام؟
پاکستان میں کروڑوں لوگ روزانہ جاز کیش (JazzCash) اور ایزی پیسہ (Easypaisa) استعمال کرتے ہیں: بل ادا کرنے، پیسے بھیجنے، موبائل لوڈ کرنے اور آن لائن خریداری کے لیے۔ یہ ایپس صارفین کو بہت سی پیشکشیں بھی دیتی ہیں: اکاؤنٹ میں رقم رکھنے پر روزانہ منافع، مفت منٹس اور ایس ایم ایس، کیش بیک، اور قرعہ اندازی کے انعامات۔ ایک مسلمان کے ذہن میں فطری سوال اٹھتا ہے: کیا یہ سب حلال ہے؟
اس سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں نہیں، کیونکہ ہر پیشکش کی نوعیت الگ ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کے والٹ میں رکھی رقم کی شرعی حیثیت کیا ہے۔
پہلے یہ سمجھیے: والٹ میں رقم کس کی ہے؟
جاز کیش اور ایزی پیسہ محض ایپس نہیں، بلکہ ان کے پیچھے لائسنس یافتہ بینک ہیں۔ جاز کیش موبی لنک مائیکرو فنانس بینک کے تحت کام کرتا ہے، اور ایزی پیسہ اب پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل ریٹیل بینک ہے۔ propakistani
جب آپ والٹ میں رقم جمع کرتے ہیں، تو شرعی لحاظ سے یہ رقم اس بینک کو قرض (Qard) ہے۔ بینک اس رقم کو اپنے کاروبار میں استعمال کرتا ہے، اور آپ جب چاہیں اسے واپس لینے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ وہی حیثیت ہے جو کسی عام بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ کی ہوتی ہے۔
اس سے ایک بنیادی اصول نکلتا ہے، جسے فقہا نے یوں بیان کیا: ’’كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا فَهُوَ رِبًا‘‘، یعنی ہر وہ قرض جو قرض دینے والے کے لیے مشروط فائدہ لائے، سود ہے۔ یہ اصول اگرچہ مرفوع حدیث کے طور پر سند کے لحاظ سے کمزور ہے، مگر اس کا مفہوم صحابہ کرامؓ کے آثار سے ثابت ہے، اور امت کے فقہا نے اسے بالاتفاق قبول کیا ہے۔
اب اسی اصول کی روشنی میں ہر پیشکش کا جائزہ لیتے ہیں۔
1۔ رقم رکھنے پر روزانہ منافع (Savings Profit)
ایزی پیسہ اور جاز کیش دونوں سیونگ کی ایسی سہولت دیتے ہیں جس میں والٹ میں موجود رقم پر روزانہ منافع ملتا ہے۔ مثلاً ایزی پیسہ کی ایک سہولت کے بارے میں بتایا گیا کہ صارف ایپ کے اندر سیونگ پروڈکٹ کے ذریعے اپنے موجودہ بیلنس پر روزانہ ایک خاص شرح سے منافع کما سکتا ہے، اور اس کی رقم لاک نہیں ہوتی؛ بس اسے منتخب پلان کی حد سے زیادہ بیلنس رکھنا ہوتا ہے۔ digitalpakistan
حکم: اگر یہ سیونگ کسی روایتی (سودی) بنیاد پر ہے، تو یہ منافع سود ہے، کیونکہ:
- آپ کی رقم بینک کو قرض ہے۔
- اس پر ایک مقررہ شرح سے اضافہ مل رہا ہے۔
- رقم کی واپسی کی ضمانت ہے، اور آپ کسی کاروباری نقصان میں شریک نہیں۔
یہ بالکل وہی صورت ہے جو روایتی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کی ہے۔ ’’منافع‘‘ کا نام رکھ دینے سے حکم نہیں بدلتا؛ حکم معاملے کی حقیقت سے طے ہوتا ہے۔
2۔ اسلامی سیونگ آپشنز: ایک حلال متبادل
خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں کمپنیوں نے شریعہ کمپلائنٹ آپشنز بھی متعارف کروائے ہیں:
- جاز کیش: جاز کیش کی شریعہ کمپلائنٹ سیونگ کے ذریعے صارفین بچت کر کے روزانہ حلال منافع حاصل کر سکتے ہیں، اور رقم بغیر کسی لاک کے کسی بھی وقت نکال سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبی لنک بینک نے اسلامی بینکاری کے آپریشنز شروع کیے ہیں، جس سے جاز کیش بھی اسلامی پروڈکٹس پیش کر سکے گا۔ propakistanibrecorder
- ایزی پیسہ: ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک اور ای ایف یو لائف نے ایک ڈیجیٹل اسلامی تکافل سیونگ متعارف کروائی ہے، جو حلال منافع کے ساتھ مالی تحفظ بھی دیتی ہے۔ digitalpakistan
حکم: اگر کوئی سیونگ واقعی مضاربہ، وکالہ یا تکافل جیسے شرعی اصولوں پر قائم ہے، اور کسی معتبر شریعہ بورڈ کی نگرانی میں ہے، تو اس کا منافع حلال ہے، کیونکہ یہ قرض پر اضافہ نہیں، بلکہ حقیقی کاروبار کے نفع میں شراکت ہے۔
ایک احتیاط: صرف ’’اسلامی‘‘ یا ’’حلال‘‘ کا لیبل کافی نہیں۔ اس پروڈکٹ کو اپنانے سے پہلے یہ دیکھیے کہ اس کا شریعہ بورڈ کون سے علما پر مشتمل ہے، اور اس کی شرائط میں نفع و نقصان کی تقسیم کیسے ہے۔
3۔ رقم رکھنے پر مفت منٹس، ایس ایم ایس یا ڈیٹا
بعض اوقات والٹ میں ایک خاص رقم برقرار رکھنے پر مفت منٹس، ایس ایم ایس یا انٹرنیٹ پیکج دیا جاتا ہے۔
حکم: اگر یہ انعام رقم رکھنے کی شرط پر ملتا ہے، تو یہ قرض پر مشروط فائدہ ہے، اور سود کے حکم میں آتا ہے، چاہے یہ نقد نہ ہو بلکہ منٹس کی شکل میں ہو۔ سود صرف نقد اضافے کا نام نہیں؛ قرض کی بنیاد پر ملنے والا ہر مشروط فائدہ اسی میں شامل ہے۔
4۔ کیش بیک اور ڈسکاؤنٹ
جاز کیش اور ایزی پیسہ اکثر بل ادا کرنے، موبائل لوڈ کرنے یا کسی دکان پر ادائیگی کرنے پر کیش بیک دیتے ہیں۔ اس کی دو صورتیں ہیں:
الف: لین دین پر کیش بیک، بیلنس سے غیر مشروط:
اگر کیش بیک کسی خاص خریداری یا ادائیگی پر ملتا ہے، اور اس کا والٹ میں رقم رکھنے سے کوئی تعلق نہیں، تو بہت سے معاصر علما اسے جائز قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ درحقیقت قیمت میں رعایت (Discount) یا تشہیری تحفہ ہے؛ جیسے کوئی دکان دار کہے: ’’آج خریداری پر دس فیصد رعایت‘‘۔ اگر یہ رعایت دکان دار یا بل جاری کرنے والی کمپنی کی طرف سے ہو، تو جواز اور بھی واضح ہے۔
ب: بیلنس رکھنے سے مشروط کیش بیک:
اگر کیش بیک صرف اس شرط پر ملے کہ آپ اکاؤنٹ میں ایک مقررہ رقم رکھیں گے، تو یہ پھر قرض پر مشروط فائدہ ہے، اور سود کے حکم میں ہے۔
ایک باریک نکتہ: چونکہ کیش بیک دینے والا ادارہ وہی بینک ہے جس کے پاس آپ کی رقم بطور قرض موجود ہے، اس لیے بعض محتاط علما ہر قسم کے کیش بیک سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ البتہ عام طور پر فیصلہ کن سوال یہی ہے: کیا یہ فائدہ رقم رکھنے کی وجہ سے ہے، یا لین دین کی وجہ سے؟
5۔ قرعہ اندازی اور انعامی اسکیمیں
بعض اوقات کمپنیاں قرعہ اندازی کرتی ہیں، جن میں گاڑیاں، موبائل فون یا نقد انعامات دیے جاتے ہیں۔
- اگر شرکت کے لیے والٹ میں رقم رکھنا شرط ہو: تو یہ قرض پر مشروط فائدہ ہے، جو سود کے حکم میں ہے، اور اس میں قسمت کا عنصر اسے جوئے کے قریب بھی کر دیتا ہے۔
- اگر شرکت کے لیے صرف ایپ استعمال کرنا یا لین دین کرنا کافی ہو، اور کوئی اضافی رقم نہ دینی پڑے: تو بہت سے علما اسے کمپنی کی طرف سے تشہیری تحفہ قرار دے کر جائز کہتے ہیں۔
- اگر شرکت کے لیے الگ سے فیس دینی پڑے، اور انعام صرف چند لوگوں کو ملے: تو یہ جوا (میسر) ہے، کیونکہ سب کی فیس سے چند کو بڑا انعام دیا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جوئے کو شیطانی عمل قرار دیا ہے (المائدہ: 90)۔
6۔ سروس فیس: لینا اور دینا
جاز کیش یا ایزی پیسہ رقم بھیجنے، نکالنے یا بل ادا کرنے پر فیس لیتے ہیں۔ دکان دار (ریٹیلر) بھی اکثر اضافی رقم لیتے ہیں۔
حکم: کسی خدمت کے بدلے مقررہ اور طے شدہ فیس لینا جائز ہے، کیونکہ یہ اجرت (Ujrah) ہے، سود نہیں۔ البتہ اگر رقم کی منتقلی ’’قرض‘‘ کی صورت اختیار کر لے، مثلاً دکان دار کسی کو رقم ادھار دے کر واپسی پر زیادہ لے، تو یہ سود ہے۔

اگر غلطی سے سودی منافع آ گیا ہو؟
بہت سے لوگوں کے والٹ میں لاعلمی میں سودی منافع جمع ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے:
- آئندہ کے لیے: سودی سیونگ کی سہولت بند کر دیجیے، یا اسلامی سیونگ آپشن پر منتقل ہو جائیے۔
- جو منافع آ چکا: اس رقم کو اپنے استعمال میں لائے بغیر، ثواب کی نیت کے بغیر کسی غریب کو دے دیجیے۔
- زکوٰۃ میں شمار نہ کیجیے: سودی رقم زکوٰۃ نہیں بن سکتی؛ زکوٰۃ اپنے حلال مال سے الگ ادا کیجیے۔ تفصیل کے لیے ہمارا مضمون ’’حرام مال پر زکوٰۃ‘‘ دیکھیے۔
آخری بات
جاز کیش اور ایزی پیسہ آج کی ضرورت ہیں، اور انہیں رقم بھیجنے، بل ادا کرنے اور خریداری کے لیے استعمال کرنا بالکل جائز ہے۔ مسئلہ ان سہولتوں میں نہیں، بلکہ ان ’’منافع‘‘ اور ’’انعامات‘‘ میں ہے جو صرف رقم رکھنے کی وجہ سے ملتے ہیں۔ ایک آسان اصول یاد رکھیے: جو فائدہ صرف رقم رکھنے کی وجہ سے ملے، وہ مشکوک یا ناجائز ہے؛ اور جو فائدہ کسی لین دین یا خدمت کی وجہ سے ملے، اس میں عموماً گنجائش ہے۔ اور اگر بچت پر نفع چاہیے، تو انہی ایپس میں موجود شریعہ کمپلائنٹ آپشنز اختیار کیجیے۔